شفقنا خصوصی: جماعت الاحرار کیا ہے اور اس کے حملوں‌ میں‌ تیزی کیوں؟

پاکستان نے ہاں کر دی: اسلامی اتحادی افواج کی کمان راحیل شریف سنبھالیں گے

پورا سچ بتائیں یا قوم پر رحم کریں

ایران کے ایٹمی معاہدے پر دوبارہ مذاکرات ناممکن ہیں: یورپی یونین

پاک فوج کا نیا اور غیر واضح کردار

افغان طالبان کی پاکستان آمد، داعش کے خلاف حکمت عملی؟

نواز شریف کی جلاوطنی کی پس پردہ حقیقت فاش

شیعہ افراد کو غیر مسلم شمار کرنے پر افسران معطل

روس پر طالبان کو اسلحہ فراہمی کا الزام: امریکہ کی اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش

شفقنا خصوصی: کیا پیپلز پارٹی غدار ہے؟

جماعت الدعوہ کی لاہور ریلی: دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مذاق

ابراہیم شریف کے خلاف کاروائی بحرینی سرگرم کارکنوں کو خاموش کرانے حکومتی مہم کا حصہ ،ایمنسٹی

'حسین حقانی کو ویزا جاری کرنے کا اختیار یوسف گیلانی نے دیا'

پورا سچ بتائیں یا قوم پر رحم کریں

ایک حقیقی المیہ:  کیا پاکستان میں انتہا پسندوں کو سیاست میں حصہ لینے سے روکا جا سکتا ہے؟

شفقنا خصوصی: برطانیہ اپنے ہی پالے سانپوں شکار

سعودیہ کے 5 ٹھکانوں پر یمن کی کامیاب کارروائی؛ 40 فوجی ہلاک اور زخمی

شیعوں‌کو حقیر قرار دینے کی سازش: کے پی کے حکومت کے پس پردہ عزائم کیا ہیں؟

ایٹمی معاہدے کے باوجود بھی اسرائیل کیلئے ایران اہم ترین خطرہ ،موساد سربراہ

فسادیوں کا قصہ

۲۳ مارچ ۔۔۔ ہماری کسرِ نفسی اور ہماراپاکستان ~ نذر حافی

یوم تجدید عہد کے تقاضے

  شفقنا خصوصی: چین اقوام متحدہ کو جوتے کی نوک پر کیوں رکھتا ہے؟

 ہندو انتہا پسندی کی انتہا : بھارت پاکستان پر حملے کا آغاز کرسکتا ہے

اسرائیل روئے زمین کا خبیث ترین قابض

مقدس ہستیوں کی توہین: کیا سوشل میڈیا کو بند کردینا ہی مسئلے کا حل ہے؟

ملک بھر میں یوم پاکستان آج ملی جوش و جذبے سے منایا جائے گا

لندن میں دہشتگردی کے واقعے میں حملہ آور سمیت 4 افراد ہلاک، 20 زخمی

برطانوی پارلیمنٹ کے باہر فائرنگ سے 12 افراد زخمی

یمنی کاروائیوں کا اگلا مرحلہ جنگ کا نقشہ تبدیل کردے گا: یمنی مقبول افواج

لحاف اور مونگ پھلی سے باہر کی دنیا

اصطلاحات کا کھیل اور معذرت کی لوریاں ~ نذر حافی

بیجنگ کے جنوبی ایشیائی ممالک کے تعلقات پر بھارت مداخلت سے بازرہے: چین کی تنبیہ

لبنان کے خلاف سعودیہ کی بھیانک سازش

فوجی عدالتوں سے سیاسی قوتیں خائف کیوں؟

شفقنا خاص : اسلامی جمعیت طلبا نے پاکستان کے تعلیمی اداروں کی کیسے یرغمال بنایا ہوا ہے؟

پس پردہ کہانی: برطانیہ الطاف حسین کے خلاف ایکشن لینے سے گریزاں کیوں؟

The art of hand clapping makes comeback in Egypt

11 ستمبر کے واقعات میں ہلاک ہونےوالوں کے اہل خانہ کی سعودی عرب کے خلاف قانونی کارروائی

یمن کے مظلوم عوام کے قتل عام کےلئے فرانس کی جانب سے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت

امریکا نے 7 اور برطانیہ نے 6 مسلم ممالک کے مسافروں پر نئی پابندی لگا دی

امریکا کے ساتھ جنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں: جنوبی کوریا

بانی ایم ایم کیو ایم سے متعلق پاکستان کی تشویش کوسمجھ سکتے ہیں: برطانوی وزیر داخلہ

ہفنگٹن پوسٹ: سعودیہ دہشتگردی کا حامی ہے، ایران نہیں

شہنشاہانہ عیاش پرستیاں:‌سعودی فرمانروا کا پرتعیش دورہ ایشیاء

امت مسلمہ کو واضح پیغام: اقوام متحدہ اسرائیل کی کٹھ پتلی

پاکستان میں داعشی مراکزکی بھرتی:پاکستانی خواتین کی بھی داعش میں شمولیت

The Fatwa you Didn’t Hear about that Should be Going Viral

ٹی ایم او بنوں کے متنازعہ اشتہار: 6 کروڑ اہل تشیع کے جذبات مجروح کیئے، ذمہ داروں کو کڑی سزادی جائے: ناصر شیرازی

اس ریجن میں پاکستان کی مفادات کیخلاف سب سے بڑا جاسوسی کا اڈہ امریکن ایمبیسی اسلام آباد بنا ہوا ہے: علامہ راجہ ناصرعباس

