عراق کے شہر فلوجہ میں شدت پسند گروپ دولت اسلامی ’داعش‘ کے خلاف جاری آپریشن کے جلو میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ فلوجہ میں داعش کو شکست دینے کے فوری بعد عراقی فوج داعش کے گڑھ موصل میں بھی آپریشن شروع کرے گی۔ موصل آپریشن میں 100 امریکی ایلیٹ فورس کےاہلکاروں کی شمولیت کی بھی اطلاعات ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عراقی فوج نے فلوجہ کے بیشترعلاقوں کا کنٹرول سنھبالنے کا دعویٰ کیا ہے۔ فلوجہ بلدیہ پر عراقی پرچم بھی لہرایا گیا ہے مگر شہرکی آفیسر کالونی اور ٹیچرز کالونیوں میں گھمسان کی جنگ کی بھی خبریں مل رہی ہیں۔ شہر میں مرکزی دفاتر پر فوج کے کنٹرول کے باوجود قرب وجوار کے علاقے بارود کے ڈھیروں سے اٹے پڑے ہیں اور داعش کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگیں فوج کی پیش قدمی کو روک رہی ہیں۔

چونکہ اس آپریشن میں زمینی کارروائی کی قیادت عراقی فوج کے ہاتھ میں ہے مگر اسے شیعہ ملیشیا حشدالشعبی کے جنگجوؤں اور امریکی اتحاد کے فضائی حملوں کی شکل میں معاونت حاصل ہے۔

عراق کے ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ موصل میں داعش کے خلاف آپریشن متوقع آپریشن میں امریکی بری فوج کے 100 اہلکار بھی حصہ لیں گے۔ اس وقت یہ امریکی فوجی شمالی تکریت کے اسبائیکر فوجی اڈے پرموجود ہیں اور ان کا ہدف جنوبی موصل کے القیارہ ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کرناہے تاکہ موصل پر باقاعدہ حملے کے لیے وہاں سے زمینی اور فضائی کارروائی شروع کی جا سکے۔ تکریت کےفوجی اڈے سے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر داعش کےخلاف آپریشن میں پروازیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فلوجہ میں آپریشن کے دوران ہزاروں کی تعداد میں شہری نقل مکانی کر چکے ہیں مگر اب بھی بڑی تعداد میں شہریوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔ عراقی فوج نے موصل کے بڑے شہر نینویٰ میں آپریشن کا دوسرا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ وہاں سے بھی بڑی تعداد میں شہریوں کے انخلاء کا امکان ہے۔ دوسری جانب داعش بھی شہریوں کو انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