ایران کو تنہا کرنے کے لیے ٹرمپ کی روس پیشکش

امریکی پیٹ میں پھر مروڑ: روس طالبان کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے،امریکی جنرل

فوج کی دیانت اور سپریم کورٹ کی شہرت کا سوال

شمالی کوریا کی امریکی بحری بیڑے کو تباہ کرنے کی دھمکی: سپر پاور کیسے بھیگی بلی بن گیا؟

فرانس کا صدارتی انتخاب

ایران کے لیے پاکستان کی سیکیورٹی انتہائی اہم ہے، جواد ظریف

پاناما لیکس جے آئی ٹی: 'فوج شفاف، قانونی کردار ادا کرے گی'

ایران کے خلاف عرب یہودی اتحاد:  مسلم دنیا کے حکمرانوں کے اصل چہرے عیاں

پانامہ لیکس جے آئی ٹی: کیا عدلیہ نے نواز شریف کو بچاؤ کا راستہ دیا ہے؟

مخصوص ممالک کا فوجی اتحاد عالم اسلام کی وحدت کیخلاف امریکی سازش ہے، پاکستان کو کسی بھی سازش کا حصہ نہیں بننا چاہیئے، علامہ مختار امامی

اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری:‌شاہ سلمان نے اپنے بیٹے کو امریکا میں سفیر مقرر کر دیا

تہذیب نام تھا جس کا....... از نذر حافی

نواز شریف کب استعفیٰ دیں گے

قم میں حقیقی اسلام کا درس دیا جاتا ہے نہ کہ داعشی یا طالبانی اسلام کا۔ پاکستانی اسپیکر

ایاز صادق کی ایران کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت

وزیر اعظم پر تنقید ہو سکتی ہے تو کوئی بھی مقدس گائے نہیں ، مریم نواز اور ڈی جی آئی ایس آئی کی انتہائی قریبی رشتہ داری ایک حقیقت ہے: اعتزاز احسن

راحیل شریف سعودیہ سدھار گئے

اضافی دستوں کی تعیناتی: کیا سعودیہ پاکستان سے درخواست کرتا ہے؟

سعودیہ بغاوت کے دہانے پر

پاناما فیصلہ، فلم ابھی باقی ہے!

امریکہ سعودیہ گٹھ جوڑ: امت مسلمہ کے داعی کا اصل چہرہ کیا ہے؟

شفقنا خصوصی:پاکستان، سعودی اتحاد اور یمن کے معصوم بچوں کا خون

سعودیہ اگلے مہینے سے اسرائیل کو پیٹرول برآمد کریگا

مودی دنیا کا دوسرا ہٹلر ہے، اسے سبق سکھانے کےلیے کلبھوشن کو پھانسی دی جائے، منموہن سنگھ

اولاند: ٹرمپ، داعش کو منہ بولا بیٹا ماننے کو تیار ہیں

سعودی اتحاد کے منفی عزائم:  کیا پاکستان کو دھوکے میں رکھا گیا ہے؟

سیاسی جماعتوں میں انتہا پسند عناصر میں اضافہ

النصرہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے کنگ کون؟

 امریکی منافقت:‌داعش کو عراق میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی کھلی چھٹٰی کیوں؟

وزیراعظم صادق و امین نہیں رہے، جسٹس گلزار کا اختلافی نوٹ

سابق ایرانی صدر احمدی نژاد صدارتی انتخاب کیلئے نااہل قرار

پاکستان کے خبر نگار کا دورہ شام، لوگوں کو بشار اسد سے کوئی مشکل نہیں

ٹوپی ڈرامہ جاری رہے: سپریم کورٹ کا فیصلہ

'سپریم کورٹ جو نہ کرسکی وہ 19 گریڈ کے افسر کریں گے؟'

پاناما کیس: سپریم کورٹ کا جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ

رینجرز اختیارات میں توسیع : سندھ حکومت خائف کیوں ہے؟

 جعلی ریفرنڈم: کیا ترک عوام ڈکٹیٹر شپ چاہتے ہیں؟

شفقنا تجزیہ: وزیراعظم اہل یا نا اہل، پانامہ لیکس کیا لے کر آرہا ہے؟

پانامہ لیکس فیصلہ: کیا ن لیگ تشدد کی راہ اختیار کرے گی؟

آرمی چیف نے 30 دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی

اتحاد بین المسلمین کے حوالہ سے پاکستان میں ایک اہم پیش رفت ،اتحاد امت مصطفیٰ فورم کی تشکیل

