انٹرنیٹ کا استعمال ضروری ہے.... مگر کیسے 

جناب وزیراعظم ! تماشہ تو آپ نے خود لگایا ہے

پاکستان کےخلاف امریکہ و بھارت کی فرد جرم

سربراہ ایم ڈبلیو ایم پاکستان علامہ ناصر عباس جعفری کی آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے ملاقات، سانحہ پاراچنار پر تبادلہ خیال

قلندر کی دھرتی پر تکفیریت کی تبلیغ

پارہ چنار میں دھماکے کیوں ہوتے ہیں؟ – محمد عامر حسینی

پاراچنار حملہ، پاکستان کے مختلف علاقوں میں دھرنے اور مظاہرے پانچویں روز بھی جاری

یمن میں سعودی ولی عہد کے کارنامے امریکی مفادات کے لئے خطرناک ہیں: واشنگٹن پوسٹ

امریکہ کی اسٹریٹیجی دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنا نہیں ہے

سعودی عرب خطے میں نفرت، کینہ ، دشمنی اور دہشت گردی کا بیج بو رہا ہے

امریکی انتظامیہ کا بھارت کی زبان بولنا تشویشناک ہے، چوہدری نثار

اے مسلمانو تمہیں قبلہ اول پکار رہا ہے!

حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین عالمی دہشت گرد قرار

نوازشریف سانحہ پاراچنارپرخاموش کیوں ہیں؟

بیعت سے انکار کی خبر نشر کرنے پر سعودی حکومت نے ٹی وی چینل بند کردیا

ڈونلڈ ٹرمپ کا سفری پابندیوں کا حکم نامہ جزوی طور پر بحال

پاراچنار میں دہشت گردوں کے بم دھماکے میں شہداء کی تعداد 72 تک پہنچ گئی

نیشنل ایکشن پلان میں وفاق کی غیر سنجیدگی تازہ دہشتگردی کا سبب ہے: وزیراعلیٰ سندھ

پانامہ کیس:‌کیا کیپٹن صفدر نواز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے؟

ہمارے دماغ میں بسی داعش

میں 2 سال سے بول رہا تھا ملک میں داعش موجود ہے، رحمان ملک

ایران کا قطر کی بھرپور حمایت کا اعلان

عیدالفطر آج مذہبی جوش وجذبے کے ساتھ منائی جائے گی

حضرت آیت اللہ سیستانی کے دفتر سے جاری اعلان کے مطابق برطانیہ میں یکم شوال بروز سوموار کو ہوگی

تصاویر : بہاولپور میں قیامتِ صغریٰ کے مناظر

قطر نے آل سعود کے تمام تر مطالبات مسترد کردیے

تسنیم نیوز : بات صرف آرمی چیف سے یا نواز شریف سے؛ ورنہ دھرنا جاری + تصاویر

مسئلہ فلسطین ، آغاز سے اب تک ~ نذر حافی

تصاویر: الوداع الوداع ماہِ رمضان، لوگ عبادتِ پروردگار میں مگن

قطر یا سعودی عرب، امریکا یا روس؟ پاکستان کس کس کو راضی کرے گا

 اتحادی حیثیت ختم کرنےکیلئےامریکی بل: پاکستان کے پاس امریکی چنگل سے نکلنے کا سنہرا موقع

دنیا اس بات کو تسلیم کرے کہ پاکستان دہشت گردی کےخلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے، چینی وزارت خارجہ

بہاولپور: آئل ٹینکر میں آتشزدگی، 135افراد ہلاک

امریکہ افغانستان میں داعش کو مسلح کر رہا ہے: روس

محمد بن سلمان کو ولی عہد بنائے جانے پر سعودی شہزادوں کی مخالفت

مسجد الحرام میں حملے کا منصوبہ ناکام، خودکش حملہ آور ہلاک

پاراچناردھماکے: شہادتیں 67 ہو گئیں

قطر نے عرب ممالک کے مطالبات کو ’غیر حقیقی‘ قرار دیا

پاکستان کا نان نیٹو اتحادی درجہ ختم کرنے کیلئے امریکی کانگریس میں بل پیش

سعودی عرب میں ایران پر جنگ مسلط کرنے کی ہمت نہیں: سید حسن نصر اللہ

سعودی خاندان میں مخملی بغاوت؛ سعودیہ کے جوان ولی عہد کیسے تختِ ولی عہدی تک پہنچ گئے

