امریکی سعودی تاریخی گٹھ جوڑ

ریاض میں شاہی محل کے قریب ‘کھلونا ڈروان’ مارگرایا

ہم آزادی سے خائف ہیں؟

’پاکستان سے زیارت کرنے جاؤ تو واپسی پر ایجنسیاں اٹھا لیتی ہیں‘، بی بی سی رپورٹ

اسلامی مزاحمت کے میزائل اسرائیل کے اندر ہر ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں

حضرت عابد (ع) کی ولادت مبارک ہو!

مانچسٹر میں سالانہ سیمینار: 'برطانیہ میں مسلمانوں کو درپیش چیلینجز'

حضرت عباس(ع) کی زندگی انتظار کا عملی نمونہ

حضرت ابوالفضل (ع) کے باب الحوائج ہونے کا راز

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا80 واں یوم وفات

فلسطینی بچوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ شرمناک ہے، اقوام متحدہ

اعیاد شعبانیہ اور جشن سرکار وفا

شمالی کوریا کا مزید ایٹمی اور میزائل تجربات نہ کرنے کا اعلان

شام کو اینٹی ایئر کرافٹ میزائل فراہم کرنا اخلاقی ذمہ داری

پاکستان کا کشمیر سے متعلق امام خامنہ ای کے بیان کا خیر مقدم

ان الحسین باب من ابواب الجنة

ہم تب کربلائی اور حسینی ؑنہضت کا حصہ بن سکتے ہیں جب ہمارے اندر انبیائی اور حسینیؑ صفات موجود ہوں: علامہ راجہ ناصر عباس

صحافت اور شہادت ساتھ ساتھ

چیئرمین سینیٹ منتخب کرانے کیلیے پی ٹی آئی نے کہا کہ اوپر سے آرڈر آیا ہے: سراج الحق

ایران کا ردعمل امریکہ کیلئے تکلیف دہ ہوگا: محمد جواد ظریف

امریکا کی عالمی جوہری ڈیل سے ممکنہ دستبرداری اور اس کے اثرات

امام حسین علیہ السلام کی سیرت طیبہ

مسلم خاتون کو ہاتھ نہ ملانے کی وجہ سے فرانس کی شہریت سے محروم کر دیا گیا

اللہ تعالی کی طرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر تہنیت اور تعزیت

سعودی عرب میں چیک پوسٹ پر فائرنگ سے 4 سیکویرٹی اہلکار جاں بحق

امریکی ہتھیاروں پر انحصار میں کمی: کیا پاکستان امریکہ سے مستقل چھٹکارا پا رہا ہے؟

سائیکل چلانے سے بہتر کوئی ورزش نہیں

کیمائی گیس حملہ کا فسانہ – رابرٹ فسک

شام پر ناکام حملہ، ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ

سعودی حکومت کے بانی کے برطانوی ایجنٹ ہونے کی تصدیق

شام میں امریکہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے، ابوالخیرزبیر

بھارت سکھ زائرین کے دورے کو کیوں متنازع بنانا چاہتا ہے؟

میں شام پہ غیر جانبدار نہیں ہوں – عامر حسینی

شامی حکومت نے دوما میں کیمیائی حملہ نہیں کیا: رابرٹ فسک

ڈائریکٹر سی آئی اے کی سربراہ شمالی کوریا سے خفیہ ملاقات کا انکشاف

امریکی سفارتکار کی گاڑی کی ٹکر سے نوجوان کی ہلاکت؛ پولیس نے کیس خراب کر دیا؟

نواز شریف کو محب وطن ثابت کرنے کی کوشش

کیا پاکستان سکھ یاتریوں کو خالصتان کے لیے اکسا رہا ہے؟

جنوبی اور شمالی کوریا 70 سالہ جنگ کے باقاعدہ خاتمے پر رضامند

اب جہاز میں کھڑے ہو کر سفر کرنا ممکن

جنوبی اور شمالی کوریا 70 سالہ جنگ کے باقاعدہ خاتمے پر رضامند

روس کا شام کو ایس 300 دفاعی میزائل فراہم کرنے پر غور

3 ہزار سے زائد ایپس غیر قانونی طور پر ڈیٹا جمع کرنے میں مصروف

دیوبندی مکتب فکر میں جہاد و تکفیر اور پشتون و پنجابی فیکٹر – عامر حسینی

یورپ ایران جوہری معاہدے پر امریکہ کے سامنے نہ جھکے: روس کا مطالبہ

متنازعہ ایجاد: ایمسٹرڈم میں ’خودکشی کی مشین‘ کی عوامی نمائش

پاکستان پر افغان سرحد کے پار سے حملہ: امن کیسے قائم ہو گا؟

شامی میدان پر مفاد پرستوں کی لڑائی ختم ہونا مشکل کیوں؟

پیغمبراکرم (ص) نے بشریت کو حیات طیبہ کی تعلیم دی تھی

مصری پارلیمنٹ کی خارجہ کمیٹی کی شام پر تین مغربی ممالک کے حملے کی مذمت

کوئٹہ : داعش کے بھیس میں لشکر جھنگوی کے مسیحی برادری پر حملے

فوج نہ ہوتی تو پاکستان میں بھی دیگر مسلم ممالک کی طرح تباہی مچی ہوتی، عمران خان

شامی جنگی ڈرامے کا مرکزی ولن کون؟ – ولادیمر گولیسٹن

شام پر امریکی حملے جاری رہے تو دنیا کیلیے خطرناک ہوگا، ولادی میر پیوٹن

ڈونلڈ ٹرمپ جھوٹے اور اخلاقی طور پر صدارت کیلئے نااہل ہیں: جیمز کومی

غیرملکی ایجنسیاں لوگوں کو لاپتہ کرکے آئی ایس آئی پر الزام لگانا چاہتی ہیں، جاوید اقبال

