خدارا! اب تو جاگ جائیے

ناصرشیرازی کی غیر قانونی گرفتاری، دوسرے ہفتے بھی پنجاب حکومت مخالف ملک گیر احتجاج

سعودی عرب تاریخی حقائق سے چشم پوشی کر رہا ہے: ایران

عراق میں داعش کا کام تمام، آخری شہر راوہ بھی آزاد

ایران کے زلزلہ زدگان کے لیے پاکستان کی امداد

پیغمبر اسلام (ص) کی اپنے اہلبیت (ع) سے محبت نیز اخلاق، نیکی اور مہربانی پر تاکید

دھرنا ختم نہ ہوا تو حکومت کو مجبوراً عدالتی حکم پرعمل کرنا ہوگا: احسن اقبال

تصاویر: کربلائے معلی میں شیعوں کا عظيم اجتماع

درگاہ لعل شہباز قلندر دھماکے کا مرکزی ملزم گرفتار

فرانس کے بیان پر ایران کا رد عمل

سعودی شاہ سلمان کا بیٹے کے حق میں تخت سے دستبرداری کا امکان

لبنانی عوام نے باہمی اتحاد سے سعودی عرب کی سازش کو ناکام بنادیا

سعودی مفتی کو تل ابیب آنے کی دعوت دی گئی

کیا امت مسلمہ اور عرب دنیا کے لئے اصل خطرہ ایران ہے ؟؟؟

تربت کے قریب 15 افراد کا قتل: دہشت گردی یا انسانی اسمگلنگ؟

سعودی شاہی خاندان کے اندرونی جھگڑوں کی داستان

’اسرائیل،سعودی عرب سے ایران سے متعلق انٹیلیجنس شیئرنگ کیلئے تیار‘

دھرنا مافیا کے سامنے وزیر قانون اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی بے بسی

کائنات میں سرورکائنات اور سبط اکبر کا ماتم

سپریم کورٹ اقدام کرے یا جواب دے

سعودی عرب کی عرب لیگ میں لبنان کی رکنیت منسوخ کرانے کی مذموم کوشش

طاقت و اختیار کی جنگ میں پاکستان نشانے پر ہے

نیب کی اسحاق ڈار کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش

آل سعود اپنی مخالفت برداشت نہیں کرسکتی

پاکستان:طالبان کی سرگرمیوں میں ایک بار پھر اضافہ

بین الاقوامی کانفرنس محبینِ اہلبیت علیہم السلام اور مسئلہ تکفیر

سعودی عرب کا یمن کے خلاف محاصرہ ختم کرنے کا اعلان

قطر سے فوجی تعاون جاری رکھیں گے، رجب طیب اردگان

پیغمبر اکرم (ص) کیوں مکارم اخلاق کے لیے مبعوث ہوئے تھے؟

علامہ راجہ ناصرعباس اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات، ناصرشیرازی کے اغواکی پرزور مذمت

مسئلہ کشمیر ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ

سعودی عرب نے لبنان کے وزير اعظم کو اغوا کررکھا ہے: لبنانی صدر

ایران و پاکستان

لبنان پر جنگ کے بادل

اسٹیبلشمنٹ کون

پہلی بار سعودی عرب میں عید میلاد النبی ؐکے موقع پر چھٹی ہوگی

امریکہ کا پاکستان سے ختم نبوت (ص) کے قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ

مغربی میڈیا نہیں چاہتا کہ مسلمانوں کے اتحاد اور امن کو دیکھایا جائے

سعودیہ نے سعد الحریری کے بھائی کو ان کا جانشین مقرر کیا ہے

سعودیہ ایک لا متناہی اور اندھیرے ٹنل میں

جبری گمشدگی:پاکستان کو اصل حقائق بتانے چاہییں

طاقتور ترین سعودی شہزادے محمد بن سلمان کو عروج کیسے ملا؟

زمبابوے میں حکومت سے کشیدگی کے بعد فوج کی دارالحکومت کی طرف پیش قدمی

2040 تک یورپی یونین اور مغربی نظام کے خاتمے کا امکان

حکومتی وزراء کی د ہشت گرد لدھیانوی سے ملاقاتیں ،التماس سورۃ الفاتحہ برائے نیشنل ایکشن پلان

