حضرت فاطمہ(س) کی حیات طیبہ کے تین پہلو

حکمران دہشتگردوں کی ڈھکی چھپی اوراعلانیہ پشت پناہی کررہے ہیں، ردالنثار کیا جاتا تو آپریشن رد الفساد کی ضرورت ہی پیش نہ آتی: مولابخش چانڈیو

وزیراعظم نے پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کرانے کا گرین سگنل دیدیا

کیا 'محفوظ پناہ گاہیں' صرف افغانستان میں ہیں؟

رینجرز کے لیے پنجاب کیسے مختلف ہوگا؟

ڈاکٹر ولایتی کا ترک حکام کی جانب سے ایران مخالف بیانات پر رد عمل

شفقنا خصوصی: آپریشن رد الفساد اور آپریشن رد النثار

6th International Conference in support of the Palestinian Intifada

آپریشن ’’ردالفساد‘‘: کراچی سے افغان اور ازبک باشندوں سمیت 80 گرفتار

میں کیسا مسلمان ہوں بھائی

'امریکی صدر کو فرانس کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے'

امیر جماعت اسلامی کی لعل شہباز قلندر کے مزار پر حاضری

دہشت گردی کی روک تھام

آپریشن ’’ردالفساد‘‘ کے تحت 4 دہشت گرد ہلاک: آئی ایس پی آر

یمنی فوج سے مقابلے کی، سعودیوں میں طاقت کہاں

 افغان اور ہندوستانی انٹیلجنس ایجنسیوں کا گٹھ جوڑ اور پاکستان میں‌قیامت صغرٰی

شفقنا خصوصی: کیا پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں منعقد ہو سکتا ہے؟

ملک میں دہشتگردی کا خاتمہ ملک دشمن تکفیری دہشتگردوں سہولت کاروں کو بلاتاخیرسزائیں دیئے بغیر ممکن نہیں: علامہ مقصودڈومکی

پیپلز پارٹی سے اختلاف کی بنیادی وجہ ذوالفقار مرزا تھے: نبیل گبول

سعودی عرب میں پیسے کمانے کے لیے اچھا وقت گزر چکا

پاکستان میں افغانستان ،اسرائیل اور بھار ت کی خفیہ ایجنسیاں مقامی سہولت کارپیدا کررہی ہیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل

آپریشن ردالفساد کے ساتھ ردالنثار بھی ہونا چاہیے

ایران جوہری معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے: یو این واچ ڈاگ کی رپورٹ

داعش پاکستان میں اثرو رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے: ناصر درانی

آپریشن ’ردالفساد‘ اہم قدم ہے: چین

ملائیشیا نے پاکستان کو ویزا ختم کرنے کی پیشکش کر دی

سی پیک پر مغربی دنیا کی سازش نظر آ رہی ہے، وزیراعظم

  فلسطینیوں‌ کی پیٹھ میں چھرا: سعودیہ، خفیہ طور پر اسرائیل کے ساتھ تعاون کر رہا ہے

پاکستانی ریاست کے پاس انتہا پسندی کے خاتمے کا کوئی حل نہیں

 پاکستان کے سیاسی دہشت گرد : سیاسی قوتیں دہشت گردوں کو کیسے تحفظ فراہم کرتی ہیں؟

دہشت گردی بارے دیوبندی موقف

مختلف سلفی گروہ صوفیانہ اسلامی سوچ کے خلاف نفرت کو ہوا دے رہے ہیں: ڈاکٹر ہِپلر

عراقی فورسز نے داعش کو پسپا کرکے موصل ایئرپورٹ کا کنٹرول حاصل کرلیا

راحیل شریف پر کشمکش برقرار، کیا سعودی اتحاد کا حصہ بن گئے؟

آپریشن ردالفساد کااعلان عوامی خواہشات کی ترجمانی ہے: علامہ ناصر عباس جعفری

سی ٹی ڈی کا انتباہ: کیا سندھ سے زیادہ پنجاب داعش کے لیے زیادہ زرخیز سرزمین نہیں؟

شفقنا خصوصی: آپریشن ’رد الفساد‘ اور فساد کی اصل جڑ

لاہور میں دہشتگردی کا ایک اور واقعہ: ڈیفنس میں دھماکے سے 8 افراد جاں بحق، 30 زخمی

ترکی دنیا میں صحافیوں کا سب سے بڑا قیدخانہ

آصف زرداری کا ڈر اور دینی مدارس کا ٹائم بم

Prof. Jamal Wakim: US Seeks to Divert Muslim Nations from Palestinian Cause

’رد الفساد‘ سے فساد ختم نہیں ہوگا!

