کیا الزامات کا پرانا کھیل پاکستان اور افغانستان کو مسائل حل کرنے میں مدد دے گا؟

بٹ کوائن کے ذریعہ داعش کی فنڈنگ، پاکستانی دیوبندی خاتون زوبیہ شہناز گرفتار

داعش کے بعد بھی عراق میں تکفیری گروہوں کی سرگرمیوں کا امکان

امریکی روپ دھارے اسرائیلی جاسوس داعش کی مدد کیلئے افغانستان پہنچنا شروع

سعودی شہزادوں کی اوپن ٹرائل کی درخواست

اسلامی بلاک بمقابلہ امریکی بلاک/ مختصر جائزہ

بیت المقدس سے متعلق OIC قرارداد مسلمین عالم کے جذبات کی آئینہ دار: آغا حسن

سعودی عرب نے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے کا اعتراف کر لیا

امریکہ اور اس کے حواری عالم انسانیت کے مجرم ہیں: علامہ مقصود ڈومکی

امام غائب (عج) کو کس نام سے پکاریں؟

یمن سے ریاض پر داغا جانے والا میزائل ایرانی نہیں تھا

اسلامی ممالک صرف بیانات دینے پر ہی اکتفانہ کریں: خطیب جمعہ تہران

ایک سال کی تلاشی کے بعد اپنے حق میں فیصلے پر خوشی ہوئی: عمران خان

نواز شریف کا نظریہ

سعودی حکمرانوں کی اسلام مخالف پالیسیوں پر حریت رہنما کی کڑی تنقید

قدس کے بارے میں ٹرمپ کے فیصلے نے امریکہ کو اکیلا کردیا

82 فیصد فلسطینی سعودیہ پر اعتماد نہیں کرتے؛ سروے

اردغان نے مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لئے امریکی چودھراہٹ کو مسترد کردیا

دہلی میں امریکہ مخالف مظاہرہ

گاجر کے رس کے حیرت انگیز فوائد

روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سرکاری فوج کے مظالم کے انکشافات

تقریریں تو خوب رہیں، نتیجہ ڈھاک کے تین پات

سعودی ولی عہد کو اسرائیل کے دورے کی دعوت

آل خلیفہ اسرائيل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنا کر تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہوجائیں گے

شام میں امریکی فوج کی موجودگی غیر قانونی ہے: روس

مسئلہ فلسطین: اتحاد یا پھر اپنی باری کا انتظار

کراچی : پی ایس 128 میں کالعدم جماعت کی الیکشن مہم، سیکورٹی ادارے خاموش

بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا افغان لڑکیوں کو پاکستان مین دہشتگردی کہ لیے ٹریننگ دینے کا انکشاف

اسرائیل کے قیام پر علامہ اقبال کا بیان

حضرت امام مہدی(عج) کی حوائج کےحصول کے لیےنصیحت

او آئی سی کا ہنگامی اجلاس: مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ

ناقابل قبول عدالتی فیصلہ

پاکستان اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ کام کرنا پر لطف نہیں: امریکی وزیر خارجہ

پاکستان کیلیے امریکی امداد دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی سے مشروط

لگتا نہیں اسمبلیاں مدت پوری کریں گی، ایاز صادق

مذہبی جماعتوں کا ایم ایم اے کی بحالی کا اعلان

ایران کا بیت المقدس کے دفاع کے لئے اسلامی ممالک سے تعاون پر آمادگی کا اظہار

شام میں کردوں، امریکیوں اور داعشیوں کے درمیان تین سمجھوتوں کا راز

یمن میں 8 ملین افراد شدید قحط کا شکار

ٰیروشلم : پہلے مسلمان خود تو اتحاد کر لیں

القدس سے متعلق امریکی اعلان پراوآئی سی کا ہنگامی اجلاس

فلسطینی امن عمل میں امریکا کا کردار ختم ہوگیا: خواجہ آصف

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات

سعودی سلطنت کا مستقبل

ترکی اور روس نے مقبوضہ القدس سے متعلق امریکی اعلان خطرناک قراردے دیا

ملک میں جمہوریت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

پانچ استعفوں پر حکومت گرانے کا خواب

مقام شہادت ایک درجہ کمال ہے، ان کو نصیب ہوتا جو معرفت الہی کے راہی ہوتے ہیں: علامہ امین شہیدی

