سعودی عرب میں پیسے کمانے کے لیے اچھا وقت گزر چکا

امریکہ کی شام میں موجودگی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے؛ سرگئی لاوروف

ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے بدترین صدر قرار

پاکستانی فوج سعودی عرب بھیجے جانے کی مخالفت

شاہ سلمان اپنے بیٹے کی پالیسیوں پر غصہ ہیں؛ رای الیوم

پارلیمنٹ بمقابلہ عدلیہ: تصادم سے کیا برآمد ہوگا

پارلیمنٹ آئین سے متصادم قانون نہیں بنا سکتی، چیف جسٹس پاکستان

انتخابات اور قومی تعلیم و تربیت

تصاویر: امریکہ میں ہتھیار رکھنے کے خلاف مظاہرہ

جس سے فاطمہ (س) ناراض ہوں اس سے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے

پارلیمنٹ کو عدلیہ کے خلاف استعمال کیا گیا تو سڑکوں پر نکلیں گے، عمران خان

رسول خدا کی بیٹی کی شہادت کا سوگ

سی پیک کے تحفظ کیلئے چین اور بلوچ علیحدگی پسندوں میں خفیہ مذاکرات کا انکشاف

تمام عالم میں جگر گوشہ رسول کا ماتم

مسجد الحرام میں تاش کھیلنے والی خواتین کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

پاکستانی سکولوں میں چینی زبان لازمی، سینیٹ میں قرارداد منظور

خود کشی کی کوشش جرم نہیں بیماری، سینیٹ میں سزا ختم کرنے کا ترمیمی بل منظور

امریکہ شام میں آگ سے نہ کھیلے : روس

کیا فدک حضرت زہرا (س) کے موقوفات میں سے تھا یا نہیں؟

لعل شہباز قلندر کے مزار پہ بم دھماکے میں تکفیری دیوبندی خطیب لال مسجد کے رشتے دار ملوث ہیں – سندھ پولیس/ رپورٹ بی بی سی اردو

اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کا افسانہ ختم ہو چکا ہے

 فرانسیسی زبان میں حضرت زهرا (س) کے لیے مرثیه‌ خوانی 

سعودی عرب کو شرک اورکفر کے فتوے نہ دینے کا مشورہ

ایرانی طیارے کے حادثے پر پاکستان کی تعزیت

سعودی عرب میں غیر ملکی خاتون سے اجتماعی زیادتی

کوئی ملک پاکستان کو دہشت گردی کی بنا پر واچ لسٹ میں نہیں ڈال سکتا، احسن اقبال

بلوچ ـ مذہبی شدت پسندی – ذوالفقار علی ذوالفی

تصاویر: شام میں ترکی کے حمایت یافتہ افراد کی کردوں کے خلاف جنگ

دنیا پاکستان کا سچ تسلیم کیوں نہیں کرتی؟

سعودی عرب نے عورتوں کو شوہر کی اجازت کے بغیر کار و بار کی اجازت دیدی

اسرائیل، شام میں ایران کی موجودگی کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے؛ گوٹرش

اسمارٹ فون سے اب ڈیسک ٹاپ میں تصاویر منتقل کرنا آسان ہو گیا

نیب نے خادم پنجاب روڈ پروگرام اور میٹروبس میں کرپشن کی تحقیقات شروع کردیں

ایران کا مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ، 66 مسافر سوار تھے

بھارتی اور داعشی کے خطرات میں پاک فوج کی سعودیہ عرب میں تعیناتی خلاف عقل ہے

عوام سے ووٹ لے کر آنا قانون سے بالاتر نہیں بنادیتا، عمران خان

حضرت فاطمہ زہرا (س) کی شہادت

آصف زرداری کا راؤ انوار سے متعلق اپنے بیان پر اظہارِ افسوس

توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگانے پر سخت سزا کی تجویز

عمران کو سزا پاکستان کے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے

ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل باجوہ کو مشرف تصور کر کے غلطی کی: برطانوی تھنک ٹینک

فخر سے کہہ سکتے ہیں پاکستانی سرزمین پر دہشتگردوں کا کوئی منظم کیمپ موجود نہیں، پاک آرمی چیف

