پاناما سے آگے جہاں اور بھی ہیں!

پاکستان کا کشمیر سے متعلق امام خامنہ ای کے بیان کا خیر مقدم

ان الحسین باب من ابواب الجنة

ہم تب کربلائی اور حسینی ؑنہضت کا حصہ بن سکتے ہیں جب ہمارے اندر انبیائی اور حسینیؑ صفات موجود ہوں: علامہ راجہ ناصر عباس

صحافت اور شہادت ساتھ ساتھ

چیئرمین سینیٹ منتخب کرانے کیلیے پی ٹی آئی نے کہا کہ اوپر سے آرڈر آیا ہے: سراج الحق

ایران کا ردعمل امریکہ کیلئے تکلیف دہ ہوگا: محمد جواد ظریف

امریکا کی عالمی جوہری ڈیل سے ممکنہ دستبرداری اور اس کے اثرات

امام حسین علیہ السلام کی سیرت طیبہ

مسلم خاتون کو ہاتھ نہ ملانے کی وجہ سے فرانس کی شہریت سے محروم کر دیا گیا

اللہ تعالی کی طرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر تہنیت اور تعزیت

سعودی عرب میں چیک پوسٹ پر فائرنگ سے 4 سیکویرٹی اہلکار جاں بحق

امریکی ہتھیاروں پر انحصار میں کمی: کیا پاکستان امریکہ سے مستقل چھٹکارا پا رہا ہے؟

سائیکل چلانے سے بہتر کوئی ورزش نہیں

کیمائی گیس حملہ کا فسانہ – رابرٹ فسک

شام پر ناکام حملہ، ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ

سعودی حکومت کے بانی کے برطانوی ایجنٹ ہونے کی تصدیق

شام میں امریکہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے، ابوالخیرزبیر

