جو ہے وہی ہے۔۔۔ جو نہیں ہے وہ نہیں ہے! ~ نذر حافی

حکمران دہشتگردوں کی ڈھکی چھپی اوراعلانیہ پشت پناہی کررہے ہیں، ردالنثار کیا جاتا تو آپریشن رد الفساد کی ضرورت ہی پیش نہ آتی: مولابخش چانڈیو

وزیراعظم نے پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کرانے کا گرین سگنل دیدیا

کیا 'محفوظ پناہ گاہیں' صرف افغانستان میں ہیں؟

رینجرز کے لیے پنجاب کیسے مختلف ہوگا؟

ڈاکٹر ولایتی کا ترک حکام کی جانب سے ایران مخالف بیانات پر رد عمل

شفقنا خصوصی: آپریشن رد الفساد اور آپریشن رد النثار

6th International Conference in support of the Palestinian Intifada

آپریشن ’’ردالفساد‘‘: کراچی سے افغان اور ازبک باشندوں سمیت 80 گرفتار

میں کیسا مسلمان ہوں بھائی

'امریکی صدر کو فرانس کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے'

امیر جماعت اسلامی کی لعل شہباز قلندر کے مزار پر حاضری

دہشت گردی کی روک تھام

آپریشن ’’ردالفساد‘‘ کے تحت 4 دہشت گرد ہلاک: آئی ایس پی آر

یمنی فوج سے مقابلے کی، سعودیوں میں طاقت کہاں

 افغان اور ہندوستانی انٹیلجنس ایجنسیوں کا گٹھ جوڑ اور پاکستان میں‌قیامت صغرٰی

شفقنا خصوصی: کیا پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں منعقد ہو سکتا ہے؟

ملک میں دہشتگردی کا خاتمہ ملک دشمن تکفیری دہشتگردوں سہولت کاروں کو بلاتاخیرسزائیں دیئے بغیر ممکن نہیں: علامہ مقصودڈومکی

پیپلز پارٹی سے اختلاف کی بنیادی وجہ ذوالفقار مرزا تھے: نبیل گبول

سعودی عرب میں پیسے کمانے کے لیے اچھا وقت گزر چکا

پاکستان میں افغانستان ،اسرائیل اور بھار ت کی خفیہ ایجنسیاں مقامی سہولت کارپیدا کررہی ہیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل

آپریشن ردالفساد کے ساتھ ردالنثار بھی ہونا چاہیے

ایران جوہری معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے: یو این واچ ڈاگ کی رپورٹ

داعش پاکستان میں اثرو رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے: ناصر درانی

آپریشن ’ردالفساد‘ اہم قدم ہے: چین

ملائیشیا نے پاکستان کو ویزا ختم کرنے کی پیشکش کر دی

سی پیک پر مغربی دنیا کی سازش نظر آ رہی ہے، وزیراعظم

  فلسطینیوں‌ کی پیٹھ میں چھرا: سعودیہ، خفیہ طور پر اسرائیل کے ساتھ تعاون کر رہا ہے

پاکستانی ریاست کے پاس انتہا پسندی کے خاتمے کا کوئی حل نہیں

 پاکستان کے سیاسی دہشت گرد : سیاسی قوتیں دہشت گردوں کو کیسے تحفظ فراہم کرتی ہیں؟

دہشت گردی بارے دیوبندی موقف

مختلف سلفی گروہ صوفیانہ اسلامی سوچ کے خلاف نفرت کو ہوا دے رہے ہیں: ڈاکٹر ہِپلر

عراقی فورسز نے داعش کو پسپا کرکے موصل ایئرپورٹ کا کنٹرول حاصل کرلیا

راحیل شریف پر کشمکش برقرار، کیا سعودی اتحاد کا حصہ بن گئے؟

آپریشن ردالفساد کااعلان عوامی خواہشات کی ترجمانی ہے: علامہ ناصر عباس جعفری

سی ٹی ڈی کا انتباہ: کیا سندھ سے زیادہ پنجاب داعش کے لیے زیادہ زرخیز سرزمین نہیں؟

شفقنا خصوصی: آپریشن ’رد الفساد‘ اور فساد کی اصل جڑ

لاہور میں دہشتگردی کا ایک اور واقعہ: ڈیفنس میں دھماکے سے 8 افراد جاں بحق، 30 زخمی

ترکی دنیا میں صحافیوں کا سب سے بڑا قیدخانہ

آصف زرداری کا ڈر اور دینی مدارس کا ٹائم بم

Prof. Jamal Wakim: US Seeks to Divert Muslim Nations from Palestinian Cause

’رد الفساد‘ سے فساد ختم نہیں ہوگا!

