انتظار ظہور مہدی کے اثرات

سعودی عرب کی ’توہین‘: کویتی بلاگر کو پانچ سال سزائے قید

دنیا، کس قسم کے افراد کو تباہ وبرباد کردیتی ہے؟

ٹرمپ کے خلاف لاکھوں امریکی خواتین کا تاریخی احتجاج

نقیب اللہ قتل؛ راؤ انوار کو پولیس پارٹی سمیت گرفتار کرنے کا فیصلہ

فتویٰ اور پارلیمینٹ

کل بھوشن کے بعد اب محمد شبیر

سعودیہ فوج میں زبردستی بھرتی پر مجبور ہوگیا ہے؛ یمنی نیوز

پاکستان کی غیر واضح خارجہ پالیسی سے معاملات الجھے رہیں گے

پارلیمنٹ پر لعنت

نائیجیریا میں آیت اللہ زکزکی کی حمایت میں مظاہرہ

ایٹمی معاہدے میں کوئی خامی نہیں، امریکی جوہری سائنسداں کا اعتراف

سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان مکار، دھوکہ باز، حیلہ گر اور فریبکار ہیں: قطری شیخ

امریکا نے دہشت گردی کے بجائے چین اور روس کو خطرہ قرار دے دیا

سلامتی کونسل میں پاکستان اور امریکی مندوبین کے درمیان لفظی جنگ

ایک اورماورائے عدالت قتل

کالعدم سپاہ صحابہ کا سیاسی ونگ پاکستان راہ حق پارٹی بھی اھل سیاسی جماعتوں میں شامل

امریکہ اور دہشتگردی کا دوبارہ احیاء

ایرانی جوان پوری طرح اپنے سیاسی نظام کے حامی ہیں؛ ایشیا ٹائمز

دنیائے اسلام، فلسطین اور یمن کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرے

شام کے لیے نئی سازش کا منصوبہ تیار

پاک فوج کیخلاف لڑنا حرام ہے اگر فوج نہ ہوتی تو ملک تقسیم ہوچکا ہوتا: صوفی محمد

امام زمانہ عج کی حکومت میں مذہبی اقلیتوں کی صورت حال

سعودی عرب نائن الیون کے واقعے کا تاوان ادا کرے، لواحقین کا مطالبہ

امریکہ کو دوسرے ممالک کے بارے میں بات کرنے سے باز رہنا چاہیے: چین

پاکستان میں حقانی نیٹ ورک موجود نہیں

سعودی عرب نے یمن میں انسانی، اسلامی اور اخلاقی قوانین کا سر قلم کردیا

پاکستان کو ہم سے دشمن کی طرح برتاؤ نہیں کرنا چاہیے: اسرائیلی وزیراعظم

آرمی چیف نے 10 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی

بھارت: ’حج سبسڈی کا خاتمہ، سات سو کروڑ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے

صہیونی وزیر اعظم کے دورہ ہندوستان کی وجوہات کچھ اور

پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملہ، عوام حکومتی ایکشن کے منتظر

روس، پاکستان کی دفاعی حمایت کے لئے تیار ہے؛ روسی وزیر خارجہ

عام انتخابات اپنے وقت پر ہونگے: وزیراعظم

ناصرشیرازی اور صاحبزادہ حامد رضا کی چوہدری پرویزالہیٰ سے ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

پارلیمنٹ نمائندہ ادارہ ہے اسے گالی نہیں دی جاسکتی: آصف زرداری

زائرین کے لیے خوشخبری: پاک ایران مسافر ٹرین سروس بحال کرنے کا فیصلہ

شریف خاندان نے اپنے ملازموں کے ذریعے منی لانڈرنگ کرائی، عمران خان

امریکہ کی افغانستان میں موجودگی ایران، روس اور چین کو کنٹرول کرنے کے لئے ہے

ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر کی تہران اسلام آباد سیکورٹی تعاون بڑھانے پر تاکید

دورہ بھارت سے نیتن یاہو کے مقاصد اور ماحصل

ایوان صدر میں منعقد پیغام امن کانفرنس میں داعش سے منسلک افراد کی شرکت

امریکہ، مضبوط افغانستان نہیں چاہتا

عربوں نے اسرائیل کے خلاف جنگ میں اپنی شکست خود رقم کی

سیاسی لیڈر کا قتل

مقاصد الگ لیکن نفرت مشترکہ ہے

انتہا پسندی فتوؤں اور بیانات سے ختم نہیں ہوگی!

