رد الفساد کی کامیابی کے لئے کرپشن ختم کرنا ضروری ہے

گستاخانہ مواد کیس؛ فیس بک سے 85 فیصد مواد ختم کر دیا گیا ہے، سیکرٹری داخلہ

دیواریں مسائل حل نہیں کرتیں

  سعودیہ کی دہشت گردوں کو فنڈنگ: برطانیہ کی آنکھیں کب کھلیں گی؟

امارات اور اسرائیل مشترکہ فوجی مشقیں: شرم تم کو مگر نہیں آتی

 وزیر داخلہ کی پہیلیاں : کون لوگ مذہب کے نام پر افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں؟

 سعودی باندی: کیا عرب لیگ کا واحد مقصد ایران کی مخالفت ہے؟

جنوبی سوڈان کا مسلح سیاسی بحران، جنسی جرائم بلند ترین سطح پر

شام اور عراق میں شکست کے بعد داعش کا مستقبل کیا ہوگا؟

اسلام آباد مذہبی مدارس کا گھر: انتہا پسندی کے خلاف جنگ کیا محض لفاظی ہے ؟

کیا اسلامی ممالک سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی اشاعت کو روک سکتے ہیں؟

مردم شماری کے دوران تخریب کاری کی بڑی کوشش ناکام

  پاکستانی آئین کی دھجیاں: کیا حکومت لال مسجد سے خائف ہے؟

بلی تھیلے سے باہر: شام میں تکفیری دہشتگردوں اورصیہونی حکومت کے درمیان تعلقات کھل کر سامنے آگئے

پاکستان نے ہاں کر دی: اسلامی اتحادی افواج کی کمان راحیل شریف سنبھالیں گے

پورا سچ بتائیں یا قوم پر رحم کریں

ایران کے ایٹمی معاہدے پر دوبارہ مذاکرات ناممکن ہیں: یورپی یونین

پاک فوج کا نیا اور غیر واضح کردار

افغان طالبان کی پاکستان آمد، داعش کے خلاف حکمت عملی؟

نواز شریف کی جلاوطنی کی پس پردہ حقیقت فاش

شیعہ افراد کو غیر مسلم شمار کرنے پر افسران معطل

روس پر طالبان کو اسلحہ فراہمی کا الزام: امریکہ کی اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش

شفقنا خصوصی: کیا پیپلز پارٹی غدار ہے؟

جماعت الدعوہ کی لاہور ریلی: دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مذاق

ابراہیم شریف کے خلاف کاروائی بحرینی سرگرم کارکنوں کو خاموش کرانے حکومتی مہم کا حصہ ،ایمنسٹی

'حسین حقانی کو ویزا جاری کرنے کا اختیار یوسف گیلانی نے دیا'

پورا سچ بتائیں یا قوم پر رحم کریں

ایک حقیقی المیہ:  کیا پاکستان میں انتہا پسندوں کو سیاست میں حصہ لینے سے روکا جا سکتا ہے؟

شفقنا خصوصی: برطانیہ اپنے ہی پالے سانپوں شکار

سعودیہ کے 5 ٹھکانوں پر یمن کی کامیاب کارروائی؛ 40 فوجی ہلاک اور زخمی

شیعوں‌کو حقیر قرار دینے کی سازش: کے پی کے حکومت کے پس پردہ عزائم کیا ہیں؟

ایٹمی معاہدے کے باوجود بھی اسرائیل کیلئے ایران اہم ترین خطرہ ،موساد سربراہ

فسادیوں کا قصہ

۲۳ مارچ ۔۔۔ ہماری کسرِ نفسی اور ہماراپاکستان ~ نذر حافی

یوم تجدید عہد کے تقاضے

  شفقنا خصوصی: چین اقوام متحدہ کو جوتے کی نوک پر کیوں رکھتا ہے؟

 ہندو انتہا پسندی کی انتہا : بھارت پاکستان پر حملے کا آغاز کرسکتا ہے

اسرائیل روئے زمین کا خبیث ترین قابض

مقدس ہستیوں کی توہین: کیا سوشل میڈیا کو بند کردینا ہی مسئلے کا حل ہے؟

ملک بھر میں یوم پاکستان آج ملی جوش و جذبے سے منایا جائے گا

لندن میں دہشتگردی کے واقعے میں حملہ آور سمیت 4 افراد ہلاک، 20 زخمی

برطانوی پارلیمنٹ کے باہر فائرنگ سے 12 افراد زخمی

یمنی کاروائیوں کا اگلا مرحلہ جنگ کا نقشہ تبدیل کردے گا: یمنی مقبول افواج

لحاف اور مونگ پھلی سے باہر کی دنیا

اصطلاحات کا کھیل اور معذرت کی لوریاں ~ نذر حافی

بیجنگ کے جنوبی ایشیائی ممالک کے تعلقات پر بھارت مداخلت سے بازرہے: چین کی تنبیہ

لبنان کے خلاف سعودیہ کی بھیانک سازش

فوجی عدالتوں سے سیاسی قوتیں خائف کیوں؟

شفقنا خاص : اسلامی جمعیت طلبا نے پاکستان کے تعلیمی اداروں کی کیسے یرغمال بنایا ہوا ہے؟

