انٹرنیٹ کا استعمال ضروری ہے.... مگر کیسے 

اسپین عدالت نے اسرائیلی وزیراعظم کی گرفتاری کا حکم دے دیا

سعودی فرمانروا سے مراکش میں قطری جرنیل کی خفیہ ملاقات

دنیا کی بہترین افواج افغانستان میں کونسا امن قائم کر سکی ہیں؟ خواجہ آصف

سانحہ راولپنڈی ، پاک فوج کے انکشاف کے بعد شہباز شریف اور راناثناءاللہ کے خلاف مقدمہ قائم کیاجائے: علامہ راجہ ناصرعباس

امریکی پالیسی میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کیا جانا مایوس کن ہے: دفتر خارجہ

مسلمان کے صحیفہ حیات کا عنوان " حسن خلق " ہے

پاکستان کے نئے مخمصے

بھارت کے بعد بنگلہ دیش نے بھی روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دینے سے انکار کر دیا

ہندوستانی سپریم کورٹ نے فقہ حنفی کے مطابق تین طلاقوں کو غیر قانونی قرار دے دیا

امریکا افغانستان میں اپنی ناکام پالیسی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال رہا ہے: عمران خان

ٹرمپ نے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی

سعودی نظام کی بربادی کے لئے العربیہ چینل کے ڈائریکٹر اور ابوظہبی کے ولیعہد کی کوشش

عمان کے خلیج میں خاموش معاشی جنگ

امام جواد علیہ السلام کے اقوال زریں

شہادت امام جواد علیہ السلام پر تعزیت و تسلیت

نواز شریف اندورنی خلفشار اور رسہ کشی کی وجہ سے ڈوب گئے: آصف زرداری

عراقی فورسز نے تلعفر کے جنوب مغرب میں 5 دیہاتوں کو آزاد کرا لیا

نیب لاہور نے شریف خاندان کو 22 اگست کو طلب کرلیا

دیوبندی مدرسہ تعلیم القرآن راجہ بازار میں حملہ کرنے والے بھی وہی خود تھے

عالمی یوم مساجد، صیہونی جرائم کی یاد تازہ کرتا ہے

سعودی عرب، عبداللہ آل ثانی کو امیر قطر بنانا چاہتا ہے: محتھد

گیس پائپ لائن پر پاکستان کے جواب کا انتظار کررہے ہیں: ایرانی وزیر تیل

نواز شریف بہت خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں: خورشید شاہ

سعودیہ، مغربی صحافیوں کو خریدنا چاہتا ہے

حج سیکورٹی اسرائیلی کمپنی کے ہاتھ

نوازشریف آؤٹ، کلثوم نواز ان

دہشت گردی، برقع اور مسلمان

قطر کا سعودی ائیر لائنز کی حج پروازوں کو دوحہ میں اُترنے کی اجازت دینے سے انکار

سپیکر قومی اسمبلی کا جسٹس آصف سعید کیخلاف ریفرنس ایک معمہ, اصل کہانی سامنے آگئی

استعفے کی وجوہات بیان کیں تو پارٹی کو نقصان ہوگا، چوہدری نثار

 کیا بھارت محمود اچکزئی کو خرید چکا ہے؟

حیدرآباد سے ایک اور لڑکی داعش میں شامل

بحرین کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ کی باتیں کس حد تک سنجیدہ ہیں؟

راحیل شریف پاکستان میں 3 سالہ حکومت قائم کرکے احتساب کریں گے: پاکستانی میڈیا

نواز شریف اور اہل خانہ کا نیب کے سامنے پیشی سے انکار توہین عدالت ہے: علامہ ناصر عباس جعفری

ایران اور عراق کے مشترکہ مفادات کے خلاف موقف اختیار نہیں کریں گے: مقتدی صدر

وزیرآباد میں آج ہونے والا نواز شریف کا جلسہ کیوں منسوخ کر دیا گیا؟

چودھری نثار، پرویز رشید کی لفظی جنگ نے لیگی قیادت کو پریشان کر دیا

تفتان بارڈر پر زائرین کیساتھ بدترین سلوک انسانیت کی تذلیل اور ناقابل برداشت ہے

عراقی وزیر اعظم نے تلعفر کو آزاد کرانے کا حکم صادر کردیا

امریکا میں نسل پرستی کے خلاف ہزاروں افراد کی ریلی، پولیس سے جھڑپیں

شریف خاندان آج بھی نیب میں پیش نہ ہوا

پاکستان امریکہ کا کوئی ڈومور مطالبہ قبول نہیں کرے گا

سعودی حکومت یمن جنگ میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے باوجود شکست سے دوچار ہے

سعودی عرب نفسیاتی محاصرے سے باہر نکلنے کے لئے اب عراق کا سہارا لے رہا ہے

شریف برادران کی فطرت میں ہے کہ وہ سیدھی بات کرنے والےکو پسند نہیں کرتے

مسجد اقصیٰ آج بھی جل رہی ہے!

