عید مباہلہ 24 ذیحجہ 9 ہجری عیدِ اسلام

پاکستان کا کشمیر سے متعلق امام خامنہ ای کے بیان کا خیر مقدم

ان الحسین باب من ابواب الجنة

ہم تب کربلائی اور حسینی ؑنہضت کا حصہ بن سکتے ہیں جب ہمارے اندر انبیائی اور حسینیؑ صفات موجود ہوں: علامہ راجہ ناصر عباس

صحافت اور شہادت ساتھ ساتھ

چیئرمین سینیٹ منتخب کرانے کیلیے پی ٹی آئی نے کہا کہ اوپر سے آرڈر آیا ہے: سراج الحق

ایران کا ردعمل امریکہ کیلئے تکلیف دہ ہوگا: محمد جواد ظریف

امریکا کی عالمی جوہری ڈیل سے ممکنہ دستبرداری اور اس کے اثرات

امام حسین علیہ السلام کی سیرت طیبہ

مسلم خاتون کو ہاتھ نہ ملانے کی وجہ سے فرانس کی شہریت سے محروم کر دیا گیا

اللہ تعالی کی طرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر تہنیت اور تعزیت

سعودی عرب میں چیک پوسٹ پر فائرنگ سے 4 سیکویرٹی اہلکار جاں بحق

امریکی ہتھیاروں پر انحصار میں کمی: کیا پاکستان امریکہ سے مستقل چھٹکارا پا رہا ہے؟

سائیکل چلانے سے بہتر کوئی ورزش نہیں

کیمائی گیس حملہ کا فسانہ – رابرٹ فسک

شام پر ناکام حملہ، ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ

سعودی حکومت کے بانی کے برطانوی ایجنٹ ہونے کی تصدیق

شام میں امریکہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے، ابوالخیرزبیر

