کیا پختون دہشتگرد ہیں؟

اس قتل کی ایف آئی آر میں کسے نامزد کیا جائے!

شریفوں کی کرپشن پاکستان تک محدود نہیں بین البراعظمی ہے، آصف زرداری

بشار الاسد کا تختہ الٹنے کی کسی بھی اسکیم کو مسترد کرتے ہیں: روس

جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

نفاذ شریعت کی ایک نئی تحریک

شام میں ترک کارروائی ’دہشت گردی کی معاونت‘ کے مترداف ہے، شامی صدر

یمن جنگ میں شریک ممالک کے لیے جرمن اسلحے کی فراہمی معطل

کابل ہوٹل حملے میں ہلاکتیں 43 ہوگئیں، 14 غیر ملکی شامل

بالی وڈ اسٹار خانز نے صہیونی وزیر اعظم سے ملنے سے انکار کردیا

چیف جسٹس دوسروں کے بجائے اپنے ادارے کو ٹھیک کریں: خورشید شاہ

اہل سنت کے علمائے دین ہماری آنکھوں کا سہرا ہیں

سعودی عرب کی ’توہین‘: کویتی بلاگر کو پانچ سال سزائے قید

دنیا، کس قسم کے افراد کو تباہ وبرباد کردیتی ہے؟

ٹرمپ کے خلاف لاکھوں امریکی خواتین کا تاریخی احتجاج

نقیب اللہ قتل؛ راؤ انوار کو پولیس پارٹی سمیت گرفتار کرنے کا فیصلہ

فتویٰ اور پارلیمینٹ

کل بھوشن کے بعد اب محمد شبیر

سعودیہ فوج میں زبردستی بھرتی پر مجبور ہوگیا ہے؛ یمنی نیوز

پاکستان کی غیر واضح خارجہ پالیسی سے معاملات الجھے رہیں گے

پارلیمنٹ پر لعنت

نائیجیریا میں آیت اللہ زکزکی کی حمایت میں مظاہرہ

ایٹمی معاہدے میں کوئی خامی نہیں، امریکی جوہری سائنسداں کا اعتراف

سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان مکار، دھوکہ باز، حیلہ گر اور فریبکار ہیں: قطری شیخ

امریکا نے دہشت گردی کے بجائے چین اور روس کو خطرہ قرار دے دیا

سلامتی کونسل میں پاکستان اور امریکی مندوبین کے درمیان لفظی جنگ

ایک اورماورائے عدالت قتل

کالعدم سپاہ صحابہ کا سیاسی ونگ پاکستان راہ حق پارٹی بھی اھل سیاسی جماعتوں میں شامل

امریکہ اور دہشتگردی کا دوبارہ احیاء

ایرانی جوان پوری طرح اپنے سیاسی نظام کے حامی ہیں؛ ایشیا ٹائمز

دنیائے اسلام، فلسطین اور یمن کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرے

شام کے لیے نئی سازش کا منصوبہ تیار

پاک فوج کیخلاف لڑنا حرام ہے اگر فوج نہ ہوتی تو ملک تقسیم ہوچکا ہوتا: صوفی محمد

امام زمانہ عج کی حکومت میں مذہبی اقلیتوں کی صورت حال

سعودی عرب نائن الیون کے واقعے کا تاوان ادا کرے، لواحقین کا مطالبہ

امریکہ کو دوسرے ممالک کے بارے میں بات کرنے سے باز رہنا چاہیے: چین

پاکستان میں حقانی نیٹ ورک موجود نہیں

سعودی عرب نے یمن میں انسانی، اسلامی اور اخلاقی قوانین کا سر قلم کردیا

پاکستان کو ہم سے دشمن کی طرح برتاؤ نہیں کرنا چاہیے: اسرائیلی وزیراعظم

آرمی چیف نے 10 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی

بھارت: ’حج سبسڈی کا خاتمہ، سات سو کروڑ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے

صہیونی وزیر اعظم کے دورہ ہندوستان کی وجوہات کچھ اور

پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملہ، عوام حکومتی ایکشن کے منتظر

روس، پاکستان کی دفاعی حمایت کے لئے تیار ہے؛ روسی وزیر خارجہ

عام انتخابات اپنے وقت پر ہونگے: وزیراعظم

ناصرشیرازی اور صاحبزادہ حامد رضا کی چوہدری پرویزالہیٰ سے ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

پارلیمنٹ نمائندہ ادارہ ہے اسے گالی نہیں دی جاسکتی: آصف زرداری

زائرین کے لیے خوشخبری: پاک ایران مسافر ٹرین سروس بحال کرنے کا فیصلہ

شریف خاندان نے اپنے ملازموں کے ذریعے منی لانڈرنگ کرائی، عمران خان

امریکہ کی افغانستان میں موجودگی ایران، روس اور چین کو کنٹرول کرنے کے لئے ہے

ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر کی تہران اسلام آباد سیکورٹی تعاون بڑھانے پر تاکید

دورہ بھارت سے نیتن یاہو کے مقاصد اور ماحصل

ایوان صدر میں منعقد پیغام امن کانفرنس میں داعش سے منسلک افراد کی شرکت

امریکہ، مضبوط افغانستان نہیں چاہتا

عربوں نے اسرائیل کے خلاف جنگ میں اپنی شکست خود رقم کی

سیاسی لیڈر کا قتل

مقاصد الگ لیکن نفرت مشترکہ ہے

انتہا پسندی فتوؤں اور بیانات سے ختم نہیں ہوگی!

