سعودی عرب میں پیسے کمانے کے لیے اچھا وقت گزر چکا

شام اور حزب اللہ کی لبنانی سرحد کے قریب دہشتگرد گروہ النصرہ کے ٹھکانوں پر کارروائی

پاناما کیس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

سعودی عرب ام الفساد اور دہشت گردی کی جڑ ہے

پاکستان بھر میں جاری شیعہ نسل کشی کے خلاف مظاہرے

قطر نے گھٹنے ٹیک دیے؟ سعودی عرب سے مذاکرات کا اعلان

نواز شریف رات تک مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیں: خورشید شاہ

نوازشریف اس بار قدم نہیں بڑھائیں گے

امریکی طوطا چشمی: کیا خارجہ پالیسی پر تجدید نظر کا وقت نہیں آ گیا؟

کیا پاکستان کے لئے ایک امام خمینی کی ضرورت ہے؟

مستعفی ہونے سے انکار: کیا وزیر اعظم کو اپنے ہی گھر پر اعتماد نہیں؟

پنجاب حکومت دہشتگردوں کیخلاف بننے والی سی ٹی ڈی کو اپنے شیطانی عزائم کیلئے استعمال کر رہی ہے: سید ناصرعباس شیرازی

علاقہ بنگش کے شیعہ علمائے کرام کیخلاف ایف آئی آرز کا اندراج قانون کیساتھ مذاق ہے: علامہ عبدالحسین

ٹرمپ سے اختلافات کے باعث وائٹ ہاؤس کے ترجمان عہدے سے مستعفی

وزیر داخلہ چوہدری نثار کے استعفیٰ دینے کی خبر بے بنیاد ہے: وزارت داخلہ

پاکستان میں اب بھی وہابی دہشت گرد فنڈز جمع کررہے ہیں

سعودی عرب میں سیاسی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کا اعتراف

دنیا میں 94 فیصد دہشت گردانہ واقعات میں سعودی عرب ملوث

سعودی عرب کی ایرانی سفارتکاروں کے خلاف کویت کے اقدام کی حمایت

گردے کی پتھری سے بچنے کے آسان طریقے

پاناما معاملہ؛ (ن) لیگ کا سپریم کورٹ کا ہر فیصلہ تسلیم کرنے کا فیصلہ

ایران واحد وہ ملک ہے جو امریکہ کے مد مقابل ہے: جنرل اسلم بیگ

داعش میں شمولیت کا اانجام: کارکنوں کو اپنے ہی خاندانوں کو قتل کرنے کا حکم

امریکی و روسی صدور کے درمیان دو خفیہ ملاقاتیں، کب، کہاں ،کیسے اور کیوں ہوئیں؟

ایرانی سفیر ملک بدر: کیا کویت سعودی دباؤ کے سامنے جھک گیاہے؟

کیا پاکستان میں شیعہ ہزارہ کے لیے کہیں‌جائے اماں ہے؟

مسجدالاقصی پر اسرائیل کا کوئی حق نہیں، حماس

امریکہ کا پاکستان پر طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام

تحریک انصاف نے پی پی کی ایک اوروکٹ گرا دی

اسلامی دنیا کو اسرائیلی غاصب کے اقدامات پر ردعمل ظاہر کرنا چاہئے

عالم اسلام میں حضرت امام جعفر صادق (ع) کی شہادت کی مناسبت سے عزاداری کا سلسلہ جاری

بی جے پی رہنما رام ناتھ کووند بھارت کے نئے صدر منتخب

ہمارا احتساب نہیں استحصال ہورہا ہے میرے صبر کا امتحان نہ لیا جائے: وزیراعظم نواز شریف

بارڈر تناذع: کیا بھارت چین کے ساتھ جنگ مول لینے کی غلطی کر سکتا ہے؟

نواز شریف کے حلیف سے حریف تک:  پیپلز پارٹی نے نواز شریف کو ہری جھنڈی کیوں دکھائی؟

آپریشن خیبر فور کی مخالفت: کیا افغانستان دہشت گردوں کی حمایت کر رہا ہے؟

پاکستانی سیاست میں اخلاقیات کا ہتھیار

آیۃ اللہ سیستانی کے فتوے نے عراق کے عیسائیوں کو نجات دلائی: جورج صلیبا

داعش نے عالم اسلام کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اسلامی تاریخ میں اس کا سراغ نہیں ملتا