تہران میں او آئی سی کانفرنس، فلسطین ایجنڈہ سرفہرست

زینب کے قاتل کی گرفتاری کے حوالے سے شہباز شریف کی بے بسی

یورپ کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی حمایت کا اعادہ

بن گورین ڈاکٹرین میں ہندوستان کی اہمیت

دہشت گردی کے خلاف متفقہ فتویٰ

شام میں امریکی منصوبہ؛ کُرد، موجودہ حکومت کی جگہ لینگے

شفقنا خصوصی: کیا زینب کے قاتل کی گرفتاری کو سیاسی مقاصد کے لیے چھپایا جا رہا ہے؟

مسئلہ فلسطین، عالم اسلام کا اہم ترین مسئلہ ہے

پاپ کی طرف سے میانمار کے مسلمانوں کی عالمی سطح پر حمایت

امریکا مشترکہ مفادات کی بنیاد پر پاکستان سے نئے تعلقات بنانا چاہتا ہے، ایلیس ویلز

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا بینظیر بھٹو کو قتل کرنے کا دعویٰ

امریکہ، بیت المقدس کے بارے میں اپنے ناپاک منصوبوں ميں کامیاب نہیں ہوگا

پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کرنےکےلیے پرعزم ہیں: امریکی جنرل جوزف ڈنفورڈ

اسلامی ممالک کو اختلافات دور کرنے اور باہمی اتحاد پر توجہ مبذول کرنی چاہیے

بھارت ایسے اقدامات سے باز رہے جن سے صورتحال خراب ہو، چین

عمران خان اور آصف زرداری کل ایک ہی اسٹیج سے خطاب کریں گے، طاہرالقادری

اسرائیلی وزیراعظم کا 6 روزہ دورہ بھارت؛ کیا پاکستان اور ایران کے روایتی دشمنوں کیخلاف علاقائی اتحاد ناگزیر نہیں؟

مودی، یاہو اور ٹرمپ کی مثلث

سید علی خامنہ ای، دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیڈر ہیں؛ آذربائیجانی عوام