تہران میں او آئی سی کانفرنس، فلسطین ایجنڈہ سرفہرست

زینب کے قاتل کی گرفتاری کے حوالے سے شہباز شریف کی بے بسی

یورپ کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی حمایت کا اعادہ

بن گورین ڈاکٹرین میں ہندوستان کی اہمیت

دہشت گردی کے خلاف متفقہ فتویٰ

شام میں امریکی منصوبہ؛ کُرد، موجودہ حکومت کی جگہ لینگے

شفقنا خصوصی: کیا زینب کے قاتل کی گرفتاری کو سیاسی مقاصد کے لیے چھپایا جا رہا ہے؟

مسئلہ فلسطین، عالم اسلام کا اہم ترین مسئلہ ہے

پاپ کی طرف سے میانمار کے مسلمانوں کی عالمی سطح پر حمایت

امریکا مشترکہ مفادات کی بنیاد پر پاکستان سے نئے تعلقات بنانا چاہتا ہے، ایلیس ویلز

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا بینظیر بھٹو کو قتل کرنے کا دعویٰ

امریکہ، بیت المقدس کے بارے میں اپنے ناپاک منصوبوں ميں کامیاب نہیں ہوگا

پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کرنےکےلیے پرعزم ہیں: امریکی جنرل جوزف ڈنفورڈ

2017-03-07 23:55:01

کیا پختون دہشتگرد ہیں؟

jایک وقت تھا جب اڑن طشریوں کے نظر آنے کی بڑی باتیں ہوتی تھیں۔ اڑن طشریوں کا نظر آنا ایک انہونی سی بات لگتی تھی۔ اس وقت اسے خلائی مخلوق سے منسوب کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے اڑن طشریوں کے حوالے سے ایک خوف لوگوں میں پیدا کیا گیا۔ اب کئی جاکر یہ انکشاف ہوا کہ وہ تو  دنیا والوں کے اپنے ہی تیار کردہ آلات تھے۔ 

ایک وقت ایسا بھی تھا جب مائیں گرمیوں میں بچوں کو دوپہر کے وقت سلانے کے لیے ڈراتی تھیں اور خود ساختہ دیو اور جنات کی کہانیاں سناتی تھیں جس سے بچے ڈر کر دوپہر کے وقت گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے۔ آج اگر ہم دیکھیں تو پنجاب کے حکمران بھی صرف اپنے مفادات کے لیے اپنے لوگوں کو پختونوں سے اسی طرح ڈرا رہے ہیں۔ ان کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں۔ ویسے تو یہ کام پنجاب کے بعض” بڑے” ایک عرصے سے کر رہے تھے لیکن اب اس میں کچھ  تیزی آگئی ہے۔ جس کے جواب میں اسی تیزی سے ردعمل بھی سامنے آرہا ہے۔ لاہور دھماکے کے بعد جس بھونڈے طریقے سے پٹھانوں کو دہشتگرد بناکر پیش کیا جارہا ہے اس کے لیے مذمت کا لفظ بھی بے معنی لگتا ہے۔ پٹھان ایسی قوم ہے جو اپنے گھروں میں کسی کے گھسنے کو اپنی بے عزتی تصور کرتے ہیں چہ چائیکہ کوئی ان کے گھر پر چھاپے مار کر خواتین کے بے عزتی کرے۔ بچوں کو ہراساں کرے اور نوجونوں کو گھروں سے گھسیٹتے ہوئے لے جائیں ۔ ایسی باتوں پر تو پٹھان مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔ جس طرح گھروں پر چھاپے مار ے گئے اس کے لیے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کا لفظ بھی چھوٹا محسوس ہوتا ہے۔

بعض لوگوں کی اس بات میں بھی کافی وزن نظر آتا ہے کہ شاید مسلم لیگ (ن) والے پختونخوا کے لوگوں سے صوبے میں پی ٹی آئی کو دوٹ دینے کا سیاسی انتقام لے رہے ہیں۔ اور انہیں اب یہ موقع ہاتھ آیاہے۔ ذہن اس لیے بھی اس طرف جاتا ہے کہ ایک طرف تو حکمرانوں کی ایما پر پٹھانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے دوسری طرف وہ پختونخوا کو مسلسل اس کے حقوق سے محروم کر رہے  ہیں۔ اس صوبے کا مالی اور معاشی گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جہاں تک دہشتگردی کا تعلق ہے پٹھانوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی کے پشتو بول لینے سے وہ پٹھان نہیں بن جاتا اور نہ ہی وہ پورے پٹھانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ دہشتگرد کس قوم میں نہیں۔ کیا داعش بھی پٹھان ہیں۔ کیا بوکوحرام بھی پٹھان ہیں۔ کیا چین میں جو کچھ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ بھی پٹھان ہیں۔ فرانس اور امریکہ میں بھی پٹھان کارروائیاں کررہے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ بھی پٹھان مصروف ہیں۔