دہشت گردی کی شہ سرخیوں کے باجود پاکستانی معیشت عروج پر ہے: واشنگٹن پوسٹ

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ایران کا دورہ کیوں کیا؟

نئی امیگریشن پالیسی: لاکھوں امریکیوں کی ملک بدری کا خطرہ

پاک فوج کا ملک بھر میں ’’رد الفساد‘‘ آپریشن شروع کرنے کا اعلان

وہ دھماکہ کریں، تم کلچر کو پابند سلاسل

جمیعتِ علمائے اسلام (ف) کے صوبائی وفد کی سہون شریف آمد

یمنی افواج کا میزائل حملہ:  سعودیہ کا جدید ترین ڈیفنس پیٹریاٹ میزائل سسٹم ناکاراہ

اسرائیل کی نیندیں حرام: حزب اللہ نےجدید ترین اور اسٹریٹجک ہتھیار حاصل کرلئے

 پاکستان میں حالیہ دھماکے:  جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کے پیچھے کس کا ہاتھ؟

شفقنا خصوصی: اور اب چارسدہ

فیس بک نے ایک اور مشکل آسان کر دی: اب صارفین بیرون ملک رقم بھی بھیج سکتے ہیں

امریکا میں حملہ کرنے والوں کی تاریخ، دہشت گرد کون؟

ایرانو فوبیا کے پیچھے سعودی عرب کے اہداف کیا ہیں؟

پاکستان میں سخت گیر اسلام کی ترویج کیسے ہوئی، جسے زیادہ تر سعودی وہابیت سے جوڑا جاتا ہے؟

داعش سنی خواتین پر جنسی حملوں میں بھی ملوث ہے: ہیومن رائٹس واچ

جنرل ضیاء الحق کے ساتھی

عراقی فورسز کی مغربی موصل میں کارروائیاں، 93 داعش جنگجو ہلاک

چارسدہ کچہری پر دہشت گردوں‌کا حملہ: 8 افراد شہید درجنوں زخمی

جعلی ادویات کا دھندہ بھی دہشت گردی ہے

لال مسجد کی صفائی: نو سو چوہے اور بلی کا حج

اپنی لگائی آگ میں جلنے کا ڈر: امریکی صدر کو دہشت گردوں سے خطرہ

چوہدری نثار ناکام وزیر داخلہ ہیں

تعاون یا تصادم ۔۔۔۔ طے کر لیا جائے

’’ایران امریکی دھمکیوں سے ڈرنے والا نہیں‘‘

بڑےآپریشن کی تیاریاں، پاک فوج نے توپ خانہ افغان سرحد پر پہنچا دیا

جاگ کے رہنا بھائیو! ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے

ٹرمپ کا سویڈن سے متعلق بیان وائٹ ہاؤس کے گلے پڑ گیا

پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہی کرانے کا فیصلہ

پنجاب حکومت کا نیا منصوبہ:  پنجاب کےعوام بجلی کی طرح پانی کو بھی ترسیں گے

2017-02-12 15:53:57

حضرت فاطمہ(س) کی حیات طیبہ کے تین پہلو

IMG15351996حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا کی فیض رسانی کا سلسلہ انسانیت کے اس عظیم مجموعے میں ایک چھوٹے مجموعے تک محدود نہیں ہے ۔اگر ہم حقیقت اور منطق کی نگاہ سے دیکھیں تو پوری بشریت حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کی مرہون منت ہے اور یہ مبالغہ نہیں ہے بلکہ ایک  حقیقت ہے بالکل اسی طرح کہ جس طرح بشریت قرآن کی ،تعلیمات انبیاء کی اور پیغمبر خاتم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مرہون منت ہے ۔تاریخ میں ہمیشہ سے ایسا ہی تھا اور آج بھی ایسا ہی ہے اور دن بدن حضرت فاطمہ زہراء کی معنویت اور اسلام کا نور پہلے سے زیادہ نمایاں اور آشکار ہو گا اور بشریت اس کو محسوس کرے گی ۔ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم خود کو اس خاندان  سے منسوب ہونے کا اہل ثابت کریں ۔البتہ خاندان رسالت سے منسوب ہونا اور ان کے وبستگان اور ان کی ولایت کے اعتبار سے مشہور افراد سے منسوب ہونا دشوار ہے ۔ہم زیارت میں پڑھتے ہیں کہ ہم آپ کی دوستی اور محبت کے سلسلے میں معروف ہیں ،اور اس سے ہماری ذمہ داری مضاعف ہو جاتی ہے ۔