لسانی حمایت کافی نہیں، ایرانی معترضین تک اسلحہ پہنچایا جائے؛ صہیونی ادارہ

خود کش حملے حرام ہیں، پاکستانی علما کا فتوی

پاکستان افغان جنگ میں قربانی کا بکرا نہیں بنے گا ، وزیردفاع

امریکہ کے شمالی کوریا پر حملے کا وقت آن پہنچا ہے؛ فارن پالیسی

یمن پر مسلط کردہ قبیلۂ آل سعود کی جنگ پر ایک طائرانہ نظر

2016-05-22 19:57:54

انتظار ظہور مہدی کے اثرات

faraj_by_ragagraphicگذشتہ بحث میں ہم جان چکے ہیں کہ یہ عقیدہ اسلامی تعلیمات میں کویی وارداتی پہلو نہیں رکھتا بلکہ ان بہت زیادہ قطعی ویقینی امور میں سے ہے جو بانی اسلام سے بالذات لیے گیے ہیں اور سب اسلامی مکاتب ومذاہب اس سلسلے میں متفق ہیں اور اس کے بارے میں احادیث متواتر ہیں ۔
اب ہم موجودہ اسلامی معاشروں کی کیفیت میں اس انتظار کے اثرات کی طرف آتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا اس قسم کے ظہورپر ایمان انسان کو خواب و خیال کی دنیا میں لے جاتا ہے کہ جس سے وہ اپنی موجودہ حیثیت سے غافل ہوجاتا ہے اور ہر قسم کے حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے یا یہ کہ واقعا یہ عقیدہ ایک قسم کے قیام اور فرد اور معاشرے کی تربیت کی دعوت ہے؟
کیا یہ عقیدہ تحرک کا باعث ہے یا جمود کا؟
اور کیا یہ عقیدہ مسیولیت ذمہ داری کا احساس ابھارتا ہے یا ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے سے فرار کا باعث بنتا ہے؟
خلاصہ یہ کہ کیا یہ فکری صلاحیتوں کو شل کردینے والی چیز ہے یا بیدار کرنے والی؟
ان سوالات کی وضاحت ورتحقیق سے پہلے ایک نکتے کہ طرف پوری توجہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ بہت زیادہ اصلاح کنندہ قانون اور اعلیٰ ترین مفاہیم جب جاہل، نالایق اور غلط فایدہ اٹھانے والے افراد کے ہاتھ چڑھ جاییں تو ہوسکتا ہے کہ وہ انہیں اس طرح مسخ کردیں کہ وہ اصلی مقصد کے بالکل خلاف نتیجہ پیدا کریں اور وہ ان کے ہدف سے الٹ راہ پر چل نکلیں، ایسے امور کی بہت سی مثالیں اور نمونے موجود ہیں اور مسیلہ انتظار کے ساتھ بھی جیسا کہ ہم دیکھیں گے یہی سلوک ہوا ہے ۔
بہرحال ہر قسم کے اشتباہ سے بچنے کے لیے ہم بقول”باید آب را ازسرچشمہ گرفت“(یعنی پانی خودسر چشمہ سے حاصل کرنا چاہیے)اس موضوع کو بھی سر چشمہ سے حاصل کرتے ہیں تاکہ راستے کی نہروں اور کھایوں کی آلود گی سے بچایا جاسکے، یعنی ہم ”انتظار“ کی بحث میں براہ راست اسلام کے اصلی متون کو تلاش کریں گے اور ان مختلف روایات پر بحث کریں گے جو مختلف لب ولہجہ میں مسیلہ انتظارکی تاکید کرتی ہےں تاکہ اصلہ مقصد اور ہدف تک پہنچ سکیں ۔
اب نہایت غور سے ان چند روایات کی طرف توجہ کیجیے:
۱۔ کسی امام صادق علیہ السلام سے پوچھا:
آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو ہادیان برحق کی ولایت رکھاہے اور حکومت حق کے ظہور کے انتظار میں رہتا ہے اور اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے ۔