نیشنل ایکشن پلان کو سیاسی پلان نہ بنایا جائے ، ثروت اعجاز

سندھ طاس معاہدہ، پاکستان کے لئے اہم کیوں؟

یمن : سعودی ہیلی کاپٹر کا صومالی مہاجرین کی کشتی پہ حملہ ،40 ہلاک، متعدد زخمی ہوگئے – مستجاب حیدر

ضرب عضب کے بعد ملک میں کسی دہشتگرد تنظیم کا ہیڈ کوارٹر نہیں: چوہدری نثار

 آل خلیفہ حکومت انسانی حقوق کی سرخ لائن بھی عبور کر گئی: بحرینی جیلوں میں قیدیوں کے لئے مذہبی عبادات کی ادائیگی بھی جرم

مودی حکومت کے کالے کرتوت: بھارت میں مسلمانوں کی جائیداد پر قبضہ کرنے کا کالا قانون منظور

تعلیم حکومت کی ذمہ داری یا مذہبی تنظیموں کی؟

 شاہ سلمان کا دورہ مالدیپ ملتوی: وجہ سوائن فلو یا عوام کا احتجاج

ROOTS OF CONFLICT CONFERENCE – Shafaqna Exclusive

بھارت میں ہندو انتہا پسندی تباہی کا راستہ ہے

دنیا کے گوشہ و کنار میں صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیھا کا جشن ولادت

عراق کے وزیر اعظم امریکہ روانہ ہوگئے

تصاویر: بنگلہ دیش میں ٹرین کا سفر کرنا ناخوشگوار

شرجیل میمن کی اہم پریس کانفرنس، بڑے انکشافات

بھارتی مخالفت کے باوجود سلامتی کونسل نے پاک چین اقتصادی راہداری کی حمایت کردی

عدالت نوازشریف کا موقف تسلیم نہیں کریگی: اعتزاز احسن

شام میں جنگ کے تمام اخراجات عرب ممالک نے دیئے ہیں : سید حسن نصر اللہ

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے بھارت کی بے چینی میں اضافہ

 فوعہ اور کفریا کے شہری، موت کے دہانے پر: ثنا خوان انسانی حقوق کہاں ہیں؟

ملٹری کورٹس پر تحفظات اور جمہوری اخلاقیات: رضا ربانی اپنے لیڈر کی کرپشن پر خاموش کیوں؟

واشنگٹن کے راستے اسلام آباد پہنچنے کی خواہش

2017-02-16 08:14:59

شفقنا خصوصی: جماعت الاحرار کیا ہے اور اس کے حملوں‌ میں‌ تیزی کیوں؟

 

Alahrar

 

 آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کا کہنا ہےکہ لاہور دھماکا خودکش حملہ تھا جس کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کی ہے۔

 

لاہور سانحے میں‌ میں شہید ہونے والے 13 افراد میں 6 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں جن میں ایلیٹ کے 2 جوان بھی شہید ہوئے جب کہ واقعے میں 83 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

 

 

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم کالعدم تحریک طالبان پاکستان جماعت الاحرار نےگذشتہ دو سالوں میں لاہور میں یہ پانچواں بڑا حملہ کیا ہے۔

 

کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے اگست 2014 میں علیحدہ ہونے کے فوراً بعد نومبر میں اپنا پہلا بڑا حملہ لاہور کے ہی قریب واہگہ بارڈر پر کیا تھا جس میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 

اس کے چند روز بعد اس گروپ نے امن کمیٹی کے اراکین کو مہمند ایجنسی میں نشانہ بنایا جس میں چھ افراد نے جانیں کھوئیں۔

 

خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم سے نظریاتی طور پر متاثر جماعت الاحرار نے لاہور کو اس سے قبل بھی نشانہ بنایا تھا۔

 

 

گذشتہ برس مارچ میں انھوں نے لاہور کے یوحنا آباد کے دو گرجا گھروں پر حملے کیے جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس گروپ نے ایک مرتبہ پھر لاہور کے گلشن اقبال نامی ایک پارک میں جہاں مسیحی برادری کو جو ایسٹر کا تہوار منانے کے لیے جمع تھی ہدف بنایا۔

 

 

 امریکا جماعت الاحرار کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔ سلامتی کے ادارے  پاکستان میں سرگرم تمام دہشت گردوں گروپوں میں سے جماعت الاحرار کو سب سے زیادہ شدت پسند قرار دیتے ہیں۔ اسی تنطیم نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور 2016ء کے آغاز پر لاہور کے ایک پارک پر ہونے والے حملے میں بھی یہی تنظیم ملوث تھی۔

 

جماعت الاحرار رواں سال مارچ میں پشاور میں امریکی قونصلیٹ کے 2 پاکستانی ملازموں کو ہلاک کرنے کی ذمہ دار ہے،

 

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ جماعت الاحرار اپنے حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں بیٹھ کر کرتی ہے او وہیں پر شدت پسندوں کو تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ پاکستانی فوج نے 2010ء میں مہمند ایجنسی میں داخل ہو کر تمام شدت پسند تنظیموں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ تاہم اب کہا جا رہا ہے کہ اب دوبارہ سے مہمند ایجنسی میں جماعت الاحرار کی موجودگی کو محسوس کیا جاتا ہے۔ مہمند ایجنسی کو اس تنظیم کا گڑھ کہا جاتا ہے

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

اسلام کی معرفت

- سحر ٹی وی

یادوں کے جھروکے

- سحر ٹی وی

The Other Side 25 March 2017

- وقت نیوز

Game Beat 25 March 2017

- وقت نیوز