سعودی عرب کی پالیسی میں بڑی تبدیلی کیوں آئی؟

ایران سے جنگ امریکا کے لیے کتنی نقصان دہ ہو گی؟

تمام اہل بہشت ہمیشہ کیلئے امام حسین(ع) کے مہمان ہیں

مارشل لاء میں بھی اتنی پابندیاں نہیں لگیں جتنی اب ہیں، نواز شریف

بار بار اسمارٹ فون دیکھنے کی لت نشے کی مانند ہے: ماہرین

خون کی رگوں کو جوان کرنے والا نایاب اینٹی آکسیڈنٹ دریافت

تاحیات نااہلی اور نوازشریف

نقیب قتل کیس؛ پولیس نے راؤ انوار کو مرکزی ملزم قرار دے دیا

کے پی کے حکومت میں رخنہ: کیا پی ٹی آئی جماعت اسلامی کے بغیر اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے؟

سعودیہ میں تبدیلی کے پیچھے کون؟

شام میں مشترکہ عرب فوج تشکیل دینے پر مبنی امریکی منصوبہ

موجودہ حالات میں الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے، چوہدری شجاعت حسین

کوئٹہ میں ملک دشمن تکفیری دہشت گردوں کی فائرنگ، 2 شیعہ ہزارہ شہید 1 زخمی

فاروق ستار کی لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہونے پر وزیر اعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کی دھمکی

مغرب کیمیائی حملے کے شواہد تبدیل کر رہا ہے: روس

6 ماہ میں مختلف بیماریوں میں 2 ہزار یمنی شہریوں کا جانی نقصان

نظام تعلیم کا بیڑا غرق کردیا یہ ہے پنجاب حکومت کی کارکردگی، چیف جسٹس

ضیاالحق سے ڈکٹیشن لیتے وقت نواز شریف کو ووٹ کی عزت یاد نہیں آئی، بلاول بھٹو زرداری

مجھے دکھ ہے کہ بے گناہی ثابت کرنے کے لئے 14 ماہ زندان میں گزارے، ثمر عباس – از فواد حسن

ریاض میں شاہی محل کے قریب ‘کھلونا ڈروان’ مارگرایا

ہم آزادی سے خائف ہیں؟

’پاکستان سے زیارت کرنے جاؤ تو واپسی پر ایجنسیاں اٹھا لیتی ہیں‘، بی بی سی رپورٹ

اسلامی مزاحمت کے میزائل اسرائیل کے اندر ہر ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں

حضرت عابد (ع) کی ولادت مبارک ہو!

مانچسٹر میں سالانہ سیمینار: 'برطانیہ میں مسلمانوں کو درپیش چیلینجز'

حضرت عباس(ع) کی زندگی انتظار کا عملی نمونہ

حضرت ابوالفضل (ع) کے باب الحوائج ہونے کا راز

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا80 واں یوم وفات

فلسطینی بچوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ شرمناک ہے، اقوام متحدہ

اعیاد شعبانیہ اور جشن سرکار وفا

شمالی کوریا کا مزید ایٹمی اور میزائل تجربات نہ کرنے کا اعلان

شام کو اینٹی ایئر کرافٹ میزائل فراہم کرنا اخلاقی ذمہ داری

پاکستان کا کشمیر سے متعلق امام خامنہ ای کے بیان کا خیر مقدم

ان الحسین باب من ابواب الجنة

ہم تب کربلائی اور حسینی ؑنہضت کا حصہ بن سکتے ہیں جب ہمارے اندر انبیائی اور حسینیؑ صفات موجود ہوں: علامہ راجہ ناصر عباس

صحافت اور شہادت ساتھ ساتھ

چیئرمین سینیٹ منتخب کرانے کیلیے پی ٹی آئی نے کہا کہ اوپر سے آرڈر آیا ہے: سراج الحق

ایران کا ردعمل امریکہ کیلئے تکلیف دہ ہوگا: محمد جواد ظریف

امریکا کی عالمی جوہری ڈیل سے ممکنہ دستبرداری اور اس کے اثرات

امام حسین علیہ السلام کی سیرت طیبہ

مسلم خاتون کو ہاتھ نہ ملانے کی وجہ سے فرانس کی شہریت سے محروم کر دیا گیا

اللہ تعالی کی طرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر تہنیت اور تعزیت