بھارت سکھ زائرین کے دورے کو کیوں متنازع بنانا چاہتا ہے؟

میں شام پہ غیر جانبدار نہیں ہوں – عامر حسینی

شامی حکومت نے دوما میں کیمیائی حملہ نہیں کیا: رابرٹ فسک

ڈائریکٹر سی آئی اے کی سربراہ شمالی کوریا سے خفیہ ملاقات کا انکشاف

امریکی سفارتکار کی گاڑی کی ٹکر سے نوجوان کی ہلاکت؛ پولیس نے کیس خراب کر دیا؟

نواز شریف کو محب وطن ثابت کرنے کی کوشش

کیا پاکستان سکھ یاتریوں کو خالصتان کے لیے اکسا رہا ہے؟

جنوبی اور شمالی کوریا 70 سالہ جنگ کے باقاعدہ خاتمے پر رضامند

اب جہاز میں کھڑے ہو کر سفر کرنا ممکن

جنوبی اور شمالی کوریا 70 سالہ جنگ کے باقاعدہ خاتمے پر رضامند

روس کا شام کو ایس 300 دفاعی میزائل فراہم کرنے پر غور

3 ہزار سے زائد ایپس غیر قانونی طور پر ڈیٹا جمع کرنے میں مصروف

دیوبندی مکتب فکر میں جہاد و تکفیر اور پشتون و پنجابی فیکٹر – عامر حسینی

یورپ ایران جوہری معاہدے پر امریکہ کے سامنے نہ جھکے: روس کا مطالبہ

متنازعہ ایجاد: ایمسٹرڈم میں ’خودکشی کی مشین‘ کی عوامی نمائش

پاکستان پر افغان سرحد کے پار سے حملہ: امن کیسے قائم ہو گا؟

شامی میدان پر مفاد پرستوں کی لڑائی ختم ہونا مشکل کیوں؟

پیغمبراکرم (ص) نے بشریت کو حیات طیبہ کی تعلیم دی تھی

مصری پارلیمنٹ کی خارجہ کمیٹی کی شام پر تین مغربی ممالک کے حملے کی مذمت

کوئٹہ : داعش کے بھیس میں لشکر جھنگوی کے مسیحی برادری پر حملے

فوج نہ ہوتی تو پاکستان میں بھی دیگر مسلم ممالک کی طرح تباہی مچی ہوتی، عمران خان

شامی جنگی ڈرامے کا مرکزی ولن کون؟ – ولادیمر گولیسٹن

شام پر امریکی حملے جاری رہے تو دنیا کیلیے خطرناک ہوگا، ولادی میر پیوٹن

ڈونلڈ ٹرمپ جھوٹے اور اخلاقی طور پر صدارت کیلئے نااہل ہیں: جیمز کومی

غیرملکی ایجنسیاں لوگوں کو لاپتہ کرکے آئی ایس آئی پر الزام لگانا چاہتی ہیں، جاوید اقبال

پختون تحفظ موومنٹ: حقوق کی جنگ یا غداری

سعودی عرب کا مشرقی یروشلم میں اسلامی ورثے کے تحفظ کی آڑ میں اسرائیل کو 15کروڑ ڈالر کی امداد

امریکہ کا شام پر حملہ دہشت گردوں کو شکست سے بچانے کی ناکام کوشش کا حصہ ہے

عالمی استکبار شام پر عراقی تاریخ دہرانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہے: علامہ راجہ ناصرعباس جعفری

برطانوی وزیراعظم امریکا کو نہیں پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں، جیرمی کوربن

امریکی صدر نے شام پر دوبارہ حملے کی دھمکی دے دی

کیا امریکہ شام پر اگلی دفعہ بڑا حملہ کرے گا؟

ن لیگ کا چیف جسٹس کو واضح پیغام: سپریم کورٹ جج اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ

شام کیوں زد پرہے ؟

خوفناک ترین ہتھیار: کیا روس کا اینٹی سیٹلائٹ میزائل امریکہ کو مفلوج کر دے گا؟

حملوں کے بعد بشار کی معمول کے مطابق دفتر آمد! فوجی پرسکون, سیکیورٹی عمومی، زندگی رواں دواں

شام نے مغربی ممالک کے 13 میزائل تباہ کردیئے

سعودی عرب کا شام پر امریکی حملے کی حمایت کا اعلان

امریکہ، فرانس اور برطانوی حکمران مجرم ہیں: آیت اللہ خامنہ ای

برطانیہ شام میں کیمیائی حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے: روسی جنرل

نواز شریف کی زندگی بھرنا اہلی کا فیصلہ قبول ہے: وزیراعظم

پاکستان میں 5G ٹیکنالوجی کب آئے گی؟

شام پر امریکی اتحادیوں کا حملہ: روس کے پاس کیا آپشن بچے ہیں؟

تاحیات نااہلی: کیا اب بھی نواز شریف کے پاس راستہ موجود ہے؟

امریکا، برطانیہ اور فرانس نے شام پر حملہ کردیا

شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار تشویش

پاکستان میں امریکہ مخالف مظاہرہ

پشتون تحفظ مومنٹ، / تحفظات و سوالات – حیدر جاوید سید

دوما میں کیمیائی حملے کا ڈراما غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے رچایا گیا: روس

امریکا نے شام پر حملہ کیا تو جنگ چھڑ سکتی ہے: روس کا انتباہ

مذہبی سلیبرٹیز کا دور

مغربی ممالک شام کے خلاف مہم جوئی سے باز رہیں، چین

پی ٹی آئی جہانگیر ترین کی نااہلی کا فیصلہ قبول کرتی ہے، شاہ محمود قریشی

2017-03-16 20:12:39

پاناما سے آگے جہاں اور بھی ہیں!

