رد الفساد کی کامیابی کے لئے کرپشن ختم کرنا ضروری ہے

تمام عالم میں جگر گوشہ رسول کا ماتم

مسجد الحرام میں تاش کھیلنے والی خواتین کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

پاکستانی سکولوں میں چینی زبان لازمی، سینیٹ میں قرارداد منظور

خود کشی کی کوشش جرم نہیں بیماری، سینیٹ میں سزا ختم کرنے کا ترمیمی بل منظور

امریکہ شام میں آگ سے نہ کھیلے : روس

کیا فدک حضرت زہرا (س) کے موقوفات میں سے تھا یا نہیں؟

لعل شہباز قلندر کے مزار پہ بم دھماکے میں تکفیری دیوبندی خطیب لال مسجد کے رشتے دار ملوث ہیں – سندھ پولیس/ رپورٹ بی بی سی اردو

اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کا افسانہ ختم ہو چکا ہے

 فرانسیسی زبان میں حضرت زهرا (س) کے لیے مرثیه‌ خوانی 

سعودی عرب کو شرک اورکفر کے فتوے نہ دینے کا مشورہ

ایرانی طیارے کے حادثے پر پاکستان کی تعزیت

سعودی عرب میں غیر ملکی خاتون سے اجتماعی زیادتی

کوئی ملک پاکستان کو دہشت گردی کی بنا پر واچ لسٹ میں نہیں ڈال سکتا، احسن اقبال

بلوچ ـ مذہبی شدت پسندی – ذوالفقار علی ذوالفی

تصاویر: شام میں ترکی کے حمایت یافتہ افراد کی کردوں کے خلاف جنگ

دنیا پاکستان کا سچ تسلیم کیوں نہیں کرتی؟

سعودی عرب نے عورتوں کو شوہر کی اجازت کے بغیر کار و بار کی اجازت دیدی

اسرائیل، شام میں ایران کی موجودگی کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے؛ گوٹرش

اسمارٹ فون سے اب ڈیسک ٹاپ میں تصاویر منتقل کرنا آسان ہو گیا

نیب نے خادم پنجاب روڈ پروگرام اور میٹروبس میں کرپشن کی تحقیقات شروع کردیں

ایران کا مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ، 66 مسافر سوار تھے

بھارتی اور داعشی کے خطرات میں پاک فوج کی سعودیہ عرب میں تعیناتی خلاف عقل ہے

عوام سے ووٹ لے کر آنا قانون سے بالاتر نہیں بنادیتا، عمران خان

حضرت فاطمہ زہرا (س) کی شہادت

آصف زرداری کا راؤ انوار سے متعلق اپنے بیان پر اظہارِ افسوس

توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگانے پر سخت سزا کی تجویز

عمران کو سزا پاکستان کے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے

ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل باجوہ کو مشرف تصور کر کے غلطی کی: برطانوی تھنک ٹینک

فخر سے کہہ سکتے ہیں پاکستانی سرزمین پر دہشتگردوں کا کوئی منظم کیمپ موجود نہیں، پاک آرمی چیف

نائیجیریا میں یکے بعد دیگرے 3 خودکش حملوں میں 22 افراد ہلاک

سعودیہ میں فوجی دستوں کی تعیناتی

ایران اور ہندوستان نے باہمی تعاون کے 15 معاہدوں اور دستاویزات پر دستخط کردیئے

پاکستانی فوجیوں کو سعودی عرب کے زمینی دفاع کو مضبوط کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے، خرم دستگیر

17 امریکی سیکیورٹی سروسز کا پاکستانی ایٹمی پروگرام سے اظہارِ خوف

شام سے برطانیہ کے 100 دہشت گردوں کی واپسی کا خدشہ

آرام سے کھانا کھائیے، موٹاپے سے محفوظ رہیے

علامہ سید ساجد علی نقوی کا شہدائے سیہون شریف کی پہلی برسی سے خطاب

زینب کے گھر والوں کا مجرم کو سرِعام پھانسی دینے کا مطالبہ

زینب کے قاتل عمران علی کو 4 بار سزائے موت کا حکم

کرپشن الزامات کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

پاکستان کی 98 فیصد خواتین کو طبی و تعلیمی سہولیات میسر نہیں

شیعہ حریت لیڈر یوسف ندیم کی ہلاکت قتل ناحق ہے، بار ایسوسی ایشن

پاکستانی سینیٹ کا فوجی دستہ سعودی عرب بھیجنے پر تشویش کا اظہار

اسرائیل میں وزیراعظم نتین یاہو کے خلاف ہزاروں افراد کا مظاہرہ

سعودی علماء کونسل : عرب خواتین کے لئے چادر اوڑھنا ضروری نہیں ہے

صدر روحانی کا حیدر آباد کی تاریخی مسجد میں خطاب

افغانستان میں داعش کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ایشیا کے امن کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے

