روہنگیا کی حالت زار اور مسلمانوں کی بے حسی

محمد بن سلمان کی ولی عہدی اسرائیل کے لئے نیک شگون ہے

جامع مسجد النوری کی شہادت داعش کا اعتراف شکست ہے

چاند یا مریخ کا رخ نہ کیا تو 30 سال میں انسانی آبادی ختم: سٹیفن ہاکنگ

اسرائیل، مسلم امۃ کا حقیقی دشمن ہے: تحریک انصار اللہ

سعودی عرب میں اقتدار کی رسہ کشی

کلبھوشن یادیو نے آرمی چیف سے رحم کی اپیل کردی

اگر بیت المقدس کی آزادی سعودی اتحاد کے ایجنڈے میں شامل نہیں تو آرمی چیف راحیل شریف کو فوری واپس بلائیں : علامہ راجہ ناصرعباس

سعودی عرب علاقائی و عالمی دہشتگردی کا اہم اسپانسر ہے: پروفیسر آئیرش یونیورسٹی

پاکستان ڈرون حملے برداشت نہیں کرے گا

پاک ایران گیس منصوبہ 2 سال میں مکمل ہوجائے گا: آصف درانی

جنگل میں منگل: تاریخ رقم ، پیسہ ہضم

جنگی جنون میں مبتلا شہزادہ ولی عہد مقرر:  مشرق وسطی کو جنگ میں دھکیلنے کا سعودی منصوبہ

وہابیت بمقابلہ اخوان المسلمین / قطر کے بحران میں اہلسنت کا پرانا زخم تازہ

داعش کے مفتی اعظم کی ہلاکت کی تصدیق

حامد کرزئی نے سعودیہ کا دل توڑ دیا

وہابی دہشت گردوں نے موصل کی نوری مسجد کو شہید کردیا

زکوۃ کے احکام

قطر کا پابندیوں کی صورت میں سعودی عرب سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان

سعودی عرب میں ولی عہد کے خلاف بغاوت + تصویر اور ویڈیو کلیپ

راحیل شریف ذاتی حیثیت میں نام نہاد اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کیلیے گئے، سرتاج عزیز

سعودی عرب کے نئے ولیعہد کا ایران کے خلاف اعلان جنگ

محمد بن نائف برطرف: سعودی عرب کے ڈکٹیٹر بادشاہ نے ولی عہد کو برطرف کرکے اپنے بیٹے کو ولی عہد بنادیا

سخت پالیسی کا عندیہ: ٹرمپ انتظامیہ پاکستان پر برہم کیوں؟

قدس کا عالمی دن، صہیونیوں کی آنکھ میں چھبتا ہوا کانٹا

سعودی عرب میں‌اقتدار کی رسہ کشی میں شدت: سعودی بادشاہ نے ولی عہد محمد بن نائف کو برطرف کر دیا

افغانستان بھارت ہنی مون: پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی نئی لہر شروع ہونے کا خدشتہ

حافظ سعید کی نظر بندی میں مزید توسیع کر دی گئی

تصاویر: لندن میں روز قدس کا جلوس

قیامت کے دن کون سےافراد امیرالمومنین (ع) کےدرجہ پر فائز ہوں گے؟

افغانستان کے شیعہ و سنی، علما کے ساتھ

وزیراعظم کا ٹیم کے ہر کھلاڑی کیلیے ایک ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان

رابرٹ فورڈ: ایران امریکہ کو مشرقی شام سے بھاگنے پر مجبور کر دے گا

قطر کا بائیکاٹ، امریکی صدر کے سعودی دورے کا نتیجہ ہے: جماعت اسلامی پاکستان

انتہا پسندی کا تیزی سے پھیلتا زہر

اسرائیلی وزير اعظم کا شام میں وہابی دہشت گردوں کی حمایت کا اعتراف

خیرپور، اسرائیل مخالف ریلی کی تیاری پر پولیس کی دھمکیاں

جے آئی ٹی تحقیقات: کیا سپریم کورٹ حکومتی ہتھکنڈوں کا مقابلہ کر سکتی ہے؟

سی پیک کے لئے متبادل روٹ کی ضرورت

وزیر اعظم کی نئی مشکل: شریف خاندان کے خلاف کرپشن کے ثبوتوں کا دعویدار انعام الرحمن سحری کون ہے؟