jjپاکستان کے وزیرعظم نواز شریف ملک میں لبرل بیانیہ کے حق میں بیانات دینے کے علاوہ ترقی کے منصوبوں کا افتتاح کرتے ہوئے خوشحال مستقبل کی نوید دے رہے ہیں۔ دوسری طرف ملک بھر کے صحافی ، مبصر اور سیاستدان بے صبری سے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کر رہے ہیں جو عدالت کے 5 رکنی بینچ نے 23 فروری کو یہ کہتے ہوئے محفوظ کر لیا تھا کہ اس معاملہ میں بے شمار دستاویزات اور معلومات سامنے آئی ہیں، جن کا مطالعہ کرنے میں وقت صرف ہوگا۔ اس لئے مختصر حکم نامہ جاری نہیں کیا جا سکتا اور بعد میں تفصیلی فیصلہ جاری ہوگا۔ اب اس متوقع فیصلہ کے انتظار میں پوری قوم بے صبری کی تمام حدود پھلانگ چکی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ملک کا الیکٹرانک میڈیا ہے جس کے درجنوں ٹاک شوز اور سینکڑوں مبصرین کو بحث کرنے اور اپنی علمی اصابت سامنے لانے کےلئے آسان موضوعات اور نان ایشوزکی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے کبھی پھٹیچر اور ریلو کٹا کی بحث میں صلاحیت صرف کی جاتی ہے اور کبھی قومی اسمبلی کے دو اراکین کی باہمی چپقلش اور تلخ کلامی پر گھنٹوں پر محیط پروگروام نشر ہوتے ہیں۔ فطری طور سے پاناما کیس اس وقت مباحث کا مرغوب ترین موضوع ہے۔ ماہرین اور مبصر اپنی اپنی پسند اور ناپسند کے مطابق اندازے قائم کرنے میں مصروف ہیں جبکہ درحقیقت عدالت کے متوقع فیصلہ پر خیال آرائی کے گھوڑے دوڑانا اگر توہین عدالت نہ بھی ہو تو بھی یہ ایک ناجائز اور نامناسب بات ہے۔ اس طرح ملک کا وزیراعظم بااختیار اور پرجوش ہونے کے باوجود راصل حالات کی ڈور سے بندھا ہے۔ کوئی نہیں جانتا آنے والا کل اور سپریم کورٹ کا فیصلہ موجودہ سیاسی صورتحال کےلئے کیا پیغام لے کر آتا ہے۔

سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فروری کے آخر میں فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ کوئی مقبول فیصلہ دینے کی بجائے کیس کے میرٹ پر فیصلہ دیں گے تاکہ 20 برس بعد بھی یہ تسلیم کیا جائے کہ یہ فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ تاہم پاناما کیس میں انصاف کھوجنا ہی سپریم کورٹ کے ججوں کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ دونوں طرف سے الزامات اور دعوے تو کئے گئے ہیں لیکن ایسے ٹھوس شواہد پیش نہیں کئے گئے جن پر عدالت عظمیٰ کے 5 جج اپنے فیصلے کی بنیاد رکھ سکیں۔ جسٹس کھوسہ نے آخری ریمارکس میں خود یہ واضح کیا ہے کہ اس مقدمہ میں پیش کی گئی 99 فیصد سے زائد دستاویزات ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے قابل ہیں۔ اب یہ جج ردی کاغذات کے اس ڈھیر میں سے کوئی ایسی سچائی تلاش کرنے کی کوشش کریں گے جس کے راستے پر چلتے ہوئے یہ قوم اپنی منزل پا سکے۔ یہی عدالت کے 5 رکنی بینچ کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ اس کے سامنے ایک ایسا معاملہ ہے جس میں الزامات کی بنیاد پر کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں لیکن ملزم کو سزا دینے کے پرزور دعوے موجود ہیں۔ اسی طرح وزیراعظم سمیت جن افراد پر بدعنوانی کے الزامات عائد ہیں وہ اپنی بے گناہی کا کوئی ٹھوس ثبوت تو سامنے نہیں لائے لیکن الزام لگانے والوں کو بدنیت اور جھوٹا قرار دے کر کام چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سوال پر قوم بلاشبہ دو دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔ فیصلہ خواہ کچھ بھی ہو یہ طے ہے کہ قوم بہرصورت تقسیم ہی رہے گی۔ اس وقت سپریم کورٹ پر اعتماد کا اظہار کرنے والے کل اس پر سیاسی مصلحت کوشی کا الزام لگاتے ہوئے دیر نہیں لگائیں گے۔ کیونکہ اہل پاکستان نے یہ مزاج راسخ کر لیا ہے کہ اگر کوئی عدالت ان کے حق میں فیصلہ نہیں دیتی تو اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ کمرہ عدالت میں انصاف کا خون ہوا ہے۔