مشرق وسطی میں بحران کی آگ بھڑکانے کے پیچھے سعودی عرب کا مقصد ہے کیا ؟

امام صادق علیہ السلام کی مختصر سوانح حیات

صادق آل محمد، جعفر صادق(ع) کی شب شہادت

قطری شہزادے کا ایک اور خط سامنے آگیا

لندن فلیٹوں کا مالک کون ہے؟ نئی دستاویز منظر عام پر آگئی

بحرین میں نئے فیملی قوانین فقہ جعفریہ کے تشخص اور فقہی احکامات کے منافی ہیں: علمائے کرام

یمن میں ہیضے سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ

امریکہ عہد شکن اور عرب ڈکٹیٹروں کا حامی ملک ہے: حسن روحانی

پاناماکیس میں دفاع کے لئے شریف فیملی نے اہم دستاویزات منگوا لیں

وکلا کا ہیر پھیر کاغذ کی کشتی کو ڈوبنے سے نہیں بچا سکتا: سراج الحق

امریکا نے ایران کی 18 شخصیات اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

وائٹ ہاؤس کا ٹرمپ اور پیوٹن میں خفیہ ملاقاتوں کا اعتراف

مستونگ میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4 شیعہ مسلمان شہید

شریف خاندان کی منی ٹریل کا جواب آج تک نہیں آیا: سپریم کورٹ

بحرینی حکمرانوں کی اسرائیل دوستی ایک بار پھر بے نقاب

سی پیک کے خلاف عالمی سازشیں کہاں سے ہو رہی ہیں ؟

قطر کے وزیر خارجہ کا دورہ: کیا نواز شریف کو کچھ لو کچھ دو کا پیغام بہنچایا گیا ہے؟

کیا پاکستان راحیل شریف کی وطن واپسی کی راہ ہموار کر رہا ہے؟

امریکی صدر کے لئے ریڈ کارپیٹ نہیں پچھائیں گے: میئر لندن

یمن تنازع پر سعودی عرب سے براہ راست تصادم کا خطرہ نہیں، ایران

پنجاب کے وزیر محکمہ مال عطا مانیکا نے استعفیٰ کیوں دیا؟

قطر کے وزیر خارجہ کی وزیر اعظم سے ملاقات، پاکستان اور قطر کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں

راحیل شریف اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ نہیں بنے: مشیرخارجہ

نیلسن منڈیلا کے زندگی بدل دینے والے اقوال

ٹرمپ کا ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ برقرار رکھنے کا فیصلہ

عراق سے داعش کے ناسور کا خاتمہ امت مسلمہ کیلئے اچھا شگون ہے: علامہ محمد افضل حیدری

حلال روزی کمانا انسان کے نفیساتی اور روحانی آرام و سکون کا باعث ہے

سعودی عرب کے حکام کا العوامیہ میں شیعوں کے خلاف ظلم و بربریت میں اضافہ

شواہد کے جائزے کے بعد فیصلہ کریں گے: سپریم کورٹ

آئی آیس آئی افیسر کی موجودگی پر اعتراض: کیا فوج اور وزیر اعظم پھر آمنے سامنے ہیں؟

منافرت پر مبنی تقریریں ،حالات کس رُخ پر جا رہے ہیں ؟

خیبر فور: پاک فوج کی ایک اور کامیاب حکمت عملی

2017-02-24 20:52:39

سعودی عرب میں پیسے کمانے کے لیے اچھا وقت گزر چکا

18171812_303جرمنی کے ڈومینیک اسٹیک سترہ برس سعودی عرب میں گزارنے کے بعد اپنے اہل خانہ کے ہم راہ جرمنی واپس آ چکے ہیں۔ سعودی عرب نے اپنے شہریوں کو ملازمتیں فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اس کی معاشی ترقی بھی سست رفتار ہو چکی ہے۔ ایسے میں اچھے عہدوں پر فائز اور اچھی تنخواہیں حاصل کرنے والے غیرملکی ملازمین کو نکالا جا رہا ہے۔ ان کے لیے اب سعودی عرب میں اچھے پیسے کمانے کا وقت گزر چکا ہے۔

جرمن شہری ڈومینیک کا کہنا کہ آجرین کی طرف سے بچتی اقدامات کے تحت ملازمین کو واپس جانے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’یہ واقعی ایک حقیقت ہے کہ وہ اس طرح بہت زیادہ بچت کریں گے۔‘‘ 