طاقت و اختیار کی جنگ میں پاکستان نشانے پر ہے

ایم ایم اے کی بحالی: کیا ملا الائنس ن لیگ کی جگہ لے پائے گا؟

سعد الحریری کی گرفتاری کے بارے میں نئے انکشافات

میانمارکی فوج نے روہنگیا مسلمان خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا

عرب لیگ نے لبنان کی رکنیت معطل کرنے کے سعودی مطالبے کو مسترد کر دیا

ایران-عراق سرحد پر 7.3 شدت کا زلزلہ، 415 افراد ہلاک

ایم کیوایم پاکستان رینجرز ہیڈ کوارٹرز میں بنتی تو ان پر مقدمات نہ چلتے، ڈی جی رینجرز

لبنان کے وزیراعظم کا استعفیٰ، سعودی عرب مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکا

کیا رائے کی آزادی فساد کی راہ ہے

جوہری ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے کا خطرہ بڑھ گیا: پوپ فرانسس

طرابلس میں سعودی عرب کے ڈکٹیٹر ولیعہد محمد بن سلمان کی تصویریں نذر آتش

نواز شریف نے پاکستانی معیشت کو تباہ کردیا

امریکہ کی تو سیع پسندانہ خارجہ پالیسی اور دنیا بھر کے مہاجرین

یہ اسٹیبلشمنٹ کون ہے!

دیوبندی مدارس اور انتہا پسندی

سعودی طرز کی مہمان نوازی؛ ایسی دعوت جس کا انجام گرفتاری تھا

عراق ایران سرحد پر7.3 شدت کا زلزلہ، 133 افراد ہلاک

حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس: شریف خاندان کے ایک اور امتحان کا آغاز

امریکہ، افغانستان میں داعش کو مضبوط کر رہا ہے۔ حامد کرزئی

فلسطینی مقصد اربعین حسینی میں

میانمارمیں روہنگیامسلمانوں کی کوریج پر ترک چینل کے صحافیوں کو سزاسنا دی گئی

بلوچستان تنازعہ : ذرائع ابلاغ ہدف کیوں؟

بھارتی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے گرد گھیرا تنگ

سعودی عرب کے موجودہ حالات، مذہبی طبقہ اور پاکستان

سعودی احتساب کھوہ کھاتے ،گرفتارشہزادوں سمیت 7 اعلی عہدیداروں کو رہا کرنے کا فیصلہ۔

لبنانی حکومت سے اعلان جنگ کرنے والی حکومت کے طور پر نمٹنے کا عندیہ

2017-02-15 17:32:48

خدارا! اب تو جاگ جائیے

سدھماکہ تو اسی دن ہو گیا تھا جس دن سپریم کورٹ کے احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھنے والے داخلی سلامتی کے وزیر نے کالعدم تنظیموں کے وفد سے دارالحکومت میں ملاقات کی تھی، لاہور میں تو بس اس دھماکے کی آواز گونجی ہے کہ شاید کوئی جاگ جائے۔ مگر جنہیں خوفناک بم دھماکوں کی سینکڑوں ہولناک آوازیں ، زخمیوں کی سسکیاں، شہیدوں کی سوال پوچھتی نگاہیں ، یتیموں اور بیواؤں کے آنسو اور بین نہ جگا سکے ہوں انہیں صرف صور اسرافیل ہی جگا سکتا ہے۔ حالات میں تبدیلی کیلئے تبدیلی ناگزیر ہوتی ہے۔ ایسا کچھ تو ہے کہ اہل پاکستان سالوں سے لاشوں پر بین کر رہے ہیں مگر ان کے آنسو پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ایسا کچھ تو ہے کہ ہم دہشتگردی کے عفریت پر قابو پانے میں ناکام ہیں اور اب ایسا کچھ تو کرنا ہو گا کہ معصوموں کا خون بہنا بند ہو۔

