ایران کو تنہا کرنے کے لیے ٹرمپ کی روس پیشکش

وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے چودھری نثار کو منا لیا، ذرائع

اسرائیلی فوج کا ملکی میڈیا پر کس قدر کنٹرول ہے؟

سعودی عرب کے نئے دعوے سفید جھوٹ ہیں : قطر

کچھ ذمہ داری سپریم کورٹ پر بھی عائد ہوتی ہے

ایران امریکی پابندیوں کا سخت جواب دے گا: سید عباس عراقچی

نواز شریف بطور وزیراعظم 14 اگست کو پرچم کشائی نہیں کرسکیں گے: خورشید شاہ

روس نے امریکہ کے خلاف جوابی اقدامات کی دھمکی دے دی

چین ، بھارت کا تنازعہ

عمران خان کی سپریم کورٹ سے پاناما کیس کا فیصلہ جلد سنانے کی درخواست

پاکستانی اسلحہ ساز صنعت بھارت سے بہتر ہے: بھارتی نائب آرمی چیف

عمران خان نااہلی کی جانب گامزن: کیا پیپلز پارٹی کے لیے راہ ہموار کی جارہی ہے؟

محمد بن نائف کا شاہ سلمان کے نام آخری خط

وزیراعظم کے پاس آپشن بہت کم رہ گئے ہیں

کون بنےگا وزیر اعظم ۔۔۔؟

النجوم فائونڈیشن کے نام پر کالعدم سپاہ صحابہ کا نیا ہجوم ۔ گل زہرا

تکفیری دہشتگرد اور ایک ضعیف باپ کی خرن میں ڈوبی عمر بھر کی کمائی

سعودی عرب کے شہزادے نے ابو ظہبی کے ولی عہد کو شیطان صفت قرار دیدیا

کیسا ہوگا آئی فون 8! تصاویر دیکھیں

قطر کا معاشی بحران؛ 388 سعودی کمپنیاں بند، سعودی عرب کا برادر ہمسائیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک

ایران نے قطر کو سانس لینے کا موقع دیا: وزیر دفاع قطر

امریکہ یورپ تعلقات میں سرد مہری

ابوبکر بغدادی دیرالزور میں غائب

بلوچستان میں داعش کے پیچھے کون سی قوتیں ہیں ؟

عراق کو توڑنے کیلئے امریکی اسرائیلی سازشیں عروج پر، کرد رہنماوں کی خفیہ ملاقاتیں

سعودی عرب کا قطر کے بادشاہ کے خلاف بغاوت کی سازش میں ملوث ہونے کا انکشاف

حضرت فاطمہ معصومہ (س) کی شفاعت سے تمام شیعہ بہشت میں وارد ہوں گے

اسرائیل نے ہتھیار ڈال دیے، مسجد اقصیٰ سے میٹل ڈٹیکٹرز ہٹانے کا اعلان

لاہور دھماکہ: کیا یہ آپریشن خیبر فور کا ردعمل تھا؟

مسجد اقصیٰ پر صیہونی یلغار

900 جرمن داعش میں شامل ہو چکے ہیں،جرمن خفیہ ادارہ

بھارت خام خیالی میں نہ رہے سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں: چین

ترک صدر اردوغان کی سعودی عرب اور قطر کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کی کوششیں ناکام

پاکستانی تعاون کے بغیر افغان جنگ نہیں جیت سکتے : جنرل جوزف ڈنفورڈ

حزب اللہ لبنان کا عرسال کے 90 فیصد علاقہ پر قبضہ

سعودی شاہ کی سبکدوشی کا ڈرامہ آخری مرحلے میں

29 شوال یوم ولادت حامی رسالت، محسن اسلام حضرت ابوطالب علیہ سلام !