پاناما کیس فیصلہ: حکمراں جماعت میں قبل از وقت انتخابات پر بحث

سعودی اتحاد کی بلی تھیلے سے باہر: نام نہاد اتحادی مسلم فوج کا حوثی افواج کے خلاف کارروائی کا عندیہ

ڈونلڈ ٹرمپ خطرناک صدر نہیں :احمدی نژاد

شفقنا خصوصی: بشار الاسد کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے

یمن: یمنی افواج نے سعودی ہیلی کاپٹر مار گرایا'12 فوجی اہلکار ہلاک

عراقی اہلسنت کو کمزور کرنے کے لئے، سعودی بادشاہ کے مشیر کا دورہ کردستان

سپریم کورٹ پاناما کیس کا فیصلہ 20 اپریل کو سنائے گی

مشال کے قاتلوں کے نام نہ بتانے کیلیے حلف لینے کی وڈیو منظر عام پر آگئی

ریفرنڈم نے ترک عوام کو تقسیم کر دیا

امریکی فوجی کارروائی کا نتیجہ صرف جنگ ہوگی، شمالی کوریا

معاملہ گستاخی نہیں، مشعال کے خلاف سازش تھی: عمران خان

دال میں کالا: امریکہ شام میں کیمیائی حملوں کی تحقیقات سے گریزاں کیوں؟

 سعودی فوجی اتحاد، امریکہ کا غلام ہے: اہلسنت عالم دین حامد سعید کاظمی کا کھرا سچ

اسرائیل اور بھارت کی بے مثال دوستی

نورین کی بازیابی اور پاکستان میں‌داعش

قطر میں ہونے والی ممکنہ بغاوت کی تفصیلات

’ٹی ٹی پی ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو فورسز کے حوالے کردیا‘

'مذہبی انتہاپسندی اور عوامی حقوق میں تمیز کی ضرورت'

لاہور سے گرفتار نورین لغاری تربیت کیلئے شام بھی گئی

افغانستان پر جدید اسلحے کا استعمال: مقصد داعش کا خاتمہ یا روس کے لیے طاقت کا مظاہرہ

شفقنا خصوصی: ٹرمپ دنیا کو عالمی جنگ کا ایندھن بنانے پر تیار

ترک حکومت کا تاریخی ریفرنڈم میں کامیابی کا دعویٰ

آیت اللہ خامنہ ای شدید علیل ہیں، سابق ایرانی صدر کی ہرزہ سرائی

سعودیہ کی ننگی جارحیت: یمن میں قحط کے ساتھ ادویات کی بھی شدید قلت

کیا پیوٹن، شام اور ایران کا ساتھ چھوڑ دینگے؟

وزیراعظم کا افسوس، مشعل خان کو انصاف اور حکومت کی رٹ

ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف خلا میں بھی احتجاج

شفقنا خصوصی: سعودی اتحاد کے ٹی او آرز کا ناٹک

امریکہ کی توجہ ایشیا پر کیوں؟

174000 سے زائد 'غیر ملکیوں' کے شناختی کارڈ منسوخ

2017-02-13 23:23:01

ایران کو تنہا کرنے کے لیے ٹرمپ کی روس پیشکش

201729223825932امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں پہنچنے سے جیسا کہ توقع تھی، اوباما کے صدارتی دورے کے دوران اس ملک کے ایران کے ساتھ ظاہری طور پر اچھے اور کم سطح تعلقات، ایک بار پھر بدامنی اور کشیدگي کا شکار ہونے لگے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی انتخاباتی مہم کے دوران ایران کے بارے میں اوباما کی پالیسیوں بالخصوص جوہری معاہدے اور عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کی پالیسیوں کی سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر میں بر سر اقتدار ہوا تو ایٹمی معاہدے کو پھاڑ دؤں گا۔