سعودی عرب میں چیک پوسٹ پر فائرنگ سے 4 سیکویرٹی اہلکار جاں بحق

امریکی ہتھیاروں پر انحصار میں کمی: کیا پاکستان امریکہ سے مستقل چھٹکارا پا رہا ہے؟

سائیکل چلانے سے بہتر کوئی ورزش نہیں

کیمائی گیس حملہ کا فسانہ – رابرٹ فسک

شام پر ناکام حملہ، ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ

سعودی حکومت کے بانی کے برطانوی ایجنٹ ہونے کی تصدیق

شام میں امریکہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے، ابوالخیرزبیر

بھارت سکھ زائرین کے دورے کو کیوں متنازع بنانا چاہتا ہے؟

میں شام پہ غیر جانبدار نہیں ہوں – عامر حسینی

شامی حکومت نے دوما میں کیمیائی حملہ نہیں کیا: رابرٹ فسک

ڈائریکٹر سی آئی اے کی سربراہ شمالی کوریا سے خفیہ ملاقات کا انکشاف

امریکی سفارتکار کی گاڑی کی ٹکر سے نوجوان کی ہلاکت؛ پولیس نے کیس خراب کر دیا؟

نواز شریف کو محب وطن ثابت کرنے کی کوشش

کیا پاکستان سکھ یاتریوں کو خالصتان کے لیے اکسا رہا ہے؟

جنوبی اور شمالی کوریا 70 سالہ جنگ کے باقاعدہ خاتمے پر رضامند

اب جہاز میں کھڑے ہو کر سفر کرنا ممکن

جنوبی اور شمالی کوریا 70 سالہ جنگ کے باقاعدہ خاتمے پر رضامند

روس کا شام کو ایس 300 دفاعی میزائل فراہم کرنے پر غور

3 ہزار سے زائد ایپس غیر قانونی طور پر ڈیٹا جمع کرنے میں مصروف

دیوبندی مکتب فکر میں جہاد و تکفیر اور پشتون و پنجابی فیکٹر – عامر حسینی

یورپ ایران جوہری معاہدے پر امریکہ کے سامنے نہ جھکے: روس کا مطالبہ

متنازعہ ایجاد: ایمسٹرڈم میں ’خودکشی کی مشین‘ کی عوامی نمائش

پاکستان پر افغان سرحد کے پار سے حملہ: امن کیسے قائم ہو گا؟

شامی میدان پر مفاد پرستوں کی لڑائی ختم ہونا مشکل کیوں؟

پیغمبراکرم (ص) نے بشریت کو حیات طیبہ کی تعلیم دی تھی

مصری پارلیمنٹ کی خارجہ کمیٹی کی شام پر تین مغربی ممالک کے حملے کی مذمت

کوئٹہ : داعش کے بھیس میں لشکر جھنگوی کے مسیحی برادری پر حملے

فوج نہ ہوتی تو پاکستان میں بھی دیگر مسلم ممالک کی طرح تباہی مچی ہوتی، عمران خان

شامی جنگی ڈرامے کا مرکزی ولن کون؟ – ولادیمر گولیسٹن

2016-05-16 23:16:39

سعودی عرب کی پالیسی میں بڑی تبدیلی کیوں آئی؟

20150429Salmanبہار عربی کی تبدیلیوں سے پہلے تک سعودی عرب  روایتی طریقے سے بہت ہی محتاط اور پرامن خارجہ پالیسی اختیار کئے ہوئے تھا اور وہ کھلے ٹکراو اور تصادم سے گریز کرتا تھا اور حالات سے حساب سے بدل جاتا تھا لیکن 2011 میں عرب تحریکوں کے سبب سعودی عرب اپنے پرامن اور چین و سکون کے خول سے باہر نکل گیا۔  اس طرح سے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کی ماہیت اور لہجے میں اساسی تبدیل رونما ہوگئی اور وہ زیادہ گستاخ ہوگئیں۔ گرچہ بہت ہی کم سعودی تجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہے کہ یہ تبدیلی، اعتماد بہ نفس میں اضافے کا سبب بنتی ہے لیکن اصل ماجرا یہ ہے کہ یہ گستاخی، نقصانات کے احساس سے برآمد ہوئی ہے۔