بھارت سکھ زائرین کے دورے کو کیوں متنازع بنانا چاہتا ہے؟

میں شام پہ غیر جانبدار نہیں ہوں – عامر حسینی

شامی حکومت نے دوما میں کیمیائی حملہ نہیں کیا: رابرٹ فسک

ڈائریکٹر سی آئی اے کی سربراہ شمالی کوریا سے خفیہ ملاقات کا انکشاف

امریکی سفارتکار کی گاڑی کی ٹکر سے نوجوان کی ہلاکت؛ پولیس نے کیس خراب کر دیا؟

نواز شریف کو محب وطن ثابت کرنے کی کوشش

کیا پاکستان سکھ یاتریوں کو خالصتان کے لیے اکسا رہا ہے؟

جنوبی اور شمالی کوریا 70 سالہ جنگ کے باقاعدہ خاتمے پر رضامند

اب جہاز میں کھڑے ہو کر سفر کرنا ممکن

جنوبی اور شمالی کوریا 70 سالہ جنگ کے باقاعدہ خاتمے پر رضامند

روس کا شام کو ایس 300 دفاعی میزائل فراہم کرنے پر غور

3 ہزار سے زائد ایپس غیر قانونی طور پر ڈیٹا جمع کرنے میں مصروف

دیوبندی مکتب فکر میں جہاد و تکفیر اور پشتون و پنجابی فیکٹر – عامر حسینی

یورپ ایران جوہری معاہدے پر امریکہ کے سامنے نہ جھکے: روس کا مطالبہ

متنازعہ ایجاد: ایمسٹرڈم میں ’خودکشی کی مشین‘ کی عوامی نمائش

پاکستان پر افغان سرحد کے پار سے حملہ: امن کیسے قائم ہو گا؟

شامی میدان پر مفاد پرستوں کی لڑائی ختم ہونا مشکل کیوں؟

پیغمبراکرم (ص) نے بشریت کو حیات طیبہ کی تعلیم دی تھی

مصری پارلیمنٹ کی خارجہ کمیٹی کی شام پر تین مغربی ممالک کے حملے کی مذمت

کوئٹہ : داعش کے بھیس میں لشکر جھنگوی کے مسیحی برادری پر حملے

فوج نہ ہوتی تو پاکستان میں بھی دیگر مسلم ممالک کی طرح تباہی مچی ہوتی، عمران خان

شامی جنگی ڈرامے کا مرکزی ولن کون؟ – ولادیمر گولیسٹن

شام پر امریکی حملے جاری رہے تو دنیا کیلیے خطرناک ہوگا، ولادی میر پیوٹن

ڈونلڈ ٹرمپ جھوٹے اور اخلاقی طور پر صدارت کیلئے نااہل ہیں: جیمز کومی

غیرملکی ایجنسیاں لوگوں کو لاپتہ کرکے آئی ایس آئی پر الزام لگانا چاہتی ہیں، جاوید اقبال

پختون تحفظ موومنٹ: حقوق کی جنگ یا غداری

سعودی عرب کا مشرقی یروشلم میں اسلامی ورثے کے تحفظ کی آڑ میں اسرائیل کو 15کروڑ ڈالر کی امداد

امریکہ کا شام پر حملہ دہشت گردوں کو شکست سے بچانے کی ناکام کوشش کا حصہ ہے

عالمی استکبار شام پر عراقی تاریخ دہرانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہے: علامہ راجہ ناصرعباس جعفری

برطانوی وزیراعظم امریکا کو نہیں پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں، جیرمی کوربن

امریکی صدر نے شام پر دوبارہ حملے کی دھمکی دے دی

کیا امریکہ شام پر اگلی دفعہ بڑا حملہ کرے گا؟

ن لیگ کا چیف جسٹس کو واضح پیغام: سپریم کورٹ جج اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ

شام کیوں زد پرہے ؟

خوفناک ترین ہتھیار: کیا روس کا اینٹی سیٹلائٹ میزائل امریکہ کو مفلوج کر دے گا؟

حملوں کے بعد بشار کی معمول کے مطابق دفتر آمد! فوجی پرسکون, سیکیورٹی عمومی، زندگی رواں دواں

شام نے مغربی ممالک کے 13 میزائل تباہ کردیئے

سعودی عرب کا شام پر امریکی حملے کی حمایت کا اعلان

امریکہ، فرانس اور برطانوی حکمران مجرم ہیں: آیت اللہ خامنہ ای

برطانیہ شام میں کیمیائی حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے: روسی جنرل

نواز شریف کی زندگی بھرنا اہلی کا فیصلہ قبول ہے: وزیراعظم

پاکستان میں 5G ٹیکنالوجی کب آئے گی؟

شام پر امریکی اتحادیوں کا حملہ: روس کے پاس کیا آپشن بچے ہیں؟

تاحیات نااہلی: کیا اب بھی نواز شریف کے پاس راستہ موجود ہے؟

امریکا، برطانیہ اور فرانس نے شام پر حملہ کردیا

شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار تشویش

پاکستان میں امریکہ مخالف مظاہرہ

پشتون تحفظ مومنٹ، / تحفظات و سوالات – حیدر جاوید سید

دوما میں کیمیائی حملے کا ڈراما غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے رچایا گیا: روس

