کیا الزامات کا پرانا کھیل پاکستان اور افغانستان کو مسائل حل کرنے میں مدد دے گا؟

بشریت امام زمانہ(ع) کے ظہور کی کیوں پیاسی ہے؟

کردستان میں ریفرنڈم عراق کی خود مختاری کے لیے خطرہ ہے: مشرق وسطیٰ کے ماہر

امریکہ دہشتگردوں کی پشت پناہی کررہا ہے: ترکی

پاکستان نجی سرمایہ کاری کیلئے 5 بہترین ممالک میں شامل

'فاروق ستار کے لندن سے رابطے ہیں، سٹیبلشمنٹ کو دھوکہ دیا جا رہا ہے'

گلگت بلتستان بنام وفاق پاکستان

پاکستان میں چینی سفیر پر حملے کا خدشہ

یمن میں ہیضے میں مبتلا افراد کی تعداد 8 لاکھ

پاکستان اور امریکہ

افغانستان میں حملے: داعش کہاں ختم ہوئی؟!

سیاسی رسہ کشی میں نشانے پر پاکستان ہے

پاکستان میں 5 جی سروس شروع کرنے کی تیاری

سیاسی انتقام کی بدترین مثال،بحرینی جیلوں میں 4000 سے زائد سیاسی قیدی

زید حامد، دہشتگردوں کا سہولت کار

شریف خاندان میں بڑھتے ہوئے اختلافات

'شہباز شریف، چودھری نثار اور خواجہ سعد رفیق بھی ساتھ چھوڑ دیں گے'

معیشت کی تباہ حالی کے ذمہ دار کرپٹ حکمران ہیں، کرپشن ملک کیخلاف معاشی دہشتگردی ہے: علامہ راجہ ناصرعباس

مغرب پر اعتماد سب سے بڑی غلطی تھی: پوتن

احسان فراموش زید حامد کی شرانگیزی

بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ نے ایران کے خلاف امریکی صدر کا الزام مسترد کردیا

کابل کی مسجد امام زمان میں خودکش حملہ، درجنوں شیعہ نمازی شہید

نوازشریف اوران کے خاندان کو فوری گرفتار کیا جائے: آصف زرداری

یمن کے انسانی حالات کے بارے میں کچھ حقائق

سعودیہ نے امریکہ کی حکمت عملی کی حمایت کرکے روس کی ثالثی ٹھوکرا دی

داعش کے ٹوٹنے سے القاعدہ کی طاقت میں اضافہ

کیا روس نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جگہ لے لی ہے ؟

فلسطینی گروہوں کی مفاہمت پر ایک نظر

پاک افغان سرحدی بحران، پاراچنار پر مرتب ہونے والے خطرناک نتائج

ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی بیماری اور دنیا کو درپیش خطرات

سادہ سا مطالبہ ہے کہ لاپتہ افراد کو رہا کرو: ایم ڈبلیو ایم

ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ دنیا اور ایران کی فتح ہے: موگرینی

قندھار میں طالبان کے کار بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 58 تک پنہچ گئی