بحرین نے ’قطری فوج کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا‘

داعش امریکہ کی آلہ کار تنظیم ہے، داعشی اسیر کے سنسنی خیز انکشافات

برطانیہ کی رہائشی عمارت میں لگنے سے ہلاکتوں کی تعداد 79 تک پہنچ گئی، اموات میں مزید اضافے کا خدشہ

شامی طیارہ گرانے پر امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

دنیا میں تیزی سے تنہا ہوتا پاکستان

بارسلونا کلب کے پرزیڈنٹ کی سعودی حکام کے موقف پر تنقید

مصری جزائر سعودی عرب کو دینے کے خلاف احتجاج , بڑی تعداد میں صحافیوں کی گرفتاری

آل سعود کی ''جنرل راحیل شریف" کو "جنرل قاسم سلیمانی" کے مقابلے میں چیمپئن بنانے کی سازش ناکام!

پاک افغان بارڈر پر پاکستان کے لیے خطرے کی نئی گھنٹی

پاکستانی صدر اور وزیراعظم کی سعودی یاترہ: شاہ سلمان کے نام خاص پیغام کیا ہے؟

لندن: ڈرائیور نے تراویح پڑھ کر نکلنے والے نمازیوں پر وین چڑھادی: متعدد زخمی

سعودی عرب داعش کیلئے امریکہ سے اسلحہ خرید رہا ہے ؛ امریکی اہلکار

پاکستان چیمپینز ٹرافی کا فاتح: بھارت کو 180 رنز سے شکست

گستاخ شیخ ولی خان کی مولا علی (ع) پر شراب پینے کی تہمت، عدلیہ خاموش کیوں؟

قطر بحران کا حل آسان نہیں

کشمیر میں مختلف مسلکوں کا حسین امتزاج: شیعہ اور سنی ایک مسجد میں اکٹھے

بکھری ہوئی امت مسلمہ اور عید کا چاند

 محلاتی سازشیں: کیا شہباز شریف بھی وزیر اعظم کی نا اہلی چاہتے ہیں؟

پاکستان کے ہندوستان کو ہرانے کا کتنا امکان موجود ہے؟

داعش اور جبہۃ النصرہ سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کو اسرائیل کی پشت پناہی حاصل ہے؛ اقوام متحدہ

علامہ ڈاکٹر غلام حسین عدیل کو دل کا شدید دورہ، اسپتال منتقل

امیرالمومنین علی (ع) قرآن اور حدیث کی روشنی میں

آل سعود کو فراہم کئے جانے والے ہتھیار آخر کار داعش کے پاس ہی پہنچتے ہیں

داعش نے شہر موصل میں 1 لاکھ شہریوں کو انسانی ڈھال بنا رکھا ہے

سعودی عرب میں حساس اداروں کے سربراہوں کی برطرفی

سعودیہ کا بڑھتا دباؤ: کیا پاکستنان قطر کے ساتھ گیس معاہدہ منسوخ کر دے گا؟

 امریکہ کا اصل چہرہ: خوف کی سیاست اور اسلحے کی فروخت

مشرق وسطی کے لئے امریکہ کی نئی سازش۔۔۔!