پاکستان میں غیر ضروری موضوعات پر طول طویل بحث کے ذریعے اور پاناما کیس کے انتظار میں اگرچہ وقت کو تھام لیا گیا ہے لیکن دنیا میں حالات کا دھارا اسی تیزی سے جاری و ساری ہے اور ان میں سے بہت سے معاملات پاکستان اور اہل پاکستان پر براہ راست یا بالواسطہ اثر انداز بھی ہو رہے ہیں۔ ان میں امریکہ میں رونما ہونے والی تبدیلیاں بھی ہیں اور بھارت میں نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی انتخابات میں حالیہ کامیابی بھی شامل ہے۔ امریکی کانگریس میں ایک بار پھر یہ قرارداد سامنے لائی گئی ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دیا جائے۔ بھارت کی لابی کسی نہ کسی صورت یہ قرارداد منظور کروانا چاہتی ہے۔ تاہم متضاد سیاسی بیانات اور صدارتی احکامات جاری کرنے کی شہرت رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ بھی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان پر اس قسم کی الزام تراشی اور پابندیوں پر مشتمل امریکی پالیسی اس خطے میں امریکہ کے مفادات کےلئے نقصان دہ ہوگی۔

داخلی مسائل میں گھرے ٹرمپ کو ابھی تک اہم خارجہ امور پر توجہ دینے کی فرصت نہیں ملی ہے۔ وہ سب سے پہلے ایسے فیصلے کرنا چاہتے ہیں جو ان کے انتخابی وعدوں کا حصہ تھے اور جن سے امریکہ کے عوام کو فوری طور پر یہ اندازہ ہو سکتا ہے کہ ان کے صدر اپنے وعدوں پر عمل کر رہے ہیں۔ اسی لئے سب سے پہلے نہ صرف یہ کہ میکسیکو کی سرحد کے ساتھ اڑھائی ہزار کلومیٹر طویل دیوار تعمیر کرنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا بلکہ اس کی لاگت بھی میکسیکو سے وصول کرنے کا اعلان ہوا۔ میکسیکو نے اس قسم کی گیدڑ بھبکیوں کو مسترد کیا تو یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ میکسیکو کی درآمدات پر ٹیکس عائد کرکے یہ قیمت وصول کی جائے گی۔ جب یہ اندازہ ہوا کہ اس کا بار تو براہ راست امریکی صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا تو نومنتخب صدر نے اس حوالے سے ٹوئٹ کرنے کا سلسلہ روک لیا۔ اس کے ساتھ ہی عام شہریوں کو بنیادی طبی سہولت فراہم کرنے والے قانون المعروف اوباما کیئر کو تبدیل کرنے کےلئے تجاویز سامنے لائی گئی ہیں۔ اب کانگریس کی کمیٹی نے تخمینہ لگایا ہے کہ ان تجاویز پر عمل کرنے سے 20 ملین امریکی ہیلتھ انشورنس سے محروم ہو جائیں گے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے جو ری پبلکن پارٹی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی مقبولیت کے غبارے سے اچانک ہوا نکال سکتا ہے۔ اسی لئے اب آہستہ آہستہ کئی سینیٹرز ان ترامیم کے بارے میں تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں کے خلاف براہ راست مہم جوئی کرتے ہوئے برسر اقتدار آئے تھے۔ اپنے حلقہ انتخاب کو مطمئن کرنے کےلئے انہوں نے 7 مسلمان ملکوں کے باشندوں پر امریکہ سفر کرنے کی عارضی پابندی عائد کی تھی۔ تاہم امریکی عدالتوں نے اسے ملک کی بنیادی اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ اس فیصلہ پر جزبز ہونے کے باوجود صدر نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے سے گریز کیا اور گزشتہ ہفتے کے دوران 6 اسلامی ملکوں پر سفر کی پابندیاں عائد کرنے کا نیا حکم نامہ جاری کیا۔ اس فہرست میں عراق کو نکال دیا گیا ہے کیونکہ صدر کو بتایا گیا ہے کہ دولت اسلامیہ یا داعش کے خلاف کارروائی کےلئے عراق کا تعاون بے حد ضروری ہے۔ اب ہوائی کی ایک عدالت نے اس حکم کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ اب اس حوالے سے نئے سرے سے مقدمہ بازی کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اس دوران شمالی کوریا کو متنبہ کرنے کےلئے صدر ٹرمپ نے جنوبی کوریا میں امریکی سی آئی اے کو ڈرون حملوں کے خصوصی اختیارات تفویض کئے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی ہے۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ صدر ٹرمپ سعودی عرب کو امریکہ میں زیادہ سرمایہ کاری پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں جبکہ سعودی عرب ایران کے خلاف امریکی حکمت عملی میں تبدیلی سے مطمئن ہے۔ شہزادہ محمد کی خواہش تھی کہ امریکہ عراق اور شام میں ایرانی اثر و رسوخ کے خلاف کارروائی کا آغاز کرے۔ اسی لئے 6 مسلمان ملکوں کے باشندوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کے فیصلہ کی توثیق کرتے ہوئے سعودی عرب کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ امریکہ کا داخلی معاملہ ہے اور اسے مسلمانوں کے خلاف پابندی نہیں کہا جا سکتا۔ حالانکہ امریکہ میں انسانی حقوق کےلئے کام کرنے والی تنظیمیں صدارتی حکم کو ایک خاص عقیدہ کو ٹارگٹ کرنے کی مذموم کوشش قرار دے چکی ہیں۔ اس طرح امریکہ اور سعودی عرب ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرنے کے مقصد میں آگے بڑھنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ جلد ہی سعودی عرب کو اعلیٰ کارکردگی کے حامل میزائل سسٹم کے فروخت کی اجازت دینے والے ہیں۔ سابق صدر اوباما نے یمن میں سعودی فوجی کارروائی کی وجہ سے اس کی فروخت روکنے کا حکم دیا تھا۔