پختون تحفظ موومنٹ: حقوق کی جنگ یا غداری

سعودی عرب کا مشرقی یروشلم میں اسلامی ورثے کے تحفظ کی آڑ میں اسرائیل کو 15کروڑ ڈالر کی امداد

امریکہ کا شام پر حملہ دہشت گردوں کو شکست سے بچانے کی ناکام کوشش کا حصہ ہے

عالمی استکبار شام پر عراقی تاریخ دہرانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہے: علامہ راجہ ناصرعباس جعفری

برطانوی وزیراعظم امریکا کو نہیں پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں، جیرمی کوربن

امریکی صدر نے شام پر دوبارہ حملے کی دھمکی دے دی

کیا امریکہ شام پر اگلی دفعہ بڑا حملہ کرے گا؟

ن لیگ کا چیف جسٹس کو واضح پیغام: سپریم کورٹ جج اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ

شام کیوں زد پرہے ؟

خوفناک ترین ہتھیار: کیا روس کا اینٹی سیٹلائٹ میزائل امریکہ کو مفلوج کر دے گا؟

حملوں کے بعد بشار کی معمول کے مطابق دفتر آمد! فوجی پرسکون, سیکیورٹی عمومی، زندگی رواں دواں

شام نے مغربی ممالک کے 13 میزائل تباہ کردیئے

سعودی عرب کا شام پر امریکی حملے کی حمایت کا اعلان

امریکہ، فرانس اور برطانوی حکمران مجرم ہیں: آیت اللہ خامنہ ای

برطانیہ شام میں کیمیائی حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے: روسی جنرل

2017-02-13 10:35:53

امریکی سعودی تاریخی گٹھ جوڑ

 

US saudi gath jor

 

سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات نہ صرف کافی پرانے ہیں بلکہ آئے دن ان تعلقات میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔

 

 

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ دونوں ممالک شدت پسندی، تکفیریت اورسرمایہ دارانہ نظام کی بقا کے حامی ہیں۔ اپنے انہی مقاصد کے حصول کے لیے ان دونوں ممالک نے 70 کی دہائی میں ایک خفیہ معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں یہ طے پایا کہ جو ممالک تیل کی پیداوار سے اپنی معیشت چلا رہے ہیں وہ تیل کی تجارت ڈالرمیں ہی کریں گے۔ تیل کی فروخت سے ہونے والی آمدن کو پیٹرو ڈالر کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد امریکہ کی تیل کی ضروریات کو سستے داموں پورا کرنا تھااور بدلے میں سعودی عرب کے شاہی خاندان کو حفاظت فراہم کرنے کے ساتھ تیل کی بین الاقوامی منڈی میں سعودی عرب کی اجارہ داری قائم کرنا تھا۔ اس خفیہ معاہدے کے بعد ایک طرف توامریکہ سعودی عرب سے تیل خریدتا رہا اور دوسری طرف سعودی عرب نے امریکہ سے بڑے پیمانے پر اسلحہ خریدنا شروع کردیا تاکہ اپنے شدت پسندانہ عزائم کو مکمل کر سکے۔ اگرچہ آج سعودی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے مگر پھر بھی سعودی عرب امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے 2008 سے 2015 تک کم و بیش93 ارب 50 کروڑ ڈالر کا اسلحہ خرید چکا ہے۔

 

 

یہ سعودی معاشرے میں پائے جانے والے شدت پسندانہ عزائم ہی تھےکہ 9/11 کادلسوز واقعہ پیش آیا۔یہ بات بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا میں دہشت گردی کےاس واقعے کی مخالفت میں مظاہرے ہورہے تھےسعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں دہشت گردی کے اس واقعے کے بعدعوام الناس نے اسامہ بن لادن کے حق میں مظاہرہ کیا جس پر حکومت کی جانب سے کوئی کریک ڈاون نہیں کیا گیا نہ ہی امریکہ نے سعودی حکومت سے اس بارے میں کسی قسم کا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ یہاں یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ سعودی شہریوں نے مختلف دہشت گری کی کارروائیوں میں 1975 سے لے کر 2015 تک 2361 امریکیوں کو قتل کیا ہے مگر امریکی حکام کی جانب سے اس سلسلے میں بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا بلکہ حال ہی میں امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرامپ نےسات ایسے مسلم ممالک کے شہریوں کی امریکہ داخلے پر پابندی لگا دی ہے جن کے شہریوں نے کسی ایک امریکی شہری کو بھی قتل نہیں کیا۔