امریکا میں نئی بیماری ’ٹرمپ ڈس آرڈر‘ کا چرچہ

یوم علی(ع) پر کراچی جیل سے قیدیوں کا فرار ہونا انتہائی تشویشناک ہے، علامہ مختار امامی

تورا بورا غاروں پر داعش کا قبضہ: کیا افغانستان دوسرا شام بننے جا رہا ہے؟

2017-03-11 14:05:24

روہنگیا کی حالت زار اور مسلمانوں کی بے حسی

jاقوام متحدہ کی طرف سے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اور ان پر انسانیت سوز مظالم کے بارے میں ایک بار پھر تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ یہ معلومات اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی ایک اعلیٰ عہدیدار ینگ ہی لی نے نشریاتی ادارے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں فراہم کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میانمار کی سول حکومت نے انہیں راکھین صوبے میں جانے اور روہنگیا باشندوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی۔ تاہم انہوں نے فوج کے مظالم سے بھاگ کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا خاندانوں سے ملاقاتوں میں جو کہانیاں سنی ہیں اور انہوں نے جو واقعات بیان کئے ہیں، وہ انسانیت سوز ہیں اور انسانیت کے خلاف جرائم کی نوعیت رکھتے ہیں۔ اب ینگ ہی لی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سے اس معاملہ کی تحقیقات کرانے کےلئے درخواست کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ روہنگیا کی فراہم کردہ معلومات کو جھوٹ کہہ کر مسترد کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ ان واقعات و حقائق کی تصدیق سیٹلائٹ کے ذریعے راکھین کے تباہ شدہ دیہات کی تصویریں سے بھی ہوتی ہے۔ 2015 میں برسر اقتدار آنے والی نوبل امن انعام یافتہ انسانی حقوق کی علمبردار آنگ سوچی نے اس بارے میں سوالوں کے جواب دینے کےلئے بی بی سی کے نمائندے سے ملنے سے انکار کر دیا۔

روہنگیا مسلمانوں کی ابتر اور غیر انسانی صورتحال کے بارے میں عرصہ دراز سے تکلیف دہ معلومات فراہم ہو رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے علاوہ انسانی حقوق کےلئے کام کرنے والے کئی اداروں اور تنظیموں نے اس بارے میں عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ابھی تک یہ کاوشیں بار آور ثابت نہیں ہوئیں۔ اس حوالے سے دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں سیمینار منعقد ہوتے ہیں، سیاسی لیڈروں سے ملاقاتیں کی جاتی ہیں، وعدے کئے جاتے ہیں لیکن ان تمام سرگرمیوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ میانمار چھوٹا اور بے وسیلہ ملک ہونے کے باوجود اپنے ہی ملک کے ایک چھوٹے سے اقلیتی گروہ کو نیست و نابود کرنے اور ان سے مکمل طور سے گلو خلاصی کےلئے حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے اور دنیا کا کوئی قانون یا روایت یا انسانی حقوق کے علمبردار ممالک اس پالیسی کو رکوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ میانمار کی پالیسی نسل پرستانہ اور مسلمہ عالمی اصولوں سے متصادم ہے۔ اس کے باوجود اس ملک کی حکومت اس کا دفاع کرنے اور روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کےلئے کوئی لچک دکھانے پر آمادہ نہیں ہوتی۔