امام نے جواب میں فرمایا:
ھوبمنزله من کان مع القایم فی فسطاطہ۔ ثم سکت ھنییه ۔ ثم قال: ھوکمن کان مع رسول اللّٰہ۔
وہ اس شخص کی طرح ہے جو اس رہبر انقلاب کے خیمے میں(اس کی فوج کے سپاہیوں میں )ہو ۔
پھر آپ نے کچھ توقف کیا، پھر فرمایا:
اسی شخص کی طرح ہے جو پیغمبر اسلام کے ساتھ (ان کے معرکوں میں )شریک ہو۔(۱)
بعینہ یہی مضمون بہت سی روایات میں مختلف تعبیرات کے ساتھ منقول ہے ۔
۲۔بعض روایات میں یہ عبارت آیی ہے:
بمنزله الضارب بسیفہ فی سبیل اللّٰہ
یعنی ،وہ اس شخص کی طرح ہے جو راہ خدا میں شمشیر زن ہو۔
۳ ۔بعض روایات میں عبارت یوں ہے:
کمن قارع مع رسول اللّٰہ بسیفہ۔
یعنی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو رسول خدا کے ساتھ ہو کر دشمن کے دفاع پر تلوار مارے ۔
۴۔ بعض دیگر روایات میں ہے:
بمنزله من کان قایدا تحت لواء القایم۔
یعنی وہ اس شخص کی طرح ہے جو قایم(مہدی)کے پرچم تلے ہو۔
۵۔ بعض دوسری روایات میں ہے:
بمنزله المجاھد بین یدی رسول اللہ۔
یعنی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو رسول اللہ کی موجود گی میں جہاد کرے ۔
۶۔ بعض روایاتم یں ہے:
بمنزله من استشھد مع رسول اللّٰہ ۔
یعنی، وہ اس شخص کی طرح ہے جوپیغمبر کی معیت میں شہید ہو۔
ان چھ روایات میں ظہور مہدی  کے انتظار کے بارے میںسات تشبیہیں آیی ہیں، ان سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ایک طرف ان کا رابطہ اور مشابہت مسیلہ انتظار سے ہے اور دوسری طر ف اس انتظار کا تعلق دشمن کے ساتھ جہاد اور مقابلے کی آخری صورت سے ہے (غور کیجیے گا ) ۔
۷۔ کیی ایک روایات میں ایسی حکومت کے انتظار کو بلند ترین عبادات میںسے شمار کیا گیا ہے، یہ مضمون رسول اللہ سے مروی بعض احادیث میں اور امیر المومنین حضرت علی  کے بعض فرمودات میں نقل ہوا ہے ۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایاہے:
افضل اعمال امتی انتظار الفرج من اللّٰہ عزوجل۔
میری امت کے افضل ترین اعمال میں سے ظہور کا انتظار کرنا ہے ۔(۱)
ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے:
افضل العباده انتظار الفرج۔
زیادہ فضیلت والی عبادت ظہور کا انتظار کرنا ہے ۔(۲)
یہ حدیث یہاں عمومی مفہوم رکھتی ہے، ”انتظار فرج“ کو یہاں چاہے وسیع معنی میں لیں یا عظیم عالمی مصلح کے ظہور کا انتظارسمجھیں ، دونوں صورتوں میں زیر بحث موضوع کے حوالے سے انتظار کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے ۔
یہ تمام تعبیریں اس بات کی ترجمانی کرتی ہیں کہ ایسے انقلاب کا انتظار ہمیشہ وسیع اور ہمہ گیر جہاد سے منسلک ہوتا ، اس بات کو نظر میں رکھنا چاہیے تاکہ انتظار کا مفہوم سمجھ کر ہم ان سب تعبیروں سے ایک نتیجہ اخذ کو سکیں ۔

