ٹرمپ کے عرب دوست اور مشرق وسطیٰ میں نئی محاذ آرائی

امریکا کی عالمی جوہری ڈیل سے ممکنہ دستبرداری اور اس کے اثرات

امام حسین علیہ السلام کی سیرت طیبہ

مسلم خاتون کو ہاتھ نہ ملانے کی وجہ سے فرانس کی شہریت سے محروم کر دیا گیا

اللہ تعالی کی طرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر تہنیت اور تعزیت

سعودی عرب میں چیک پوسٹ پر فائرنگ سے 4 سیکویرٹی اہلکار جاں بحق

امریکی ہتھیاروں پر انحصار میں کمی: کیا پاکستان امریکہ سے مستقل چھٹکارا پا رہا ہے؟

سائیکل چلانے سے بہتر کوئی ورزش نہیں

کیمائی گیس حملہ کا فسانہ – رابرٹ فسک

شام پر ناکام حملہ، ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ

سعودی حکومت کے بانی کے برطانوی ایجنٹ ہونے کی تصدیق

شام میں امریکہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے، ابوالخیرزبیر

بھارت سکھ زائرین کے دورے کو کیوں متنازع بنانا چاہتا ہے؟

میں شام پہ غیر جانبدار نہیں ہوں – عامر حسینی

شامی حکومت نے دوما میں کیمیائی حملہ نہیں کیا: رابرٹ فسک

ڈائریکٹر سی آئی اے کی سربراہ شمالی کوریا سے خفیہ ملاقات کا انکشاف

امریکی سفارتکار کی گاڑی کی ٹکر سے نوجوان کی ہلاکت؛ پولیس نے کیس خراب کر دیا؟

نواز شریف کو محب وطن ثابت کرنے کی کوشش

کیا پاکستان سکھ یاتریوں کو خالصتان کے لیے اکسا رہا ہے؟

جنوبی اور شمالی کوریا 70 سالہ جنگ کے باقاعدہ خاتمے پر رضامند

اب جہاز میں کھڑے ہو کر سفر کرنا ممکن

جنوبی اور شمالی کوریا 70 سالہ جنگ کے باقاعدہ خاتمے پر رضامند

روس کا شام کو ایس 300 دفاعی میزائل فراہم کرنے پر غور

3 ہزار سے زائد ایپس غیر قانونی طور پر ڈیٹا جمع کرنے میں مصروف

دیوبندی مکتب فکر میں جہاد و تکفیر اور پشتون و پنجابی فیکٹر – عامر حسینی

یورپ ایران جوہری معاہدے پر امریکہ کے سامنے نہ جھکے: روس کا مطالبہ

متنازعہ ایجاد: ایمسٹرڈم میں ’خودکشی کی مشین‘ کی عوامی نمائش

پاکستان پر افغان سرحد کے پار سے حملہ: امن کیسے قائم ہو گا؟

شامی میدان پر مفاد پرستوں کی لڑائی ختم ہونا مشکل کیوں؟

پیغمبراکرم (ص) نے بشریت کو حیات طیبہ کی تعلیم دی تھی

مصری پارلیمنٹ کی خارجہ کمیٹی کی شام پر تین مغربی ممالک کے حملے کی مذمت

کوئٹہ : داعش کے بھیس میں لشکر جھنگوی کے مسیحی برادری پر حملے

فوج نہ ہوتی تو پاکستان میں بھی دیگر مسلم ممالک کی طرح تباہی مچی ہوتی، عمران خان

شامی جنگی ڈرامے کا مرکزی ولن کون؟ – ولادیمر گولیسٹن

شام پر امریکی حملے جاری رہے تو دنیا کیلیے خطرناک ہوگا، ولادی میر پیوٹن

ڈونلڈ ٹرمپ جھوٹے اور اخلاقی طور پر صدارت کیلئے نااہل ہیں: جیمز کومی

غیرملکی ایجنسیاں لوگوں کو لاپتہ کرکے آئی ایس آئی پر الزام لگانا چاہتی ہیں، جاوید اقبال