ہم اہل بیت علیھم السلام کے شیعہ اور چاہنے والے ان بزرگواروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہم کو اپنوں میں سے اور اپنے حاشیہ نشینوں میں سے جانیں ؛ فلان ز گوشہ نشینان خاک درگہ ماست ،ہمارے در کے ہی گوشہ نشینوں میں ہے فلاں ،ہمارا دل چاہتا ہے کہ اہل بیت ہمارے بارے یہ فیصلہ صادر کریں ؛لیکن یہ آسان نہیں ہے یہ چیز صرف دعوے سے حاصل نہیں ہوتی ،اس کے لیے عمل ،در گذر ، ایثار ، ان کی مشابہت اور ان کے اخلاق کے رنگ میں رنگ جانے  کی ضرورت ہے  ،یہ حدیث شیعوں کے سلسلے سے ہے کہ پیغمبر (ص) نے فاطمہ (س) سے فرمایا:یا فاطمہ ؛ اعملی فانی لا اغنی عنک من اللہ شیئا؛یعنی اے میری پیاری بیٹی ! اے میری فاطمہ ! میں خدا کی بارگاہ میں تیری کوئی مدد نہیں کر سکتا یعنی تمہیں اپنے بارے میں خود کچھ کرنا ہو گا چنانچہ وہ بچپنے سے لے کر اپنی مختصر سی عمر کےآخر تک اپنی فکر میں رہیں ۔ آپ نے دیکھا کہ فاطمہ نے کس طرح زندگی بسر کی ! شادی سے پہلے تک کہ جب وہ ایک بچی تھیں اپنے اس عظیم باپ کے ساتھ اس طرح رہیں کہ آپ کی کنیت ام ابیھا ،باپ کی ماں رکھی گئی ۔اس زمانے میں  پیغمبر نور و رحمت ایک نئی دنیا بنا رہے تھے اور ایک ایسے انقلاب کی رہبری کر  تے ہوئے  کہ جو ہمیشہ رہنے والا تھا اسلام کے پرچم کو بلند کر رہے تھے ۔بلا وجہ نہیں کہا جاتا ام ابیھا ۔ فاطمہ کو یہ کنیت دیا جانا ،آپ کی خدمت ،محنت ،مجاہدت اور جدو جہد کی وجہ سے تھا ۔فاطمہ مکہ کے زمانے میں بھی ،اور شعب ابو طالب میں بھی ان تمام مشکلات کے باوجود اور اس زمانے میں بھی کہ جب آپ کی ماں خدیجہ کا انتقال ہوا اور پیغمبر تنہا رہ گئے ۔وہ باپ کے ساتھ اور باپ کی غمخوار تھیں ۔پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دل تھوڑے فاصلے سے دو بڑے حادثوں،خدیجہ اور ابو طالب  کی وفات کی  وجہ سے ٹوٹ چکا تھا ۔تھوڑے تھوڑے فاصلے سے یہ دو شخصیتیں پیغمبر کو چھوڑ کر چلی گئیں اور پیغمبر کو تنہائی کا احساس ہونے لگا ۔ فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) نے ان دنوں میں آگے بڑھ کر اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے  پیغمبر کے چہرے سے رنج و الم کے غبار کو صاف کیا ،م ابیھا یعنی پیغمبر کو تسلی دینے والی ۔اور اسی زمانے میں یہ کنیت آپ کو دی گئی ۔  فاطمہ زہرا (س) پیغمبر (ص) کے لیے ماں کی طرح ، مشیر کی طرح اور ایک تیمار دار کی طرح تھیں یہی وجہ تھی کہ آپ نے فرمایا ، ام ابیھا ، باپ کی ماں ہے اس کا تعلق اس دور سے ہے کہ جب وہ ایک چھ سال کی بچی تھیں تو اس مرتبے کی مالک تھیں ۔ البتہ عرب کے ماحول میں اور گرم ماحول میں بیٹیاں جلدی  جسمانی اور روحی اعتبار سےجوان ہوتی ہیں۔ مثلا آج کی ایک دس بارہ سال کی لڑکی کے برابر ، یہ ذمہ داری کا احساس ہے کیا یہ ایک جوان کے لیے نمونہء عمل نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے اطراف کے مسائل کے سلسلے میں جلدی ذمہ داری  اور سرشاری کا احساس کرے ؟ نشاط اور مسرت کا وہ عظیم سرمایہ جو اس کے وجود کے اندر ہے اسے خرچ کرے تا کہ غم اور رنج کے غبار کو ایک باپ کے چہرے سے کہ جس کی عمر کے ۵۰ سال گذر چکے ہیں اور وہ تقریبا بوڑھا ہو چکا ہے صاف کرے کیا یہ چیز ایک جوان کے لیے نمونہء عمل نہیں بن سکتی ؟یہ چیز بہت اہم ہے ۔