در حقیقیت سعودی عرب میں خطرے کا احساس 2011 کی تحریکوں سے قبل ہی پیدا ہو گیا تھا اور عراق پر امریکا کے حملے کے بعد علاقے میں طاقت کے توازن کے احساس نے یہ کام شروع کرنے پر مجبور کر دیا۔ حالیہ عشروں کے دوران، شامات کے علاقے پر سعودی عرب کے اثر و رسوخ کے فقدان کا پوری طرح احساس کیا جا سکتا تھا اور اس کی خارجہ پالیسی عراق، شام اور حزب اللہ اور حماس کے بارے میں ایران سے پوری طرح متضاد تھی۔

عراق کی حمایت، شام کے ساتھ اتحاد قائم کرنا اور حزب اللہ اور حماس کی حمایت، ایران کی خارجہ پالیسی میں ترجیحات میں ہے۔ سعودی عرب نے علاقے میں ایران کی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لئے مصر اور اردن جیسے دوست ممالک کے ساتھ اتحاد کو مزید مضبوط کر لیا اور اپنی خام خیالی میں ہلال شیعی کے مقابلے میں محور سنی قائم کر لیا۔

2011 کی نا امنی نے ریاض کا پوری طرح محاصرہ کر لیا اس طرح سے کہ مشرق سے بحرین میں بغاوت، جنوب سے یمن، مغرب سے شام اور شمال سے عراق میں جاری مسلسل ناامنی کی وجہ سے سعودی حکام خوف زدہ ہوگئے خاص طور پر ملک کے مشرقی علاقوں میں حکومت مخالف شیعہ اقلیت کی تحریک نے آل سعود کی نیندیں حرام کر دیں۔ اس کے بعد سے سعودی عرب نے سفارتی، ذرائع ابلاغ اور تمام حربوں کا استعمال بحرین، یمن اور شام میں کیا۔  سعودی عرب نے علاقے میں اپنی سربراہی اور قیادت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی کوششوں کو شدید دھچکا اس وقت لگا جب وہ خلیج فارس تعاون کونسل کے ارکان کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں ناکام ہو گیا۔

 2011 میں خلیج فارس کے ممالک کو متحد کرنے اور واشنگٹن  کی حمایت کے باوجود خلیج فارس کی فوجی توانائی کو زیادہ متحد کرنے کا سعودی عرب کا منصوبہ ناکام ہو گیا ۔ ایران اور عرب تحریکوں کے بارے میں خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے درمیان ہونے والا معاہدہ پائدار نہیں تھا اور یہ سیاسی اختلافات، لیبیا کے بارے میں قطر اور امارات،  مصر اور اخوان المسلمین کے درمیان دشمنی کا سبب بن گئے اور انھیں اختلافات کے سبب قطر اور سعودی عرب کا تصادم شام میں ہو گیا۔

 در ایں اثنا شاہ سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے شطرنج کی اپنی چال بدل دی اور سعودی عرب کی بادشاہی کو ایران کے  خلاف اقدامات پر مرکوز کر دیا۔ اسی کے ساتھ اس نے داعش کے خطرے سے مقابلے کے لئے قابل توجہ حمایت بھی حاصل کر لی۔ سعودی عرب نے اسی طرح نام نہاد اسلامی ممالک کے اتحاد کی تشکیل کا نعرہ دیا جس میں عمان کو چھوڑ کر اردن، مغرب، مصر، سوڈان جیسے ممالک نے اس کا ساتھ دیا۔ سعودی عرب نے پاکستان کو بھی اپنے ساتھ لانے اور علاقائی مسائل میں اسے بھی الجھانے کی کوشش کی تاہم وہ اس حد تک کامیاب نہ ہو سکا۔

بہرحال سعودی عرب اپنے  مفاد کی حفاظت کے لئے اپنے مالی اور فوجی وسائل کا جم کر استعمال کر رہا ہے۔ سعودی عرب نے علاقے میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کو اپنی ترجیحات قرار دیا ہے تاکہ علاقے کی خطرناک صورتحال سے مقابلہ کر سکے۔ سعودی عرب علاقے کے حالات سے جیسا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا وہ نہیں اٹھا سکا اور اس سے اس کی خارجہ پالیسی پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ 

زمرہ جات:   Horizontal 4 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)