پختون تحفظ موومنٹ: حقوق کی جنگ یا غداری

سعودی عرب کا مشرقی یروشلم میں اسلامی ورثے کے تحفظ کی آڑ میں اسرائیل کو 15کروڑ ڈالر کی امداد

امریکہ کا شام پر حملہ دہشت گردوں کو شکست سے بچانے کی ناکام کوشش کا حصہ ہے

عالمی استکبار شام پر عراقی تاریخ دہرانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہے: علامہ راجہ ناصرعباس جعفری

برطانوی وزیراعظم امریکا کو نہیں پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں، جیرمی کوربن

امریکی صدر نے شام پر دوبارہ حملے کی دھمکی دے دی

کیا امریکہ شام پر اگلی دفعہ بڑا حملہ کرے گا؟

ن لیگ کا چیف جسٹس کو واضح پیغام: سپریم کورٹ جج اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ

شام کیوں زد پرہے ؟

خوفناک ترین ہتھیار: کیا روس کا اینٹی سیٹلائٹ میزائل امریکہ کو مفلوج کر دے گا؟

حملوں کے بعد بشار کی معمول کے مطابق دفتر آمد! فوجی پرسکون, سیکیورٹی عمومی، زندگی رواں دواں

شام نے مغربی ممالک کے 13 میزائل تباہ کردیئے

سعودی عرب کا شام پر امریکی حملے کی حمایت کا اعلان

امریکہ، فرانس اور برطانوی حکمران مجرم ہیں: آیت اللہ خامنہ ای

برطانیہ شام میں کیمیائی حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے: روسی جنرل

نواز شریف کی زندگی بھرنا اہلی کا فیصلہ قبول ہے: وزیراعظم

پاکستان میں 5G ٹیکنالوجی کب آئے گی؟

شام پر امریکی اتحادیوں کا حملہ: روس کے پاس کیا آپشن بچے ہیں؟

تاحیات نااہلی: کیا اب بھی نواز شریف کے پاس راستہ موجود ہے؟

امریکا، برطانیہ اور فرانس نے شام پر حملہ کردیا

شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار تشویش

پاکستان میں امریکہ مخالف مظاہرہ

پشتون تحفظ مومنٹ، / تحفظات و سوالات – حیدر جاوید سید

دوما میں کیمیائی حملے کا ڈراما غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے رچایا گیا: روس