۱۔ بحارالانوار ، ج ۱۳،ص ۱۳۷،بحوالہ کافی ۔
۲۔ بحارالانوار ، ج ۱۳،ص ۱۳۶،بحوالہ کافی ۔
انتظار کا مفہوم
لفظ”انتظار“ ایسے شخص کی کیفیت پر بولا جاتا ہے جو موجودہ حالت سے پریشان ہو اور اس سے بہتر کیفیت کے ایجاد کرنے میں لگا ہو ، مثلا وہ بیمار جو صحت کے انتظار میں یا وہ باپ جو سفر پر گیے ہویے بیٹے کے انتظار میں، بیمار بیماری پر پریشان اور دکھی ہوتا ہے اور باپ بیٹے کے فراق میں پریشان ہوتا ہے ، دونوں بہتر حالت کی کوشش میں ہوتے ہیں، اسی طرح وہ تاجر جو کاروبار کی بدحالی پر پریشان ہو اور اقتصادی بحران کے خاتمے کے انتظار میں ہو، ایسے تاجر کی دو ھالتیں ہوتی ہیں ایک موجودہ حالت پر پریشانی اور ناپسندیدگی اور دوسرا بہتر حالت کے لیے کوشش ۔
اس بنا پر حضرت مہدی کی عادلانہ حکومت اور عالمی مصلح کے قیام کا انتظار بھی دو عناصر کا مرکب ہے، ۱۔ ”نفی“ کا عنصر اور دوسرا”اثبات“ کا عنصر، منفی عنصر جوجودہ حالت کی نا پسندیدگی ہے اورمثبت عنصر بہتر اور اچھی حالت کی آرزو ہے ۔
اب اگر یہ دونوں پہلو روح انسانی میں اتر جاییں تو دو قسم کے وسیع اعمال کا سرچشمہ بن جاییں گے، ان دو قسم کے اعمال میں ایک طرف تو ظلم و فساد کے عوامل سے ہر طرح کا تعلق ترک کرنا ہے یہاں تک کہ ان سے مقابلہ اور جنگ کرنا ہے اور دوسری طرف خود سازی، اپنی مدد آپ اور عوام کی واحد عالمی حکومت کی تشکیل کے لیے جسمانی اور روحانی طور پر تیاری کرنا ہے، اور اگر ہم اچھی طرح غور کریں تو دیکھیں گے کہ اس کے دونوں حصے اصلاح کن ، تربیت کنندہ اور تحرک، آگاہی اور بیداری کے عوامل ہیں ۔
”انتظار“ کے حقیقی اور اصلی مفہوم کی طرف توجہ کریں تو مندرجہ بالا متعددروایات میں جو انتظار کی جزا اور نتیجہ بتایا گیا ہے وہ اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے اور سمجھ آتا ہے کہ کس طرح حقیقی انتظار کرنے والے کبھی ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جو مہدی  کے کیمپ میں یا ان کے پرچم کے نیچے یا اس شخص کی طرح قرار پاتے ہیں جو راہ خدامیں تلوار چلایے یا جو اپنے خون میں غلطاں ہو اور یا جو شہید ہوجایے، کیا یہ حق و عدالت کی راہ کے مختلف مراحل اور مجاہدہ کے مخلتف درجات کی طرف اشارہ نہیں ہے کہ جو مختلف لوگوں کو ان کی تیاری اور انتظار کے درجے کی مناسبت سے حاصل ہوتے ہیں، یعنی جس طرح راہ خدا کے مجاہدین کی فداکاری اور اس کے نتیجہ و اثر کے مختلف درجے ہوتے ہیں اسی طرح انتظار کے خودسازی اور آمادگی کے بھی بالکل مختلف درجے ہوتے ہیں”مقدمات“ اور نتایج کے لحاظ سے ان کی ایک دوسرے سے مشابہت ہوتی ہے دونوں جہاد ہیں، دونوں کے لیے تیاری اور خود سازی کی ضرورت ہے، جو شخص ایسی حکومت کے قاید کے کیمپ میں ہوں یعنی ایک عالمی حکومت کے فوجی مرکز میں ہو وہ ایک غافل اور جاہل شخص نہیں ہوسکتا اور نہ وہ لاابالی پن کا مظاہرہ کرسکتا ہے، ایسے مرکز میں ہرکویی نہیں آسکتا، یہ جگہ تو ان افراد کے لیے ہے جو حقیقتاً اس حیثیت، مقام اور اہمیت کی لیاقت اور صلاحیت رکھتے ہیں ۔
اسی طرح جس شخص کے ہاتھ میں ہتھیار ہو اور وہ اس قاید انقلاب کے سامنے اس کی صلح و آشتی اور عادلانہ حکومت کے مخالفین سے جنگ کرے تو اس میں روحانی اور فکری جنگی لحاظ سے پوری آمادگی اور تیاری ہونا چاہیے ۔
ظہور مہدی کے انتظار کے حقیقی اثرات سے مزید آگاہی کے لیے حسب ذیل وضاحت کی طرف توجہ کریں:
انتظار۔ یعنی بھرپور تیاری
میں اگر ظالم اور ستمگر ہوں تو کیسے ممکن ہے اس شخص کا انتظار کروں کہ جس کی تلوار ستمگروں کے خون سے سیراب ہوگی، میں اگر گناہ آلود اور ناپاک ہوں تو میں کیوں کر ایسا انقلاب کا منتظر ہوں گا جس کا پہلا شعلہ ناپاک لوگوں کے دامن کو لپکے گا، وہ لشکر جو ایک عظیم جہاد کے انتظار میں ہے وہ اپنے سپاہیوں کی جنگی تربیت کو آخری حد تک پہنچایے گا اوران میںانقلاب کی روح پھونک دے گا اور کمزوری کے ہر نقطے کی اصلاح کرے گا ۔
کیوں کہ
انتظار کی کیفیت ہمیشہ اس ہدف اور مقصد کے مطابق ہوتی ہے جس کے ہم انتظار میں ہوتے ہیں ۔
ایک عام مسافر کے آنے کا انتظار ۔
ایک بہت ہی عزیز دوست کے لوٹ آنے کا انتظار۔
درخت سے پھلوں کے اتارنے کے موسم کا انتظار۔
فصل کی کٹایی کے سمے کا انتظار۔
ان میں سے ہر انتظار میں ایک طرح کی آمادہ گی اور تیاری شامل ہوتی ہے ۔
مہمان کے لیے گھر کو تیار کرنا پڑتا ہے، اس کی پذیرایی اور خدمت کے ذرایع مہیا کرنا پڑتے ہیں ۔
پھل اتارنے اور فصل کاٹنے کے لیے ضروری سازوسامان، درانتی اور متعلقہ مشین وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے جو فراہم کرنا پڑتی ہے ۔
اب غور کریں کہ وہ جو ایک عظیم عالمی مصلح کے قیام کا انتظار کررہے ہیں وہ درحقیقت صورت حال کو یکسر پلٹ دینے والے انقلاب اور ایک تحول کا انتظار کررہے ہیں کہ جو پوری انسانی تاریخ میں سب سے بڑا اور سب سے بنیادی انسانی انقلاب ہوگا ۔
وہ انقلاب کہ جو گذشتہ انقلابوں کے برعکس علاقایی نہیں ہوگا بلکہ ہمہ گیر اور سب کے لیے ہوگا اور انسانی زندگی کے تمام پہلوو-ں پر محیط ہوگا ۔
وہ انقلاب سیاسی ، ثقافتی، اقتصادی اور اخلاقی ہر حوالے سے انقلاب ہوگا ۔
پہلا فلسفہ: انسان سازی
اس قسم کا تحول ہر چیز سے پہلے آمادہ اور تیار عنصر کا محتاج اور انسانی قدروقیمت کا حامل ہے، اسے ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو پوری دنیام ین وسیع اصلاحات کابھاری بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا سکیں ۔
پہلی منزل میں اس عظیم پروگرام کو عملی شکل دینے میں تعاون کرنے کی فکر اور آگاہی کی سطح بلند کرنے کی ضرورت ہے اور روحانی فکری آمادگی کو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔
تنگ نظری، کوتاہ بینی، کج فکری، حسد،بچگانہ اور غیر عقلانہ اختلافات اور ہر قسم کا نفاق و انتشار حقیقی انتظار کرنے والوں کے شایان شان نہیں ۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ حقیقی انتظار کرنے والا اس قسم کے اہم پروگرام کا فقط تماشایی ہرگز نہیں ہوسکتا، اسے چاہیے کہ وہ ابھی سے حتمی طور پر انقلابیوں کی صف میں شامل ہوجایے، اس انقلاب کے نتایج پر ایمان اسے ہر گزاجازت نہیں دیتا کہ وہ مخالفین کی صف میں کھڑا ہو، دوسری طرف موافقین کی صف میں کھڑا ہونے کے لیے بھی پاک اعمال، پاکہزہ روح، کافی دلیری اور آگاہی کی ضرورت ہے ۔
میں اگر فاسد، خراب اور نادرست ہوں تو ایسے نظام کے ایام کو کیسے یاد کرسکتا ہوںجس میں فاسد، خراب اور نادرست افراد کی کویی حیثیت نہ ہوگی بلکہ وہ تو اس میں ٹھکرا دیےے جاییں گے اور قابل نفرت ہوں گے ۔
کیا یہ انتظار فکر وروح اور جسم وجان کی پاکیزگی کے لیے کافی نہیں ۔