پس پردہ کہانی: برطانیہ الطاف حسین کے خلاف ایکشن لینے سے گریزاں کیوں؟

The art of hand clapping makes comeback in Egypt

11 ستمبر کے واقعات میں ہلاک ہونےوالوں کے اہل خانہ کی سعودی عرب کے خلاف قانونی کارروائی

یمن کے مظلوم عوام کے قتل عام کےلئے فرانس کی جانب سے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت

امریکا نے 7 اور برطانیہ نے 6 مسلم ممالک کے مسافروں پر نئی پابندی لگا دی

امریکا کے ساتھ جنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں: جنوبی کوریا

بانی ایم ایم کیو ایم سے متعلق پاکستان کی تشویش کوسمجھ سکتے ہیں: برطانوی وزیر داخلہ

ہفنگٹن پوسٹ: سعودیہ دہشتگردی کا حامی ہے، ایران نہیں

شہنشاہانہ عیاش پرستیاں:‌سعودی فرمانروا کا پرتعیش دورہ ایشیاء

امت مسلمہ کو واضح پیغام: اقوام متحدہ اسرائیل کی کٹھ پتلی

پاکستان میں داعشی مراکزکی بھرتی:پاکستانی خواتین کی بھی داعش میں شمولیت

The Fatwa you Didn’t Hear about that Should be Going Viral

ٹی ایم او بنوں کے متنازعہ اشتہار: 6 کروڑ اہل تشیع کے جذبات مجروح کیئے، ذمہ داروں کو کڑی سزادی جائے: ناصر شیرازی

اس ریجن میں پاکستان کی مفادات کیخلاف سب سے بڑا جاسوسی کا اڈہ امریکن ایمبیسی اسلام آباد بنا ہوا ہے: علامہ راجہ ناصرعباس

نیشنل ایکشن پلان کو سیاسی پلان نہ بنایا جائے ، ثروت اعجاز

سندھ طاس معاہدہ، پاکستان کے لئے اہم کیوں؟

یمن : سعودی ہیلی کاپٹر کا صومالی مہاجرین کی کشتی پہ حملہ ،40 ہلاک، متعدد زخمی ہوگئے – مستجاب حیدر

ضرب عضب کے بعد ملک میں کسی دہشتگرد تنظیم کا ہیڈ کوارٹر نہیں: چوہدری نثار

 آل خلیفہ حکومت انسانی حقوق کی سرخ لائن بھی عبور کر گئی: بحرینی جیلوں میں قیدیوں کے لئے مذہبی عبادات کی ادائیگی بھی جرم

مودی حکومت کے کالے کرتوت: بھارت میں مسلمانوں کی جائیداد پر قبضہ کرنے کا کالا قانون منظور

تعلیم حکومت کی ذمہ داری یا مذہبی تنظیموں کی؟

 شاہ سلمان کا دورہ مالدیپ ملتوی: وجہ سوائن فلو یا عوام کا احتجاج

2017-02-28 20:50:01

رد الفساد کی کامیابی کے لئے کرپشن ختم کرنا ضروری ہے

سنیشنل ایکشن پلان بھی دہشتگردی کو روکنے اور مزید نقصان سے بچانے کی ایک کڑی ہے۔ اس پلان پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں جو اس با ت کا ثبوت تھا کہ قومی سطح پر تما م دہشتگردوں سے بغیر کسی رعایت کے آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائے گا۔ سول و ملٹری قیادت نے ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اتفاق رائے سے نیشنل ایکشن پلان کا اعلان کیا تھا۔

پچھلے دو سال میں نیشنل ایکشن پلان کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھتے رہے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے کچھ نکات ایسے بھی ہیں جن پر عمل نہیں ہوا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان بنا اور سیاسی قیادت نے کریڈٹ لینے کے لئے امن بحال کرنے کے اعلانات کے ڈھیر لگا دیے۔ لیکن اس پر عمل کرنے میں اس جذبے اور یکسوئی کا مظاہرہ نہ کیا گیا جس کی ضرورت تھی۔ کئی افراد نیشنل ایکشن پلان کے کمزور عمل در آمد کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اے این پی کے رہنما افراسیاب خٹک نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا،’’طورخم بارڈر کی بندش پاکستان کی کمزور حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے۔ سہون کے غصے کو ہزاروں کلومیٹر دور افغانستان پر کیوں نکالا جا رہا ہے؟ کیا افغانستان نے نیشنل ایکشن پلان کے عمل در آمد کو روکا تھا ؟‘‘۔