امریکا نے شام پر حملہ کیا تو جنگ چھڑ سکتی ہے: روس کا انتباہ

مذہبی سلیبرٹیز کا دور

مغربی ممالک شام کے خلاف مہم جوئی سے باز رہیں، چین

پی ٹی آئی جہانگیر ترین کی نااہلی کا فیصلہ قبول کرتی ہے، شاہ محمود قریشی

سپریم کورٹ نے نواز شریف اور جہانگیر ترین کو تاحیات نااہل قرار دے دیا

سپریم کورٹ نے نواز شریف اور جہانگیر ترین کو تاحیات نااہل قرار دے دیا

کیا نواز شریف کو عمر بھر کے لیے نا اہل قرار دے دیا جائے گا؟

شام پر حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، وائٹ ہاوس

نواز شریف نظریہ نہیں مافیا کا نام ہے: عمران خان

بچوں سے جنسی زیادتی پوپ فرانسس کی معافی

2017-02-03 21:52:06

ٹرمپ کے عرب دوست اور مشرق وسطیٰ میں نئی محاذ آرائی

ساس ہفتے کے شروع میں سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد بالآخر مسلمان ملکوں کے لیڈر نئے امریکی صدر کی حمایت میں کمر بستہ ہو گئے ہیں۔ اور انہوں نے یکے بعد دیگرے یہ واضح کرنا شروع کیا ہے کہ گزشتہ جمعہ کو صدر ٹرمپ نے 7 مسلمان ملکوں کے باشندوں پر امریکہ میں داخلہ پر پابندی کا جو اعلان کیا تھا، وہ ان کا حق تھا اور کوئی بھی خود مختار ملک ایسا فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔ انہی خیالات کو پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ ایک خود مختار ملک ہے اور اسے اپنے امیگریشن قواعد کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس سے پہلے سعودی عرب کے وزیر تیل اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں بیان جاری کر چکے تھے۔ دونوں نے اپنی اپنی جگہ پر یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ اگر ٹرمپ نے امریکہ کی سلامتی کے نقطہ نظر سے یہ فیصلہ کیا ہے تو اس پر اعتراض کی کیا بات ہے۔ یوں بھی قصور امریکہ کے صدر یا ان کے حکم نامہ کا نہیں ہے بلکہ جن ملکوں پر پابندی لگائی گئی ہے، ان کے ہاں انتظامی مسائل موجود ہیں۔ اگر وہ اپنے حالات درست کر لیں تو یہ عبوری پابندی ختم ہو سکتی ہے۔ اس طرح اہم مسلمان ملکوں کے نمائندوں نے امریکی اور مغربی رائے عامہ کے اس اعتراض کو مسترد کر دیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا حکم مذہبی تعصب پر مبنی ہے اور یہ انسانوں کی توہین کے مترادف ہے۔

امریکہ میں انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں اور مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم کیر CAIR نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم نامہ کو مذہبی امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے نہ صرف مسترد کیا ہے بلکہ اس کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا اعلان بھی کیا ہے۔ قانونی اور آئینی ماہرین اس حوالے سے مختلف رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پابندی چونکہ چند ملکوں پر لگائی گئی ہے اور وہاں اتفاق سے مسلمان اکثریت میں رہتے ہیں، اس لئے صدر ٹرمپ کا حکم نامہ آئینی حدود کے اندر ہے اور عدالتیں اسے غیر آئینی قرار نہیں دے سکتیں۔ اس کے برعکس بہت سے قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اس حکم کو اگر ٹرمپ کی انتخابی تقریروں اور یہ حکم جاری کرتے ہوئے ان کی گفتگو کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس بارے میں شبہ نہیں رہ جاتا کہ یہ اقدام مسلمانوں کا امریکہ میں داخلہ بند کرنے کےلئے کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے پابندی کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمان ملکوں میں رہنے والے عیسائی اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کی درخواستوں پر ترجیحی بنیادوں پر غور کیا جائے گا۔ ماہرین کے نزدیک اس قسم کی گفتگو صدر کے متعصبانہ اور امتیازی رویہ کی مظہر ہے اور عدالت میں ان کے وکیلوں کو یہ ثابت کرنا مشکل ہوگا کہ صدر نے یہ حکم محض امریکی شہریوں کے تحفظ اور ملکی سلامتی کے نقطہ نظر سے کیا ہے۔ تاہم اس اختلاف کے باوجود تمام قانونی ماہرین اور سماجی و سیاسی مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ فیصلہ بنیادی امریکی اقدار کے خلاف ہے۔ اس قسم کے فیصلوں سے امریکہ کی اخلاقی اور سفارتی حیثیت متاثر ہوگی۔ امریکہ اور یورپ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں پر پابندی کے فیصلہ کے خلاف لاکھوں لوگوں کے مظاہرے جاری ہیں۔ ان مظاہروں کے دوران شرکا کے جوش و خروش وار غصہ کی وجہ سے متعدد مقامات پر توڑ پھوڑ کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔

امریکہ اور یورپ کے متعدد ملکوں میں مظاہروں اور کئی یورپی لیڈروں کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلہ کی مخالفت کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں نئے امریکی صدر کے حکم پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ٹرمپ اپنے سفید فام حلقہ انتخاب کو خوش کرنے کےلئے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور دہشت گردی کا الزام مسلمانوں اور اسلام پر عائد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ موجودہ دہشت گردی کی صورتحال میں امریکی پالیسیوں اور بعض ممالک اور گروہوں کی سرپرستی کا عمل دخل بھی ہے۔ دنیا کے مسلمانوں کے ان احساسات کے باوجود گزشتہ ہفتہ کے دوران یہ محسوس کیا گیا تھا کہ اسلامی دنیا کے رہنما نہ تو اپنے عوام کی نمائندگی کا حق ادا کر سکے ہیں اور نہ ہی اسلام اور مسلمانوں پر امریکی صدر کے حملوں کا جواب دینے کا حوصلہ کرتے ہیں۔ اس دوران صرف ایران نے امریکی فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے اس وقت تک امریکیوں کو ایرانی ویزا جاری نہ کرنے کا اعلان کیا جب تک امریکہ، ایران کے شہریوں کے خلاف اس قسم کی یک طرفہ اور غیر منصفانہ پابندی عائد رکھے گا۔ البتہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکی ائر پورٹس پر پہنچنے والے پابندی شدہ سات ملکوں کے شہریوں کو داخل ہونے سے روکنے کے مناظر کے بعد ایک ٹوئٹ پیغام میں لکھا تھا کہ ایران اس قسم کے ظالمانہ طرزعمل کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ جن امریکی شہریوں کے پاس ایران کے ویزے ہیں، انہیں ایران میں خیر مقدم کہا جائے گا۔ ایران کے علاوہ اسلامی دنیا کے لیڈروں نے خاموشی اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوعان عام طور سے مسلمانوں سے متعلق ہر معاملہ میں بڑھ چڑھ کر بولنے کی شہرت رکھتے ہیں لیکن ٹرمپ کے ظالمانہ حکم نامہ پر انہوں نے خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھا۔ تین روز بعد البتہ ترک وزارت خارجہ نے ایک نہایت کمزور بیان میں ٹرمپ سے یہ فیصلہ تبدیل کرنے کی اپیل کی۔

57 مسلمان ملکوں کی نمائندہ تنظیم منتظمہ التعاون الاسلامی OIC کے ترجمان نے بھی بہت سوچ بچار کے بعد اس ہفتہ کے شروع میں ٹرمپ کے فیصلہ کی مخالفت میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح انتہا پسندوں کو تقویت حاصل ہوگی اور وہ مزید مضبوط ہو سکیں گے۔ شاہ سلمان اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتہ کے شروع میں ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ اس طرح ٹرمپ نے عالمی لیڈروں میں پہلی بار کسی مسلمان رہنما سے بات چیت کی۔ اس گفتگو کے بعد سعودی عرب کے وزیر تیل خالد الفالح نے نہ صرف بعض مسلمان ملکوں کے باشندوں پر امریکہ میں داخلہ پر پابندی لگانے کی حمایت کی بلکہ تیل کی صنعت کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبوں کو حوصلہ افزا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران سعودی عرب سے تیل کی درآمد بند کرنے کا جو اعلان کیا تھا، اس پر کبھی عمل نہیں ہوگا بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مزید پروان چڑھیں گے۔ انہوں نے ماحولیاتی بہتری کے نام پر اختیار کی گئی سابق صدر باراک اوباما کی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی قیادت میں اس صنعت کو فروغ حاصل ہوگا۔ خالد الفالح نے بتایا کہ سعودی عرب نے امریکہ میں تیل و پیٹرولیم کے شعبہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اب اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زیاد النیہان نے سعودی وزیر سے بھی ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جن ملکوں پر پابندی عائد کی ہے، اس کےلئے یہ ممالک خود ہی ذمہ دار ہیں۔ ان کے ہاں انتظامی ڈھانچہ کمزور اور ناقص ہے۔ اس لئے امریکہ کو اپنی حفاظت کےلئے ان ملکوں کے شہریوں پر عارضی پابندی لگانا پڑی ہے۔ اگر یہ ممالک اپنے حالات درست کر لیں گے تو امریکہ کا رویہ بھی تبدیل ہو جائے گا۔ کل ابوظبی میں روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ملاقات کے بعد اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے شیخ عبداللہ النیہان نے کہا کہ یہ پابندی چند ملکوں پر عائد ہے، یہ مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل تو یہ ہے کہ ٹرمپ انتطامیہ خود ہی یہ بتا رہی ہے کہ یہ اقدام مسلمانوں کے خلاف نہیں کیا گیا تو ہم کیسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ پابندی مسلمانوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صدارتی حکم مسلمان دشمنی پر بھی مبنی نہیں ہے۔ ٹرمپ نے کثیر آبادی والے کسی مسلمان ملک پر پابندی نہیں لگائی۔ دراصل بہت ہی قلیل تعداد میں مسلمان اس پابندی سے متاثر ہوں گے۔