کیا پنجاب میں پنجابی بولنے والے دہشتگردی نہیں کررہے ۔ کیا پنجاب کے کئی بڑے ان دہشتگردوں کی پشت پناہی نہیں کررہے ۔ یہ بات تو اب سب کے علم میں ہے حتی کہ حساس ایجنسیوں کو بھی علم ہے کہ ان دہشتگردوں کی پشت پناہی میں حکمران جماعت کے لوگ شامل ہیں۔ اسی لیے توپنجاب میں اب تک رینجرز کو آپریشن کی اجازت نہیں دی گئی۔ اب جبکہ رینجرز کو بلا لیابھی گیا ہے تو وہ بھی  محدود اختیارات کے ساتھ۔ تاکہ حکمرانوں کے اصل چہرے بے نقاب نہ ہوں۔ سوال یہ ہے کہ جب کے پی کے ، بلوچستان اور سندھ میں آپریشن مکمل اختیارات کے ساتھ کیا جاسکتا ہے تو پنجاب میں کیوں نہیں۔

پٹھانوں اور قبائل نے تحریک پاکستان میں جو قربانیاں دی ہیں، وہ اظہر من الشمس ہیں۔ (قبائل کے بارے میں تو قائداعظم نے یہ فرمایا تھا کہ قبائل پاکستان کے بازو شمشیرزن ہیں۔ یہ پاکستان کے بغیر تنخواہ دار فوجی ہیں۔ اس کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں)۔ پٹھان اور قبائل یہ اقوام بھی اتنے ہی محب وطن ہیں جتنے سندھی، بلوچی اور پنجابی ہیں۔ اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے یہی نہتے قبائل لڑنے گئے تھے ۔ خیبرپختونخوا اور قبائل کے باشندے 1979 سے اس ملک کی خاطر ہی قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں اوردہشتگردی کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ دہشتگردی کا سب سے زیادہ شکار تو پٹھان اور قبائل ہی ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی زبان پر کبھی حرف شکایت نہیں آیا۔ لیکن بجائے اس کے کہ ان کے زخم پر مرہم رکھ کر اس کا مداو کیا جاتا، اس کے برعکس ان کا جائز حق بھی مارا جارہا ہے۔ اس کے باوجود بھی کبھی بھولے سے بھی ان اقوام نے ایسی بات نہیں کی جس سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچتا۔ کیا یہ ان کی محب الوطنی کا ثبوت نہیں۔

کیا بعض قومیں ہی محب الوطنی کی ٹھیکیدار ہیں۔ باقی اقوام کو ہر وقت اپنی محب الوطنی کا ڈھنڈورا پیٹنا پڑے گا اور ثبوت دینا ہوگا۔  یہ مہمان نواز قومیں ہیں اور یہ پنجاب اور سندھ کے وہ لوگ بخوبی جانتے ہیں جن کا ان کے ساتھ تعلق ہے۔ جو ان کی محبت سے واقف ہیں۔ جو مہمانوں اور دوستوں کے لیے جان تک دیتے ہیں۔ اسی لیے تو مغل بادشاہ نے کہا تھا کہ پٹھان کو دوستی سے تو ہرایا جاسکتا ہے، لڑ کر نہیں ۔ پٹھانوں سے بعض بڑوں کے تعصب کی بنا پر ان دنوں جو نفرتیں پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے یہ دشمن کے عزائم کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہے۔ دشمن نے تو یہ پروپیگنڈا بھی کیا تھا کہ اسلام آباد کی سٹرکوں سے پٹ سن کی بو آرہی ہے جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ اب پھر اسی دشمن کے پروپیگنڈے کے لیے راستہ ہموار کیا جارہا ہے۔

افسوس کہ ہمارے بڑوں نے تاریخ سے کچھ بھی نہیں سیکھا یا وہ صرف اپنے مفادات کے لیے کچھ سیکھنا ہی نہیں چاہتے ۔ اپنے مفادات کے لیے ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے ، نفرتیں پھیلاکر دشمن کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کی بجائے بعض قوتوں کے عزائم کو محسوس کرتے ہوئے مل کر دہشتگردی کے اس عفریت سے نجات کے لیے جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اور یہ ضرورت نفرتیں پھیلانے سے پوری نہیں ہو گی۔  اس نازک صورتحال میں وقت کے نبض پر ہاتھ رکھ کر، مل کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

تحریر: سلطان حسین ( پشاور )

 

 

زمرہ جات:   Horizontal 3 ،
ٹیگز:   پختون دہشتگرد ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

تو بھی تو دل دار نہیں ! 

- ایکسپریس نیوز

یوں ہی منو بھائی…

- ایکسپریس نیوز

دنیا 100 سیکنڈ میں

- سحر ٹی وی

ایک فتویٰ ادھر بھی

- مجلس وحدت المسلمین