خطبات امام حسین اور مقصد قیام

افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ مراکز ہیں: نفیس ذکریا

پاکستان میں انصاف کا خون ہورہا ہے پھر بھی تمام مقدمات کا سامنا کروں گا: نوازشریف

سید الشہداء (ع) کی مصیبت کی عظمت کا فلسفہ

سعودی عرب داعش کا سب سے بڑا حامی ہے: تلسی گیبارڈ

امریکہ کے ملے جلے اشارے، پاکستان کو ہوشیار رہنے کی ضرورت

پاکستان میں سال کا خونریز ترین ڈرون حملہ

حماس اور الفتح کے مابین صلح میں مصر کا کردار

عراق کی تقسیم کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟

آن لائن چیزیں بیچنے کے 6 طریقے

داعش، عصر حاضر کے خوارج ہیں

یورپی یونین واضح کرے کہ ترکی کو اتحاد میں شامل کرنا ہے یا نہیں: اردوغان

داعش کے ٹوٹنے سے القاعدہ کی طاقت میں اضافہ

خواتین پر جنسی حملے، دنیا کے بدترین شہروں میں نئی دہلی سر فہرست

امریکہ قابل اعتماد نہیں ہے

جوان، عاشورا کے عرفانی پہلو کے پیاسے ہیں

مسلم لیگ (ن) کا سیاسی امتحان – محمد عامر حسینی

عراق میں ریفرنڈم کا مسئلہ ماضی کا حصہ بن چکا ہے: العبادی

علامہ عباس کمیلی کی علامہ احمد اقبال سے پولیس اسٹیشن میں ملاقات، جیل بھرو تحریک کی حمایت کا اعلان

برطانیہ میں بدترین دہشتگردی کا خطرہ ہے: سربراہ خفیہ ایجنسی

سعودیہ، اور یمن جنگ میں شکست کا اعتراف

کیا سعودیہ اپنی خطے کی پالیسیوں میں تبدیلی لانا چاہتا ہے؟

حلقہ این اے فور میں ضمنی الیکشن

سول ملٹری تصادم: قومی مفاد کا رکھوالا کون

انسان دوستی، انسان دشمنی

شام کا شہر رقہ داعش کے قبضے سے آزاد

ٹرمپ کی باتیں اس کی شکست اور بے بسی کی علامت ہیں: جنرل سلامی

یمن میں متحدہ عرب امارات کے 2 پائلٹ ہلاک

افغانستان: پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ،32 ہلاک 200 زخمی