آیت اللہ زکزی کی رہائی کا مطالبہ

فاروق ستار کا اپنے سینیٹ امیدواروں کے ناموں سے دستبرداری کا اعلان

بن سلمان کا سعودی عرب؛ حرام سے حلال تک

پاکستان کی دہشت گردی کے معاملات میں کوتاہیوں پر تشویش ہے، امریکہ

اسلام آباد دھرنوں اور احتجاج پر خزانے سے 95 کروڑ روپے خرچ ہوئے، انکشاف

نقیب قتل کیس؛ راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم واپس، بینک اکانٹس منجمد

مغربی موصل کو بارودی مواد سے صاف کرنے کے لئے دس سال درکار ہیں؛ اقوام متحدہ

جو شخص یقین کی منزل پر فائز ہوتا ہے وہ گناہ نہیں کرتا ہے

عالمی دباؤ کا مقابلہ داخلی ہم آہنگی سے کیا جائے

تعاون اور اعتماد سازی

عدالت جواب دے یا سزا ۔ فیصلہ چیف جسٹس کو کرنا ہے

میں نہیں مان سکتا کوئی ڈکیت پارٹی صدر بن کر حکومت کرے، چیف جسٹس

انسانی حقوق کے عالمی چیمپئن کے دعویدار مسئلہ کشمیر و فلسطین پر خاموش کیوں ہیں

ایران کی ترکی کو ایک نرم دھمکی

معاشرہ، امربالمعروف ونہی عن المنکرسے زندہ ہوتا ہے

یمن پر سعودی جنگی طیاروں کے حملے جاری

ریڑھ کی ہڈی کا پانی کیا ہےاور یہ کیوں نکالا جاتا ہے؟

زینب قتل کیس کا فیصلہ محفوظ، ہفتے کو سنایا جائے گا

جنوبی ایشیا میں امن کی تباہی کا ذمہ دار بھارت ہے: وزیر دفاع

لودھراں الیکشن ہارنے کی وجہ ہمارے لوگوں کی (ن) لیگ میں شمولیت ہے: عمران خان

شام میں اسرائیل اور ایران کے مابین ایک علاقائی جنگ کے واقع ہونے کی علامتیں

بیلجیئم کی حکومت کا سعودی عرب کی تعمیر کردہ جامع مسجد کو اپنی تحویل میں لینے کا مطالبہ

حضرت زہرا(س) کی شہادت سےمربوط واقعات کا تجزیہ وتحلیل

2017-02-28 20:50:01

رد الفساد کی کامیابی کے لئے کرپشن ختم کرنا ضروری ہے

سنیشنل ایکشن پلان بھی دہشتگردی کو روکنے اور مزید نقصان سے بچانے کی ایک کڑی ہے۔ اس پلان پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں جو اس با ت کا ثبوت تھا کہ قومی سطح پر تما م دہشتگردوں سے بغیر کسی رعایت کے آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائے گا۔ سول و ملٹری قیادت نے ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اتفاق رائے سے نیشنل ایکشن پلان کا اعلان کیا تھا۔

پچھلے دو سال میں نیشنل ایکشن پلان کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھتے رہے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے کچھ نکات ایسے بھی ہیں جن پر عمل نہیں ہوا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان بنا اور سیاسی قیادت نے کریڈٹ لینے کے لئے امن بحال کرنے کے اعلانات کے ڈھیر لگا دیے۔ لیکن اس پر عمل کرنے میں اس جذبے اور یکسوئی کا مظاہرہ نہ کیا گیا جس کی ضرورت تھی۔ کئی افراد نیشنل ایکشن پلان کے کمزور عمل در آمد کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اے این پی کے رہنما افراسیاب خٹک نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا،’’طورخم بارڈر کی بندش پاکستان کی کمزور حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے۔ سہون کے غصے کو ہزاروں کلومیٹر دور افغانستان پر کیوں نکالا جا رہا ہے؟ کیا افغانستان نے نیشنل ایکشن پلان کے عمل در آمد کو روکا تھا ؟‘‘۔