امریکا نے شام پر حملہ کیا تو جنگ چھڑ سکتی ہے: روس کا انتباہ

مذہبی سلیبرٹیز کا دور

مغربی ممالک شام کے خلاف مہم جوئی سے باز رہیں، چین

پی ٹی آئی جہانگیر ترین کی نااہلی کا فیصلہ قبول کرتی ہے، شاہ محمود قریشی

2016-09-25 18:43:55

عید مباہلہ 24 ذیحجہ 9 ہجری عیدِ اسلام

ef504c63-46fd-49f0-9c5f-a6a886905983عبدالرحمان بن كثير نے جعفر بن محمد، ان كے والد بزرگوار كے واسطہ سے امام حسن (علیہ السلام) سے نقل كيا ہے كہ مباہلہ كے موقع پر آيت: فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ{آل عمران/61} كے نازل ہونے كے بعد رسول اكرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے “أَنفُسَنَا” كى جگہ ميرے والد امیرالمومنین علی ابن ابیطالب كو ليا،” أَبْنَاءنَا ” ميں مجھے[حسن  بن علی] اور میرے بھائی [حسین بن علی] كو ليا،” وَنِسَاءنَا ” ميں ميرى والدہ فاطمہ زہراء (علیہا السلام) كو ليا اور اس كے علاوہ كائنات ميں كسى كو ان الفاظ كا مصداق قرار نہیں ديا ۔لہذا اہلبيت (علیہم السلام) ان کا گوشت و پوست اور خون و نفس ہيں، ہم ان سے ہيں اور وہ ہم سے ہيں۔

رسول خدا  حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےحجاز اور یمن کے درمیاں نجران نامی علاقےمیں مقیم عیسائیوں کو24 ذیحجہ 9 ہجری قمری کواللہ کی وحدانیت قبول کرنے کی دعوت دی جسے مباہلہ کہتے ہیں۔اور اس دن توحیدی عقیدے کا مشرکانہ عقیدے کا آمنا سامنا ہونا تھا ایکدوسرے کے عقیدے کے بارے میں خدا سے غضب کی دعا کرنی تھی اور توحیدی قافلے کو دیکھ کرہی مشرکوں نےدبے الفاظوں میں اپنی شکست کا اعلان کیا ، اسطرح عقائد کا علمی اور عملی مناظرہ ہوا جس پر علم وعمل کا لا علمی وبی عملی پر غلبہ ہوا جسے اہل بصیرت عید مناتے ہیں ۔کیونکہ اس کامیابی پر اللہ نے ایک آیت نازل فرمائی ہے۔آیئے اس نورنی دن کے تاریخی منظر پر طائرانہ  نظرکرکے اپنے اذہان اور عقیدے کو متبرک کرتے ہیں۔

نجرانی عیسائیوں کو اسلام کی دعوت

ہجری کا نواں سال ہے، مکہ معظمہ اور طائف  توفتح ہو چکا ہے ۔ یمن ،عمان اور اسکے مضافات کے علاقے بھی توحید کے دائرے میں آ ہوچکے ہیں اس بیچ حجاز اور یمن کے درمیاں واقع  نجران نامی ہے جہاں عیسائی مقیم ہیں اور شمالی آفریقہ اور قیصر روم کی عیسائی حکومتیں ان نجرانی عیسائیوں کی پشت پناہی کررہے ہیں ، شاید اسی وجہ سے ان میں توحید کے پرچم تلے آنے کی سعادت حاصل کرنے کا جذبہ نظر نہیں آتا ہے لیکن ان  پر رحمۃ للعالمین  مہربان ہورہے ہیں ۔

حضرت رسول رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نجرانی عیسائیوں کے بڑے پادری”ابو حارثہ “کے نام اپنا خط روانہ کرتے ہیں ،جس میں عیسائیوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جاتی ہے ۔ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ کا خط سربمہر ایک وفد کے ہمراہ نجران روانہ ہوتا ہے ۔ جب مدینہ سے آنحضرت کا نمایندہ خط لے کے نجران پہنچتا ہے جہاں وہ وہاں کےبڑے پادری ابو حارثہ کے ہاتھ آنحضرت کا خط تقدیم کرتا ہے ۔ ابوحارثہ خط کھول کر نہایت دقت کے ساتھ اس کا مطالعہ کرنے لگتا ہے اور فکر کی گہرایوں میں کھوجاتا ہے ۔ اس دوران” شرحبیل “جو کہ درایت اور مہارت میں شہرہ شہر ہوتا ہے اسکو بلاوا بھیجتا ہے اس کے علاوہ علاقے کے دیگر معتبر اور ماہر اشخاص کو حاضر ہونے کو کہا جاتا ہے   ۔ سبھی اس موضوع پر بحث و گفتگو کرتے ہیں ۔ اس مشاورتی مجلس کا نتیجہ بحث یہ نکلتا ہے کہ ساٹھ  افراد پر مشتمل ایک  وفد حقیقت کو سمجھنے اور جاننے کے لئے مدینہ روانہ کیا جاتا ہے جن کی قیادت “ابوحارثہ بن علقمہ” ،(حجاز میں کلیسای روم کے نمایندہ اورنجران کے بڑے پادری) اور”عبدالمسیح بن شرحبیل” معروف بہ “عاقب”(علاقائی پادری)اور”اہتم یا اہم بن نعمان” معروف بہ “سید” (نجران کے سب سے بڑے قابل احترام بزرگ شخصیت) کر رہے تھے۔

