یکم مئی، روز معلم

پاکستان کا کشمیر سے متعلق امام خامنہ ای کے بیان کا خیر مقدم

ان الحسین باب من ابواب الجنة

ہم تب کربلائی اور حسینی ؑنہضت کا حصہ بن سکتے ہیں جب ہمارے اندر انبیائی اور حسینیؑ صفات موجود ہوں: علامہ راجہ ناصر عباس

صحافت اور شہادت ساتھ ساتھ

چیئرمین سینیٹ منتخب کرانے کیلیے پی ٹی آئی نے کہا کہ اوپر سے آرڈر آیا ہے: سراج الحق

ایران کا ردعمل امریکہ کیلئے تکلیف دہ ہوگا: محمد جواد ظریف

امریکا کی عالمی جوہری ڈیل سے ممکنہ دستبرداری اور اس کے اثرات

امام حسین علیہ السلام کی سیرت طیبہ

مسلم خاتون کو ہاتھ نہ ملانے کی وجہ سے فرانس کی شہریت سے محروم کر دیا گیا

اللہ تعالی کی طرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر تہنیت اور تعزیت

سعودی عرب میں چیک پوسٹ پر فائرنگ سے 4 سیکویرٹی اہلکار جاں بحق

امریکی ہتھیاروں پر انحصار میں کمی: کیا پاکستان امریکہ سے مستقل چھٹکارا پا رہا ہے؟

سائیکل چلانے سے بہتر کوئی ورزش نہیں

کیمائی گیس حملہ کا فسانہ – رابرٹ فسک

شام پر ناکام حملہ، ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ

سعودی حکومت کے بانی کے برطانوی ایجنٹ ہونے کی تصدیق

شام میں امریکہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے، ابوالخیرزبیر

بھارت سکھ زائرین کے دورے کو کیوں متنازع بنانا چاہتا ہے؟

میں شام پہ غیر جانبدار نہیں ہوں – عامر حسینی

شامی حکومت نے دوما میں کیمیائی حملہ نہیں کیا: رابرٹ فسک

ڈائریکٹر سی آئی اے کی سربراہ شمالی کوریا سے خفیہ ملاقات کا انکشاف

امریکی سفارتکار کی گاڑی کی ٹکر سے نوجوان کی ہلاکت؛ پولیس نے کیس خراب کر دیا؟

نواز شریف کو محب وطن ثابت کرنے کی کوشش

کیا پاکستان سکھ یاتریوں کو خالصتان کے لیے اکسا رہا ہے؟

جنوبی اور شمالی کوریا 70 سالہ جنگ کے باقاعدہ خاتمے پر رضامند

اب جہاز میں کھڑے ہو کر سفر کرنا ممکن

جنوبی اور شمالی کوریا 70 سالہ جنگ کے باقاعدہ خاتمے پر رضامند

روس کا شام کو ایس 300 دفاعی میزائل فراہم کرنے پر غور

3 ہزار سے زائد ایپس غیر قانونی طور پر ڈیٹا جمع کرنے میں مصروف

دیوبندی مکتب فکر میں جہاد و تکفیر اور پشتون و پنجابی فیکٹر – عامر حسینی

یورپ ایران جوہری معاہدے پر امریکہ کے سامنے نہ جھکے: روس کا مطالبہ

متنازعہ ایجاد: ایمسٹرڈم میں ’خودکشی کی مشین‘ کی عوامی نمائش

پاکستان پر افغان سرحد کے پار سے حملہ: امن کیسے قائم ہو گا؟

شامی میدان پر مفاد پرستوں کی لڑائی ختم ہونا مشکل کیوں؟

پیغمبراکرم (ص) نے بشریت کو حیات طیبہ کی تعلیم دی تھی

مصری پارلیمنٹ کی خارجہ کمیٹی کی شام پر تین مغربی ممالک کے حملے کی مذمت

کوئٹہ : داعش کے بھیس میں لشکر جھنگوی کے مسیحی برادری پر حملے

فوج نہ ہوتی تو پاکستان میں بھی دیگر مسلم ممالک کی طرح تباہی مچی ہوتی، عمران خان

شامی جنگی ڈرامے کا مرکزی ولن کون؟ – ولادیمر گولیسٹن

شام پر امریکی حملے جاری رہے تو دنیا کیلیے خطرناک ہوگا، ولادی میر پیوٹن

ڈونلڈ ٹرمپ جھوٹے اور اخلاقی طور پر صدارت کیلئے نااہل ہیں: جیمز کومی

غیرملکی ایجنسیاں لوگوں کو لاپتہ کرکے آئی ایس آئی پر الزام لگانا چاہتی ہیں، جاوید اقبال