2017 کے پہلے ماہ میں کرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار میں 21 جنوری بروز ہفتہ سبزی و فروٹ منڈی میں صبح 8بجکر 50 منٹ پر ایک زوردار دھماکہ ہوا  جس کے نتیجے میں 25افراد جاں بحق اور 65افراد زخمی ہوگئے ۔ وزیر اعظم نواز شریف اس وقت لندن  میں تھے، وہاں سے ہی ان کا رسمی بیان آگیا تھا۔ فروری کے ماہ میں پے در پے ہونے والی دہشتگردیوں میں اب تک 200 سے زیادہ  بے گناہ افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ  400 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ ان دہشتگرد کارروائیوں کے بعدمنگل 21 فروری  کو فوج کی جانب سے آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کی جگہ ایک اور ملک گیرآپریشن’’ ردالفساد‘‘ کے نام سے شروع کیا گیا ہے جس میں بری بحری فضائی افواج اور قانون نافذ کرنیوالے تمام ادارے شامل ہوں گے۔  پنجاب رینجرز بھی اس آپریشن کاحصہ ہوگی۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں ضرب عضب کے نام سے پہلے ہی ایک آپریشن جاری ہے۔ 15 جون 2014 کو آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ آئی ایس پی آر کے ایک اعلامیے سے شروع کیا گیا۔  وزیر اعظم نواز شریف کو بھی شاید  آئی ایس پی آر کے اعلامیے سے ہی خبر ملی تھی اور اس نئے آپریشن ’’ ردالفساد‘ ‘کے وقت تو نواز شریف ملک سے باہر ترکی میں تھے جب   اس آپریشن کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اعلان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کا مقصد بلا تفریق دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ ملک بھر میں جاری انسداد دہشت گردی کی تمام کارروائیاں اب آپریشن ردالفساد کا اہم حصہ ہوں گی ۔نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اس آپریشن کا طرۂ امتیاز ہو گا۔ ملک بھر سے غیرقانونی اسلحے اور گولہ بارود کا خاتمہ بھی اس آپریشن کے نمایاں خطوط میں شامل ہے۔ مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے آپریشن ’رد الفساد‘ کا حصہ ہوں گے۔

آپریشن ’’رد الفساد‘‘ کے اعلان کے ساتھ ہی یہ سوال اٹھا کہ آخرنیشنل ایکشن پلان کی منظوری کے دو سال کے بعداورآپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کی کامیابیوں کے دعوؤں کے باوجود وہ کونسی وجوہات ہیں جن کے باعث فوج کو ایک بار پھر ایک نئے آپریشن ’’ردالفساد ـ‘‘ کی ضرورت پڑی۔ آرمی کو کیا ضرورت  محسوس ہوئی کہ ایک نئے نام سے آپریشن کیا جائے۔ کیا فوجی آپریشن کوئی پروڈکٹ ہے جو مختلف ناموں سے مارکیٹ میں لایا   جاتا ہے۔2007 میں سوات آپریشن کا نام تھا  ’’آپریشن راہ حق‘‘،  باجوڑ میں 2008 میں آپریشن ہوا  تو’’ آپریشن شیر دل‘‘ 2009 میں سوات میں دوسری بار’’ آپریشن راہ راست‘‘ کیا گیا، خیبر ایجنسی میں ہونے والے آپریشنز کو ’’خیبر ون‘‘، ’’خیبرٹو‘‘ اور ’’خیبرتھری‘‘ کے نام سے پکارا گیا۔ جنوبی وزیرستان کے آپریشن کو ’’آپریشن راہ نجات’’ کا نام دیا گیا۔ 2014 کے آپریشن کو ’’ضرب عضب‘‘ کا نام ملا اور اب 2017میں آپریشن ’ردالفساد‘ پرپورے جوش اور جذبے سے عمل ہورہا ہے۔ ایک عام آدمی کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کہ آپ جو دہشت گردوں سے لڑرہے اس آپریشن کا نام کیا ہے،۔ وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ ہماری فوج دہشتگردوں کے خلاف لڑرہی ہے۔ لہذا یہ بہتر ہوگا کہ آیندہ فوج کو اگر کسی  اور آپریشن میں نئے نام کی ضرورت پڑے  تو ضرور رکھے، لیکن یہ اس کا اندرونی  معاملہ ہو تو بہتر ہے ۔ اس کی تہشیر نہ کی جائے، کیونکہ اس وقت عام لوگوں کا سوال یہ ہے کہ کیا آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ ناکام ہوگیا‘‘۔