نائیجیریا میں یکے بعد دیگرے 3 خودکش حملوں میں 22 افراد ہلاک

سعودیہ میں فوجی دستوں کی تعیناتی

ایران اور ہندوستان نے باہمی تعاون کے 15 معاہدوں اور دستاویزات پر دستخط کردیئے

پاکستانی فوجیوں کو سعودی عرب کے زمینی دفاع کو مضبوط کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے، خرم دستگیر

17 امریکی سیکیورٹی سروسز کا پاکستانی ایٹمی پروگرام سے اظہارِ خوف

شام سے برطانیہ کے 100 دہشت گردوں کی واپسی کا خدشہ

آرام سے کھانا کھائیے، موٹاپے سے محفوظ رہیے

علامہ سید ساجد علی نقوی کا شہدائے سیہون شریف کی پہلی برسی سے خطاب

زینب کے گھر والوں کا مجرم کو سرِعام پھانسی دینے کا مطالبہ

زینب کے قاتل عمران علی کو 4 بار سزائے موت کا حکم

کرپشن الزامات کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

پاکستان کی 98 فیصد خواتین کو طبی و تعلیمی سہولیات میسر نہیں

شیعہ حریت لیڈر یوسف ندیم کی ہلاکت قتل ناحق ہے، بار ایسوسی ایشن

پاکستانی سینیٹ کا فوجی دستہ سعودی عرب بھیجنے پر تشویش کا اظہار

اسرائیل میں وزیراعظم نتین یاہو کے خلاف ہزاروں افراد کا مظاہرہ

سعودی علماء کونسل : عرب خواتین کے لئے چادر اوڑھنا ضروری نہیں ہے

صدر روحانی کا حیدر آباد کی تاریخی مسجد میں خطاب

افغانستان میں داعش کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ایشیا کے امن کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے

آیت اللہ زکزی کی رہائی کا مطالبہ

فاروق ستار کا اپنے سینیٹ امیدواروں کے ناموں سے دستبرداری کا اعلان

بن سلمان کا سعودی عرب؛ حرام سے حلال تک

پاکستان کی دہشت گردی کے معاملات میں کوتاہیوں پر تشویش ہے، امریکہ

اسلام آباد دھرنوں اور احتجاج پر خزانے سے 95 کروڑ روپے خرچ ہوئے، انکشاف

نقیب قتل کیس؛ راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم واپس، بینک اکانٹس منجمد

مغربی موصل کو بارودی مواد سے صاف کرنے کے لئے دس سال درکار ہیں؛ اقوام متحدہ

جو شخص یقین کی منزل پر فائز ہوتا ہے وہ گناہ نہیں کرتا ہے

عالمی دباؤ کا مقابلہ داخلی ہم آہنگی سے کیا جائے

تعاون اور اعتماد سازی

عدالت جواب دے یا سزا ۔ فیصلہ چیف جسٹس کو کرنا ہے

2017-02-24 20:52:39

سعودی عرب میں پیسے کمانے کے لیے اچھا وقت گزر چکا

18171812_303جرمنی کے ڈومینیک اسٹیک سترہ برس سعودی عرب میں گزارنے کے بعد اپنے اہل خانہ کے ہم راہ جرمنی واپس آ چکے ہیں۔ سعودی عرب نے اپنے شہریوں کو ملازمتیں فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اس کی معاشی ترقی بھی سست رفتار ہو چکی ہے۔ ایسے میں اچھے عہدوں پر فائز اور اچھی تنخواہیں حاصل کرنے والے غیرملکی ملازمین کو نکالا جا رہا ہے۔ ان کے لیے اب سعودی عرب میں اچھے پیسے کمانے کا وقت گزر چکا ہے۔

جرمن شہری ڈومینیک کا کہنا کہ آجرین کی طرف سے بچتی اقدامات کے تحت ملازمین کو واپس جانے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’یہ واقعی ایک حقیقت ہے کہ وہ اس طرح بہت زیادہ بچت کریں گے۔‘‘ 