او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس، وزیر اعظم ترکی پہنچ گئے

ایران اور پاکستان کے درمیان ثقافتی میدانوں میں تعلقات کو فروغ دینے پر تاکید

ایران اور برطانیہ کے تعلقات میں نئے دور کا آغاز

بعض لوگ میری پشت میں خنجر گھونپنا چاہتے تھے

بیت المقدس اور فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے مسئلہ کو فراموش کردیں

ہماری نگاہیں قدس کی جانب ہیں اور قدس کی نگاہیں سید مقاومت کی طرف

سعودی نواز پاکستانی اینکر کا بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کے فیصلے کا دفاع

پاکستانی عدالتیں فوجی حکومتوں کی باقیات ہیں

ٹرمپ نے سعودیہ، مصر اور امارات کے مشورے کے بعد بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا

مسلم عسکری اتحاد اپنی پوزیشن واضح کرے کہ یہ اتحاد کیوں اور کس لئے بنایاگیا،17دسمبر کو ملین مارچ ہوگا امیر جماعت اسلامی

نماز تمام انسانی کمالات کو حاصل کرنے کا وسیلہ ہے

برسلز بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کرتا: موگرینی

ٹرمپ کا اقدام بعض عرب ملکوں کی سازش کا نتیجہ

ٹرمپ کا فیصلہ اسرائیل کی نابودی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا

عراق میں داعش کے خلاف کامیابی پر نجف میں کانفرنس

یمن پر سعودی جارحیت بند کی جائے، اقوام متحدہ

سعودی عرب کا سینما ہالوں پر عائد پابندی اٹھانے کا اعلان

امریکی سینیٹروں کی جانب سے ٹرمپ کے استعفے کا مطالبہ

مدینہ میں مسجدِ نبوی کے قریب خود کش حملہ: سعودی تاریخ کے بھیانک پہلو

عالم اسلام میں صرف شیعہ ہی مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھےہوئے ہیں، شہزاد چوہدری

یہ ٹرمپ نہیں بول رہا بلکہ ڈھول بول رہے ہیں !!!

لمحہ فکریہ! بیت المقدس تنازعہ پر ساری دنیا سراپائے احتجاج،سعودی عرب میں احتجاج پر پابندی!

امریکہ استکباری ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکر عالمی امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے، سبطین سبزواری