نواز شریف کی جھوٹی ثالثی: سعودی سفیر نے نواز شریف کے جھوٹ کا پول کھول دیا

ایک اور خون سے رنگی عید: پاکستانی قوم نوحہ خواں

عراق کی تقسیم اسرائیل کا اہم ترین ایجنڈا ہے ، ایران

سعودیہ: مسجد الحرام میں حملے کا منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ

عالمی یوم القدس کے موقع پر قبلہ اول کی آزادی کے لیے ملی یکجہتی کونسل کی مشترکہ ریلی کا انعقاد

قطر میں فوجی اڈے ختم کئے جانے کی درخواست ترکی کے امور میں مداخلت ہے : ترکی

نہایت اطمینان کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ بغدادی مارا گیا ہے: روس

پارا چنار: 2 بم دھماکے، 30 افراد شہید، 100 زخمی

عرب ریاستوں نے تنازع ختم کرنے کیلئے قطر سے 13 مطالبات کردیے

کیا سرفراز نے شاہ رخ خان کو بھی شکست دیدی؟

تصاویر: تہران میں یوم قدس کے موقع پر عظیم ریلی

مسئلہ فلسطین دنیائے اسلام کا سب سے پہلا اور اہم مسئلہ ہے

کوئٹہ: بم دھماکے میں 15 افراد جاں بحق

 اسلامی ممالک کی تقسیم کا منصوبہ: کیا نئے سعودی ولی عہد کی تعیناتی کے احکامات واشنگٹن سے آئے؟

 چوروں کا گٹھ جوڑ: کیا پی پی پی اور نواز لیگ کے مابین پانامہ لیکس پر خفیہ ڈیل طے پا گئی ہے؟

جرمنی جلد ہی اسلامی ریاست بن جائے گا، جرمن چانسلر انجیلا مرکل کا بیان ، دنیا بھر میں کھلبلی

دہشت گرد تنظیم داعش کو بارودی مواد فراہم کرنے والا بھارت دوسرا بڑا ملک ہے، یورپی رپورٹ

محمد بن سلمان کی ولی عہدی اسرائیل کے لئے نیک شگون ہے

جامع مسجد النوری کی شہادت داعش کا اعتراف شکست ہے

چاند یا مریخ کا رخ نہ کیا تو 30 سال میں انسانی آبادی ختم: سٹیفن ہاکنگ

اسرائیل، مسلم امۃ کا حقیقی دشمن ہے: تحریک انصار اللہ

سعودی عرب میں اقتدار کی رسہ کشی

کلبھوشن یادیو نے آرمی چیف سے رحم کی اپیل کردی

اگر بیت المقدس کی آزادی سعودی اتحاد کے ایجنڈے میں شامل نہیں تو آرمی چیف راحیل شریف کو فوری واپس بلائیں : علامہ راجہ ناصرعباس

سعودی عرب علاقائی و عالمی دہشتگردی کا اہم اسپانسر ہے: پروفیسر آئیرش یونیورسٹی

پاکستان ڈرون حملے برداشت نہیں کرے گا

پاک ایران گیس منصوبہ 2 سال میں مکمل ہوجائے گا: آصف درانی

جنگل میں منگل: تاریخ رقم ، پیسہ ہضم

جنگی جنون میں مبتلا شہزادہ ولی عہد مقرر:  مشرق وسطی کو جنگ میں دھکیلنے کا سعودی منصوبہ