نجران کا یہ قافلہ بڑی شان و شوکت اور فاخرانہ لباس پہنے مدینہ منورہ میں داخل ہوتا ہے ۔ میر کارواں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کے گھر کا پتہ پوچھتا ہے، معلوم ہوتا کہ پیغمبر اپنی مسجد میں تشریف فرما ہیں ۔

نجران کا کارواں مسجد النبی میں داخل ہوتا ہے اور سبوں کی نظر یں ان پر ٹک جاتی ہیں ۔پیغمبر نے  نجران سے آئے افراد کے نسبت بے رخی ظاہر کرتے ہیں ، جو کہ ہر ایک کیلئے سوال بر انگیز ثابت ہوا ۔ ظاہر سی بات ہے کارواں کے لئے بھی ناگوار گذرا کہ پہلے دعوت دی اور اب بے رخی دکھا رہیں ہیں ! آخر کیوں ۔

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی علی  علیہ السلام نے اس گتھی کو سلجھایا ۔ عیسائیو سے کہا کہ آپ فاخرانہ لباس، تجملات اور سونے جواہرات کے بغیر، عادی لباس میں آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہو جائیں ، آپکا استقبال ہوگا۔

اب کاروان عادی لباس میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے ۔ اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ ان کا گرم جوشی سے استقبال کرتے ہیں اور انہیں اپنے پاس بٹھاتے ہیں اورمیر  کارواں ابوحارثہ نے گفتگو شروع ہوتی ہے :

ابوحارثہ:  آپکا خط موصول ہوا ، مشتاقانہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں تاکہ آپ سے گفتگو کریں۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:     جی ہاں وہ خط میں نے ہی بھیجا ہے اور دوسرے حکام کے نام بھی خط ارسال کرچکا ہوں اور سبھوں سے ایک بات کے سوا کچھ نہیں مانگا ہے وہ یہ کہ شرک اور الحاد کو  چھوڑ کر خدای واحد  کے فرمان کو قبول کرکے محبت اور توحید کے دین اسلام کو قبول کریں ۔

ابوحارثہ:  اگر آپ اسلام قبول کرنے کو ایک خدا پر ایمان لانے کو کہتے ہیں تو  ہم پہلے سے ہی خدا پر ایمان رکھتے ہیں ۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:     اگر آپ حقیقت میں خدا پر ایمان رکھتے ہیں تو عیسی علیہ السلام کو کیوں خدا مانتے ہو اور سور کے گوشت کھانے سے کیوں اجتناب نہیں کرتے ۔

ابوحارثہ:  اس بارے میں ہمارے پاس بہت ساری دلائل ہیں؛ از جملہ یہ کہ حضرت  عیسی علیہ السلام مردوں کو زندہ کرتے تھے ۔ اندھوں کو بینائی عطا کرتے تھے ، پیسان سے مبتلا بیماروں کو شفا بخشتے تھے ۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:     آپ نے عیسی علیہ السلام کے  جن معجرات کو گنا وہ صحیح ہیں لیکن یہ سب خدای واحد نے انہیں ان اعزازات سے نوازا تھا اس لئے عیسی علیہ السلام کی عبادت کرنے کے بجائے اسکے خدا کی عبادت کرنی چاہئے ۔