پختون تحفظ موومنٹ: حقوق کی جنگ یا غداری

سعودی عرب کا مشرقی یروشلم میں اسلامی ورثے کے تحفظ کی آڑ میں اسرائیل کو 15کروڑ ڈالر کی امداد

امریکہ کا شام پر حملہ دہشت گردوں کو شکست سے بچانے کی ناکام کوشش کا حصہ ہے

عالمی استکبار شام پر عراقی تاریخ دہرانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہے: علامہ راجہ ناصرعباس جعفری

برطانوی وزیراعظم امریکا کو نہیں پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں، جیرمی کوربن

امریکی صدر نے شام پر دوبارہ حملے کی دھمکی دے دی

کیا امریکہ شام پر اگلی دفعہ بڑا حملہ کرے گا؟

ن لیگ کا چیف جسٹس کو واضح پیغام: سپریم کورٹ جج اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ

شام کیوں زد پرہے ؟

خوفناک ترین ہتھیار: کیا روس کا اینٹی سیٹلائٹ میزائل امریکہ کو مفلوج کر دے گا؟

حملوں کے بعد بشار کی معمول کے مطابق دفتر آمد! فوجی پرسکون, سیکیورٹی عمومی، زندگی رواں دواں

شام نے مغربی ممالک کے 13 میزائل تباہ کردیئے

سعودی عرب کا شام پر امریکی حملے کی حمایت کا اعلان

امریکہ، فرانس اور برطانوی حکمران مجرم ہیں: آیت اللہ خامنہ ای

برطانیہ شام میں کیمیائی حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے: روسی جنرل

نواز شریف کی زندگی بھرنا اہلی کا فیصلہ قبول ہے: وزیراعظم

پاکستان میں 5G ٹیکنالوجی کب آئے گی؟

شام پر امریکی اتحادیوں کا حملہ: روس کے پاس کیا آپشن بچے ہیں؟

تاحیات نااہلی: کیا اب بھی نواز شریف کے پاس راستہ موجود ہے؟

امریکا، برطانیہ اور فرانس نے شام پر حملہ کردیا

شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار تشویش

پاکستان میں امریکہ مخالف مظاہرہ

پشتون تحفظ مومنٹ، / تحفظات و سوالات – حیدر جاوید سید

دوما میں کیمیائی حملے کا ڈراما غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے رچایا گیا: روس