سعودی عرب  نے گزشتہ برس ’’وژن 2030 ‘‘ پیش کیا تھا، جس کے تحت نجی سیکٹر میں زیادہ سے زیادہ سعودی شہریوں کو بھرتی کرنا بھی شامل ہے۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمتوں کی وجہ سے سعودی عرب کو ریکارڈ بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے اور نجی کمپنیوں کے لیے اربوں ڈالر قرض کی ادائیگیاں رک چکی ہیں۔ اس سے خاص طور پر تعمیراتی کمپنیاں متاثر ہوئی ہیں۔

Saudi-Arabien Arbeiter auf Khurais Ölfeld (Reuters/A. Jarekji)

صرف سعودی بن لادن گروپ نے غریب ممالک کے تقریباﹰ 70 ہزار ملازمین کو نکالا ہے لیکن اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ بہت سے مغربی غیرملکی ماہرین بھی اس ملک سے نکل رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں غیرملکی ملازمین کی تعداد نوے لاکھ ہے لیکن یہ اعداد و شمار اس وقت کے ہیں، جب سعودی عرب میں معاشی ترقی عروج پر تھی۔

سعودی عرب میں کام کرنے والے ایک غیرملکی مینیجر کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا، ’’ہر کوئی حقیقی معنوں میں زیر دباؤ ہے۔ کوئی ایک بھی کاروبار ایسا نہیں ہے، جو بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہو۔‘‘ تاہم اپنے اہل خانہ کے ہم راہ رہنے والے غیرملکی ملازمین کے لیے مشکل وقت جولائی سے شروع ہونے والا ہے کیوں کہ انہیں ماہانہ بنیادوں پر فی کس کے حساب سے اضافی ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ یہ فیس 100 ریال سے شروع ہوگی اور سن 2020 تک بڑھا کر ماہانہ 400 ریال کر دی جائے گی۔

الیکٹرانک کمپنی کے اس مینیجر کا کہنا ہے، ’’کمپنی نے اپنے پاکستانی، بھارتی اور فلپائن کے تین سو ملازمین سے کہا ہے کہ وہ یہ فیس خود ادا کریں گے۔‘‘ ان میں سے زیادہ تر افراد ماہانہ 10 ہزار ریال سے کم کماتے ہیں۔ انہیں مجبور کیا جائے گا کہ یا تو وہ اپنے اہلخانہ کو واپس بھیج دیں یا پھر نوکری چھوڑ دیں تاکہ سعودی شہریوں کے لیے جگہ بن سکے۔

سعودی عرب میں الزامل گروپ کے سربراہ عبدالرحمان الزامل کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی میں ہزاروں غیرملکی ملازمت کرتے ہیں لیکن حکومت وقت کے ساتھ ساتھ ایسی فیس میں اضافہ کرتی جائے گی، ’’حکومت کو اپنے شہریوں کے لیے منصفانہ رویہ اختیار کرنا پڑے گا اور ان کے لیے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔‘‘

Khurais-Ölfeld in Saudi-Arabien (picture-alliance/dpa/A. Haider)

ایک غیر ملکی سفارت کار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا، ’’ نئے ٹیکس کے تحت پانی اور بجلی کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں اور ملنے والی مراعات میں بھی کمی کر دی گئی ہے۔ کوئی بھی کاروبار کرنا مہنگا عمل بنتا جا رہا ہے۔‘‘

ایک دوسرے غیرملکی مینیجر کا کہنا تھا کہ ابھی اُن غیرملکیوں کی ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں، جن کی تنخواہیں بہت زیادہ ہیں، ’’آئندہ دس برسوں میں شاید بہت ہی کم اعلیٰ غیرملکی ماہرین یہاں بچیں کیوں کہ ان عہدوں پر سعودی آئیں گے۔‘‘

اس جرمن مینیجر کا کہنا تھا کہ خالی ہونے والے عہدوں پر ایسے افراد کو رکھا جا رہا ہے، جو کم تنخواہوں پر بھی کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ مینیجر بھی ایک برس بعد سعودی عرب چھوڑ دے گا۔  ان کی جرمن کمپنی کی جگہ چین کی ہوائی کمپنی لے رہی ہے۔

 

DW.COM

 
زمرہ جات:   Horizontal 4 ،
ٹیگز:   سعودی عرب ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

چلتے ہو تو زیارت چلو

- ڈیلی پاکستان