امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا کہ ابھی یہ بحث ابتدائی مراحل میں ہے کہ آیا وہ روس پر عائد امریکی پابندیاں اٹھائیں گے یا نہیں.. تاہم وہ انتخابی مہم کے دوران روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے عہد پر عمل پیرا ہونا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے ، غیر ملکی ذمے داران اور امریکی ارکان کانگریس خبردار کر چکے ہیں کہ اس طرح کا اقدام قبل از وقت ہوگا۔

اس توقع کے ساتھ کہ ٹرمپ منصب سنبھالنے کے بعد ہفتے کے روز پہلی مرتبہ ٹیلیفون پر روسی صدر ولادیمر پوتن کے ساتھ گفتگو کریں گے.. یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ مذکورہ پابندیاں جلد اٹھا لی جائیں۔ یہ پابندیاں 2014 میں روس کی جانب سے یوکرین کے جزیرے نما القرم کو ضم کر لینے کے بعد سابق امریکی صدر باراک اوباما نے عائد کی تھیں۔

ٹرمپ کے ممکنہ اقدام سے غالبا یورپی حلیفوں اور بہت سے ارکان کانگریس کو تشویش ہے جو پہلے ہی شام کی خانہ جنگی اور امریکی انتخابات میں روس کی مداخلت سے متعلق انٹیلی جنس رپورٹ کے سبب تشویش کا شکار ہیں۔

وہائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹریزا مے نے واضح کیا کہ برطانیہ یہ چاہتا ہے کہ امریکی پابندیاں اس وقت تک نہ اٹھائی جائیں جب تک روسی صدر پوتن فائر بندی کے اُس معاہدے پر پوری طرح عمل درامد نہیں کرتے جو 2014 میں منسک میں طے پایا تھا۔

ٹرمپ اور مے نے کافی تگ و دو کے بعد امریکا اور برطانیہ کے درمیان “خصوصی تعلق” برقرار رکھنے کے واسطے تیار ہونے کا اظہار کیا۔ یہ ایک اہم امر ہے بالخصوص برطانوی وزیر اعظم کے لیے جو یورپی یونین سے اپنے ملک کے اخراج کے عمل کی قیادت کر رہی ہیں۔

ٹرمپ نے رواں سال کے دوران برطانیہ کے دورے کی دعوت بھی قبول کر لی جو انہیں ملکہ الزبتھ کی جانب سے دی گئی ہے۔

بشکریہ العریبیہ ڈاٹ نیٹ