ایران کو تنہا کرنے کے لیے ٹرمپ کی روس پیشکش

عوض القرنى اور سلمان العوده کے بعد محمد العریفی بھی گرفتار

حسن مثنی کون تھے؟ کیا وہ کربلا میں موجود تھے؟

سعودی عرب کو درپیش دو بڑے چیلنجز

تاریخ کوفہ: کچھ گم گشتہ پہلو — عامر حسینی کی کتاب کوفہ پہ تبصرہ: میاں ارشد فاروق

بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد 4لاکھ 30 ہزارہوگئی

انجیلا مرکل چوتھی بار جرمنی کی چانسلر منتخب

محرم الحرام میں آگ و خون کا بڑا منصوبہ ناکام

ملیحہ لودھی کی اقوام متحدہ میں سنگین غلطی

نوازشریف کا لندن سے فوری وطن واپسی کا فیصلہ

یمنی عوام پر گزشتہ ماہ سعودی جنگی اتحاد کے حملہ میں امریکی بم استعمال ہوا، ایمنسٹی انٹرنیشنل

اگر مرجعیت کے فتوی پر عمل نہ ہوتا تو داعش کا کربلا، بصرہ، کویت اور سعودی عرب پر قبضہ ہوجاتا

اسلام آباد میں نامعلوم افراد نے کالعدم داعش کا جھنڈا لگادیا

خطے میں موجود بحرانوں میں کس نے مہاجرین کو پناہ دی؟

این اے 120میں شدت پسند عناصرکی کارکردگی

روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم ،7 ممالک نے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا

روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد سات لاکھ سے تجاوز کرگئی

لندن میں تیزاب حملے میں 6 افراد زخمی

ذہنی طور پر ان فٹ ڈونلڈ ٹرمپ خود کش مشن پر ہیں: شمالی کوریا

استغفار شیطان سے مقابلہ کا بہترین راستہ ہے

مجلس امام حسین کی خصوصیت دشمن سے مقابلہ اور شیعت کی ترویج ہے

شیعہ ہزارہ قوم کی نسل کشی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

لندن میں آن لائن ٹیکسی سروس ’’اوبر‘‘ پر پابندی لگانے کا فیصلہ

پاکستان کے حالات عجیب رخ اختیار کر سکتے ہیں: نواز شریف

امریکا اور شمالی کوریا بچوں کی طرح لڑرہے ہیں: روس

نجران میں یمنی فوج نے سعودی فوج کا حملہ پسپا کر دیا

مشرف اتنے بہادر ہیں تو پاکستانی عدالتوں کا سامنا کریں: زرداری

پرویز مشرف کے الزامات

ترکی سفیر نے امارات میں اسرائیلی افسروں کی رہائشگاہ فاش کردی

عمر رسیدہ عرب شیوخ کی کمسن بھارتی لڑکیوں سے شادیاں

مشکل وقت سر پر ہے

کیا اردوغان، تباہی کے بالکل قریب ہیں؟

دنیا کو تڑپانے والا یہ بچہ اب کس حال میں ہے؟

پاکستان نے اقوام متحدہ میں کشمیر پر بھارتی موقف مسترد کر دیا

مشرف میں عدالتوں کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں: فرحت اللہ بابر

ایران اور دنیا کے چالیس سے زائد ملکوں میں عالمی یوم علی اصغر

نوازشریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار ہو گئی

پاکستان کی سیاست میں مثبت تبدیلی کیوں نہیں آ رہی ؟

فری بلوچستان : پاکستان کی خود مختاری پر کاری ضرب

تعلیم یافتہ دہشت گرد

الجبیر: بغداد اور کردستان ایک بڑی جنگ کی جانب بڑھ رہے ہیں

امریکا کے حمایت یافتہ جنگجوؤں نے اشتعال انگیزی کی تو نشانہ بنائیں گے: روس

پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف دنیا کا سب سے بڑا آپریشن کیا: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی

گھر کی صفائی اور سابق وزیر داخلہ کی ناراضگی

عراقی وزیر اعظم نے الحویجہ کی آزادی کا حکم صادر کردیا

ٹرمپ کا خطاب اس کی ناکامی، شکست، غصہ اور درماندگی کا مظہر ہے

کائنات کے گوشہ و کنار میں امام مظلوم کے ماتم کا آغاز

پاکستان میں محرم الحرام کا چاند نظر آگیا

نواز شریف کی نسلوں میں سے کوئی اقتدار میں آنے والا نہیں رہے گا: طاہر القادری

اسلام آباد میں مختلف مکاتب فکر کے 14علماء اور خطبا کے داخلے پر پابندی عائد

لاہور ہائی کورٹ کا سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم

بےنظیر اور مرتضیٰ بھٹو کو آصف زرداری نے قتل کرایا: پرویز مشرف

عسکری تنظیمیں ۔۔۔بدامنی کا محرک

سوچی کی حقائق پر پردہ پوشی: افسوسناک یا مجرمانہ فعل؟

قدس کو منظم کرنے کا بہانہ یا یہودی بنانے کا منصوبہ؟

غنڈوں کی زبان بولتا صدر

سعودی فوج مرکز پر یمنی سرکاری فوج کا میزائل حملہ، متعدد سعودی اہلکار ہلاک

امام کعبہ نے امریکی صدر ٹرمپ کو ’’امن کی فاختہ‘‘ قرار دے دیا!

افضل احسن رندھاوا اور غیر پنجابیوں کا آشوب – محمد عامر حسینی

کیا بلوچستان میں شورش دم توڑ رہی ہے؟

دھمکیاں جوہری معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹا سکتیں: حسن روحانی

عالمی میڈیا پاکستان کی درست صورتحال نہیں دکھا رہا: وزیراعظم

میکسکو سٹی میں ہولناک زلزلہ؛ 226 افراد ہلاک + تصاویر

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری معطل کردیے

تاریخی ماتمی جلوسوں پر پابندی ہماری مذہبی آزادی کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے: مولانا محمد عباس انصاری

ٹرمپ کے بیانات شرمناک اور جاہلانہ ہیں: محمد جواد ظریف

حسن روحانی اور شاہد خاقان عباسی کی ملاقات: ایران اور پاکستان کی تعلقات کے فروغ پر تاکید

امریکی بموں کی ماں کے مقابلے میں ایرانیوں نے بموں کا باپ تیار کرلیا

قطر کے سفیر: سعودیہ مشرق وسطیٰ میں دہشتگردی کا اصلی حامی ہے

برماکے مسلمان اور مسلم ریاستوں کی خاموشی……..اصل وجہ کیا ہے؟

امارات اور سعودیہ کے اسرائیل سے تعلقات اب ہونگے سرِعام

2017-02-13 23:23:01

ایران کو تنہا کرنے کے لیے ٹرمپ کی روس پیشکش

201729223825932امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں پہنچنے سے جیسا کہ توقع تھی، اوباما کے صدارتی دورے کے دوران اس ملک کے ایران کے ساتھ ظاہری طور پر اچھے اور کم سطح تعلقات، ایک بار پھر بدامنی اور کشیدگي کا شکار ہونے لگے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی انتخاباتی مہم کے دوران ایران کے بارے میں اوباما کی پالیسیوں بالخصوص جوہری معاہدے اور عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کی پالیسیوں کی سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر میں بر سر اقتدار ہوا تو ایٹمی معاہدے کو پھاڑ دؤں گا۔

