آزاد کشمیر  ۔۔۔ یہاں دہشت گردوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے

ہزارہ قوم کی شناخت بدلنے کو ہے

عراق جنگ کے بارے میں امریکی ایجنٹ کےحیرت انگیز حقائق

شفقنا خصوصی: کیا چوہدری نثار کے بعد میاں‌نواز شریف ن لیگ کو متحد رکھ پائیں‌گے؟

عربی اور اسلامی ممالک کی مسئلہ فلسطین کی حمایت " صفر" کے برابر ہے

پاناما فیصلہ : کون کون سپریم کورٹ جائے گا؟

’جنت کا فتویٰ‘ : جامعہ الازہر کا دہشت گردی سے نمٹنے کا انوکھا طریقہ

کیا کل چوہدری نثار کی سیاست کا آخری دن ہے؟

2001 میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران ایٹمی حملے پر غور کیا تھا، پرویز مشرف

پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد چوہدری نثار کا وزارت اور سیاست چھوڑنے کا فیصلہ

پاناما کیس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا

فوج سے ساز باز کر کے اقتدار حاصل کرنا نہیں چاہتا: عمران خان

وزیراعظم نے 25 لاکھ اورعمران خان نے ایک لاکھ 59 ہزار روپے ٹیکس دیا

متحارب امریکی اقدامات پر ایرانی دھمکی

 ٹرمپ انتظامیہ پاکستان سے کیوں ناخوش ہے ؟

متحدہ مسلم لیگ کے قیام کی تیاریاں، خفیہ منصوبہ منظر عام پر آ گیا

  نا اہلی کی صورت میں‌اگلا وزیر اعظم کون: کیا وزیر اعظم اپنے بھائی کی جگہ چوہدری نثار پر اعتماد کریں‌گے؟

وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے چودھری نثار کو منا لیا، ذرائع

اسرائیلی فوج کا ملکی میڈیا پر کس قدر کنٹرول ہے؟

سعودی عرب کے نئے دعوے سفید جھوٹ ہیں : قطر

کچھ ذمہ داری سپریم کورٹ پر بھی عائد ہوتی ہے

ایران امریکی پابندیوں کا سخت جواب دے گا: سید عباس عراقچی

نواز شریف بطور وزیراعظم 14 اگست کو پرچم کشائی نہیں کرسکیں گے: خورشید شاہ

روس نے امریکہ کے خلاف جوابی اقدامات کی دھمکی دے دی

چین ، بھارت کا تنازعہ

عمران خان کی سپریم کورٹ سے پاناما کیس کا فیصلہ جلد سنانے کی درخواست

پاکستانی اسلحہ ساز صنعت بھارت سے بہتر ہے: بھارتی نائب آرمی چیف

عمران خان نااہلی کی جانب گامزن: کیا پیپلز پارٹی کے لیے راہ ہموار کی جارہی ہے؟

محمد بن نائف کا شاہ سلمان کے نام آخری خط

وزیراعظم کے پاس آپشن بہت کم رہ گئے ہیں

کون بنےگا وزیر اعظم ۔۔۔؟

النجوم فائونڈیشن کے نام پر کالعدم سپاہ صحابہ کا نیا ہجوم ۔ گل زہرا

تکفیری دہشتگرد اور ایک ضعیف باپ کی خرن میں ڈوبی عمر بھر کی کمائی

سعودی عرب کے شہزادے نے ابو ظہبی کے ولی عہد کو شیطان صفت قرار دیدیا

کیسا ہوگا آئی فون 8! تصاویر دیکھیں

قطر کا معاشی بحران؛ 388 سعودی کمپنیاں بند، سعودی عرب کا برادر ہمسائیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک

ایران نے قطر کو سانس لینے کا موقع دیا: وزیر دفاع قطر

امریکہ یورپ تعلقات میں سرد مہری

ابوبکر بغدادی دیرالزور میں غائب

بلوچستان میں داعش کے پیچھے کون سی قوتیں ہیں ؟

عراق کو توڑنے کیلئے امریکی اسرائیلی سازشیں عروج پر، کرد رہنماوں کی خفیہ ملاقاتیں

سعودی عرب کا قطر کے بادشاہ کے خلاف بغاوت کی سازش میں ملوث ہونے کا انکشاف

حضرت فاطمہ معصومہ (س) کی شفاعت سے تمام شیعہ بہشت میں وارد ہوں گے

اسرائیل نے ہتھیار ڈال دیے، مسجد اقصیٰ سے میٹل ڈٹیکٹرز ہٹانے کا اعلان

لاہور دھماکہ: کیا یہ آپریشن خیبر فور کا ردعمل تھا؟

مسجد اقصیٰ پر صیہونی یلغار

900 جرمن داعش میں شامل ہو چکے ہیں،جرمن خفیہ ادارہ

بھارت خام خیالی میں نہ رہے سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں: چین

ترک صدر اردوغان کی سعودی عرب اور قطر کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کی کوششیں ناکام

پاکستانی تعاون کے بغیر افغان جنگ نہیں جیت سکتے : جنرل جوزف ڈنفورڈ

حزب اللہ لبنان کا عرسال کے 90 فیصد علاقہ پر قبضہ

سعودی شاہ کی سبکدوشی کا ڈرامہ آخری مرحلے میں

29 شوال یوم ولادت حامی رسالت، محسن اسلام حضرت ابوطالب علیہ سلام !