اس دوران وزیراعظم کے مشیر خارجہ اور سرتاج عزیز نے لندن میں افغان صدر اشرف غنی کے سلامتی کے مشیر سے ملاقات کی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات دور کرنے کےلئے بات چیت کا آغاز ہوا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ ماہ سہون شریف میں دہشت گرد حملہ کے بعد پاک افغان سرحد کو بند کر دیا تھا۔ اب اس بندش کو ایک ماہ مکمل ہو چکا ہے لیکن پاکستان نے افغان شہریوں کو ملک سے جانے کا موقع دینے کےلئے دو روز کےلئے طورخم اور چمن پر بارڈر کو کھولا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں طرف سے ٹریفک مکمل طور سے بند ہے۔ اس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تاجروں کو شدید نقصان ہو رہا ہے۔ افغانستان جانے والے اسباب سے بھرے سینکڑوں کنٹینر کراچی کی بندرگاہ پر جمع ہو رہے ہیں جبکہ دونوں ملک کوئی قابل عمل فارمولا تلاش نہیں کر سکے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد حملے افغانستان میں موجود عناصر کرتے ہیں جنہیں بھارت کی حمایت حاصل ہے۔ افغان سکیورٹی فورسز کی مجبوریاں جانتے ہوئے بھی پاکستان افغانستان پر دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے۔ لیکن اسے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ مستقل طور سے افغان سرحد بند نہیں رکھ سکتا اور نہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مزید خراب کرنے کا خطرہ مول لے سکتا ہے۔ اس لئے امید کرنی چاہئے کہ لندن میں ہونے والے مذاکرات بار آور ثابت ہوں گے اور دونوں ملک تعلقات بحال کرنے کےلئے مؤثر اقدامات کر سکیں گے۔ سرحدوں پر دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنا دونوں ملکوں کےلئے ضروری ہے لیکن سرحدی بندش اس مسئلہ کا پائیدار حل نہیں ہو سکتی۔