وہ لشکر جو آزادی بخش جہاد کے انتظار میں وقت گزار رہاہے یقینا مکمل طور پر آمادہ اور تیار ہوگا، وہ ہتھیار جو ایسے میدان جنگ کے لیے مناسب اور ضروری ہے اسے مہیا رکھے گا، ایسا لشکر ضرور مورچہ بند رہے گا، اپنے افراد کی تیاریوں میں اضافہ کرتا رہے گا اور اپنے فوجیوں کے دلوں کو مضبوط کرے گا اور ایسے جہاد اور مقابلے کے لیے اپنے ہر سپاہی کے دل میں عشق اور شوق زندہ رکھے گا، جو لشکر اس طرح سے تیار نہ ہو وہ کبھی منتظر نہیں رہ سکتااور اگر تیار رہنے کا دعویٰ کرے توجھوٹ ہے ۔
ایک عالمی مصلح اور مربی کا انتظار تمام جہانوں کی مکمل فکری، اخلاقی، مادی اور روحانی اصلاح کی آمادگی کا مفہوم رکھتا ہے، اب آپ سوچیے کہ ایسی آمادگی اور انتظار کس قدر انسان ساز اور تربیت کنندہ ہے ۔
تمام رویے زمین کے اصلاح اور تمام مظالم اور خرابیوں کا خاتمہ کویی مزاق نہیں اور نہ یہ کویی آسان کام ہے، ایسے عظیم مقصد کی تیاری اس کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے، یعنی تیاری بھی اس پروگرام کی گہرایی اور گیرایی کے مطابق ہوناچاہے، ایسے انقلاب کو پایہ تکمیل تک پہونچانے کے لیے عظیم مصمم اردوں والے، بہت قوی اور شکت ناپذیر، انتہایی باز، بلند نظر، پوری طرح تیار اور گہری نگاہ رکھنے والے لوگوں کی ضرورت ہے ۔
ایسے مقصد کے لیے خودسازی اور اپنی عمیق ترین تربیت کی ضرورت ہے، ایسے ہدف کے لیے بہت سے اخلاقی، فکری اور اجتماعی منصبوں پر عمل درآمدانہ گزیر ہے ۔
یہ ہے حقیقی انتظار کا مفہوم تو کیا کویی شخص کہہ سکتا ہے کہ ایسا انتظار انسان ساز اور اصلاح کنندہ نہیں ہے؟
دوسرا فلسفہ :اجتماعی کاوشیں
سچے انتظارکرنے والوں کی ساتھ ساتھ یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ فقط اپنی اصلاح نہ کریںبلکہ ایک دوسرے کے حالات پر بھی نظر رکھیں اور اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کی بھی کوشش کریں کیوں نکہ جس عظیم اور بھاری پروگرام کی تکمیل کے وہ منتظر ہیں انفرادی نہیں بلکہ ایساپروگرام ہے جس میں تمام عناصرانقلاب کو شرکت کرنا ہوگی لہٰذا کام گروہی اور اجتماعی صورت میں ہونا چاہیے مساعی اور کاوشیں ہم آہنگ ہونا چاہییں،اس ہم آہنگی کی گہرای اور وسعت اس عالمی انقلاب کے پروگرام کی عظمت کے مطابق ہونا چاہیے کہ جس کا وہ انتظار کر رہے ہیں ۔
ایک اجتماعی اور وسیع جنگ کے میدان میں کویی شخص دوسروں کے حال سے غافل نہیں رہ سکتا بلکہ اس کی ذمہ داری ہے،کہ کمزوری کا کویی نقطہ اسے جہاں نظر آیے اس کی اصلاح کرے اور جو بھی نقصان زدہ جگہ ہو اس کی مرمت کرے اور کمزور حصے کو تقویت پہنچایے کیوں کہ میدان جنگ میں موجود تمام مجاہدین کی فعال اور ہم آہنگ شرکت کے بغیر ایسے پروگرام کو عملی شکل دینا ممکن نہیں ہے ۔
لہٰذاحقیقی انتظار کرنے والے نہ صرف اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہےں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی بھی اصلاح کریں ۔
یہ ہے ایک عالمی مصلح کے قیام کے انتظار کا ایک اور تعمیری اور تربیتی اثر اور یہ ہے فلسفہ ان تمام فضیلتوں کا جو ایک سچے انتظار کرنے والے کے لیے شمار کی گیی ہیں ۔
تےسرا فلسفہ: خراب ماحول کا مقابلہ