امریکا نے شام پر حملہ کیا تو جنگ چھڑ سکتی ہے: روس کا انتباہ

مذہبی سلیبرٹیز کا دور

مغربی ممالک شام کے خلاف مہم جوئی سے باز رہیں، چین

پی ٹی آئی جہانگیر ترین کی نااہلی کا فیصلہ قبول کرتی ہے، شاہ محمود قریشی

2016-05-02 19:30:57

یکم مئی، روز معلم

تحریر: ایس ایم شاہ4460546_494

حضرت علیؑ کا فرمان ہے: جس نے مجھے ایک حرف سکھایااس نے مجھے اپنا غلام بنا لیا، روایات کی رو سے ہر شخص کے تین باپ ہوتے ہیں، صلبی باپ، بیوی کا باپ یعنی سسر، وہ باپ جس نے اسے تعلیم دی ہے۔صلبی باپ اپنے بچے کو دنیا میں لانے کا سبب بنتا ہے، سسر اپنی بیٹی کی اچھی تعلیم و تربیت اور اس کے حوالے سے ہر قسم کی مشکلات برداشت کرتا ہے، یعنی ایک بہترین امانتدار کی مانند اس کی ہر طرح سے حفاظت کرتا رہتا ہے، پھر عالم شباب تک پہنچتے ہی اسے عقد ازدواج سے منسلک کردیتا ہے، استاد وہ باعظمت ہستی ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے، ہدف انسانیت سے اسے آشنا کرتا ہے، انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کے حوالے سے اسے آگاہ کرتا ہے، اسے معاشرے اور ملک کے لیے ایک مفید شہری بنا تا ہے، اسے نشہ اور لہو لعب سے بچاتا ہے، ان حوالوں سے دیکھاجائے تو معلوم ہوتا ہے کہ استاد کا حق بھی اپنے صلبی باپ سے کم نہیں، اللہ تعالی نے اپنے پیغمبروں کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک بہترین استاد ہونا قرار دیا ہے، روایات میں سب سے بخیل اس شخص کو قرار دیا گیا ہے جو اپنے علم کو دوسروں کو سکھانےمیں بخل سے کام لیتا ہے، ساتھ ہی دوسروں کو تعلیم دینے کو علم کی زکوۃ قرار دیاگیا ہے، جس معاشرے میں جتنا استاد کا احترام زیادہ ہوگااتنا ہی وہ معاشرہ علمی اور دوسرے میدانوں میں زیادہ ترقی کر پائے گا، ترقی یافتہ ممالک میں استاد کو سرکاری وزیروں سے بھی زیادہ اہمیت اور احترام حاصل ہے، اسی وجہ سے وہ زندگی کےمختلف شعبوں میں دن بہ دن ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، جبکہ ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہونے اور آیات و روایات میں استاد کا اتنا بڑا مقام بیان ہونے کے باوجودبھی ہمارے ہاں ان کا کماحقہ احترام نہیں کیا جاتا، استاد کی اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کی خاطر یکم مئی کو استاد شہید مطہری کی یوم شہادت کی مناسبت سے اسے پورے ایران میں روز معلم کے عنوان سے منایا جاتا ہے، شہید جہاں ایک بہت بڑے فلاسفر، متکلم اور جدید اور قدیم علوم سے سرشار تھے وہاں ایک بہترین پروفیسربھی تھے، آپ نے مختلف موضوعات پر تیس سے زائد ضخیم کتابیں تالیف کیں، جن میں سے ہر ایک پی ایچ ڈی تھیسس کی مانند ہے،آپ کی کتابیں معلومات کا خزانہ ہیں، یونیورسٹیوں میں آپ نے کثیر تعداد میں برجستہ شاگردوں کی تربیت کی، اسی اہمیت کے پیش نظر اس دن کو یوم معلم کا نام دیا گیا ہے، تاکہ نئی نسل کو استاد کی اہمیت اور اس کے مقام سے آگاہ رکھا جاسکے، ہم جہاں مزدوروں کے حقوق کے دفاع کے لیے مزدور ڈے مناسکتے ہیں، کشمیر ڈے مناسکتے ہیں، مادر ڈے مناسکتے ہیں تو کیوں نہ ایک دن ہم اپنے اساتذہ سے منسوب کریں، اگر یہی اساتذہ نہ ہوتے تو ہمارےمعاشرے میں جہالت کا دور دورہ ہوتا، زندگی کے کسی بھی شعبے میں ترقی ممکن نہ ہوتی، نت نئے ایجادات سامنے نہ آتے، چھوٹے بڑے کا احترام نہ ہوتا، اگرچہ ہر دن روز معلم ہے، لیکن ایک خاص دن کو ان سے منسوب کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے مقام اور رتبے کو قومی سطح پر بلند کیا جائے، یعنی استاد کے احترام کا دن، استاد کی خدمات کی قدردانی کا دن، استاد کی حوصلہ افزائی کا دن، استاد سے ایک نئے جذبے کے ساتھ تجدید عہد کا دن، معاشرے میں استاد کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا دن، آج ہم اپنے اساتذہ کرام سے بھی تجدید عہد کرتے ہیں کہ ہم کبھی ان کی زحمتوں کو رائیگاں نہیں ہونے دیں گے،ہم ان کی بے لوث خدمات پر انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ان کے حوصلوں کی قدردانی کرتے ہیں، آج ہم اس حقیقت کے اعتراف کو اپنے لیے ایک اخلاقی اور شرعی وظیفہ سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں قریب میں ہماری تمام کامیابیوں میں ان کا عمل دخل ہے، ہمارے ہر کار خیر میں ان کا بھی ناقابل فراموش حصہ ہےکیونکہ، رحمت عالم کے فرمان کے مطابق جو کوئی سنت حسنہ چھوڑ کر چلاجائے تو اسے اس کا ثواب ملنے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کرنے والے کا ثواب بھی ملتا رہتا ہے، بغیر اس کے کہ اس عمل کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی واقع ہوجائے، ان میں سے ایک اہم سنت حسنہ اچھے شاگردوں کی تربیت ہے، شاگرد اپنے استاد سے تربیت پانے کے بعد اگر خدانخواستہ وہ استاد اس دنیا سے چلا بھی جائے تب بھی اس شاگرد کے ہر کار خیر میں قیام قیامت تک وہ استاد بھی شریک رہتا ہے ، ہم اپنے اساتذہ کرام کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں جنھوں نے اپنی آسائشوں کو ہماری خاطر قربان کیا، جنھوں نے ہماری تربیت کی خاطر خون دل بہائے، جنہوں نےہمیں شفقت پدری سے نوازا، جنہوں نے ہمیں بلنداہداف سے آشنا کیا، جنہوں نے ہمیں غلط سوسائٹی سے بچائے رکھا، جنہوں نے ہماری کامیابی کی خاطر طرح طرح کی زحمتیں اٹھائیں، جن کی راتیں ہمیں پڑھانے کا حق ادا کرنے کی خاطر مطالعے میں بیت گئیں، جنہوں نے اپنے نیک دعاؤں میں ہمیں شریک رکھا، اگر ہم نے معاشرے میں تعلیم و تربیت کو عام کرنا ہے اور ہمارے نئی نسل کے مستقبل کو تابناک بنانا ہے تو سب سے پہلے اچھے اساتذہ کی تربیت دینی ہوگی، پھر ان کے احترام کو معاشرے میں عام کرنا ہوگا، ان کی ضروریات کو پورا کرنا ہوگا تاکہ وہ بغیر کسی مشکل کے اپنی پوری توجہ بچوں کی تعلیم و تربیت پر صرف کرسکیں، جب معاشرے میں اساتذہ کا احترام بڑھے گا تب اچھے اچھے افراد اس فیلڈ کا انتخاب کریں گے، جب اچھے افراد اس لائن میں آجائیں گے تب ہماری اولاد کے لیے اچھے اساتذہ میسر آئیں گے، جب ان کے لیے اچھے اساتذہ فراہم ہوں گے تب وہ اچھے شاگردوں کی