دہشت گردی کی شہ سرخیوں کے باجود پاکستانی معیشت عروج پر ہے: واشنگٹن پوسٹ

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ایران کا دورہ کیوں کیا؟

نئی امیگریشن پالیسی: لاکھوں امریکیوں کی ملک بدری کا خطرہ

پاک فوج کا ملک بھر میں ’’رد الفساد‘‘ آپریشن شروع کرنے کا اعلان

وہ دھماکہ کریں، تم کلچر کو پابند سلاسل

جمیعتِ علمائے اسلام (ف) کے صوبائی وفد کی سہون شریف آمد

یمنی افواج کا میزائل حملہ:  سعودیہ کا جدید ترین ڈیفنس پیٹریاٹ میزائل سسٹم ناکاراہ

اسرائیل کی نیندیں حرام: حزب اللہ نےجدید ترین اور اسٹریٹجک ہتھیار حاصل کرلئے

 پاکستان میں حالیہ دھماکے:  جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کے پیچھے کس کا ہاتھ؟

شفقنا خصوصی: اور اب چارسدہ

فیس بک نے ایک اور مشکل آسان کر دی: اب صارفین بیرون ملک رقم بھی بھیج سکتے ہیں

امریکا میں حملہ کرنے والوں کی تاریخ، دہشت گرد کون؟

ایرانو فوبیا کے پیچھے سعودی عرب کے اہداف کیا ہیں؟

پاکستان میں سخت گیر اسلام کی ترویج کیسے ہوئی، جسے زیادہ تر سعودی وہابیت سے جوڑا جاتا ہے؟

داعش سنی خواتین پر جنسی حملوں میں بھی ملوث ہے: ہیومن رائٹس واچ

جنرل ضیاء الحق کے ساتھی

عراقی فورسز کی مغربی موصل میں کارروائیاں، 93 داعش جنگجو ہلاک

چارسدہ کچہری پر دہشت گردوں‌کا حملہ: 8 افراد شہید درجنوں زخمی

جعلی ادویات کا دھندہ بھی دہشت گردی ہے

لال مسجد کی صفائی: نو سو چوہے اور بلی کا حج

اپنی لگائی آگ میں جلنے کا ڈر: امریکی صدر کو دہشت گردوں سے خطرہ

چوہدری نثار ناکام وزیر داخلہ ہیں

تعاون یا تصادم ۔۔۔۔ طے کر لیا جائے

’’ایران امریکی دھمکیوں سے ڈرنے والا نہیں‘‘

بڑےآپریشن کی تیاریاں، پاک فوج نے توپ خانہ افغان سرحد پر پہنچا دیا

جاگ کے رہنا بھائیو! ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے

ٹرمپ کا سویڈن سے متعلق بیان وائٹ ہاؤس کے گلے پڑ گیا

پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہی کرانے کا فیصلہ

پنجاب حکومت کا نیا منصوبہ:  پنجاب کےعوام بجلی کی طرح پانی کو بھی ترسیں گے

2017-02-14 00:11:44

جو ہے وہی ہے۔۔۔ جو نہیں ہے وہ نہیں ہے! ~ نذر حافی

Nazar-Hafi11چوروں کو گھروں میں پناہ نہیں دی جاتی، اگر کہیں چور گھس آئیں تو فورا انہیں پکڑنے کی کوشش کی جاتی ہے،لیکن اگر کسی حویلی میں چور گھس آئیں اور چور چور کا شور مچ جائے لیکن حویلی کے چوکیدار اور بعض مکین بلند آواز سے یہ کہیں کہ یہاں تو  کوئی چور نہیں گھسا تو پھر چوروں کو پکڑنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد ہر دوسرے تیسرے دن حویلی میں چوری کی وارداتیں ہونی شروع ہوجائیں جس پر کچھ لوگ تو واویلا کریں لیکن کچھ لوگ مسلسل یہی کہیں کہ کچھ چوری نہیں ہوا اور کوئی چور نہیں گھسا تو اس کا کیا مطلب ہے!؟

اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ حویلی کے اندر کچھ لوگ چوروں سے ملے ہوئے ہیں، جب تک اس طرح کے لوگوں کی بات سنی جاتی رہے گی اس وقت تک چوریاں ہوتی رہیں گی۔

آج عراق میں داعش کمانڈرز کے اجلاس پر حملے میں 13 کمانڈرز مارے گئے ہیں جبکہ دیگر3ٹھکانوں پر بمباری میں 64جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔یعنی عراق میں دہشت گردوں کو مزید دھچکا لگا ہے، جب سے شام اور عراق میں دہشت گردوں کو شکست ہورہی ہے تب سے ذرائع ابلاغ نے شور مچایا ہوا ہے کہ دہشت گرد بھاگ بھاگ کر پاکستان میں جا رہے ہیں لیکن پاکستان کی بعض اہم شخصیات کا کہنا ہے کہ نہیں یہاں تو کوئی دہشت گرد نہیں آیا۔

جی ہاں جس ملک میں کوئی دہشت گرد نہیں آیا اسی  ملک میں  آج سے چار دن پہلے  نیشنل کانٹر ٹیررازم اتھارٹی کی جانب سے محکمہ داخلہ پنجاب کو اطلاع دی گئی تھی کہ لاہور میں دہشت گردی کا خطرہ ہے ، چونکہ اس ملک میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے لہذا ٹوٹی ہوئی کمر  کے ساتھ  دہشت گردوں نے  آج  پھرلاہور میں  دھماکہ کر کے ڈی آئی جی ٹریفک پولیس کیپٹن (ر) سید احمد مبین اور ایس ایس پی آپریشنز زاہد گوندل سمیت  چودہ افراد شہید کر دئیے ہیں۔