ارفع کریم ٹاور دھماکا، ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی، 53 زخمی

خصوصی رپورٹ: دہشتگرد اب بھی پاکستان میں فنڈز جمع کرنے میں مصروف ہیں

چوہدری نثار کے وزیر اعظم سے اختلافات کی اندرونی اور چشم کشا داستان:‌ کیا وزیرداخلہ اب بھی نوازشریف کے جانثار رہیں گے ؟

 شہبازشریف کو وزیر اعظم بنانے کا مطالبہ:  شریف خاندان میں پڑتی دراڑوں کی ان کہی داستان

'26 جولائی سے پہلے پاناما کا فیصلہ سامنے آسکتا ہے'

بھارت میں صدر کا انتخاب: دلت نہیں انتہا پسند ہندو کامیاب ہوا

فیصلہ جو بھی ہو، کیا اعتبار بحال ہوگا؟

بیت المقدس میں کشیدگی ، سلامتی کونسل کا اجلاس کل طلب

ایران نے داعش پر عراقی عوام کی فتح میں فیصلہ کن کردار ادا کیا : عراق

فلسطین آج بھی عالم اسلام کا پہلا مسئلہ ہے: ایران

ایران اور عراق کے درمیاں دفاع اور سیکورٹی کے معاہدے

جے آئی ٹی نے آل شریف کے جرائم سے پردہ اٹھا کر تاریخ رقم کی ہے: اسد نقوی

اسرائیلی وزير اعظم سے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کی خفیہ ملاقات

اردن میں اسرائیلی سفارت خانے پر حملہ، ایک شخص ہلاک

سیکڑوں جرمن لڑکے لڑکیاں داعش میں شامل

ایسا برا ملک دنیا میں نہیں، کبھی امریکا نہیں جاؤں گا: فلپائنی صدر

یورپی ممالک پر ڈیڑھ سو سے زائد خودکش حملوں کا خطرہ

شریف خاندان تاثر دے رہا ہے کہ میرا اور ان کا کیس ایک ہے: عمران خان

’’میاں صاحب جانے دو شہباز شریف کو آنے دو‘‘ کے بینرلگ

کیا چوہدری نثار ن لیگ کو چھوڑ دیں گے؟

نیتن یاہوکا بیت المقدس کو یہودی بنانے کا منصوبہ

 جو قطر کے ساتھ ہوا وہ باقی ملکوں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے؛ سعودی ولی عہد کی دھمکی

(ن) لیگ کی چوہدری نثار کو منانے کی کوششیں تیز

وزیراعظم کےخلاف عدالتی کارروائی سے جمہوریت کو کیا خطرہ ہے!

مشرق وسطیٰ میں مصالحت کے امکانات

شام اور حزب اللہ کی لبنانی سرحد کے قریب دہشتگرد گروہ النصرہ کے ٹھکانوں پر کارروائی

پاناما کیس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

سعودی عرب ام الفساد اور دہشت گردی کی جڑ ہے

پاکستان بھر میں جاری شیعہ نسل کشی کے خلاف مظاہرے

قطر نے گھٹنے ٹیک دیے؟ سعودی عرب سے مذاکرات کا اعلان

نواز شریف رات تک مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیں: خورشید شاہ

نوازشریف اس بار قدم نہیں بڑھائیں گے

امریکی طوطا چشمی: کیا خارجہ پالیسی پر تجدید نظر کا وقت نہیں آ گیا؟

کیا پاکستان کے لئے ایک امام خمینی کی ضرورت ہے؟

2017-02-13 23:23:01

ایران کو تنہا کرنے کے لیے ٹرمپ کی روس پیشکش

201729223825932امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں پہنچنے سے جیسا کہ توقع تھی، اوباما کے صدارتی دورے کے دوران اس ملک کے ایران کے ساتھ ظاہری طور پر اچھے اور کم سطح تعلقات، ایک بار پھر بدامنی اور کشیدگي کا شکار ہونے لگے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی انتخاباتی مہم کے دوران ایران کے بارے میں اوباما کی پالیسیوں بالخصوص جوہری معاہدے اور عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کی پالیسیوں کی سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر میں بر سر اقتدار ہوا تو ایٹمی معاہدے کو پھاڑ دؤں گا۔