پادری «ابوحارثہ» یہ جواب سن کے خاموش ہوا۔ اور اس دوراں کارواں میں شریک کسی اور  نے ظاہرا شرحبیل(عاقب) نے اس خاموشی کو توڑا ۔

عاقب -عیسی، خدا کا بیٹا ہے کیونکہ انکی والدہ مریم نے کسی کے ساتھ نکاح کئے بغیر  انہیں جنم دیا ہے ۔

اس دوران اللہ نے اپنے حبیب کو اسکا جواب وحی  میں فرمایا:

إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثِمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ{آل عمران /59}

عیسی کی مثال آدم کے مانند ہے؛کہ اسے(ماں ، باپ کے بغیر)خاک سے پیدا کیا گیا۔

اس پر اچانک خاموشی چھا گئ اور سبھی بڑے پادری » ابو حارثہ «کو تک رہیں ہیں اور وہ خود شرحبیل کے کچھ کہنے کے انتظار میں ہے اور خود شرحبیل خاموش سرجھکائے بیٹھا ہے۔

آخر کار اس رسوائی سے اپنے آپ کو بچانے کیلئے بہانہ بازی پر اتر آئے اور کہنے لگے ان باتوں سے ہم مطمئن نہیں ہوئےہیں اس لئے ضروری ہے کہ سچ کو ثابت کرنے کے لئے مباھلہ کیا جائے ۔ خدا کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہو کے جھوٹے پر عذاب کی درخواست کریں۔

ان کا خیال تھا کہ ان باتوں سے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اتفاق نہیں کریں گے ۔ لیکن ان کے ہوش آڑ گئے جب انہوں نے سنا:

فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ{آل عمران/61}

آپ کے پاس علم آجانے کے بعد بھی اگر یہ لوگ (حضرت عیسی کے بارے میں) آپ سے جھگڑا کریں تو آپ کہدیں: آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کوبلاو، ہم اپنی خواتین کو بلاتے ہیں اور تم اپنی عورتوں کو بلاو ، ہم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے نفسوں کو بلاو۔ پھر دونوں فریق اللہ سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔

سچ اور جھوٹ کو اپنی حقانیت بیان کرنے کے لئے خطاب الہی ہوا ہے کہ وہ  اپنے بیٹوں ، خواتین اور  اپنے نفوس کو لے کے آئیں ؛ اسکے بعد مباھلہ کریں اور جھوٹے پر الہی لعنت طلب کریں گے ۔

حق ا و رباطل کی بے نظیر پرکھ قائم کرنی ہے۔ علم و عمل کا امتحان  لینا ہے ۔ ظاہر اور باطن کا مظاہرہ کرنا ہے۔ دو آسمانی ادیان کے ماننے والوں کی حقیقت کو عیاں کرنا ہے کہ کس کا آسمان کے ساتھ ابھی رابطہ برقرار ہے اور کس نے یہ رابطہ منقطع کیا ہے ۔غرض طے یہ ہوا کہ کل سورج کے طلوع ہونے کے بعد  شہر سے باہر (مدینہ کے مشرق میں واقع)صحرا میں ملتے ہیں ۔ یہ خبر سارے شہر میں پھیل گئ ۔

مباھلے کا اہتمام

24 ذیحجہ 9ہجری آ پہنچا۔مدینہ منورہ  کے اطراف و اکناف میں رہنے والےلوگ مباھلہ شروع ہونے سے پہلے ہی اس جگہ پر پہنچ گئے ۔ نجران کے نمایندے آپس میں کہتے تھے کہ ؛ اگر آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ)اپنے سرداروں اور سپاہیوں کے ساتھ میدان میں حاضر ہوتے ہیں ، تو معلوم ہوگا کہ وہ حق پر نہیں ہے اور اگر وہ اپنے عزیزوں کو لے آتا ہے تو وہ اپنے دعوے کا سچا ہے۔