پاکستان کو مشرقی سرحد پر بھارت کی جارحیت کا سامنا ہے۔ اس لئے اسے مغرب میں افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ بیک وقت دو سرحدوں پر محاذ آرائی کی حالت پیدا کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک افغانستان میں امریکی افواج کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ امریکہ افغانستان میں طالبان اور داعش کے خلاف فیصلہ کن جنگ کےلئے وہاں افواج میں اضافہ کا فیصلہ کرے۔ اس صورتحال میں پاکستان الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے متعدد مفاد وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ 30 لاکھ کے لگ بھگ افغان پناہ گزین بھی پاکستان میں رہتے ہیں جن کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے۔ ان حالات میں پاکستان کو بہرحال افغانستان کے ساتھ مراسم بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر بھارت وہاں پر مزید پنجے گاڑے گا جو بہرصورت پاکستانی مفادات کے خلاف ہے۔

گزشتہ رات لائن آف کنٹرول پر بھارت کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری جاں بحق ہو گئے۔ ان میں ایک معمر شخص اور ایک نوجوان لڑکی تھی۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارت ابھی تک سرحدوں پر امن بحال کرنے کےلئے تیار نہیں ہے۔ بھارت کی 5 ریاستوں میں انتخابات کی وجہ سے یہ کہا جا رہا تھا کہ وہاں انتخاب مکمل ہونے کے بعد بھارت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو سکے گا۔ ان انتخابات میں نریندر مودی کی سیاسی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے اور ان کی پارٹی نے اترپردیش میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے علاوہ اتراکھنڈ ، منی پور اور گوا میں حکومتیں قائم کرنے کےلئے پیش رفت کی ہے۔ یہ سیاسی مقبولیت جزوی طور پر انتہا پسند ہندو قوم پرستانہ نعرے لگانے کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ اس لئے اب مودی پاکستان کے ساتھ زیادہ سخت رویہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی سرحدوں کی حفاظت کے علاوہ پاکستان کےلئے دریائی پانی کی فراہم کے حوالے سے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ نریندر مودی نے گزشتہ برس اوڑی حملہ کے بعد کہا تھا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ اس طرح انہوں نے پاکستان کو پانی بند کرنے کی بالواسطہ دھمکی دی تھی۔ پاکستان کی 80 فیصد زراعت بھارت سے بہنے والے دریاؤں سے حاصل کردہ پانی کی مرہون منت ہے۔ اگرچہ ورلڈ بنک سندھ طاس معاہدہ کا ضامن ہے لیکن بھارت ماضی میں بھی ٹیکنیکل عذر تراش کر پاکستان آنے والے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کر چکا ہے۔ گزشتہ تین ماہ میں ایسے 6 ہائیڈرو پاور منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ان پر عملدرآمد سے پاکستان کے حصے کے پانی میں قابل ذکر کمی ہو سکتی ہے۔

طویل تعطل کے بعد اس ماہ کے آخر میں بھارتی نمائندے لاہور میں ہونے والے انڈس کمیشن کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے باوجود پانی کی تقسیم کے اہم مسئلہ پر بات چیت شروع ہو سکے گی۔ سندھ طاس معاہدہ کو 57 برس ہو چکے ہیں۔ اسے مزید مؤثر بنانے اور دونوں ملکوں کی بدلتی ہوئی ضرورتوں پر پورا کرنے کےلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کرنا ضروری ہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں شامل ہے جنہیں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اس اہم مسئلہ سے نمٹنے کےلئے اسلام آباد میں مضبوط حکومت، ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور بھارت کو مذاکرات پر راضی کرنے کےلئے موثر سفارت کاری کی اشد ضرورت ہے۔ یہ قومی ضرورتیں ان سیاسی مباحث اور الزام تراشیوں سے زیادہ اہم ہیں، جنہیں ملک میں ٹاک شوز اور تبصروں کے ذریعے روزمرہ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

  تحریر: سید مجاہد علی

 

زمرہ جات:   Horizontal 1 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

یادوں کے جھروکے

- سحر ٹی وی