2017 کے پہلے ماہ میں کرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار میں 21 جنوری بروز ہفتہ سبزی و فروٹ منڈی میں صبح 8بجکر 50 منٹ پر ایک زوردار دھماکہ ہوا  جس کے نتیجے میں 25افراد جاں بحق اور 65افراد زخمی ہوگئے ۔ وزیر اعظم نواز شریف اس وقت لندن  میں تھے، وہاں سے ہی ان کا رسمی بیان آگیا تھا۔ فروری کے ماہ میں پے در پے ہونے والی دہشتگردیوں میں اب تک 200 سے زیادہ  بے گناہ افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ  400 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ ان دہشتگرد کارروائیوں کے بعدمنگل 21 فروری  کو فوج کی جانب سے آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کی جگہ ایک اور ملک گیرآپریشن’’ ردالفساد‘‘ کے نام سے شروع کیا گیا ہے جس میں بری بحری فضائی افواج اور قانون نافذ کرنیوالے تمام ادارے شامل ہوں گے۔  پنجاب رینجرز بھی اس آپریشن کاحصہ ہوگی۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں ضرب عضب کے نام سے پہلے ہی ایک آپریشن جاری ہے۔ 15 جون 2014 کو آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ آئی ایس پی آر کے ایک اعلامیے سے شروع کیا گیا۔  وزیر اعظم نواز شریف کو بھی شاید  آئی ایس پی آر کے اعلامیے سے ہی خبر ملی تھی اور اس نئے آپریشن ’’ ردالفساد‘ ‘کے وقت تو نواز شریف ملک سے باہر ترکی میں تھے جب   اس آپریشن کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اعلان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کا مقصد بلا تفریق دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ ملک بھر میں جاری انسداد دہشت گردی کی تمام کارروائیاں اب آپریشن ردالفساد کا اہم حصہ ہوں گی ۔نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اس آپریشن کا طرۂ امتیاز ہو گا۔ ملک بھر سے غیرقانونی اسلحے اور گولہ بارود کا خاتمہ بھی اس آپریشن کے نمایاں خطوط میں شامل ہے۔ مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے آپریشن ’رد الفساد‘ کا حصہ ہوں گے۔

آپریشن ’’رد الفساد‘‘ کے اعلان کے ساتھ ہی یہ سوال اٹھا کہ آخرنیشنل ایکشن پلان کی منظوری کے دو سال کے بعداورآپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کی کامیابیوں کے دعوؤں کے باوجود وہ کونسی وجوہات ہیں جن کے باعث فوج کو ایک بار پھر ایک نئے آپریشن ’’ردالفساد ـ‘‘ کی ضرورت پڑی۔ آرمی کو کیا ضرورت  محسوس ہوئی کہ ایک نئے نام سے آپریشن کیا جائے۔ کیا فوجی آپریشن کوئی پروڈکٹ ہے جو مختلف ناموں سے مارکیٹ میں لایا   جاتا ہے۔2007 میں سوات آپریشن کا نام تھا  ’’آپریشن راہ حق‘‘،  باجوڑ میں 2008 میں آپریشن ہوا  تو’’ آپریشن شیر دل‘‘ 2009 میں سوات میں دوسری بار’’ آپریشن راہ راست‘‘ کیا گیا، خیبر ایجنسی میں ہونے والے آپریشنز کو ’’خیبر ون‘‘، ’’خیبرٹو‘‘ اور ’’خیبرتھری‘‘ کے نام سے پکارا گیا۔ جنوبی وزیرستان کے آپریشن کو ’’آپریشن راہ نجات’’ کا نام دیا گیا۔ 2014 کے آپریشن کو ’’ضرب عضب‘‘ کا نام ملا اور اب 2017میں آپریشن ’ردالفساد‘ پرپورے جوش اور جذبے سے عمل ہورہا ہے۔ ایک عام آدمی کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کہ آپ جو دہشت گردوں سے لڑرہے اس آپریشن کا نام کیا ہے،۔ وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ ہماری فوج دہشتگردوں کے خلاف لڑرہی ہے۔ لہذا یہ بہتر ہوگا کہ آیندہ فوج کو اگر کسی  اور آپریشن میں نئے نام کی ضرورت پڑے  تو ضرور رکھے، لیکن یہ اس کا اندرونی  معاملہ ہو تو بہتر ہے ۔ اس کی تہشیر نہ کی جائے، کیونکہ اس وقت عام لوگوں کا سوال یہ ہے کہ کیا آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ ناکام ہوگیا‘‘۔

