امریکی سعودی تاریخی گٹھ جوڑ

تصاویر + ویڈیو: مانچسٹر دھماکے کے خلاف شیعہ کمیونٹی کا احتجاج

سعودی عرب اور قطر میں لفظی جنگ میں شدت، قطر پر اخوان المسلمین کی حمایت کا الزام

رمضان المبارک کے روزوں کو عمداً ترک کرنے کی سزا کیا ہے؟

سعودی عرب، امریکا کیلئے دودھ دینے والی گائے ہے جسے بعد میں ذبح کردیا جائے گا: آیت اللہ خامنہ ای

فلپائن: پرتشدد واقعات میں 100 افراد ہلاک

پاناما لیکس: حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ، بیان ریکارڈ کرا دیا

داعش کو بچانے کیلیے امریکی فوج کا طالبان پر حملہ

یہ ہے بجٹ ، عام آدمی کے لئے سبز باغ ،سرمایہ دار باغ و بہار

کھجور کھانے کے 7 طبی فوائد

تکفیریوں کے خلاف اہم فتوی: ریاست کےخلاف مسلح جدو جہد، خودکش حملے حرام قرار

مقبوضہ کشمیر میں حزب المجاہدین کا اہم کمانڈر شہید: بھارت کا جشن

روزے کی نیت اور مبطلات روزہ کے احکام

روزے کے حوالے سے آیت اللہ صافی گلپائگانی سے پوچھے گئے چند سوالات

روزہ کی اہمیت اور فضیلت کے بارے میں چند احادیث

روزہ اور تربیت انسانی میں اس کا کردار

عذر گناہ بد تر از گناہ

ماہ رمضان کا بہترن عمل !

ایران کے خلاف ٹرمپ کا دعویٰ بے بنیاد اور مضحکہ خیز ہے

برطانیہ کی گلیوں میں اس وقت 3 ہزار کے قریب خطرناک انتہا پسند موجود ہیں

صدر ممنون حسین کی تنخواہ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 6 لاکھ روپے کر دی گئی

بجٹ 2017: صحت حکومت کی ترجیح کیوں نہیں

بھارت کی پاکستان  پر حملہ کرنے کی تیاریاں: وجہ دہشت گردی یا سی پیک؟

یمن پر کیمیکل حملہ کرنے کی امریکی عربی سازش بے نقاب

قطر کا شہزادہ: دنیا میں ایران کا کردار قابل انکار نہیں

بجٹ میں عوام پر پھر مہنگائی کا بم گرا دیا گیا: پاکستانی شہریوں کی رائے

استقبال ماہ رمضان کی دعا

دعائے رویت ہلال

وفاقی بجٹ مالی سال 18-2017 : تنخواہوں ،پنشن میں اضافہ ؟تفصیل جانئے

امریکی اور سعودی فوجی اتحاد ایک مخصوص فرقہ کے خلاف ہے: علامہ عبدالحسین

بجٹ 2017 اہم جھلکیاں: شفقنا خصوصی

مصر میں عیسائیوں کی بس پر فائرنگ سے 35 افراد ہلاک

چین نے سی پیک پر اقوام متحدہ کی رپورٹ مسترد کر دی

‘‘مہاجر‘‘سیاست ایک نئے موڑ پر

حکومت کے اوچھے ہتھکنڈے: کیا جے آئی ٹی نے نواز شریف کے خلاف ناقابل تردید ثبوت حاصل کر لیے ہیں؟

اس سال کا سب سے لمبا روزہ کہاں ہوگا؟

شامی فورسز نے اٹھائیس شہروں اور دیہاتوں کو دہشتگردوں سے آزاد کرا لیا

سی پیک کی سیکیورٹی کے لیے چین کا طالبان سے رابطہ

مانچسٹر بمبار سلمان عبیدی نے کس کا بدلہ لینے کے لیے خود کش حملہ کیا؟

شاہ سلمان نے ٹرمپ کی تعریف کرکے حرمین الشریفین ،عالم اسلام اور امت مسلمہ کی توہین کا ارتکاب کیا

بحرین میں آل خلیفہ کے جاری ظالمانہ اقدامات

ایران کی حمایت پر سعودی عرب اور امارات نے قطر کی ویب سائٹس اور ٹی وی چینل پر پابندی عائد کردی

ایران سے امریکی و سعودی مخاصمت کسی اصولی موقف کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایران کے خالص اسلامی نظریات کے باعث ہے: علامہ احمد اقبال رضوی

وزیر داخلہ آزادی رائے کےخلاف مہم جوئی سے باز رہیں

کلبھوشن پھانسی: بھارت پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے مکمل تیار

شفقنا خصوصی: سعودیہ ایران مخاصمت اور پاکستان کا کمزور کردار

سعودیہ، یمن میں اتحادی حکومت تشکیل دینا چاہتا ہے

بھارت اسرائیل سے اسلحہ خریدنے والا بڑا مشتری، 60 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی خریداری