حضرت مہدی کے انتظار کا ایک اور اثر ماحول کے مفاسد میںگھل مل جانا اور براییوں کے سامنے ہتھیا نہ ڈالنا ہے ۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ جب کویی برایی عام ہو جاتی ہے اور سب کو گھیر لیتی ہے ،اکثریت یا جماعت کا ایک بڑا حصہ اس کی طرف چلا جاتا ہے تو بعض اوقات نیک لوگ ایک سخت قسم کی نفسیاتی تنگی میں پھنس جاتے ہیں اس گھٹن میں وہ اصلاح سے مایوس ہو جاتے ہیں،بعض اوقات وہ یہ خیال کرتے ہےں کہ اب پانی سر سے اونچا ہو گیا ہے اور اب اصلاح کی کویی امید باقی نہیں رہی، اب اپنے آپ کو پاک رکھنے کی کوشش اور جدوجہد فضول ہے ،ممکن ہے ایسی ناامیدی اور مایوسی آہستہ آہستہ انہیں برایی اور ماحول کی ہمرنگی کی طرف کھیچ لے جایے اور وہ اپنے آپ کو ایک صالح اقلیت کے طور پر فاسد اکثریت کے مقابلے میں محفوظ نہ رکھ سکیں اور دوسروں کے رنگ میں نہ رنگے جانے کو رسوایی کا سبب سمجھیں ۔
تنہا جو چیزان میں امید کی روح پھوک سکتی ہے ،انہیں مقابلے اور کھڑے رہنے کی دعوت دے سکتی ہے اور انہیں فاسد ماخول میں گھل مل جانے سے روک سکتی ہے،۔وہ ہے مکمل اصلاح کی امید ۔صرف یہی صورت ہے کہ جس میں وہ اپنی پاکیزگی کی حفاظت کرسکتے ہیں اور دوسروں کی اصلاح کی جد وجہد جاری رکھ سکتے ہیں ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی قوانین میں بخشش سے مایوسی کو بہے بڑا گناہ شمار کیا گیا ہے ۔ہوسکتا ہے کہ با سمجھ اور بے خبر افرادتعجب کریں کہ رحمت خدا سے مایوسی کو اس قدر اہمیت کیوں دی گیی ہے، یہاں تک کہ بہت سے گناہوں سے اسے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے ۔ تو اس کا فلسفہ در حقیقت یہی ہے کہ رحمت خدا سے مایوس گنہگار کو کویی وجہ نظر نہیں آتی کہ وہ تلافی کی فکر کرے یا کم از کم گناہ کو جاری رکھنے سے دستبردار ہوجایے اور اس کی منطق یہ ہے کہ اب جب پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے تو چاہے ایک قد کے برابر ہو چاہے سو قد کے برابر ہو ۔وہ سوچتا ہے کہ میں دنیا میں رسوا ہوچکا ہوں، اب دنیا کا غم فضول ہے ۔ سیاہی سے بڑھ کر کویی رنگ نہیں ، آخر جہنم ہے، میں تو ابھی سے اسے اپنے لیے خرید چکا ہوں، اب دوسری کسی چیز سے کیاڈروں، اسی طرح کی دیگر باتیں اسے گناہ کے راستے پر باقی رکھتی ہیں ۔
مگر۔ جب اس کے لیے امید کا دریچہ کھلا ہو، عفو الٰہی کی امید ہو اور موجود کیفیت کے بدل جانے کی توقع ہو، تو اس کی زندگی میںایک طرح کا میدان پیدا ہوگا جو اسے راہ گناہ سے لوٹ آنے اور پاکیزگی و اصلاح کی طرف واپسی کی دعوت دے گا، یہی وجہ ہے کہ فاسد افراد کی اصلاح کے لیے امید کو ہمیشہ ایک موثر تربیتی عامل سمجھا گیا ہے، اسی طرح وہ نیک افراد جو خراب ماحول میں گفتار ہیں، امید کے بغیر اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھ سکتے ۔
خلاصہ یہ کہ دنیا جس قدر فاسد اور خراب ہوگی مصلح کے ظہور کے انتظار میں امید بڑھے گی جومعتقدین پر زایدہ روحانی اثر ڈالے گی، برایی اور خرابی کے طاقتور موجوں کے مقابلے میں یہ امید ان کی حفاظت کرے گی اور وہ نہ صرف ماحول کے دامن فساد کی وسعت سے مایوس نہیں ہوں گے بلکہ۔۴

        حوالہ جات: 
        ۱۔بحار الانوار،ج۱۳،ص۱۳۶(چاپ قدیم)بحوالہ محاسن برقی ۔
۲۔ بحارالانوار ، ج ۱۳،ص ۱۳۷،بحوالہ کافی ۔
۳بحارالانوار ، ج ۱۳،ص ۱۳۶،بحوالہ کافی ۔
۴-تفسیر نمونه، جلد 7، صفحه 447.۱
زمرہ جات:   Horizontal 1 ، Horizontal 4 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

کوئٹہ توکل کانفرنس

- اسلام ٹائمز