دہشتگردوں کا بھی یہ ہی حال ہےکہیں یہ جماعت الاحرار کی شناخت رکھتے ہیں اور کہیں وہ لشکر جھنگوی ہوجاتے ہیں، کہیں القاعدہ برصغیر ہند کراچی اور کہیں  داعش بن جاتے ہیں۔ دہشتگردوں کے بارے میں پاکستانی فوج کے ترجمان بھی یہ نہیں بتاسکتے  کہ یہ جو  دہشتگردوں کے نظریات ہیں  ان میں تحریک طالبان (افغانستان و پاکستان)، جماعت الاحرار، القاعدہ برصغیر، داعش، کشمیری جہادی گروپ، جیش محمد، لشکر طیبہ، حقانی نیٹ ورک ،اہلسنت والجماعت دیوبندی، لشکر جھنگوی، لال مسجد نیٹ ورک، جماعت دعوۃ کے درمیان کیا فرق ہے؟  کوئی فرق نہیں ہے، اس کا صرف ایک نظریہ ہے ’’انسانیت سے دشمنی‘‘  ان کا کام صرف دہشتگردی ہے۔ ان کےکارنئے جہاں جس جماعت کا نام استمال کرنا چاہتے ہیں،  اس کا نام لیتے ہیں اور دہشتگردی کرتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ کوئی بھی نام استمال کرتے ہیں لیکن ان کا مقصد بےگناہ لوگوں کو قتل کرنا اورشہریوں میں خوف و ہراس پھیلاناہے۔ اور عام لوگ یہ نہیں جانتے کہ یہ کونسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں وہ ان کو صرف ایک ہی نام سے پکارتے ہیں،’’دہشتگرد‘‘۔

ایک بات ہم سب کو مان لینی چاہیے کہ ہمارا معاشرہ دارالفساد بن چکا ہے۔ فساد کی صفائی ہمہ گیر، موثر اور منظم آپریشن کے بغیر ممکن نہیں ورنہ آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کی مانند آپریشن  ’’ردالفساد‘‘ بھی اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکے گا۔ دہشتگردی کی اصل بنیاد کرپشن ہے۔ اگر ایسا کہا جائے کہ ہم بحثیت قوم کرپٹ ہو چکے ہیں تو غلط نہ ہوگا کیونکہ ہمارا ہر ادارہ اور لوگ کرپٹ  ہیں۔ ریلوے، پی آئی ائے، اسٹیل مل، واپڈا ، پولیس، عدلیہ، پٹواری ،تحصیل دار وغیرہ سب کے سب کرپٹ ہیں اور رشوت دیئے بغیر جائز کام بھی نہیں ہو سکتے۔ پاکستان میں ہروہ شخص لوٹ مار کررہا ہےجس کو موقع مل رہا ہے۔ جیلیں مجرموں کی پناہ گاہیں بن چکی ہیں، تھانوں میں پولیس اور عدالتوں میں انصاف بکتا ہے۔ ہم ایک دوسرے کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں کھانے پینے کی اشیا کی ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اور ناجائز منافع خوری کر تے ہیں۔ پاکستانی سیاستدان، سیاست کاروبار کے طورپرکرتے ہیں اورکروڑوں لگاکراربوں کماتے ہیں، صورتحال یہ ہے کہ ہمارے کرپٹ سیاستدان جو عوام کے بنیادی حقوق روٹی کپڑا اور مکان کے علاوہ غربت کا خاتمہ، لوڈ شیڈنگ، تعلیم ، پانی اور صحت جیسے عوامی مسائل پر روتے رہتے ہیں عملی طور پر کرپشن اور لوٹ مارسے اثاثے بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں، پیپلز پارٹی کا پانچ سالہ دور اور موجودہ حکومت پاناما لیکس اس کی بدترین مثالیں ہے۔

جنرل قمرجاوید باجوہ صاحب پاکستان  جسے اب لوگ ’’دارالفساد‘‘  کا نام دے رہے ہیں  اور اس سےاگر آپ واقعی آپریشن ’’ردالفساد‘‘ کے زریعےدہشتگردی کا  خاتمہ کرنا چاہتے ہیں تو دارالفساد بن جانے والی اس ریاست پاکستان سے آپ کوسب سے پہلے کرپشن کا خاتمہ کرنا  ہوگا۔ کیونکہ ہر دہشتگردی کے پیچھے کرپشن ہوتی ہے۔ دہشتگرد اپنے لیے وسائل کرپشن کے ذریعے ہی حاصل کرکے دہشتگردی میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان  میں کرپشن موجود رہی تو شایدآپریشن’’ردالفساد‘‘ بھی کامیاب نہ ہوپائے۔

تحریر: سید انور محمود 

زمرہ جات:   Horizontal 4 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)