یقینا وزیر داخلہ جناب چوہدری نثار علی خان لاہور دھماکے پر جلد دھواں دار پریس کانفرنس کریں گے۔ قوم کو بتائیں گے کہ دہشت گرد کہاں سے آیا، کس کے پاس رکا، کس نے اس بمبار کی سہولت کاری کی، اور کس نے اس چلتی پھرتی لاش کو بے گناہوں کی موت کا سامان بنایا۔ وزیر موصوف کو سب کچھ معلوم ہو گا۔ اگر علم نہیں ہو گا تو صرف اس بات کا کہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کیلئے کیا کرنا ہے۔ اگر علم نہیں ہو گا تو یہ کہ دہشتگردی کی از سر نو تفہیم کس طرح کرنی ہے۔ اگر وہ نہیں جانتے ہوں گے تو یہ کہ جن امن دشمنوں کو پوری قوم جانتی اور پہچانتی ہے وہ وزیر موصوف کی آنکھوں سے اوجھل کیوں ہیں۔ وہ امن دشمن چوہدری صاحب کو اس لئے نظر نہیں آتے کہ وہ ان کے پہلو میں لگے بیٹھے ہیں۔
 
لاہور دھماکے کی تفصیلات اور حملہ آور کی شناخت کی خوشخبری سنانے کے بعد وزیر داخلہ قوم کو منی لانڈرنگ کیس، عمران فاروق قتل کیس اور الطاف حسین کے گرد گھیرا تنگ ہونے کی نوید سنانا ہرگز نہیں بھولیں گے کیونکہ یہ ریاست کی رٹ اور مجرم کو منطقی انجام تک پہنچانے کا معاملہ ہے۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ سات سمندر پار بھی کوئی شخص کسی پاکستانی شہری کو قتل کرے یا کروائے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان اسے انجام تک نہ پہنچائے۔ چوہدری صاحب کے بقول ریاست اپنا فرض بخوبی نبھائے گی۔ ایسی لن ترانیاں سن کر تو شاید ”شرم کو بھی شرم “ آتی ہو گی مگر اہل اقتدار کو پھر بھی سب اچھا دکھتا ہے۔
 
نیشنل ایکشن پلان مرتب ہونے کے بعد بھی ہزاروں پاکستانی شدت پسندی کا شکار ہو کر قبرستانوں میں ابدی نیند سو چکے ہیں مگر اب بھی اس پلان پر اسی طرح شور و غوغا ہے جس طرح اس وقت ہوا تھا جب آرمی پبلک اسکول میں ننھے طلبا کی لاشیں گرائی گئی تھیں۔ بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اگر یہی سانحہ کسی باشعور قوم کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو یقینا یہ آخری سانحہ ہوتا۔ مگر ہم نہ تو باشعور ہیں اور نہ ہی قوم۔ ہر گلی ، ہر گلی ، ہر قصبے اور ہر شہر میں شدت پسندی کا کھلے عام پرچار کیا جا رہا ہے۔ مولوی اور ملا جہاد کے فتوے بانٹ رہے ہیں۔ فساد فی الارض پھیلا رہے ہیں۔ مگر کوئی ان کی زبان روکنے والا نہیں۔ کیونکہ ملا کو کسی کا خوف نہیں۔ جب ایسے ملاؤں کے سرپرست اعلیٰ حکمرانوں کی بغل میں بیٹھے ہوں، ان کی حکومت گرانے کی کوشش کرنے والوں کو دن رات گالیاں دے رہے ہیں اور حکمران جوابی کرم نوازی کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو کس کافر کو سزا کا خوف ہو گا۔
 
وزیراعظم ، آرمی چیف، وفاقی وزیر داخلہ ، وزیراعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ عہدوں پر متمکن باعزت لوگ اب بھی یہی دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت چکے ہیں۔ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ بیانات کا یہ تضاد تو کجا ایسے بیانات سن کو قوم کو بھی شرم آنے لگی ہے مگر اعلیٰ صفات سے عاری حکمران آج بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ روایتی بیان بازی کر کے قوم کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔ خدارا! اب تو جاگ جائیے ، خدارا اب تو ہوش سے کام لیجئے، خدارا اب تو روایتی بیان بازی سے ہٹ کر کچھ عملی اقدامات کیجئے کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ خلق خدا اس نظام کو لپیٹ کر آپ کے منہ پر دے مارے، خدارا! جاگ جائیے۔
 تحریر: آصف عباس

 

زمرہ جات:  
ٹیگز:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

یادوں کے جھروکے

- سحر نیوز

گلوبل وارمنگ اور امریکا

- ایکسپریس نیوز

امریکی بھارتی خطرناک عزائم

- مجلس وحدت المسلمین