ٹرمپ اب وائٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے جوہری معاہدے پر نظر ثانی کرنے یا میزائل تجربے کرکے ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کے اقدامات کا مقابلہ کرنے جیسے مسائل پیش کر کے ایران کے ساتھ مقابلےبازی شروع کر دی ہے۔ ان سب کے باوجود اگر ایران کے اثرو رسوخ سے مقابلے کے واشنگٹن کے منصوبے بندی پر ایک نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ خلیج فارس کے عرب ممالک کے لئے ہتھیاروں کی فروخت کے لئے ماحول بنایا جا رہا ہے تاکہ خلیج فارس کے عرب ممالک کو ایرانوفوبیاں کے بہانے اپنے ہتھیاروں کے بازار سے بڑی مقدار میں ہتھیار فروخت کئے جائیں اور اس طرح مغربی ممالک خاص طور پر امریکا کی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں کو بازار میں ایک بار پھر رونق پیدا ہو جائے۔ اسی تناظر میں وال اسٹریٹ جنرل نے اپنے ایک مضمون میں دعوی کیا کہ امریکا کی نئی حکومت روس کی خوشنودی حاصل کرنے اور تہران اور ماسکو کے درمیان شگاف پیدا کرنے کے راستے تلاش کر رہی ہے۔

عرب انقلاب یا عرب بیداری کے بعد مشرق وسطی کے حالات کے ساتھ ہی بحران کی آگ میں گھی ڈالنے اور اس کے اثر و رسوخ کو وسیع کرنے کے مغرب کے منصوبوں سے مقابلے کے لئے ایران اور روس کے مشترکہ مفاد اور ہدف سامنے آئے۔

بہر حال مشرق وسطی کی تبدیلیوں بالخصوص شام کے حالات میں ایران اور روس نے قریبی تعاون کیا۔ اسی تناظر میں ایٹمی معاہدے کے بعد روس نے ایران کو ایس – 300 میزائل سسٹم دے دیا اور اسی کے ساتھ ایران نے شام میں فضائی حملے کرنے کے لئے روس کو حمدان کی نوژہ ہوائی چھاؤنی استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔

اسی کے ساتھ ٹرمپ نے تجویز پیش کی ہے کہ اگر پوتين ایران کے اتحادی حلقے سے نکلنے کو تیار ہو جائیں تو ماسکو کے خلاف امریکی وزارت خزانہ کی پابندیوں کو ختم کر دیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ امریکہ، یوکرین میں ماسکو کی فوجی کارروائی کی مذمت نہیں کرے گا اور روس کی سرحدوں پر نیٹو کی مزید پیشرفت کو روک دے گا۔ بہر حال ایسا لگتا نہیں ہے کہ روس، امریکہ کی جانب سے دیئے گئے ان امتیازات کے بدلے ایران کے اتحاد کو چھوڑنے کو آمادہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ روس، امریکا کی سودے بازی کی سازش میں آنے والا نہیں ہے۔

اس کا پہلا سبب یہ ہے کہ تقریبا تین عشروں سے مشرق وسطی کے تبدیلیوں میں روس الگ تھلگ ہی رہا اور اب جاکر وہ علاقائی تبدیلیوں میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے ملک کی حیثیت سے سامنے آیا ہے۔
یہاں پر یہ بات قابل ذکرہے کہ علاقے میں مغرب کی توسیع پسندی کا مقابلہ کرنے میں ایران کے تعاون اور اس ملک کے کردار کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔فطری طور پر روس بھی اس بات سے آگاہ ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور اسرائیل مغربی ممالک کے اسٹراٹیجک اتحادی ہیں اور مستقبل قریب میں یہ حکومتیں ایران کی خالی جگہ کو پر نہیں کر سکتیں ۔

اسی کے ساتھ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے بھی ایران کا ساتھ چھوڑنے کے لئے ماسکو کو یہ تجویز دی تھی کہ سوویت یونین کے دور میں خلیج  فارس کے عرب ممالک کے توانائی کے شعبے کو اس کے کنٹرول میں دے دے گا لیکن اس تجویز کو بھی روس نے واضح طور پر مسترد کر دیا۔ بہر حال روس اس بات سے پوری طرح آگاہ ہے کہ ایران کی مشارکت کے بغیر وہ علاقے خاص طور پر مشرق وسطی میں اپنے مفاد کو پورا ہی نہیں کر سکتا۔ الوقت 

زمرہ جات:  
ٹیگز:   روس ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

کیا چل رہا ہے آج کل ؟

- ایکسپریس نیوز

یہ جو ایک ملک ہے

- ایکسپریس نیوز

’’ہمارا دوست ‘‘

- ایکسپریس نیوز

آج کا دن کیسا رہے گا؟

- ڈیلی پاکستان

عابد حسن منٹو کا خواب

- ایکسپریس نیوز

مسئلہ پھول کا ہے

- ایکسپریس نیوز