ٹرمپ اب وائٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے جوہری معاہدے پر نظر ثانی کرنے یا میزائل تجربے کرکے ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کے اقدامات کا مقابلہ کرنے جیسے مسائل پیش کر کے ایران کے ساتھ مقابلےبازی شروع کر دی ہے۔ ان سب کے باوجود اگر ایران کے اثرو رسوخ سے مقابلے کے واشنگٹن کے منصوبے بندی پر ایک نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ خلیج فارس کے عرب ممالک کے لئے ہتھیاروں کی فروخت کے لئے ماحول بنایا جا رہا ہے تاکہ خلیج فارس کے عرب ممالک کو ایرانوفوبیاں کے بہانے اپنے ہتھیاروں کے بازار سے بڑی مقدار میں ہتھیار فروخت کئے جائیں اور اس طرح مغربی ممالک خاص طور پر امریکا کی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں کو بازار میں ایک بار پھر رونق پیدا ہو جائے۔ اسی تناظر میں وال اسٹریٹ جنرل نے اپنے ایک مضمون میں دعوی کیا کہ امریکا کی نئی حکومت روس کی خوشنودی حاصل کرنے اور تہران اور ماسکو کے درمیان شگاف پیدا کرنے کے راستے تلاش کر رہی ہے۔

عرب انقلاب یا عرب بیداری کے بعد مشرق وسطی کے حالات کے ساتھ ہی بحران کی آگ میں گھی ڈالنے اور اس کے اثر و رسوخ کو وسیع کرنے کے مغرب کے منصوبوں سے مقابلے کے لئے ایران اور روس کے مشترکہ مفاد اور ہدف سامنے آئے۔

بہر حال مشرق وسطی کی تبدیلیوں بالخصوص شام کے حالات میں ایران اور روس نے قریبی تعاون کیا۔ اسی تناظر میں ایٹمی معاہدے کے بعد روس نے ایران کو ایس – 300 میزائل سسٹم دے دیا اور اسی کے ساتھ ایران نے شام میں فضائی حملے کرنے کے لئے روس کو حمدان کی نوژہ ہوائی چھاؤنی استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔

اسی کے ساتھ ٹرمپ نے تجویز پیش کی ہے کہ اگر پوتين ایران کے اتحادی حلقے سے نکلنے کو تیار ہو جائیں تو ماسکو کے خلاف امریکی وزارت خزانہ کی پابندیوں کو ختم کر دیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ امریکہ، یوکرین میں ماسکو کی فوجی کارروائی کی مذمت نہیں کرے گا اور روس کی سرحدوں پر نیٹو کی مزید پیشرفت کو روک دے گا۔ بہر حال ایسا لگتا نہیں ہے کہ روس، امریکہ کی جانب سے دیئے گئے ان امتیازات کے بدلے ایران کے اتحاد کو چھوڑنے کو آمادہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ روس، امریکا کی سودے بازی کی سازش میں آنے والا نہیں ہے۔

اس کا پہلا سبب یہ ہے کہ تقریبا تین عشروں سے مشرق وسطی کے تبدیلیوں میں روس الگ تھلگ ہی رہا اور اب جاکر وہ علاقائی تبدیلیوں میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے ملک کی حیثیت سے سامنے آیا ہے۔
یہاں پر یہ بات قابل ذکرہے کہ علاقے میں مغرب کی توسیع پسندی کا مقابلہ کرنے میں ایران کے تعاون اور اس ملک کے کردار کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔فطری طور پر روس بھی اس بات سے آگاہ ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور اسرائیل مغربی ممالک کے اسٹراٹیجک اتحادی ہیں اور مستقبل قریب میں یہ حکومتیں ایران کی خالی جگہ کو پر نہیں کر سکتیں ۔

اسی کے ساتھ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے بھی ایران کا ساتھ چھوڑنے کے لئے ماسکو کو یہ تجویز دی تھی کہ سوویت یونین کے دور میں خلیج  فارس کے عرب ممالک کے توانائی کے شعبے کو اس کے کنٹرول میں دے دے گا لیکن اس تجویز کو بھی روس نے واضح طور پر مسترد کر دیا۔ بہر حال روس اس بات سے پوری طرح آگاہ ہے کہ ایران کی مشارکت کے بغیر وہ علاقے خاص طور پر مشرق وسطی میں اپنے مفاد کو پورا ہی نہیں کر سکتا۔ الوقت 

زمرہ جات:  
ٹیگز:   روس ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)