شام،لبنان تعلقات لازوال ہیں، شام پر صہیونی جارحیت کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا: شامی سفیر

دہشتگردی کا کسی بھی نسل یا مذہب سے کوئی تعلق نہیں: ایران

امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے دہشت گردوں کو کیمیائی ہتھیار فراہم کئے

نوازشریف نے آئین و قانون کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا ہے: شیخ رشید

عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی باضابطہ کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ

دبئی کے حکام کی ابوظہبی سے آزادی کے لئے منصوبہ بندی شروع

سپین میں دولت اسلامیہ کی دہشت گردی

مقبوضہ کشمیر کوفلسطین بنانے کی سازش

بدلتے پاکستان کی مزاحمت

قطری حاجیوں کی سلامتی کے معاملے پر تشویش ہے: شیخ محمد بن عبدالرحمان ثانی

میڈرڈ سے مانچسٹر تا بارسلونا: دہشت گردانہ واقعات کا سلسلہ

سعودی عرب کی قطر پر مہربانی کا آغاز کیوں ہوا؟

ن لیگ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان کا فیصلہ

خاص خبر: ڈان لیکس پر فارغ پرویز رشید کے سنسنی خیز انکشاف

سعودی بادشاہ کے خرچ پرقطری شہریوں کے حج کی مخالفت

ہارٹ اٹیک سے 1 ماہ قبل سامنے آنے والی علامات

زائرین کی توہین ناقابل برداشت عمل ہے حکومت و ریاستی ادارے پاکستانی زائرین کے مسائل حل کریں: شیعہ علماء کونسل پاکستان

اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے پر نواز شریف کا واویلا چور مچائے شور کے مصداق ہے: علامہ ناصرعباس جعفری

شایک اور نیو لبرل نواز شریف کا طبلچی – عامر حسینی

شکریہ پاکستانی حکمرانوں : ہر پاکستانی تقریباً 95,000 روپے کا مقروض ہے، وزارتِ خزانہ

پاکستان نے پاک ایران سرحد پر گیٹ تو تعمیرکر دیا لیکن زائرین کی مدد کے حوالے سے کچھ نہ ہو سکا

مجھے کیوں نکالا گیا؟

شفقنا خصوصی: امریکہ تحریک کشمیر کو دبانے کے لیے کس طرح بھارت کی مدد کر رہا ہے؟

2017-03-09 00:24:01

انٹرنیٹ کا استعمال ضروری ہے.... مگر کیسے 

11224_fa_rszd

ہمارے معاشرے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا رجحان مسلسل بڑھتا جارہا ہے ،مرد وعورت، جوان اور نوجوانوں کی زندگی کا بیشتر وقت مجازی دنیا میں گزررہا ہے ،انٹرنیٹ کی بدولت آج پوری دنیا سمٹ کر انسان کی جیب میں آچکی ہے،بدون مبالغہ انسانی زندگی کی ترقی میں نٹ کا بڑا کردار ہے، اس سہولت نے تمام شعبہ ہائے زندگی میں امور کی انجام دہی کو انسان کے لئے آسان بنادیا ہے، علم اور تحقیق کا شغف رکھنے والوں کو جدید ٹیکنالوجی نے منٹوں میں کثیر معلومات کے حصول کو ممکن بنادیا ہے، انٹرنیٹ سے استفادہ تو سبھی لوگ کرتے ہیں مگر سب کے اہداف یکسان نہیں-

بنیادی طور پر ہم انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو دو گروہ میں تقسیم کرسکتے ہیں ،ایک گروہ وہ ہے جو اسے اچھے خیالات اور مثبت معلومات اخذ کرنے کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں، وہ اس حقیقت سے آگاہ ہوتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں سب سے قیمتی چیز وقت ہے اور انٹرنیٹ وقت کے بچاو کا بہترین وسیلہ ہے، لہذا وہ اس سے استفادہ کرکے مختصر وقت میں اچھے اور مفید معلومات حاصل کرتے ہیں، تعمیری افکار اور نظریات سے آگاہ ہوجاتے ہیں، دینی تعلیمات، قرآن اور احادیث کے بارے میں بڑے بڑے دینی اسکالرز کے لکھے ہوئے مقالے، مجلے اور کتابیں آنلائن پڑھتے ہیں، روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے ضروری شرعی مسائل کے احکامات سرچ کرکے نکالتے ہیں پھر ان کا مطالعہ کرتے ہیں، تمام مذاہب کے پیروکاروں کے اعتقادات کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں، معاشرتی مختلف مسائل کا حل ڈهونڈتے ہیں، جسمانی اور روحانی بیماریوں کے لئے شفا بخش نسخے تلاش کرتے ہیں، در نتیجہ ان کے افکار کی تعمیر ہوتی ہے، وہ ہر چیز کو آنکھیں بند کرکے قبول کرنے کے بجائے دلیل اور برہان کے پیچھے دوڑتے ہیں – 