عراق: مخمور سے بھی پیشمرگہ کی پسپائی

ایٹمی جنگ کسی بھی وقت چھڑ سکتی ہے

آئندہ انتخابات جیتنے کے بعد ملک کے تمام ادارے ٹھیک کریں گے: عمران خان

نیوز ون چینل کے مالک کے داعش سے مراسم، خطرناک انکشاف

انڈیا میں سبھی مذاہب کے لیے یکساں قانون کے نفاذ کا راستہ ہموار

مشرق وسطیٰ کو «سی آئی اے» کے حوالے کرنا، ٹرمپ کی اسٹرٹیجک غلطی

حضرت زینب (س) کس ملک میں دفن ہیں؟

ایران جوہری معاہدہ، امریکہ اپنے وعدوں پر عمل کرے: یورپی یونین کا مطالبہ

امام سجاد(ع) کا طرز زندگی انسان سازی کیلئے بہترین نمونہ ہے

2015-11-18 12:44:23

کیا الزامات کا پرانا کھیل پاکستان اور افغانستان کو مسائل حل کرنے میں مدد دے گا؟

PA34243211پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے واشنگٹن میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورہ امریکا کے حوالے سے اتوار کو میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان نے آپریشن ضرب عضب کی حمایت میں اقدامات نہیں کیے، افغانستان اوراتحادی فوج کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ضرب عضب سے بچنے کے لیے دہشت گرد افغانستان میں فرار ہوں گے ، دہشت گردوں کو روکنے کے لیے افغانستان کو بھی اقدامات کرنے چاہیں، دہشت گردوں کو فرار ہونے سے روکنے کے لیے سرحد پر سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے افغان قیادت کے رویے کے حوالے سے جن خیالات اور خدشات کا اظہار کیا، ان کی حقیقت ماضی قریب کے حالات و واقعات سے ثابت ہے۔ افغان حکومت اپنی سرزمین پر رونما ہونے والے دہشت گردی کے ہر واقعہ کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا دیتی ہے‘ اور ایسا کرتے ہوئے یہ نہیں سوچتی کہ اس طرح حالات کبھی بہتر نہیں ہو سکیں گے، افغانستان میں کبھی پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکے گا۔ دور کیا جانا‘ آپریشن ضرب عضب کی مثال سب کے سامنے ہے۔ افغان انتظامیہ، امریکہ اور برطانیہ سمیت پوری عالمی برادری اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ یہ آپریشن صرف پاکستان میں امن قائم کرنے کے لیے نہیں‘ بلکہ مقصود اس خطے اور پوری دنیا کو پُرامن بنانا ہے۔ ظاہر ہے اس سے افغانستان کو بھی فائدہ پہنچے گا‘ اسی لیے گزشتہ برس جب یہ آپریشن شروع کیا گیا‘ تو افغان حکومت اور ایساف کمانڈروں سے کہا گیا کہ وہ اپنی شمالی وزیرستان کے ساتھ لگنے والی سرحد بند کر دیں، تاکہ کوئی دہشت گرد یا کوئی بھی عسکریت پسند گروہ فرار ہو کر افغانستان فرار نہ ہو سکے‘ نہ وہاں پناہ لے سکے‘ اور اس طرح پاکستان پر جن پناہ گاہوں کا الزام لگایا جاتا ہے، وہ افغانستان میں قائم نہ ہو سکیں‘ لیکن افغان حکومت اور ایساف کمانڈرز، دونوں نے وعدہ کرنے کے باوجود اس سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدام نہ کیا۔ اگر افغان فورسز سرحد پر نگرانی سخت کرتیں تو فرار ہونے والے دہشت گردوں کے لئے کوئی راستہ نہ تھا انہیں آسانی سے پاک فوج کیفر کر دار تک پہنچا دیتی لیکن بعض گروپوں کو اس وقت فرار ہونے کا موقع مل گیا یہ درست ہے کہ ضرب عضب کے نتیجے میں سینکڑوں دہشت گرد مارے گئے بھاری تعداد میں گرفتار کئے گئے لیکن بہت سے فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوگئے اگر اس وقت افغان حکومت اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتی تو آج اس کی پریشانیوں میں اضافہ نہ ہوتا آج کابل انتظامیہ بار بار دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے پاکستان کو پکار رہی ہے لیکن پاکستان افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتا یہ بہر صورت افغان حکومت ہی کی ذمہ داری ہے پاکستان اپنے اس موقف پر آج بھی قائم ہے کہ افغانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے ماضی میں جب افغانستان کو سوویت جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو پاکستان نے افغان عوام کے ساتھ مل کر افغانستان کی آزادی اور اس کی غیر جانبداری بحال کرنے کے لئے جدوجہد میں حصہ لیا اس نے 30لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو بھی قبول کیا سوویت فوجوں کے جانے کے بعد پاکستان نے افغانستان کی تعمیر نو کے لئے بھی اہم کر دار ادا کیا اب بھی وہ افغانستان میں قیام امن کے لئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے تیارہے پاکستان اس سے زیادہ اور کیا کر سکتا ہے وہ صدر اشرف غنی کی حکومت بچانے کے لئے تو افغانستان کے اندر داخل ہو کر کوئی بھی کر دار ادا کرنے سے تو رہا کابل انتظامیہ کو یہ تمام تر حقائق تسلیم کرنے چاہئیں توقع کی جاسکتی ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے امریکہ کے دورے کے دوران افغانستان میں قیام امن بھی ان کے امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں ایجنڈے میں شامل ہوگا، اور امن کا کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کی جائے گی تا ہم افغان طالبان کو بھی امن سے اپنی ذمہ داری محسوس کرنی ہوگی قتل و غارت اور خونریزی بہت ہو چکی افغانستان ان کا ملک ہے اور اس میں قیام امن کے لئے سب سے زیادہ ذمہ داری ان پر ہی عائد ہوتی ہے افغان حکومت کو بھی اپنے اقتدار سے زیادہ مملکت کے مفادات اور امن کو ترجیح دینی ہوگی کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں ان دونوں فریقوں کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے امن کی کلید ان دونوں ہی کے ہاتھ میں ہے، یہ امریکہ یا پاکستان کے پاس نہیں۔

زمرہ جات:   Horizontal 4 ، پاکستان ، دنیا ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

ملی یکجہتی کونسل

- اسلام ٹائمز

سلمان خان کا نیا انداز

- ڈیلی پاکستان