سبھوں کی نظریں  شہر کے دروازے پر ٹکی ہیں ؛ دور سے مبہم سایہ نظر آنے لگا جس سے ناظرین کی حیرت میں اضافہ ہوا ، جو کچھ دیکھ رہے تھے اسکا تصور بھی نہیں کرتے تھے ۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ ایک ہاتھ سے حسن بن علی علیہم السلام کا ہاتھ پکٹرے اور  دوسرے ہاتھ سےحسین بن علی  علیہم السلام کو آغوش میں لئے بڑ رہے ہیں ۔ آنحضرت کے پیچھے پیچھے انکی دختر گرامی سیدۃ النساء العالمین حضرت فاطمۃ زہرا سلام اللہ علیہا چل رہی ہیں اور ان سب کے پیچھے  امیر المومنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام ہیں۔

صحرا میں ہمہمہ اور ولولے کی صدائیں بلند ہونے لگیں :

کوئی کہہ رہا ہے دیکھو ، پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  اپنے سب سے عزیزوں کو لےآیا ہے۔

دوسرا کہہ رہا ہے اپنے دعوے پر اسے اتنا یقین ہے کہ ان کو ساتھ لایا ہے ۔

اس بیچ  جب بڑے پادری ابو حارثہ کی نظریں پجتن پاک علیہم السلام پر پڑی تو کہنے لگا : ہاے رے افسوس اگر اس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اسی لمحے میں ہم اس صحرا میں قہر الہی میں گرفتار ہو جائیں گے ۔

دوسرے نے کہا  ؛تو پھراس کا سد باب کیا ہے ؟

جواب ملا اس(پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کےساتھ صلح کریں گے اور کہیں گے کہ ہم جزیہ دیں گے تاکہ آپ ہم سے راضی رہیں۔  اور ایسا ہی کیا گیا۔ اس طرح حق کی باطل پر فتح ہوئی ۔

مباھلہ پیغمبر کی حقانیت اور امامت کی تصدیق  اور “ثقلین “[ یا ایُّهاالنّاسُ إنّی قَد تَرَکْتُ فیکُمُ الثَّقَلَیْنِ خَلیفَتَیْنِ۔مسند احمد حنبل]کی تفسیر کا نام ہے ۔ مباھلہ پیغمبر  خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےاھل بیت علیہم السلام   کا اسلام پر آنے والے ہر آنچ پر قربان ہونے کیلئے الہی منشور کا نام ہے ۔تاریخ میں ہم اس مباھلے کی تفسیرہرزمانے کے امام  اور وصی رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے سیرت سے شہادت تک دیکھتے ہیں:  