ارفع کریم ٹاور دھماکا، ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی، 53 زخمی

خصوصی رپورٹ: دہشتگرد اب بھی پاکستان میں فنڈز جمع کرنے میں مصروف ہیں

چوہدری نثار کے وزیر اعظم سے اختلافات کی اندرونی اور چشم کشا داستان:‌ کیا وزیرداخلہ اب بھی نوازشریف کے جانثار رہیں گے ؟

 شہبازشریف کو وزیر اعظم بنانے کا مطالبہ:  شریف خاندان میں پڑتی دراڑوں کی ان کہی داستان

'26 جولائی سے پہلے پاناما کا فیصلہ سامنے آسکتا ہے'

بھارت میں صدر کا انتخاب: دلت نہیں انتہا پسند ہندو کامیاب ہوا

فیصلہ جو بھی ہو، کیا اعتبار بحال ہوگا؟

بیت المقدس میں کشیدگی ، سلامتی کونسل کا اجلاس کل طلب

ایران نے داعش پر عراقی عوام کی فتح میں فیصلہ کن کردار ادا کیا : عراق

فلسطین آج بھی عالم اسلام کا پہلا مسئلہ ہے: ایران

ایران اور عراق کے درمیاں دفاع اور سیکورٹی کے معاہدے

جے آئی ٹی نے آل شریف کے جرائم سے پردہ اٹھا کر تاریخ رقم کی ہے: اسد نقوی

اسرائیلی وزير اعظم سے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کی خفیہ ملاقات

اردن میں اسرائیلی سفارت خانے پر حملہ، ایک شخص ہلاک

سیکڑوں جرمن لڑکے لڑکیاں داعش میں شامل

ایسا برا ملک دنیا میں نہیں، کبھی امریکا نہیں جاؤں گا: فلپائنی صدر

یورپی ممالک پر ڈیڑھ سو سے زائد خودکش حملوں کا خطرہ

شریف خاندان تاثر دے رہا ہے کہ میرا اور ان کا کیس ایک ہے: عمران خان

2017-02-15 20:29:31

آزاد کشمیر  ۔۔۔ یہاں دہشت گردوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے

image-1آزاد کشمیر در اصل تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے، یہاں کے لوگ نظریاتی طور پر پاکستانیوں سے بڑھ کر پاکستانی ہیں ، رقبے کے لحاظ سے یہ منطقہ ۸۳۳۰۰ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے ۔یہ ریاست   10 اضلاع، 19 تحصیلوں اور 182 یونین کونسلوں پر مشتمل ہے۔ اس کی آبادی تقریبا پینتالیس لاکھ ہے، آزاد کشمیر کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات ڈاکٹر سید آصف حسین کے مطابق  آزادکشمیر  کے95فیصد بچے اور 88فیصد بچیاں سکول جاتی ہیں  جبکہ  شرح خواندگی ۷۴ فی صد ہے جس میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔

یہاں پر کسی بھی قسم کی کوئی گینگ، قبائلی سسٹم یا وڈیرہ شاہی بالکل نہیں ہے، لوگ   ملک و ملت سے محبت کرتے ہیں اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتے ہیں، الیکشن کے موقعوں پر بعض لیڈر برادری ازم کا سہارا لیتے ہیں جس کی وجہ سے  صرف الیکشن کے دنوں میں برادری ازم پُر رنگ ہو جاتا ہے  جوکہ الیکشن کے فوراً بعد پھیکا پڑجاتاہے، لوگ ایک دوسرے سے عملا محبت اور بھائی چارے کا مظاہرہ کرتے ہیں، مختلف برادریوں کے لوگ باہمی دوستی، محبت اور اخوت کے ساتھ جیتے ہیں،مشکلات میں ایک دوسرے کے کام آتے ہیں، دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں اور شادی بیاہ میں بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔

لہذا اگر کہیں پر خدانخواستہ کوئی لڑائی جھگڑا ہوجائے یا کوئی قتل ہوجائے تو یہاں کا معاشرہ  اجتماعی طور پر ردعمل دکھاتا ہے، آزاد کشمیر میں مذہبی منافرت  قطعا نہیں پائی جاتی، لوگوں کے بچے بلا تعصب مساجد میں جاکر قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں  سکولوں میں  قطعاً ماحول فرقہ واریت سے پاک ہے، حتیٰ کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی مذہبی منافرت نہیں پائی جاتی۔