دوسری طرف کوئٹہ میں بھی  سریاب پل پر بھی دھماکہ ہوا ہے جس میں دو  افراد شہیداور گیارہ زخمی ہو گئے ہیں۔ اس کے باوجود بعض لوگ بضد ہیں کہ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور مزید دہشت گرد پاکستان میں نہیں آرہے، بعض تو یہ رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ پاکستان میں داعش کا وجود نہیں ہے۔

یہ بات سمجھنے کی ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ شام اور عراق سے بھاگے ہوئے دہشت گرد پاکستان میں بھی داعش کے نام سے ہی کارروائیاں کریں، وہ  پاکستان میں آکر دہشت گردوں کے  پہلے سے موجود کسی بھی  نیٹ ورک سے مل سکتے ہیں یا کسی نئے نام سے کام  شروع کر سکتے ہیں۔

ابھی اس لاہور والے  دھماکے کی ذمہ داری کالعدم جماعت الاحرار کے ترجمان نے قبول کر لی ہے، شام اور عراق سے بھاگے ہوئے دہشت گرد اسی جماعت الاحرار میں بھی ہو سکتے ہیں لہذا ناموں پر جھگڑنے کے بجائے دہشت گردوں کو پکڑا جائے۔

البتہ تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو آئین پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے، جو پاکستان کو کافرستان کہتے ہیں جو قائداعظم کو کافراعظم کہتے ہیں اور جو خود کش حملوں کی زمہ داری بخوشی قبول کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو  آئین پاکستان کو ہر چیز پر مقدم سمجھتے ہیں، جو وطن سے محبت کو ایمان کی علامت قرار دیتے ہیں، جو قائداعظم کو بابائے قوم کہتے ہیں۔۔۔

ہمارے ملک میں دونوں طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں، وہ لوگ جو آرمی اور پولیس کے جوانوں اور آفیسرز کو شہید کرنے کو ثواب کہتے ہیں ،ہمارے ملک میں ان کی سرگرمیوں پر پردہ ڈالا جاتا ہے اور کہاجاتا ہے کہ نہیں نہیں ہمارے ہاں تو کوئی دہشت گرد نہیں لیکن جو لوگ شہید ہوتے ہیں اور ملک و ملت سے محبت کرتے ہیں جو دہشت گردی سے نفرت کرتے ہیں اور جن کے اہلخانہ بھی پریس کانفرنسوں میں روتے ہیں کہ ان کا دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہیں، انہیں دہشت گرد کہہ کر لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔

یعنی اس ملک میں جو دہشت گرد ہے وہ دہشت گرد نہیں ہے اور جو دہشت گرد نہیں ہے وہ دہشت گرد ہے۔  

ایک طرف ہمارے ہاں جو دہشت گرد نہیں ہیں انہیں زبردستی ٹارچر کر کے ملک سے بیزار کرنے کا کام کیا جارہاہے جبکہ دوسری طرف امریکی  جنرل جان نکلسن کا کہنا ہے کہ پاکستان، روس اور ایران افغانستان میں امریکی و نیٹو مفادات کے خلاف کام کررہے ہیں۔ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے دئیے گئے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا ”افغان سکیورٹی کے لئے سب سے بڑا خطرہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک ہیں ۔ جن کے سینئر رہنما پاکستان کی محفوظ پناہ گاہوں میں مکمل  آزادی سے لطف اندوزہورہے ہیں۔

یعنی اس وقت ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ عالمی برادری بھی ہم پر اعتماد نہیں کررہی اور امریکہ جیسا دوست ملک بھی ہمیں اپنا دشمن سمجھتا ہے، دوسرامسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کے اندر دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں ہماری فوج ، پولیس اور عوام سب  کے گرد دہشت گردی کا حصار ہے اور  تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ جولوگ دہشت گرد نہیں ہیں انہیں بعض سرکاری اداروں نے لاپتہ کررکھا ہے جو کہ ملکی سلامتی کے لئے کسی طور بھی  درست قدم نہیں۔

ہمیں ملی طور پر یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ چوروں کو گھروں میں پناہ نہیں دی جاتی،اس لئے جو دہشت گرد ہیں وہ سب کے سامنے ہیں ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی نہیں کی جانی چاہیے لیکن جو دہشت گرد نہیں ہیں انہیں خواہ مخواہ میں دہشت گرد کہہ کر  ہراساں نہیں کرنا چاہیے۔

ہمیں زمینی حقائق کے مطابق جو دہشت گرد ہے اسے ہی دہشت گرد کہنا چاہیے اور جو نہیں ہے اسے نہیں کہنا چاہیے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:   Horizontal 3 ،
ٹیگز:   نذر حافی ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

’’پھانسی دے دو‘‘

- ڈیلی پاکستان

جب جھکا تو غیر کے آگے

- ڈیلی پاکستان

یونان میں غربت

- مہر نیوز