دہشتگردوں کا بھی یہ ہی حال ہےکہیں یہ جماعت الاحرار کی شناخت رکھتے ہیں اور کہیں وہ لشکر جھنگوی ہوجاتے ہیں، کہیں القاعدہ برصغیر ہند کراچی اور کہیں  داعش بن جاتے ہیں۔ دہشتگردوں کے بارے میں پاکستانی فوج کے ترجمان بھی یہ نہیں بتاسکتے  کہ یہ جو  دہشتگردوں کے نظریات ہیں  ان میں تحریک طالبان (افغانستان و پاکستان)، جماعت الاحرار، القاعدہ برصغیر، داعش، کشمیری جہادی گروپ، جیش محمد، لشکر طیبہ، حقانی نیٹ ورک ،اہلسنت والجماعت دیوبندی، لشکر جھنگوی، لال مسجد نیٹ ورک، جماعت دعوۃ کے درمیان کیا فرق ہے؟  کوئی فرق نہیں ہے، اس کا صرف ایک نظریہ ہے ’’انسانیت سے دشمنی‘‘  ان کا کام صرف دہشتگردی ہے۔ ان کےکارنئے جہاں جس جماعت کا نام استمال کرنا چاہتے ہیں،  اس کا نام لیتے ہیں اور دہشتگردی کرتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ کوئی بھی نام استمال کرتے ہیں لیکن ان کا مقصد بےگناہ لوگوں کو قتل کرنا اورشہریوں میں خوف و ہراس پھیلاناہے۔ اور عام لوگ یہ نہیں جانتے کہ یہ کونسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں وہ ان کو صرف ایک ہی نام سے پکارتے ہیں،’’دہشتگرد‘‘۔

ایک بات ہم سب کو مان لینی چاہیے کہ ہمارا معاشرہ دارالفساد بن چکا ہے۔ فساد کی صفائی ہمہ گیر، موثر اور منظم آپریشن کے بغیر ممکن نہیں ورنہ آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کی مانند آپریشن  ’’ردالفساد‘‘ بھی اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکے گا۔ دہشتگردی کی اصل بنیاد کرپشن ہے۔ اگر ایسا کہا جائے کہ ہم بحثیت قوم کرپٹ ہو چکے ہیں تو غلط نہ ہوگا کیونکہ ہمارا ہر ادارہ اور لوگ کرپٹ  ہیں۔ ریلوے، پی آئی ائے، اسٹیل مل، واپڈا ، پولیس، عدلیہ، پٹواری ،تحصیل دار وغیرہ سب کے سب کرپٹ ہیں اور رشوت دیئے بغیر جائز کام بھی نہیں ہو سکتے۔ پاکستان میں ہروہ شخص لوٹ مار کررہا ہےجس کو موقع مل رہا ہے۔ جیلیں مجرموں کی پناہ گاہیں بن چکی ہیں، تھانوں میں پولیس اور عدالتوں میں انصاف بکتا ہے۔ ہم ایک دوسرے کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں کھانے پینے کی اشیا کی ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اور ناجائز منافع خوری کر تے ہیں۔ پاکستانی سیاستدان، سیاست کاروبار کے طورپرکرتے ہیں اورکروڑوں لگاکراربوں کماتے ہیں، صورتحال یہ ہے کہ ہمارے کرپٹ سیاستدان جو عوام کے بنیادی حقوق روٹی کپڑا اور مکان کے علاوہ غربت کا خاتمہ، لوڈ شیڈنگ، تعلیم ، پانی اور صحت جیسے عوامی مسائل پر روتے رہتے ہیں عملی طور پر کرپشن اور لوٹ مارسے اثاثے بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں، پیپلز پارٹی کا پانچ سالہ دور اور موجودہ حکومت پاناما لیکس اس کی بدترین مثالیں ہے۔

جنرل قمرجاوید باجوہ صاحب پاکستان  جسے اب لوگ ’’دارالفساد‘‘  کا نام دے رہے ہیں  اور اس سےاگر آپ واقعی آپریشن ’’ردالفساد‘‘ کے زریعےدہشتگردی کا  خاتمہ کرنا چاہتے ہیں تو دارالفساد بن جانے والی اس ریاست پاکستان سے آپ کوسب سے پہلے کرپشن کا خاتمہ کرنا  ہوگا۔ کیونکہ ہر دہشتگردی کے پیچھے کرپشن ہوتی ہے۔ دہشتگرد اپنے لیے وسائل کرپشن کے ذریعے ہی حاصل کرکے دہشتگردی میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان  میں کرپشن موجود رہی تو شایدآپریشن’’ردالفساد‘‘ بھی کامیاب نہ ہوپائے۔

تحریر: سید انور محمود 

زمرہ جات:   Horizontal 4 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

مرحوم منشور کی یاد میں

- ایکسپریس نیوز

کرائے کی مائیں

- ایکسپریس نیوز

جمہوری اصلاحات کا مسئلہ

- ایکسپریس نیوز

مشورے کی اہمیت

- ایکسپریس نیوز

تاریخ رقم ہوگی

- ایکسپریس نیوز

ریٹائرڈ ملازمین

- ایکسپریس نیوز

سچا اور امانت دار

- ایکسپریس نیوز