سعودی عرب  نے گزشتہ برس ’’وژن 2030 ‘‘ پیش کیا تھا، جس کے تحت نجی سیکٹر میں زیادہ سے زیادہ سعودی شہریوں کو بھرتی کرنا بھی شامل ہے۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمتوں کی وجہ سے سعودی عرب کو ریکارڈ بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے اور نجی کمپنیوں کے لیے اربوں ڈالر قرض کی ادائیگیاں رک چکی ہیں۔ اس سے خاص طور پر تعمیراتی کمپنیاں متاثر ہوئی ہیں۔

Saudi-Arabien Arbeiter auf Khurais Ölfeld (Reuters/A. Jarekji)

صرف سعودی بن لادن گروپ نے غریب ممالک کے تقریباﹰ 70 ہزار ملازمین کو نکالا ہے لیکن اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ بہت سے مغربی غیرملکی ماہرین بھی اس ملک سے نکل رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں غیرملکی ملازمین کی تعداد نوے لاکھ ہے لیکن یہ اعداد و شمار اس وقت کے ہیں، جب سعودی عرب میں معاشی ترقی عروج پر تھی۔

سعودی عرب میں کام کرنے والے ایک غیرملکی مینیجر کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا، ’’ہر کوئی حقیقی معنوں میں زیر دباؤ ہے۔ کوئی ایک بھی کاروبار ایسا نہیں ہے، جو بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہو۔‘‘ تاہم اپنے اہل خانہ کے ہم راہ رہنے والے غیرملکی ملازمین کے لیے مشکل وقت جولائی سے شروع ہونے والا ہے کیوں کہ انہیں ماہانہ بنیادوں پر فی کس کے حساب سے اضافی ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ یہ فیس 100 ریال سے شروع ہوگی اور سن 2020 تک بڑھا کر ماہانہ 400 ریال کر دی جائے گی۔

الیکٹرانک کمپنی کے اس مینیجر کا کہنا ہے، ’’کمپنی نے اپنے پاکستانی، بھارتی اور فلپائن کے تین سو ملازمین سے کہا ہے کہ وہ یہ فیس خود ادا کریں گے۔‘‘ ان میں سے زیادہ تر افراد ماہانہ 10 ہزار ریال سے کم کماتے ہیں۔ انہیں مجبور کیا جائے گا کہ یا تو وہ اپنے اہلخانہ کو واپس بھیج دیں یا پھر نوکری چھوڑ دیں تاکہ سعودی شہریوں کے لیے جگہ بن سکے۔

سعودی عرب میں الزامل گروپ کے سربراہ عبدالرحمان الزامل کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی میں ہزاروں غیرملکی ملازمت کرتے ہیں لیکن حکومت وقت کے ساتھ ساتھ ایسی فیس میں اضافہ کرتی جائے گی، ’’حکومت کو اپنے شہریوں کے لیے منصفانہ رویہ اختیار کرنا پڑے گا اور ان کے لیے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔‘‘

Khurais-Ölfeld in Saudi-Arabien (picture-alliance/dpa/A. Haider)

ایک غیر ملکی سفارت کار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا، ’’ نئے ٹیکس کے تحت پانی اور بجلی کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں اور ملنے والی مراعات میں بھی کمی کر دی گئی ہے۔ کوئی بھی کاروبار کرنا مہنگا عمل بنتا جا رہا ہے۔‘‘

ایک دوسرے غیرملکی مینیجر کا کہنا تھا کہ ابھی اُن غیرملکیوں کی ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں، جن کی تنخواہیں بہت زیادہ ہیں، ’’آئندہ دس برسوں میں شاید بہت ہی کم اعلیٰ غیرملکی ماہرین یہاں بچیں کیوں کہ ان عہدوں پر سعودی آئیں گے۔‘‘

اس جرمن مینیجر کا کہنا تھا کہ خالی ہونے والے عہدوں پر ایسے افراد کو رکھا جا رہا ہے، جو کم تنخواہوں پر بھی کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ مینیجر بھی ایک برس بعد سعودی عرب چھوڑ دے گا۔  ان کی جرمن کمپنی کی جگہ چین کی ہوائی کمپنی لے رہی ہے۔

 

DW.COM

 
زمرہ جات:   Horizontal 4 ،
ٹیگز:   سعودی عرب ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

ہماری قیادت کہاں ہے

- ایکسپریس نیوز

امن دنیا کی ضرورت ہے

- ایکسپریس نیوز