ٹرمپ اب وائٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے جوہری معاہدے پر نظر ثانی کرنے یا میزائل تجربے کرکے ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کے اقدامات کا مقابلہ کرنے جیسے مسائل پیش کر کے ایران کے ساتھ مقابلےبازی شروع کر دی ہے۔ ان سب کے باوجود اگر ایران کے اثرو رسوخ سے مقابلے کے واشنگٹن کے منصوبے بندی پر ایک نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ خلیج فارس کے عرب ممالک کے لئے ہتھیاروں کی فروخت کے لئے ماحول بنایا جا رہا ہے تاکہ خلیج فارس کے عرب ممالک کو ایرانوفوبیاں کے بہانے اپنے ہتھیاروں کے بازار سے بڑی مقدار میں ہتھیار فروخت کئے جائیں اور اس طرح مغربی ممالک خاص طور پر امریکا کی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں کو بازار میں ایک بار پھر رونق پیدا ہو جائے۔ اسی تناظر میں وال اسٹریٹ جنرل نے اپنے ایک مضمون میں دعوی کیا کہ امریکا کی نئی حکومت روس کی خوشنودی حاصل کرنے اور تہران اور ماسکو کے درمیان شگاف پیدا کرنے کے راستے تلاش کر رہی ہے۔

عرب انقلاب یا عرب بیداری کے بعد مشرق وسطی کے حالات کے ساتھ ہی بحران کی آگ میں گھی ڈالنے اور اس کے اثر و رسوخ کو وسیع کرنے کے مغرب کے منصوبوں سے مقابلے کے لئے ایران اور روس کے مشترکہ مفاد اور ہدف سامنے آئے۔

بہر حال مشرق وسطی کی تبدیلیوں بالخصوص شام کے حالات میں ایران اور روس نے قریبی تعاون کیا۔ اسی تناظر میں ایٹمی معاہدے کے بعد روس نے ایران کو ایس – 300 میزائل سسٹم دے دیا اور اسی کے ساتھ ایران نے شام میں فضائی حملے کرنے کے لئے روس کو حمدان کی نوژہ ہوائی چھاؤنی استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔

اسی کے ساتھ ٹرمپ نے تجویز پیش کی ہے کہ اگر پوتين ایران کے اتحادی حلقے سے نکلنے کو تیار ہو جائیں تو ماسکو کے خلاف امریکی وزارت خزانہ کی پابندیوں کو ختم کر دیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ امریکہ، یوکرین میں ماسکو کی فوجی کارروائی کی مذمت نہیں کرے گا اور روس کی سرحدوں پر نیٹو کی مزید پیشرفت کو روک دے گا۔ بہر حال ایسا لگتا نہیں ہے کہ روس، امریکہ کی جانب سے دیئے گئے ان امتیازات کے بدلے ایران کے اتحاد کو چھوڑنے کو آمادہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ روس، امریکا کی سودے بازی کی سازش میں آنے والا نہیں ہے۔

اس کا پہلا سبب یہ ہے کہ تقریبا تین عشروں سے مشرق وسطی کے تبدیلیوں میں روس الگ تھلگ ہی رہا اور اب جاکر وہ علاقائی تبدیلیوں میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے ملک کی حیثیت سے سامنے آیا ہے۔
یہاں پر یہ بات قابل ذکرہے کہ علاقے میں مغرب کی توسیع پسندی کا مقابلہ کرنے میں ایران کے تعاون اور اس ملک کے کردار کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔فطری طور پر روس بھی اس بات سے آگاہ ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور اسرائیل مغربی ممالک کے اسٹراٹیجک اتحادی ہیں اور مستقبل قریب میں یہ حکومتیں ایران کی خالی جگہ کو پر نہیں کر سکتیں ۔

اسی کے ساتھ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے بھی ایران کا ساتھ چھوڑنے کے لئے ماسکو کو یہ تجویز دی تھی کہ سوویت یونین کے دور میں خلیج  فارس کے عرب ممالک کے توانائی کے شعبے کو اس کے کنٹرول میں دے دے گا لیکن اس تجویز کو بھی روس نے واضح طور پر مسترد کر دیا۔ بہر حال روس اس بات سے پوری طرح آگاہ ہے کہ ایران کی مشارکت کے بغیر وہ علاقے خاص طور پر مشرق وسطی میں اپنے مفاد کو پورا ہی نہیں کر سکتا۔ الوقت 

زمرہ جات:  
ٹیگز:   روس ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

Two die in Venezuela protests

- دنیا نیوز