2015-11-18 12:44:23

کیا الزامات کا پرانا کھیل پاکستان اور افغانستان کو مسائل حل کرنے میں مدد دے گا؟

PA34243211پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے واشنگٹن میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورہ امریکا کے حوالے سے اتوار کو میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان نے آپریشن ضرب عضب کی حمایت میں اقدامات نہیں کیے، افغانستان اوراتحادی فوج کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ضرب عضب سے بچنے کے لیے دہشت گرد افغانستان میں فرار ہوں گے ، دہشت گردوں کو روکنے کے لیے افغانستان کو بھی اقدامات کرنے چاہیں، دہشت گردوں کو فرار ہونے سے روکنے کے لیے سرحد پر سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے افغان قیادت کے رویے کے حوالے سے جن خیالات اور خدشات کا اظہار کیا، ان کی حقیقت ماضی قریب کے حالات و واقعات سے ثابت ہے۔ افغان حکومت اپنی سرزمین پر رونما ہونے والے دہشت گردی کے ہر واقعہ کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا دیتی ہے‘ اور ایسا کرتے ہوئے یہ نہیں سوچتی کہ اس طرح حالات کبھی بہتر نہیں ہو سکیں گے، افغانستان میں کبھی پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکے گا۔ دور کیا جانا‘ آپریشن ضرب عضب کی مثال سب کے سامنے ہے۔ افغان انتظامیہ، امریکہ اور برطانیہ سمیت پوری عالمی برادری اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ یہ آپریشن صرف پاکستان میں امن قائم کرنے کے لیے نہیں‘ بلکہ مقصود اس خطے اور پوری دنیا کو پُرامن بنانا ہے۔ ظاہر ہے اس سے افغانستان کو بھی فائدہ پہنچے گا‘ اسی لیے گزشتہ برس جب یہ آپریشن شروع کیا گیا‘ تو افغان حکومت اور ایساف کمانڈروں سے کہا گیا کہ وہ اپنی شمالی وزیرستان کے ساتھ لگنے والی سرحد بند کر دیں، تاکہ کوئی دہشت گرد یا کوئی بھی عسکریت پسند گروہ فرار ہو کر افغانستان فرار نہ ہو سکے‘ نہ وہاں پناہ لے سکے‘ اور اس طرح پاکستان پر جن پناہ گاہوں کا الزام لگایا جاتا ہے، وہ افغانستان میں قائم نہ ہو سکیں‘ لیکن افغان حکومت اور ایساف کمانڈرز، دونوں نے وعدہ کرنے کے باوجود اس سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدام نہ کیا۔ اگر افغان فورسز سرحد پر نگرانی سخت کرتیں تو فرار ہونے والے دہشت گردوں کے لئے کوئی راستہ نہ تھا انہیں آسانی سے پاک فوج کیفر کر دار تک پہنچا دیتی لیکن بعض گروپوں کو اس وقت فرار ہونے کا موقع مل گیا یہ درست ہے کہ ضرب عضب کے نتیجے میں سینکڑوں دہشت گرد مارے گئے بھاری تعداد میں گرفتار کئے گئے لیکن بہت سے فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوگئے اگر اس وقت افغان حکومت اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتی تو آج اس کی پریشانیوں میں اضافہ نہ ہوتا آج کابل انتظامیہ بار بار دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے پاکستان کو پکار رہی ہے لیکن پاکستان افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتا یہ بہر صورت افغان حکومت ہی کی ذمہ داری ہے پاکستان اپنے اس موقف پر آج بھی قائم ہے کہ افغانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے ماضی میں جب افغانستان کو سوویت جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو پاکستان نے افغان عوام کے ساتھ مل کر افغانستان کی آزادی اور اس کی غیر جانبداری بحال کرنے کے لئے جدوجہد میں حصہ لیا اس نے 30لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو بھی قبول کیا سوویت فوجوں کے جانے کے بعد پاکستان نے افغانستان کی تعمیر نو کے لئے بھی اہم کر دار ادا کیا اب بھی وہ افغانستان میں قیام امن کے لئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے تیارہے پاکستان اس سے زیادہ اور کیا کر سکتا ہے وہ صدر اشرف غنی کی حکومت بچانے کے لئے تو افغانستان کے اندر داخل ہو کر کوئی بھی کر دار ادا کرنے سے تو رہا کابل انتظامیہ کو یہ تمام تر حقائق تسلیم کرنے چاہئیں توقع کی جاسکتی ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے امریکہ کے دورے کے دوران افغانستان میں قیام امن بھی ان کے امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں ایجنڈے میں شامل ہوگا، اور امن کا کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کی جائے گی تا ہم افغان طالبان کو بھی امن سے اپنی ذمہ داری محسوس کرنی ہوگی قتل و غارت اور خونریزی بہت ہو چکی افغانستان ان کا ملک ہے اور اس میں قیام امن کے لئے سب سے زیادہ ذمہ داری ان پر ہی عائد ہوتی ہے افغان حکومت کو بھی اپنے اقتدار سے زیادہ مملکت کے مفادات اور امن کو ترجیح دینی ہوگی کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں ان دونوں فریقوں کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے امن کی کلید ان دونوں ہی کے ہاتھ میں ہے، یہ امریکہ یا پاکستان کے پاس نہیں۔

زمرہ جات:   Horizontal 4 ، پاکستان ، دنیا ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

اسلام کی معرفت

- سحر نیوز

یادوں کے جھروکے

- سحر نیوز

چیف جسٹس کابابا رحمت

- ڈیلی پاکستان