ایران نے میزائل تجربات روکنے کا امریکی مطالبہ مسترد کردیا

جے آئی ٹی کو جس طرح کام کرنا چاہئے ویسے نہیں کر رہی: ترجمان وزیر اعظم

برطانیہ میں دہشت گردی کے خلاف ’آپریشن ٹیمپرر‘ کا آغاز، اہم مقامات پر فوج تعینات

شریف برادران بظاہر بھولے لگتے ہیں لیکن وہ فاشسٹ ہیں: عمران خان

سعودی عرب میں امریکی صدر کا استقبال مسلمانوں کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے،علاؤالدین بروجردی

سعودیہ کا اصل چہرہ:اسلامی کانفرنس میں فلسطین' کشمیر، شام اور یمن کے مظالم کا تذکرہ کیوں نہیں؟

کیا نواز حکومت فوج کو خوش کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

قرضاوی: سعودیہ کے اجلاسوں میں اسلامی ممالک کی شرکت، اسلامی اقدار کی توہین ہے

نواز شریف کو سعودی عرب میں مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا

بحرین کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے گھر پرسیکورٹی فورس کا حملہ، متعدد بحرینی شہید اور زخمی

داعش نے برطانوی شہر مانچسٹر میں خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرنی

آزادی رائے کے خلاف حکومتی مہم

مسلمانوں لیڈروں کا امریکی تال پر رقص

امریکہ سعودیہ کے ذریعے مسلمانوں میں انتشار پھیلارہا ہے؛ سنی اتحاد کونسل

مانچسٹر بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 22 ہوگئی ، 60 زخمی

پاکستان کی مانچسٹر دھماکے کی شدید مذمت

دیوانے کا خواب: کیا ٹرمپ ایران کوتنہا کر سکتا ہے؟

 سعودی اسلامک کانفرنس:  کیا پاکستان اس تذلیل سے سبق سیکھے گا؟

کشمیری کو جیپ سے باندھنے والے بھارتی فوجی کیلئے ایوارڈ

اسامہ سی آئی اے کا فعال ایجنٹ اور ابھی تک زندہ ہے؛ امریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکار کا انکشاف

مانچسٹر میں دھماکہ: 19 افراد ہلاک 50 زخمی

سعودی عرب کے وائسرائے نواز شریف نے پاکستان کو مڈل ایسٹ کی دلدل میں پھنسا ہی دیا

سعودی عرب افغانستان میں داعش کو مالی امداد فراہم کررہا ہے

2017-02-13 10:35:53

امریکی سعودی تاریخی گٹھ جوڑ

 

US saudi gath jor

 

سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات نہ صرف کافی پرانے ہیں بلکہ آئے دن ان تعلقات میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔

 

 

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ دونوں ممالک شدت پسندی، تکفیریت اورسرمایہ دارانہ نظام کی بقا کے حامی ہیں۔ اپنے انہی مقاصد کے حصول کے لیے ان دونوں ممالک نے 70 کی دہائی میں ایک خفیہ معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں یہ طے پایا کہ جو ممالک تیل کی پیداوار سے اپنی معیشت چلا رہے ہیں وہ تیل کی تجارت ڈالرمیں ہی کریں گے۔ تیل کی فروخت سے ہونے والی آمدن کو پیٹرو ڈالر کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد امریکہ کی تیل کی ضروریات کو سستے داموں پورا کرنا تھااور بدلے میں سعودی عرب کے شاہی خاندان کو حفاظت فراہم کرنے کے ساتھ تیل کی بین الاقوامی منڈی میں سعودی عرب کی اجارہ داری قائم کرنا تھا۔ اس خفیہ معاہدے کے بعد ایک طرف توامریکہ سعودی عرب سے تیل خریدتا رہا اور دوسری طرف سعودی عرب نے امریکہ سے بڑے پیمانے پر اسلحہ خریدنا شروع کردیا تاکہ اپنے شدت پسندانہ عزائم کو مکمل کر سکے۔ اگرچہ آج سعودی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے مگر پھر بھی سعودی عرب امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے 2008 سے 2015 تک کم و بیش93 ارب 50 کروڑ ڈالر کا اسلحہ خرید چکا ہے۔

 

 

یہ سعودی معاشرے میں پائے جانے والے شدت پسندانہ عزائم ہی تھےکہ 9/11 کادلسوز واقعہ پیش آیا۔یہ بات بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا میں دہشت گردی کےاس واقعے کی مخالفت میں مظاہرے ہورہے تھےسعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں دہشت گردی کے اس واقعے کے بعدعوام الناس نے اسامہ بن لادن کے حق میں مظاہرہ کیا جس پر حکومت کی جانب سے کوئی کریک ڈاون نہیں کیا گیا نہ ہی امریکہ نے سعودی حکومت سے اس بارے میں کسی قسم کا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ یہاں یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ سعودی شہریوں نے مختلف دہشت گری کی کارروائیوں میں 1975 سے لے کر 2015 تک 2361 امریکیوں کو قتل کیا ہے مگر امریکی حکام کی جانب سے اس سلسلے میں بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا بلکہ حال ہی میں امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرامپ نےسات ایسے مسلم ممالک کے شہریوں کی امریکہ داخلے پر پابندی لگا دی ہے جن کے شہریوں نے کسی ایک امریکی شہری کو بھی قتل نہیں کیا۔