  1. وصی رسولخدا شاہ ولایت امیرالمومنین علی ابن ابیطالب 28 صفر 11 ہجری سے 21 رمضان 40 ہجری کو شہید ہونے تک۔
  2. اور آپ کے بعد آپکے وصی اور امت کے امام حسن بن علی کی 21 رمضان 40 ہجری سے 28 صفر50 ہجری کو شہید ہونے تک۔
  3. اور آپ کے بعد آپکے وصی اور امت کے  امام حسین  بن علی  28 صفر 50 ہجری  سے  10 محرم 61 ہجری کو شہید ہونے تک۔
  4. اور آپ کے بعد آپکے وصی اور امت کے امام علی بن حسین زین العابدین 10 محرم 61 ہجری سے 12 یا 25 محرم 95 ہجری کو شہید ہونے تک۔
  5. اور آپ کے بعد آپکے وصی اور امت کے  امام محمد باقر بن علی 12 یا 25 محرم 95 سے  7 ذی الحجہ 114 ہجری کو شہید ہونے تک۔
  6. اور آپ کے بعد آپکے وصی اور امت کے امام جعفر صادق بن محمد 7ذی الحجہ 114 ہجری سے 25 شوال 148 ہجری کو شہید ہونے تک۔
  7. اور آپ کے بعد آپکے وصی اور امت کے امام موسی کاظم بن جعفر 25 شوال 148 ہجری سے 25 رجب 183 ہجری کو شہید ہونے تک۔
  8. اور آپ کے بعد آپکے وصی اور امت کے امام علی رضا بن موسی 25 رجب 183 ہجری سے آخر صفر 203 ہجری کو شہید ہونے تک۔  
  9. اور آپ کے بعد آپکے وصی اور امت کے امام محمد تقی بن علی آخر صفر 203 ہجری سے آخر ذی القعدہ 220 ہجری کو شہید ہونے تک۔
  10. اور آپ کے بعد آپکے وصی اور امت کے امام علی نقی بن محمدآخر ذی القعدہ 220 ہجری سے 3 رجب 254 ہجری کو شہید ہونے تک۔
  11. اور آپ کے بعد آپکے وصی اور امت کے امام حسن عسکری بن علی 3 رجب 254 ہجری سے 8 ربیع الاول 260 ہجری کو شہید ہونے تک۔
  12. اور آپ کے بعد خاتم الوصین اور امام آخرالزمان امام مھدی بن حسن  عسکری کی ربیع الاول 260 ہجری سے غیبت سے ملاحظہ کرتے ہیں اصحاب آیہ مباہلہ کس طرح  اسلام کو تحریف سے محفوظ رکھنے اور اسلام ناب محمدی کو بیان کرتے آئیں ہیں اور ان بارہ خلفاء کے وجود سے دین مبین اسلام قائم ہے۔جسطرح مشکات  شریف کی روایت : «لايَزالُ الدّينُ قائِماً حَتي تَقُومُ السّاعَهُ ، اَوْ يَكُونُ عَلَيْكُمْ اِثْني عَشَرَ خَليفَهً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ» دین تب تک قائم رہیگا جبتک کہ قیامت برپا ہوگی اور ان پر قریش کے بارہ خلیقے قائم ہونگے۔اور یہی تکمیل دین کی تصویر ہے کہ جس سے غدیر خم میں کافروں کی اسلام کے نسبت نا امیدی کی نوید کو سنتے ہیں :” «الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَ رَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً. المائدة الآية (3). ”  جی ہاں مباہلہ اور غدیر ہمیں اسلامی قیادت کی نشاندہی کررہے ہیں  ۔ جسے امامت و لایت کہتے ہیں۔ اور یہی ولایت ہےجو کہاسلام کی بقا کیلئے ہر قسم کی قربانی پیش کرتے نظر آتے ہیں لیکن اسلام پر آنچ آنے نہیں دیتے ہیں ۔

اس واقعے کے بعد آپ ص نے فرمايا كہ خدا كى قسم جس نے مجھے نبى بنايا ہے كہ اگر ان لوگوں نے مباہلہ كرليا ہوتا تو يہ وادى آگ سے بھر جاتى، اس كے بعد جابر كا بيان ہے كہ انھيں حضرات ص كى شان ميں يہ آيت نازل ہوئی ہے شعب نے جابر كے حوالہ سے نقل كيا ہے كہ”وَأَنفُسَنَا” ميں رسول اكرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے اور حضرت على (علیہ السلام) ،”أَبْنَاءنَا” ميں حسن و حسين (علیہما السلام) تھے اور” وَنِسَاءنَا”ميں فاطمہ (علیہا السلام)۔ دلائل النبوة ابونعيم 2 ص 393 / 244۔ مناقب ابن المغازلى ص 263 / 310 ،العمدة 190 / 191 ، الطرائف 46 / 38۔ تفسير كشاف 1  ص 193۔ تفسير طبرى 3 ص 299 ۔ تفسير فخر الدين رازى ص8 ص 88۔ ارشاد 1 ص 166۔ مجمع البيان 2 ص 762۔ تفسير قمى 1 ص 104۔

 