میانمار یا برما کی سابقہ فوجی حکومتوں نے روہنگیا کو اپنے ملک کا شہری تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا تھا کہ انہیں برما میں رہنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس اعلان کے بعد روہنگیا کو پاسپورٹ دینے یا سفری سہولتیں فراہم کرنے سے بھی انکار کیا جاتا ہے اور انہیں مخصوص علاقوں یا کیمپوں میں رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ملک بھر میں ایک چھوٹے اقلیتی گروپ کے خلاف نفرت اور عناد پیدا کر دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں اکثریتی عقیدہ کے حامل بدھ باشندوں نے روہنگیا مسلمانوں پر حملے کرنے اور ان کے گھر گرانے اور کاروبار تباہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ ان کھلم کھلا انسانی حملوں کے خلاف احتجاج کے باوجود ملک کے عوام کے جمہوری حق کےلئے پندرہ برس تک نظر بندی کی صعوبت برداشت کرنے والی آنگ سوچی نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف دیگر شہریوں کے تعصبات اور مظالم کو مستر کرنے کا حوصلہ نہیں کیا۔ انہیں اندیشہ رہا ہے کہ ملک کی اکثریتی آبادی کے دل میں اس چھوٹے سے گروہ کے خلاف اس قدر نفرت بھر دی گئی ہے کہ ان کی حمایت میں بولنے کی صورت میں وہ اپنی سیاسی حمایت سے محروم ہو سکتی ہیں۔ اس طرز عمل سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ انسانیت اور جمہوریت کےلئے بلند بانگ دعوے کرنے والے رہنما بھی دراصل سیاسی مقبولیت کو ہی منزل مقصود سمجھتے ہیں۔ حتیٰ کہ سوچی کو 2015 میں اقتدار حاصل ہو گیا لیکن وہ برسر اقتدار آنے کے باوجود نہ صرف یہ کہ اس انسانی مسئلہ کو حل کرنے کےلئے کوئی اقدام کرنے کا حوصلہ نہیں کر سکیں بلکہ روہنگیا کے خلاف فوج کے مظالم کو یک طرفہ پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کرتی رہی ہیں۔ وہ روہنگیا کے خلاف نفرت کو نسلی تعصب کی بجائے ثقافتی تصادم کا نام دیتی ہیں اور فوج کی اس پالیسی پر عمل پیرا ہیں کہ روہنگیا کو برما یا میانمار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

روہنگیا مسلمان ڈیڑھ دو سو سال پہلے مزدوری کے لئے بنگلہ دیش سے برما آئے تھے۔ وہ راکھین صوبے میں ساحلی علاقوں میں آباد ہیں اور محنت مزدوری یا کاشتکاری و ماہی گیری کے ذریعے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ لیکن سرکاری اور عوامی جبر کی وجہ سے انہیں مسلسل اپنے گھروں اور رہائشی علاقوں سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری اداروں کے دباؤ کی وجہ سے انہیں ناقص کشتیوں میں ملک سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ لیکن روہنگیا کی بدنصیبی یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے علاوہ اس ریجن کے دیگر ممالک تھائی لینڈ ، انڈونیشیا یا ملائشیا بھی انہیں قبول کرنے کےلئے تیار نہیں۔ سمندری راستوں سے ہجرت کے دوران سینکڑوں روہنگیا ہلاک ہو چکے ہیں۔ جو کسمپرسی کے عالم میں کسی ساحل پر پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو انہیں سرحدی محافظ وہاں سے بھگا دینے میں دیر نہیں لگاتے۔ اس حالت میں بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کے ساحلوں پر انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے منظم جرائم پیشہ گروہ کثیر معاوضہ لے کر ان مہاجرین کو ملک کے پناہ گزین کیمپوں تک پہنچاتے ہیں۔

گزشتہ ایک برس سے برما کی فوج نے روہنگیا علاقوں میں دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے نام پر کارروائی کی ہے۔ اس دوران روہنگیا باشندوں کو بے دریغ قتل کیا گیا، ان کے دیہات جلا دیئے گئے، فصلوں اور کاروبار کو تاراج کر دیا گیا اور عورتوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان مظالم کے باوجود عالمی اداروں کے دباؤ پر میانمار حکومت نے گزشتہ برس ایک نام نہاد تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تھا۔ اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں میانمار کی فوج کو بری الذمہ قرار دیا تھا اور روہنگیا کے خلاف مظالم کو فرضی داستانیں بتایا تھا۔ ان دعوؤں کے باوجود میانمار کے حکام غیر ملکی میڈیا، امدادی کارکنوں یا اقوام متحدہ کے نمائندوں کو راکھین جانے اور حالات کا خود مشاہدہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ روہنگیا کےلئے آنے والی امداد کو بھی سرکاری ذرائع سے تقسیم کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح ان وسائل کو بھی خورد برد کر لیا جاتا ہے۔