مشرق وسطیٰ کے دو اہم ملکوں سے آنے والے ان بیانات کے فوری بعد پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی ان کی تائید میں امریکی فیصلہ کی توثیق کرنا ضروری سمجھا اور کہا کہ امیگریشن کے بارے میں فیصلہ کرنا ہر ملک کا حق ہے۔ امریکی صدر نے یہی حق استعمال کیا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کا یہ بیان البتہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے بیان سے مختلف ہے جنہوں نے اس ہفتہ کے شروع میں اس پابندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے انتہا پسند عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ پروپیگنڈا کی جنگ جیت سکیں گے۔ اس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے امریکی فیصلہ کی دوٹوک حمایت کے بعد پاکستان کی حکومت کے پاس بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ یوں ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے کہ اگرچہ پاکستان کو علاقائی اور عالمی سطح پر سنگین مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے لیکن اسلام آباد کے پالیسی ساز فیصلے کرنے کےلئے بعض ممالک کی طرف دیکھتے رہتے ہیں۔ ان کے فیصلے سعودی عرب کے خواہشات اور ضرورتوں کے محتاج ہیں حالانکہ پاکستان کو اپنے مسائل سے نمٹنے کےلئے زیادہ خود مختاری سے اپنے مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔

اب یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سات مسلمان ملکوں پر پابندی کا حکم جاری کرکے دراصل ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرف وہ ان ووٹروں کو جنہیں وہ مسلمانوں کے خلاف باتیں کرکے اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ انہوں نے اپنے انتخابی وعدے کے مطابق مسلمانوں کا داخلہ امریکہ میں بند کر دیا ہے۔ حالانکہ ان سات ملکوں کا کوئی باشندہ امریکہ میں کبھی دہشت گردی میں ملوث نہیں رہا۔ اس کے برعکس 9/11 کے حملوں میں سعودی عرب کے 15 باشندے شامل تھے۔ البتہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں سعودی عرب ، امریکہ کا خصوصی اور قابل اعتبار حلیف ہے اور منہ پھٹ اور بدتمیز ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس ملک کے ساتھ اختلاف پیدا کرنے کا حوصلہ نہیں کرتے۔ ایران کو دہشت گردی سے متاثر ملکوں کی فہرست میں شامل کرکے یہ اشارہ دے دیا گیا تھا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے ستھ اشتراک عمل جاری رکھے گا اور ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی لئے شام ، عراق اور یمن کے شہریوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ کیونکہ ان تینوں ملکوں میں ایرانی حمایت اور تعاون سے مسلح گروہ متحرک ہیں جو علاقے میں استحکام کے امریکی تصور اور سعودی تسلط کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سات ملکوں پر پابندی کا فیصلہ سیاسی اقدام ہے۔ اس کا نہ تو امریکہ کی ویزا پالیسی یا سلامتی سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی اسے اسلام یا مسلمانوں کے خلاف اقدام کہا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف محاذ آرائی کا منصوبہ ضرور ہے۔

اب امریکہ نے ایران کو ”نوٹس“ پر رکھنے کی دھمکی دی ہے۔ اگرچہ اس اصطلاح سے بیشتر مبصر ناآشنا ہیں لیکن اس کا آسان الفاظ میں یہی مطلب ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور سعودی عرب کے تعاون سے ایرانی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی پالیسی اختیار کرے گا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس نئی امریکی حکمت عملی کے ساتھ ہے۔ گویا پاکستان نے سعودی عرب کے توسط سے امریکہ کی تابعداری قبول کر لی ہے۔

تحریر: سید مجاہد علی

 
 
 
زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

حسین (ع) سب کا ہے

- اسلام ٹائمز