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ افراد جب فکری طور پر مضبوط ہوجائیں، ان کے نذدیک منطق اور استدلال ہر چیز کا معیار بن جائے، بہت جلد کامیابی کے اسرار ورموز سے واقف ہوجاتے ہیں، ان میں زندگی کے تمام مسائل خواہ دینی ہوں یا دنیوی’ میں نفع اور نقصان کا ادراک کرنے کی قوت پیدا ہوجاتی ہے، فاسد اور صحیح اعتقادات کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت کے وہ مالک بن جاتے ہیں، ان کو اسلام دشمن عناصر کی چالوں، ہیلوں اور پراپیگنڈوں کو سمجھنے میں کوئی دیر نہیں لگتی اور دوسرا گروہ وہ ہے جو انٹرنیٹ منفی چیزوں کے لئے استعمال کرتے ہیں، اس پر گانے سنتے ہیں، فحش فلمیں اور ننگی تصویریں دیکھتے ہیں، تخریبی خیالات اور گمراہ کرنے والے مواد پڑهتے ہیں،

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بے راہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں، کچهہ مدت بعد ان کے ذہنوں میں فاسد خیالات تناور درخت کی شکل اختیار کرتے ہیں اور وہ ضلالت وگمراہی کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں، شتر بے مہار کی طرح شیطانی افکار اور خیالات کی دنیا میں دوڑنے کو وہ کامیابی کی علامت سمجھتے ہیں، دین اور دینی تعلیمات کو وہ قصہ پارینہ قرار دیتے ہیں ، بلکہ دیندار مذہبی لوگوں کا مذاق اڑانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیں –

آج مسلم ملکوں میں انٹرنیٹ سے سوء استفادہ والوں کی کمی نہیں- فحاشیت کے لئے اب یورپ کی نہیں مسلم ممالک کی مثال دینا کافی ہے- ہمارے ملک میں بےحیائی اور فحاشی روز بروز بڑهتی جارہی ہے ،انٹرنیٹ پر بلا جھجک فحاشی و عریانیت کا مواد پکچرز اور ویڈیو دیکھنا زندگی کا حصہ بنتا جارہا ہے، جوان ونوجوان اس مرض میں ذیادہ مبتلا دکھائی دیتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ تربیت اسلامی کا فقدان اور مغربی کلچر سے جوانوں کا متاثر ہونا ہے- اس جرم میں وہ والدین بھی برابر کے شریک ہیں جو اپنی اولاد کی تربیت پر توجہ نہیں دیتے ہیں- بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتهہ ٹهوس تربیت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں اما م سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں ” تیر ی اولاد کا حق یہ ہے کہ تو اس پر غور کر کہ وہ بری ہے یااچھی ہے بہر حال تجھی سے وجود میں آئی ہے اوراس دنیا میں وہ تجھی سے منسوب ہے اور تیری ذمہ داری ہے کہ تو اسے ادب سکھا، اللہ کی معرفت کے لیے اس کی راہنمائی کر اور اطاعت پروردگار میں اس کی مددکر، تیرا سلوک اپنی اولاد کے ساتھ ایسے شخص کاساہونا چاہیے کہ جسے یقین ہوتا ہے کہ احسان کے بدلے میں اسے اچھی جزا ملے گی اور بد سلوکی کے باعث اسے سزاملے گی ۔ بچوں میں سعادت و بدبختی دونوں کی قابلیت موجود ہوتی ہے اب یہ والدین پر موقوف ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرکے کامل انسان بناتے ہیں یا اسے ایک گھٹیا درجے کا حیوان بنا کر معاشرے کو پیش کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں آیت اللہ ابراہیم امینی صاحب اپنی ایک کتاب میں یوں تحریر فرماتے ہیں “
(ہر انسان کی سعادت اور بدبختی اس کی کیفیت تربیت سے وابستہ ہے اور اس عظیم کام کی ذمہ داری ماں باپ کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے ۔ عظیم ترین خدمت کہ جو ماں باپ اپنی اولاد کے لیے انجام دے سکتے ہیں وہ یہ ہے اسے خوش اخلاق ، مہربان، انسان دوست ، خیرخواہ، حریت پسند، شجاع ، عدالت پسند، دانا، درست کام کرنے والا، شرافت مند ، با ایمان فرض شناس ، سالم ، محنتی ، تعلیم یافتہ ، اور خدمت گزار جو ماں باپ اپنی اولاد کی تربیت کی طرف توجہ نہیں کرتے بلکہ اپنی رفتار و کردار سے انہیں منحرف بنادیتے ہیں وہ بہت بڑے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ آج کے بچے ہی کل کے مرد اور عورت ہیں ۔ کل کا معاشرہ انہیں سے تشکیل پاناہے ۔ آج جو سبق سیکھیں گے کل اسی پر عمل کریں گے ۔ اگر ان کی تربیت درست ہوگئی تو کل کا معاشرہ ایک کامل تراور صالح معاشرہ ہوگا اور اگر آج کی نسل نے غلط پروگرام کے تحت اور نادرست طور پر پرورش پائی تو ضروری ہے کہ کل کا معاشرہ فاسدتر اور بدتر قرارپائے ۔ کل کی سیاسی ، علمی اور سماجی شخصیات انہیں سے وجود میں آئیں گی ۔ آج کے بچے کل کے ماں باپ ہیں ۔ آج کے بچے کل کے مربی قر ار پائیں گے ۔ اور اگر انہوں نے اچھی تربیت پائی ہوگی تو اپنی اولاد کو بھی ویسا ہی بنالیں گے اور اسی طرح اس کے برعکس ۔ لہٰذا اگر ماں باپ چاہیں تو آئندہ آنے والے معاشرہ کی اصلاح کرسکتے ہیں اور اسی طرح اگرچاہیں تو اسے برائی اور تباہی سے ہمکنار کرسکتے ہیں ۔ اس طرح سے ماں باپ معاشرے کی حوالے سے بھی ایک اہم ذمہ داری کے حامل ہیں ۔ اگر وہ اپنے بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کے لیے کوشش کریں تو انہوں نے گویا معاشرے کی ایک عظیم خدمت سرانجام دی ہے اور وہ اپنی زحمتوں کے صلے میں اجر کے حقدار ہیں اور اگر وہ اس معاملے میں غفلت اور سہل انگاری سے کام لیں تو نہ صرف اپنے بے گناہ بچوں کے بارے میں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں اور یقینی طور پر بارگاہ الٰہی میں جواب دہ ہوں گے تعلیم و تربیت کے موضوع کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے ۔ ماں باپ اولاد کی تربیت کے لئے جو کوشش کرتے ہیں اور جو مصیبتیں اٹھاتے ہیں وہ سینکڑوں اساتذہ ، انجینئرز، ڈاکٹرزاور علماءکے کاموں پر بھاری ہیں ۔ یہ ماں باپ ہیں جو انسان کامل پروان چڑھاتے ہیں اور ایک لائق و دیندار استاد، ڈاکٹر اور انجینئر وجود میں لاتے ہیں )۔ انٹرنیٹ پر نامناسب ویڈیوز اور پکچرز سے لطف اندوز ہونے والے مسلمانوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ انسان سمیت موجودات عالم کا خالق خدا ہے وہ قادر مطلق ہے کائنات میں موجود ساری چیزیں اس کی مخلوق ہیں شرافت کرامت اور فضیلت کے اعتبار سے سارے موجودات یکساں نہیں حضرت انسان سب سے ذیادہ فضیلت و شرافت کا حامل ہے اللہ تعالی نے انسان کو نعمت عقل سے نوازا جو انسان کا عظیم سرمایہ ہے اسی کے ذریعے انسان حیوان سے ممتاز ہوجاتا ہے اور اللہ نے عقل اس لئے دی ہے کہ انسان غور وخوض کریں ایک ادنی سی توجہ سے معلوم ہوگا کہ غلط راستوں سے حاصل ہونے والی لذتیں جلد ختم ہونے والی ہیں اس سے ابدی زندگی تباہ ہوجاتی ہے مرنے کے بعد عذاب ہوگا قبر میں سوال ہوگا عقلمند کھبی بھی وقتی خوشی کے ذریعے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لئے جہنم کا ایندھن نہیں بناتے اس مقام پر علامہ اقبال کا یہ خوبصورت شعر لکھنا مناسب سمجھتا ہوں اقبال کہتے ہیں “
( جوانی میں عدم کے واسطے سامان کر غافل ” “مسافر شب کو اٹھتے ہیں جو جانا دور ہوتا ہے” –
بنابراین انٹرنیٹ کا استعمال وقت کی ضرورت ہے ہمیں اس سہولت سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ حدود الہی کا خیال رکھیں منفی چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھیں اور اس بات کو اپنے دل ودماغ میں بٹھائیں کہ عالم محضر خدا ہے وہ ہماری شہ رگ سے بھی ذیادہ ہم سے قریب ہے وہ ہمارے اعمال پر ناظر ہے کوئی لمحہ خدا ہم سے غافل نہیں

 
 
 تحریر : محمد حسن جمالی 
 
زمرہ جات:   Horizontal 4 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)