میانمار حکومت اور فوج کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی اس جبر سے بھاگ کر بنگلہ دیش پہنچنے والی پناہ گزین کھولتے ہیں۔ وہاں پر قائم روہنگیا کے کیمپوں میں مقیم ہر شخص کے پاس ایک درد ناک کہانی ہے۔ ان مظالم کی تصدیق ان سیٹلائٹ تصاویر سے ہوتی ہے جن میں روہنگیا کے علاقوں میں وسیع و عریض تباہ کاری دیکھی جا سکتی ہے۔ میانمار کی سول حکومت جو طویل جدوجہد کے بعد اقتدار میں آئی ہے، اس صورتحال کو قابل غور نہیں سمجھتی۔ آنگ سوچی تو اس معاملہ پر بات کرنے سے ہی گریز کرتی ہیں۔ البتہ ان کی جماعت کے ایک ترجمان نے اقوام متحدہ کی طرف سے روہنگیا کے خلاف مظالم کی اطلاعات کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ تاہم صحافی کے سوالوں کے جواب میں انہیں اعتراف کرنا پڑا ہے کہ سول حکومت ملک کی فوج کے خلاف کوئی بات کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ ایسے میں یہ سوال تو ضرور پیدا ہوتا ہے کہ پھر ایسی حکومت جمہوریت پسند اور عوام کی نمائندہ ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہے۔ اگر کوئی جمہوری حکومت ملک کے گروہوں کے درمیان امتیاز اور تعصب کو فروغ دیتی ہے تو وہ جمہوریت کی روح کے متصادم طرز عمل اختیار کرتی ہے۔ آنگ سوچی نے میانمار کےلئے طویل جدوجہد کی ہے۔ اسی لئے انہیں نوبل امن انعام دیا گیا تھا۔ لیکن روہنگیا کے خلاف جنگ کی موجودہ صورتحال میں وہ کسی صورت اس اعزاز کی مستحق نہیں رہیں۔

روہنگیا مسلمانوں کی کل تعداد 10 سے 15 لاکھ کے درمیان ہے۔ حیرت ہے کہ دنیا کے 50 سے زائد مسلمانوں ملک نہ تو ان مظلوم باشندوں کے خلاف تشدد اور مظالم بند کروانے کےلئے ینگون حکومت پر دباؤ ڈالتے ہیں اور نہ ہی انہوں نے مل کر کوئی ایسا فنڈ قائم کیا ہے جو ان دربدر مسلمانوں کی مدد اور آباد کاری کے کام آ سکے۔ اس وقت سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز ایشیائی ملکوں کے ایک ماہ کے دورہ پر ہیں۔ خبروں کے مطابق وہ 600 سے زائد افراد کے بھاری بھر کم وفد کے ساتھ سفر کر رہے ہیں اور ان کی آسائش کےلئے پونے پانچ سو ٹن ساز و سامان ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کیا جاتا ہے۔ ایک طرف مسلمان حکمران اتنی عیاشی کا سامان فراہم کر سکتے ہیں تو دوسری طرف وہ مل کر بھی روہنگیا مسلمانوں کےلئے کوئی قابل عمل منصوبہ بنانے میں ناکام ہیں۔ اقوام متحدہ گزشتہ برس بھی میانمار حکومت پر روہنگیا کے خلاف مظالم کے سوال پر سخت تنقید کر چکی ہے۔ تاہم اب اس تنقید کو عملی اقدامات کی شکل اختیار کرنی چاہئے۔ اس حوالے سے مسلمان ملکوں کو کردار ادا کرنے اور میانمار پر دباؤ ڈالنے کےلئے کوششیں کرنا ہوں گی۔

 

 

زمرہ جات:   Horizontal 3 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

جام جم

- سحر نیوز