مزید براں 11/9 کے بعد ہونے والی تحقیات سے بھی یہ بات عیاں ہوگئی کہ سنگین دہشت گردی کے اس واقعہ کے 19 میں سے 15 ملزمان کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ بجائے اس کے امریکہ بہادر اپنی سرزمین پر ہونے والے اتنے بڑے دہشت گردی کے واقعہ کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرتا اور مستقبل قریب میں اس طرح کے کسی بھی واقعہ کے سدباب کے لیے ضروری اقدامات کیے جاتےامریکی افواج نے ایک طرف تو نیٹو کے بینر تلے افغانستان، پاکستان اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک پر حملہ کر کے اپنی شدت پسندی اور انتہا پسندی کی سرشت کو تسکین پہنچائی اوردوسری طرف مشرق وسطی کے کئی ممالک میں اپنے آلہ کاروں کی مدد سے خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کر دی جس میں سعودی عرب نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ہماری رائے میں یہ اقدامات امریکی جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کے خلاف نہیں کیے گئے تھے بلکہ لیبیا اورعراق کے سابق صدورمعمر قزافی اور صدام حسین کو تختہ دار پر چڑھانے کے لیے تھے کیوں کہ ان دونوں کے جرائم میں سے سرفہرست پیٹروڈالر کے مقابلے میں پین افریقی اور یورو کرنسی میں تجارت کی بات کرنا شامل تھا۔

سعودی عرب نے شدت پسندی، انتہا پسندی اور ہٹ دھرمی پاکستان، بھارت اور دیگر مسلم ممالک کو بھی درآمدکی اوراسلام کی ترویج واشاعت کے نام پر وہابیت کا پرچار کیا اورتمام عالم اسلام کو بدنام کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سعودی عرب اپنی تیل کی آمدن میں سے سالانہ 100 ارب ڈالر سے زیادہ رقم وہابیت کی تبلیغ وترویج کے لیےپاکستان، بھارت اور دیگر ممالک میں موجودمدارس پر خرچ کرتا ہے۔ سابقی امریکی وزیر خارجہ اور حالیہ امریکی انتخابات میں صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن پر وکی لیکس کی جانب سے یہ الزام لگایا گیا کہ وہ سعودی رقوم داعش اور تکفیری گروہوں میں تقسیم کرنے میں ممد و معاون رہی ہیں۔ اس الزام کی بنیاد ہیلری کلنٹن کی 1700 ای میلز کو قرار دیا گیا جو کہ وکی لیکس نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دیں۔ اس سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ وہابیت کا فروغ جتنا سعودی شاہی خاندان کی بقا کے لیے ضروری ہے اتنا ہی اہم ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لیے بھی ہے۔ کیوںکہ دونوں ممالک یہ بات جانتے ہیں کہ اگر پیٹرو ڈالر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی یا اس معاہدے کو ختم کردیا گیا توجہاں امریکی معیشت بری طرح سے متاثر ہوگی وہیں سعودی عرب کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

 

مئی 2016 میں سابق امریکی صدر براک اوبامہ کے دور حکومت میں کانگریس کی جانب سےسعودی عرب مخالف بل Justice Against Sponsors of Terrorism  پاس کیا گیا جس کی رو سے 11 ستمبر2001 کو پینٹاگون اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر کیے جانے والے فضائی حملے میں مرنے والے یا زخمی ہوجانے والے افراد کے لواحقین سعودی حکومت پر ہرجانے کا دعوی کرنے کے اہل ہوں گے۔ اگرچہ یہ بل سب سے پہلے دسمبر 2009 میں پیش کیا گیا تھا اس کے بعد یہ بل امریکی کانگریس میں ستمبر 2015 کو دوبارہ پیش کیا گیا۔ سعودی حکومت اور شاہی خاندان نے اگرچہ امریکی سینیٹ کو اس بل کے پاس کرنے سے باز رکھنے کے لیے یہ دھمکی بھی دی کہ سعودی عرب امریکہ میں کی گئی 750 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری سے دست بردار ہو جائے گا۔ یہی نہیں سعودی عرب نے امریکہ میں موجود اپنے اثاثوں کی فروخت کا کام بھی شروع کر دیا ہے مگر پھر بھی یہ بل پاس ہوگیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں سعودی عرب اور امریکہ کے مابین تعلقات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔

 

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

سمادھ بھائی وستی رام

- ایکسپریس نیوز

خوابوں کی تعبیر

- ایکسپریس نیوز

یہ انوکھی دنیا

- ایکسپریس نیوز

کوئٹہ میں پانی کا مسئلہ

- ایکسپریس نیوز

سیاست میں ایک نئی روایت

- ایکسپریس نیوز

اب نہیں تو کب!

- ایکسپریس نیوز

کیا یہی تہذیب ہے آپ کی!!

- ایکسپریس نیوز

اندھیرا بڑھ رہا ہے

- ایکسپریس نیوز

کراچی کی صدا 

- ایکسپریس نیوز

ابھی یا کبھی نہیں

- ایکسپریس نیوز

بھارت تباہی کے دہانے پر

- ایکسپریس نیوز