ایک عورت اور وہ بھی جوانی کے سن و سال میں معنوی مقام کے لحاظ سے اس جگہ پر پہنچتی ہے کہ اس بنا پر کہ جو کچھ بعض روایات میں ہے فرشتے اس کے ساتھ بات کرتے تھے اور حقائق کو ان کے سامنے بیان کرتے تھے ،وہ محدثہ تھیں یعنی وہ کہ جس کے ساتھ فرشتے محو گفتگو ہوتے تھے ۔ یہ معنوی مقام اور وسیع میدان اور بلند قلعہ خلقت اور عالم کی تمام عورتوں کے مقابلے میں ہے فاطمہ زہرا (س) بلندی کی اس چوٹی پر کھڑی ہیں اور دنیا کی تمام عورتوں سے خطاب  کر کے انہیں اس راہ پر چلنے کی دعوت دیتی ہیں ،

چمکتا ہوا معنوی نور ہر کس و ناکس کی آنکھوںمیں نہیں سماتا اور ہماری نزدیک بین اور کمزور  آنکھیں قادر نہیں ہیں کہ انسانیت کے اس درخشاں جلوے کو ان عظیم ہستیوں کے وجود میں دیکھ سکیں ۔ اس بنا پر ہم فاطمہ زہرا (س) کی تعریف کے میدان میں قدم رکھنے کی جسارت نہیں کرتے ،لیکن اس عظیم ذات کی معمولی زندگی میں ایک اہم نکتہ ہے اور وہ ایک مسلمان عورت کی زندگی اور اپنے شوہر  اور فرزندوں کے ساتھ حسن سلوک  اور گھر کی زمہ داریوں کو انجام دینے کے ساتھ ساتھ پیغمبر (ص) کی رحلت کے بعد اہم سیاسی واقعات میں ایک غیرت مند  انتھک مجاہد کی ذمہ داریوں کو نبھانا ، وہ مسجد میں آتی ہیں تقریر کرتی ہیں اپنا موقف ظاہر کرتی ہیں دفاع کرتی ہیں ،بات کرتی ہیں اور ایک بھر پور مجاہد کہ جو انتھک محنتی اور سخت کوش ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی عبادت گذار اندھیری راتوں میں  نماز ادا کرنے والی اور پروردگار کی بارگاہ میں قیام کرنے والی اور خاضع اور خاشع ہیں ۔ محراب عبادت میں یہ جوان عورت خدا کے کہنہ مشق اولیاء کی مانند خداسے راز و نیاز اور اس کی عبادت کرتی ہیں ۔

ان تین پہلووں کو یکجا کرنا فاطمہ زہرا (س) کی زندگی کا درخشاں پہلو ہے  ۔اس ذات والا صفات نے ان تینوں پہلووں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا ۔بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جو شخص عبادت میں مشغول ہو وہ عابد ،تضرع کرنے والا اور دعا و ورد کا عادی ہے وہ ایک سیاسی انسان نہیں ہو سکتا ۔ یا بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جو سیاسی ہوتا ہے چاہے مرد ہو یا عورت اور اللہ کی راہ میں جہاد کے میدان میں موجود ہوتا ہے اگر وہ عورت ہو تو وہ ماں بیوی اور خانہ دار عورت کی زمہ داریاں نہیں نبھا سکتی ،اور اگر مرد ہو تو ایک گھریلو کاروباری اور زندگی کی طرز کا مرد نہیں ہو سکتا ،کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ یہ چیزیں آپس میں منافات رکھتی ہیں ،حالانکہ اسلام کی نظر میں یہ تینوں نہ صرف آپس میں منافات اور ضدیت نہیں رکھتیں بلکہ ایک کامل انسان کی شخصیت میں مدد گار ہوتی ہیں ۔    

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:   Horizontal 5 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

’’پھانسی دے دو‘‘

- ڈیلی پاکستان

جب جھکا تو غیر کے آگے

- ڈیلی پاکستان

یونان میں غربت

- مہر نیوز