بھرپور تربیت کرسکیں گے، جب ایسے افراد سے تربیت یافتہ افراد معاشرے میں قدم رکھیں گے تو ان کے قدم سے معاشرہ ہر جہت سے رشد اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا، یاد رکھئے کہ بہترین استاد ہی بہترین نسلوں کی تربیت کا ضامن ہوا کرتا ہے۔اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعاگو ہوں کہ رب العزت ہمارےگزشتہ اساتذہ کرام اور موجود اساتذہ کرام کی ان بے لوث خدمات کو شرف قبولیت عطا کرے اور ہمیں ان سے بھرپور رہنمائی لیکر اسے ملک و ملت کی ترقی اور سربلندی کے لیے وسیلہ بنانے کی توفیق دے، آمین ثم آمین

1. مجموعه رسائل در شرح احاديثى از كافى / ج1 / ص : 321

2. «مَن عَلّمني حَرفاً، فقد صَيَّرني عبداً»

3. مشكاة الأنوار في غرر الأخبار / النص / 246 / الفصل الأول في عيوب النفس و مجاهدتها ….. ص : 244

4. قَالَ النَّبِيُّ ص مَنْ سَنَ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ.

5. زوَّجک و بصائر الدرجات في فضائل آل محمد صلى الله عليهم / ج1 / 3 / 2 باب ثواب العالم و المتعلم ….. ص : 3

6. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص إِنَّ مُعَلِّمَ الْخَيْرِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ دَوَابُّ الْأَرْضِ وَ حِيتَانُ الْبَحْرِ وَ كُلُّ ذِي رُوحٍ فِي الْهَوَاءِ وَ جَمِيعُ أَهْلِ السَّمَاءِ وَ الْأَرْضِ

7. رَبَّنا وَ ابْعَثْ فيهِمْ رَسُولاً مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آياتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتابَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزيزُ الْحَكيم (البقرة : 129

زمرہ جات:   Horizontal 5 ،
ٹیگز:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

دو روپے اور مصافحہ

- ایکسپریس نیوز

’’ میں شرمندہ ہوں‘‘

- ایکسپریس نیوز