عبدالرحمان بن كثير نے جعفر بن محمد، ان كے والد بزرگوار كے واسطہ سے امام حسن (علیہ السلام) سے نقل كيا ہے كہ مباہلہ كے موقع پر آيت: فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ{آل عمران/61} كے نازل ہونے كے بعد رسول اكرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے “أَنفُسَنَا” كى جگہ ميرے والد امیرالمومنین علی ابن ابیطالب كو ليا،” أَبْنَاءنَا ” ميں مجھے[حسن  بن علی] اور میرے بھائی [حسین بن علی] كو ليا،” وَنِسَاءنَا ” ميں ميرى والدہ فاطمہ زہراء (علیہا السلام) كو ليا اور اس كے علاوہ كائنات ميں كسى كو ان الفاظ كا مصداق قرار نہیں ديا ۔لہذا اہلبيت (علیہم السلام) ان کا گوشت و پوست اور خون و نفس ہيں، ہم ان سے ہيں اور وہ ہم سے ہيں۔  امالى (ع) طوسى 564 / 1174 ، ينابيع المودة 1 ص 165 / 1 

 

زمخشرى نے تبصرہ كيا ہے كہ آیہ شريفہ ميں ابناء و نساء كو نفس پر مقدم كيا گيا ہے تا كہ ان كى عظيم منزلت اور ان كے بلندترين مرتبہ كى وضاحت كردى جائے اور يہ بتاديا جائے كہ يہ سب نفس پر بھى مقدم ہيں اور ان پر نفس بھى قربان كيا جاسكتا ہے اور اس سے بالاتر شخصیات كساء كى كوئی دوسرى فضيلت نہيں ہوسكتى ہے۔ واضح رہے كہ فخر رازى نے اس روايت كے بارے ميں لكھا ہے كہ اس كى صحت پر تقريباً تمام اہل تفسير و حديث كا اتفاق و اجماع ہے.

مباہلہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حقانیت اور امامت کی تصدیق کا نام ہے۔ یوں پنجتن پاکؑ کے ذریعے اسلام کوغیروں پر ابدی فتح نصیب ہوئی۔

آج امامت  اورولایت کی آخری کڑی پردہ غیب میں ہیں اور انکی نیابت حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای مدظلہ العالی کررہے ہیں جن کی اتباع سے ہی حقیقی اسلام کی ترجمانی ممکن ہے ۔ جس طرح ایک عرب اہلسنت عالم دین ” شیخ احمد الزین” نے کہا ہے کہ:” شریعت ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم ولی فقیہ اور رھبر کے حامی   اور تابع ہوں اسلئے ہماری صلاح اسی میں ہے کہ ہم امام خامنہ ای کے نسبت اپنےایمان اور محبت کا اظہار کریں”ایسے جذبے کا اظہار وقت کی ضرورت ہے تاکہ دور حاضر میں حق کے لبادے میں جھوٹوں کا پردہ فاش ہوسکے اور اسلام میں فوج ، فوج داخل ہونے کا سلسلہ وسیعتر ہوجائے اور مباہلہ کے جانشین بقیۃ اللہ اعظم امام مہدی عجل اللہ تعالی فرج الشریف کو خداوند اذن فرج عنایت کرکے ہر جگہ امن و امان ، صدق و صداقت  اور حق و انصاف کا پرچم بلند ہو جائے ۔

اللہ کی بارگاہ میں دست بہ  دعا ہیں کہ ہمیں مباھلہ میں فتح پانے والے اسلام پر عمل کرنے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو عام کرنے والے ائمہ معصومین علیہم السلام کے نش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ آمین

از قلم: مہاجر عبدالحسین عبدالحسنیی

زمرہ جات:   Horizontal 3 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

دو روپے اور مصافحہ

- ایکسپریس نیوز

’’ میں شرمندہ ہوں‘‘

- ایکسپریس نیوز

بیچارا وسو شیدی

- ایکسپریس نیوز

چوہدری نثار کے بعد

- ایکسپریس نیوز