مزید براں 11/9 کے بعد ہونے والی تحقیات سے بھی یہ بات عیاں ہوگئی کہ سنگین دہشت گردی کے اس واقعہ کے 19 میں سے 15 ملزمان کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ بجائے اس کے امریکہ بہادر اپنی سرزمین پر ہونے والے اتنے بڑے دہشت گردی کے واقعہ کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرتا اور مستقبل قریب میں اس طرح کے کسی بھی واقعہ کے سدباب کے لیے ضروری اقدامات کیے جاتےامریکی افواج نے ایک طرف تو نیٹو کے بینر تلے افغانستان، پاکستان اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک پر حملہ کر کے اپنی شدت پسندی اور انتہا پسندی کی سرشت کو تسکین پہنچائی اوردوسری طرف مشرق وسطی کے کئی ممالک میں اپنے آلہ کاروں کی مدد سے خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کر دی جس میں سعودی عرب نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ہماری رائے میں یہ اقدامات امریکی جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کے خلاف نہیں کیے گئے تھے بلکہ لیبیا اورعراق کے سابق صدورمعمر قزافی اور صدام حسین کو تختہ دار پر چڑھانے کے لیے تھے کیوں کہ ان دونوں کے جرائم میں سے سرفہرست پیٹروڈالر کے مقابلے میں پین افریقی اور یورو کرنسی میں تجارت کی بات کرنا شامل تھا۔

سعودی عرب نے شدت پسندی، انتہا پسندی اور ہٹ دھرمی پاکستان، بھارت اور دیگر مسلم ممالک کو بھی درآمدکی اوراسلام کی ترویج واشاعت کے نام پر وہابیت کا پرچار کیا اورتمام عالم اسلام کو بدنام کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سعودی عرب اپنی تیل کی آمدن میں سے سالانہ 100 ارب ڈالر سے زیادہ رقم وہابیت کی تبلیغ وترویج کے لیےپاکستان، بھارت اور دیگر ممالک میں موجودمدارس پر خرچ کرتا ہے۔ سابقی امریکی وزیر خارجہ اور حالیہ امریکی انتخابات میں صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن پر وکی لیکس کی جانب سے یہ الزام لگایا گیا کہ وہ سعودی رقوم داعش اور تکفیری گروہوں میں تقسیم کرنے میں ممد و معاون رہی ہیں۔ اس الزام کی بنیاد ہیلری کلنٹن کی 1700 ای میلز کو قرار دیا گیا جو کہ وکی لیکس نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دیں۔ اس سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ وہابیت کا فروغ جتنا سعودی شاہی خاندان کی بقا کے لیے ضروری ہے اتنا ہی اہم ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لیے بھی ہے۔ کیوںکہ دونوں ممالک یہ بات جانتے ہیں کہ اگر پیٹرو ڈالر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی یا اس معاہدے کو ختم کردیا گیا توجہاں امریکی معیشت بری طرح سے متاثر ہوگی وہیں سعودی عرب کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

 

مئی 2016 میں سابق امریکی صدر براک اوبامہ کے دور حکومت میں کانگریس کی جانب سےسعودی عرب مخالف بل Justice Against Sponsors of Terrorism  پاس کیا گیا جس کی رو سے 11 ستمبر2001 کو پینٹاگون اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر کیے جانے والے فضائی حملے میں مرنے والے یا زخمی ہوجانے والے افراد کے لواحقین سعودی حکومت پر ہرجانے کا دعوی کرنے کے اہل ہوں گے۔ اگرچہ یہ بل سب سے پہلے دسمبر 2009 میں پیش کیا گیا تھا اس کے بعد یہ بل امریکی کانگریس میں ستمبر 2015 کو دوبارہ پیش کیا گیا۔ سعودی حکومت اور شاہی خاندان نے اگرچہ امریکی سینیٹ کو اس بل کے پاس کرنے سے باز رکھنے کے لیے یہ دھمکی بھی دی کہ سعودی عرب امریکہ میں کی گئی 750 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری سے دست بردار ہو جائے گا۔ یہی نہیں سعودی عرب نے امریکہ میں موجود اپنے اثاثوں کی فروخت کا کام بھی شروع کر دیا ہے مگر پھر بھی یہ بل پاس ہوگیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں سعودی عرب اور امریکہ کے مابین تعلقات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔

 

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

خارجہ پالیسی کا مسئلہ

- ایکسپریس نیوز

عوام کی عدالت

- ایکسپریس نیوز

بات بگڑتی جارہی ہے

- ایکسپریس نیوز

طاقتور کی دنیا

- ایکسپریس نیوز

پانامہ کیس، سچ کی تلاش

- ایکسپریس نیوز

رمضان المبارک کا تقدس

- ایکسپریس نیوز

سحر بھی لیکن قریب تر ہے

- ایکسپریس نیوز

سماج کا ارتقا

- ایکسپریس نیوز

عنوان کے بغیر

- اسلام ٹائمز