وہابیت بمقابلہ اخوان المسلمین / قطر کے بحران میں اہلسنت کا پرانا زخم تازہ

2017-03-09 00:24:01

انٹرنیٹ کا استعمال ضروری ہے.... مگر کیسے 

11224_fa_rszd

ہمارے معاشرے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا رجحان مسلسل بڑھتا جارہا ہے ،مرد وعورت، جوان اور نوجوانوں کی زندگی کا بیشتر وقت مجازی دنیا میں گزررہا ہے ،انٹرنیٹ کی بدولت آج پوری دنیا سمٹ کر انسان کی جیب میں آچکی ہے،بدون مبالغہ انسانی زندگی کی ترقی میں نٹ کا بڑا کردار ہے، اس سہولت نے تمام شعبہ ہائے زندگی میں امور کی انجام دہی کو انسان کے لئے آسان بنادیا ہے، علم اور تحقیق کا شغف رکھنے والوں کو جدید ٹیکنالوجی نے منٹوں میں کثیر معلومات کے حصول کو ممکن بنادیا ہے، انٹرنیٹ سے استفادہ تو سبھی لوگ کرتے ہیں مگر سب کے اہداف یکسان نہیں-

بنیادی طور پر ہم انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو دو گروہ میں تقسیم کرسکتے ہیں ،ایک گروہ وہ ہے جو اسے اچھے خیالات اور مثبت معلومات اخذ کرنے کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں، وہ اس حقیقت سے آگاہ ہوتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں سب سے قیمتی چیز وقت ہے اور انٹرنیٹ وقت کے بچاو کا بہترین وسیلہ ہے، لہذا وہ اس سے استفادہ کرکے مختصر وقت میں اچھے اور مفید معلومات حاصل کرتے ہیں، تعمیری افکار اور نظریات سے آگاہ ہوجاتے ہیں، دینی تعلیمات، قرآن اور احادیث کے بارے میں بڑے بڑے دینی اسکالرز کے لکھے ہوئے مقالے، مجلے اور کتابیں آنلائن پڑھتے ہیں، روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے ضروری شرعی مسائل کے احکامات سرچ کرکے نکالتے ہیں پھر ان کا مطالعہ کرتے ہیں، تمام مذاہب کے پیروکاروں کے اعتقادات کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں، معاشرتی مختلف مسائل کا حل ڈهونڈتے ہیں، جسمانی اور روحانی بیماریوں کے لئے شفا بخش نسخے تلاش کرتے ہیں، در نتیجہ ان کے افکار کی تعمیر ہوتی ہے، وہ ہر چیز کو آنکھیں بند کرکے قبول کرنے کے بجائے دلیل اور برہان کے پیچھے دوڑتے ہیں – 

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ افراد جب فکری طور پر مضبوط ہوجائیں، ان کے نذدیک منطق اور استدلال ہر چیز کا معیار بن جائے، بہت جلد کامیابی کے اسرار ورموز سے واقف ہوجاتے ہیں، ان میں زندگی کے تمام مسائل خواہ دینی ہوں یا دنیوی’ میں نفع اور نقصان کا ادراک کرنے کی قوت پیدا ہوجاتی ہے، فاسد اور صحیح اعتقادات کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت کے وہ مالک بن جاتے ہیں، ان کو اسلام دشمن عناصر کی چالوں، ہیلوں اور پراپیگنڈوں کو سمجھنے میں کوئی دیر نہیں لگتی اور دوسرا گروہ وہ ہے جو انٹرنیٹ منفی چیزوں کے لئے استعمال کرتے ہیں، اس پر گانے سنتے ہیں، فحش فلمیں اور ننگی تصویریں دیکھتے ہیں، تخریبی خیالات اور گمراہ کرنے والے مواد پڑهتے ہیں،

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بے راہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں، کچهہ مدت بعد ان کے ذہنوں میں فاسد خیالات تناور درخت کی شکل اختیار کرتے ہیں اور وہ ضلالت وگمراہی کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں، شتر بے مہار کی طرح شیطانی افکار اور خیالات کی دنیا میں دوڑنے کو وہ کامیابی کی علامت سمجھتے ہیں، دین اور دینی تعلیمات کو وہ قصہ پارینہ قرار دیتے ہیں ، بلکہ دیندار مذہبی لوگوں کا مذاق اڑانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیں –

آج مسلم ملکوں میں انٹرنیٹ سے سوء استفادہ والوں کی کمی نہیں- فحاشیت کے لئے اب یورپ کی نہیں مسلم ممالک کی مثال دینا کافی ہے- ہمارے ملک میں بےحیائی اور فحاشی روز بروز بڑهتی جارہی ہے ،انٹرنیٹ پر بلا جھجک فحاشی و عریانیت کا مواد پکچرز اور ویڈیو دیکھنا زندگی کا حصہ بنتا جارہا ہے، جوان ونوجوان اس مرض میں ذیادہ مبتلا دکھائی دیتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ تربیت اسلامی کا فقدان اور مغربی کلچر سے جوانوں کا متاثر ہونا ہے- اس جرم میں وہ والدین بھی برابر کے شریک ہیں جو اپنی اولاد کی تربیت پر توجہ نہیں دیتے ہیں- بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتهہ ٹهوس تربیت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں اما م سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں ” تیر ی اولاد کا حق یہ ہے کہ تو اس پر غور کر کہ وہ بری ہے یااچھی ہے بہر حال تجھی سے وجود میں آئی ہے اوراس دنیا میں وہ تجھی سے منسوب ہے اور تیری ذمہ داری ہے کہ تو اسے ادب سکھا، اللہ کی معرفت کے لیے اس کی راہنمائی کر اور اطاعت پروردگار میں اس کی مددکر، تیرا سلوک اپنی اولاد کے ساتھ ایسے شخص کاساہونا چاہیے کہ جسے یقین ہوتا ہے کہ احسان کے بدلے میں اسے اچھی جزا ملے گی اور بد سلوکی کے باعث اسے سزاملے گی ۔ بچوں میں سعادت و بدبختی دونوں کی قابلیت موجود ہوتی ہے اب یہ والدین پر موقوف ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرکے کامل انسان بناتے ہیں یا اسے ایک گھٹیا درجے کا حیوان بنا کر معاشرے کو پیش کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں آیت اللہ ابراہیم امینی صاحب اپنی ایک کتاب میں یوں تحریر فرماتے ہیں “
(ہر انسان کی سعادت اور بدبختی اس کی کیفیت تربیت سے وابستہ ہے اور اس عظیم کام کی ذمہ داری ماں باپ کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے ۔ عظیم ترین خدمت کہ جو ماں باپ اپنی اولاد کے لیے انجام دے سکتے ہیں وہ یہ ہے اسے خوش اخلاق ، مہربان، انسان دوست ، خیرخواہ، حریت پسند، شجاع ، عدالت پسند، دانا، درست کام کرنے والا، شرافت مند ، با ایمان فرض شناس ، سالم ، محنتی ، تعلیم یافتہ ، اور خدمت گزار جو ماں باپ اپنی اولاد کی تربیت کی طرف توجہ نہیں کرتے بلکہ اپنی رفتار و کردار سے انہیں منحرف بنادیتے ہیں وہ بہت بڑے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ آج کے بچے ہی کل کے مرد اور عورت ہیں ۔ کل کا معاشرہ انہیں سے تشکیل پاناہے ۔ آج جو سبق سیکھیں گے کل اسی پر عمل کریں گے ۔ اگر ان کی تربیت درست ہوگئی تو کل کا معاشرہ ایک کامل تراور صالح معاشرہ ہوگا اور اگر آج کی نسل نے غلط پروگرام کے تحت اور نادرست طور پر پرورش پائی تو ضروری ہے کہ کل کا معاشرہ فاسدتر اور بدتر قرارپائے ۔ کل کی سیاسی ، علمی اور سماجی شخصیات انہیں سے وجود میں آئیں گی ۔ آج کے بچے کل کے ماں باپ ہیں ۔ آج کے بچے کل کے مربی قر ار پائیں گے ۔ اور اگر انہوں نے اچھی تربیت پائی ہوگی تو اپنی اولاد کو بھی ویسا ہی بنالیں گے اور اسی طرح اس کے برعکس ۔ لہٰذا اگر ماں باپ چاہیں تو آئندہ آنے والے معاشرہ کی اصلاح کرسکتے ہیں اور اسی طرح اگرچاہیں تو اسے برائی اور تباہی سے ہمکنار کرسکتے ہیں ۔ اس طرح سے ماں باپ معاشرے کی حوالے سے بھی ایک اہم ذمہ داری کے حامل ہیں ۔ اگر وہ اپنے بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کے لیے کوشش کریں تو انہوں نے گویا معاشرے کی ایک عظیم خدمت سرانجام دی ہے اور وہ اپنی زحمتوں کے صلے میں اجر کے حقدار ہیں اور اگر وہ اس معاملے میں غفلت اور سہل انگاری سے کام لیں تو نہ صرف اپنے بے گناہ بچوں کے بارے میں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں اور یقینی طور پر بارگاہ الٰہی میں جواب دہ ہوں گے تعلیم و تربیت کے موضوع کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے ۔ ماں باپ اولاد کی تربیت کے لئے جو کوشش کرتے ہیں اور جو مصیبتیں اٹھاتے ہیں وہ سینکڑوں اساتذہ ، انجینئرز، ڈاکٹرزاور علماءکے کاموں پر بھاری ہیں ۔ یہ ماں باپ ہیں جو انسان کامل پروان چڑھاتے ہیں اور ایک لائق و دیندار استاد، ڈاکٹر اور انجینئر وجود میں لاتے ہیں )۔ انٹرنیٹ پر نامناسب ویڈیوز اور پکچرز سے لطف اندوز ہونے والے مسلمانوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ انسان سمیت موجودات عالم کا خالق خدا ہے وہ قادر مطلق ہے کائنات میں موجود ساری چیزیں اس کی مخلوق ہیں شرافت کرامت اور فضیلت کے اعتبار سے سارے موجودات یکساں نہیں حضرت انسان سب سے ذیادہ فضیلت و شرافت کا حامل ہے اللہ تعالی نے انسان کو نعمت عقل سے نوازا جو انسان کا عظیم سرمایہ ہے اسی کے ذریعے انسان حیوان سے ممتاز ہوجاتا ہے اور اللہ نے عقل اس لئے دی ہے کہ انسان غور وخوض کریں ایک ادنی سی توجہ سے معلوم ہوگا کہ غلط راستوں سے حاصل ہونے والی لذتیں جلد ختم ہونے والی ہیں اس سے ابدی زندگی تباہ ہوجاتی ہے مرنے کے بعد عذاب ہوگا قبر میں سوال ہوگا عقلمند کھبی بھی وقتی خوشی کے ذریعے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لئے جہنم کا ایندھن نہیں بناتے اس مقام پر علامہ اقبال کا یہ خوبصورت شعر لکھنا مناسب سمجھتا ہوں اقبال کہتے ہیں “
( جوانی میں عدم کے واسطے سامان کر غافل ” “مسافر شب کو اٹھتے ہیں جو جانا دور ہوتا ہے” –
بنابراین انٹرنیٹ کا استعمال وقت کی ضرورت ہے ہمیں اس سہولت سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ حدود الہی کا خیال رکھیں منفی چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھیں اور اس بات کو اپنے دل ودماغ میں بٹھائیں کہ عالم محضر خدا ہے وہ ہماری شہ رگ سے بھی ذیادہ ہم سے قریب ہے وہ ہمارے اعمال پر ناظر ہے کوئی لمحہ خدا ہم سے غافل نہیں

 
 
 تحریر : محمد حسن جمالی 
 
زمرہ جات:   Horizontal 4 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

جام جم

- سحر ٹی وی

یادوں کے جھروکے

- سحر نیوز

ٹاپ رپورٹس 27 جون

- سحر ٹی وی

غلاموں کی تجارت

- سحر نیوز

فرش سے عرش تک

- سحر نیوز

مودی کی ٹرمپ کو جپھی

- بی بی سی اردو