لوگوں میں نہ صرف یہ کہ مذہبی منافرت نہیں پائی جاتی بلکہ لوگوں کی شعوری سطح اتنی بلند ہے کہ لوگ دہشت گردوں اور دہشت گردی سے نفرت کرتے ہیں جس کاواضح ثبوت یہ ہے کہ   مذہبی منافرت کے سلسلے میں پہلی مرتبہ 2009 میں 9 محرم الحرام کی شام کو مظفر آباد کی امام بارگاہ پیر علم شاہ بخاری میں ایک خود کش  دھماکہ ہوا تھا اور اب   چند روز قبل مظفر آباد کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس آصف درانی نے تین نقاب پوش ملزمان کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ تینوں 2009 میں 9 محرم الحرام کی شام کو امام بارگاہ پیر علم شاہ بخاری میں ہونے والے خود کش حملے میں ملوث ہیں لیکن گرفتار شدگان کے والدین نے  ۱۲ فروری ۲۰۱۷ کو پریس کانفرنس کر کے  دہشت گردی سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

یہاں کے لوگ تحریک طالبان پاکستان یا پاکستان میں پائے جانے والے دیگر دہشت گرد ٹولوں  کی طرح دہشت گردی پر فخر نہیں کرتے اور نہ ہی دہشت گردوں کے سہولت کار بنتے ہیں بلکہ دہشت گردی سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔

نو اپریل ۲۰۱۵ کو آزاد کشمیر حکومت نے  22 افراد کو دہشت گرد قراردے کر ان کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالے تھے جن  میں سے   مندرجہ زیل ۲۰  کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔

 آفتاب شفیع،مولوی عبدالخالق،افتخار عرف ادریس مولوی،وقاص،حافظ کاشف،شفیع معاویہ،مولوی عبد الغفور،مولوی اختر، شہزان رشید،افتخار مجید،محمد الیاس،ساجد اعوان، محمد ارشد،انصار،نذیر الاسلام،محمد کلیم،غلام مصطفیٰ،توقیر عباسی،اسرار، محمد یاسر اور دو کاتعلق پنجاب  سے ہے جو کہ آزاد کشمیر میں رہائشی ہیں ان کے نام  عصمت اللہ معاویہ  اور مرزا خان ہیں۔

دو فروری ۲۰۱۷کو پونچھ کے ایس ایس پی میر عابد نے ایک  ملزم کاشف حنیف کو راولا کوٹ کے نواح میں داتوٹ سے گرفتار کیا  ہے اور ان کے بقول یہ ملزم   تحریک طالبان کشمیر سے تعلق رکھتا ہے۔

آزاد کشمیر میں دینی مدارس ، مساجد اور جہادی تنظیموں کا  مضبوط نیٹ ورک بچھا ہوا ہے۔ شام اور عراق سے بھاگنے والے دہشت گرد  پاکستان کے بعد آزاد کشمیر میں جاکر پناہ لیتے ہیں۔ ان دہشت گردوں کی بدولت ابھی آزاد کشمیر میں  ٹارگٹ کلنگ کا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ پیش آیا ہے جس میں  آزاد جموں و کشمیر  مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے جنرل سیکریٹری علامہ تصور جوادی  اور ان کی اہلیہ کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا ہے۔

حملہ آور نے بظاہر ایک فرقے کے مذہبی رہنما پر حملہ کیا ہے لیکن آزاد کشمیر کے سماجی مزاج کے مطابق یہ  حملہ ہر کشمیری پر حملہ ہے اوراس حملے  کے بعد آزاد کشمیر کے شیعہ اور سنی سب اداس ہیں، یہاں کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گرد کسی کے بھی ہمدرد نہیں ہیں ۔

اگریہاں کے لوگ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جہادی کیمپوں کے تربیت یافتہ لوگوں نے اب پاکستان کی طرح کشمیریوں کو بھی قتل کرنا شروع کر دیا ہے تو آزاد کشمیر میں مقامی آبادیوں اور مجاہدین کے کیمپوں کے درمیان تناو اور کشیدگی پیدا ہو جائے گی  جس کا سارا نقصان تحریک آزادی کو پہنچے گا۔ اس کے علاوہ خود مختاری کی تحریکیں اور تنظیمیں بھی اس واقعے کو اپنے حق میں استعمال کر سکتی  ہیں۔سب سے بڑھ  کر یہ کہ بھارت آزاد کشمیر کے لوگوں کو پاکستان سے  متنفر کرنے کے لئے اسی فرقہ واریت  کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد کشمیر کو تحریک آزادی کے بیس کیمپ کے طور پر دیکھا جائے اور اس میں مخلص مجاہدین کو اسٹریٹجک سرمایہ سمجھتے ہوئے فرقہ واریت سے دور رکھا جائے۔یہ تبھی ہو سکتا ہے کہ جب دہشت گردوں کے خلاف بھر پور کارروائی کرکے لوگوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ مجاہدین کے کیمپ دہشت گردوں سے پاک ہیں اور ان کے کیمپ پاکستان سے بھاگے ہوئے دہشت گردوں کے آشیانے نہیں ہیں۔ تحریک آزادی کے تحفظ کے لئے حکومت اور عوام  کو ملکر یہ ثبوت دینا ہوگا کہ یہاں دہشت گردوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

تحریر: 

نذر حافی

 

 

زمرہ جات:   Horizontal 3 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

مسافرانِ دیارِ حرم

- ایکسپریس نیوز

تعلیم کے فضائل و آداب

- ایکسپریس نیوز

خلفائے راشدینؓ کی نماز

- ایکسپریس نیوز