گلگت بلتستان - وفاداریاں اور محرومیاں

ایران کو تنہا کیا جا رہا ہے، وزیراعظم پاکستان تماشائی بنے رہے: عمران خان

سعودی عرب امریکہ کا کھلونا ہے: پاکستانی اہلسنت برادری

آل سعود جیسی بدترین حکومت کے ساتھ ہتھیاروں کا معاہدہ 'انتہائی خوفناک' ہے: امریکی سینٹر

پی آئی اے کی لندن جانے والی پرواز سے21 کلو ہیروئن برآمد

 ایران کے خلاف الزامات کی بوچھار: امریکہ سعودی ریالوں کے سامنے بچھ گیا

عمران خان کے الزامات: کیا نواز شریف غدار ہیں؟

نواز شریف کا استقبال: سعودیہ کی نواز شریف کی عزت افزائی یا بے عزتی؟

افغان سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، اہم ثبوت حاصل کر لیے گئے

سعودی ڈالر کا کمال:‌ٹرمپ کا ایران پر فرقہ وارانہ فسادات اور دہشت گردی کا الزام

سعودی عرب کو ہتھیار فروخت نہ کئے جائیں، ہیومن رائٹس واچ کا امریکہ سے مطالبہ

دہشت گردوں کے حامی ممالک کی دہشت گردوں کا فنڈ روکنے کی نام نہاد کوشش

راولپنڈی میں ایم کیوایم لندن کے خفیہ نیٹ ورک کا انکشاف

ایران کےانتخابات سے سعودی عرب کے ڈکٹیٹر بادشاہ پر خوف اور ہراس کیوں طاری؟

امریکی اسلامی کانفرنس : سعودی فرماں روا شاہ سلمان کے ایران پر بے بنیاد الزامات

چین نے امریکا کے 20 جاسوس ہلاک کیے: نیویارک ٹائمز

مقدمات سے بچانے کے لیے سعودی عرب نے انتہا پسند مذہبی اسکالر ذاکر نائیک کو شہریت دیدی

اسلامی سربراہی کانفرنس اور اسلامی نیٹو

ٹرمپ کا دورہ بحران میں اضافہ کر سکتا ہے

داعش کی اصل قوت

امریکہ مسلمانوں کا دشمن نہیں: امت مسلمہ کے نام نہاد داعی کا مسلمانوں‌کے زخموں پر نمک

سعودیہ میں‌محلاتی سازشیں: تخت و تاج کیلیے دو سعودی شہزادوں میں کھینچا تانی

آسٹریا بھی مسلم کش پالیسیز کے رستے پر: قرآن کی تقسیم اور برقعے پر پابندی

العوامیہ، سعودی عرب کا غزہ

عالمی عدالت بھی کلبھوشن کی سزا ختم نہیں کرسکتی، مشیر خارجہ

امریکہ اور سعودی عرب نے 4 کھرب اور 60 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کردیئے

کلبھوشن کو پاکستانی قانون کے مطابق انجام تک پہنچائیں گے: چوہدری نثار

ٹرمپ کی بیو ی اور بیٹی کیلئے سکارف پہننا ضروری نہیں: سعودی وزیر خارجہ

مسلم رہنماؤں کو اسلام پر لکچر دینے کے لیے ٹرمپ سعودی عرب پہنچ گئے

ایران کے صدارتی انتخاب: ڈاکٹر حسن روحانی ایک بار پھر کامیاب

لرزہ خیز انکشافات: دہشت گرد گروہوں کی پاکستانی خواتین کی ذہن سازی

 جمہوری نظام والے، کافر ہیں: وہابی مفتی کا نیا شوشہ

عالمی عدالت انصاف  کے بعد سلامتی کونسل سے رجوع:  کیا پاکستان کو کلبھوشن کو رہا کرنا پڑے گا؟

حزب اللہ رہنما پر امریکا، سعودی عرب کی مشترکہ پابندی

ٹرمپ: سعودیہ، دودھ دینے والی گائے ہے، جب اس کا دودھ ختم ہوجائے اس کا گلہ کاٹ دینگے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح پر آگئی

کلبھوشن کیس پر عالمی عدالت جانے کا فیصلہ غلط ہے، یہ ہمارا داخلی معاملہ ہے: مشرف

ستم پزیری گناہ کبیرہ ہے

کلبھوشن کیس کی تیاری نامکمل تھی، وقت نہ ملا، حکومت کا اعتراف

مسٹر ٹرمپ! تاریخ لیڈروں کے عبرتناک انجام سے بھری پڑی ہے

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کیخلاف ریپ کی تحقیقات ختم

بحرینی علماء کا آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی مکمل حمایت کا اعلان

انتہا پسندی کا خاتمہ اور فوج کا کردار

اگر بھارت پاکستان کا ایجنٹ پکڑتا تو وہ عالمی عدالت کی پرواہ بھی نہیں کرتا: عمران خان

ایف آئی اے نے سوشل میڈیا پر پاک فوج پر تنقید کرنے والوں کا سراغ لگالیا

کلبھوشن اپنے انجام کو پہنچے گا، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں: خواجہ آصف

کلبھوشن کی سزا کا معاملہ: پاکستان عالمی عدالت کے فیصلے کا پابند نہیں

کلبھوشن کے معاملے پر عالمی عدالت کا فیصلہ پاکستان کیلئے بڑا دھچکا ہے: خورشید شاہ

شکیل آفریدی کی رہائی کےلیے امریکہ کا پاکستان پر بڑھتا دباؤ

سعودی کرشمہ سازی: اسلام مخالف ٹرمپ اسلام کا درس دے گا

کلبھوشن فیصلہ: عالمی عدالت انصاف اور امریکی دباؤ

نئی امریکی پابندیاں: ایران کا میزائل پروگرام جاری رکھنے کا اعلان

اسرائیل اور سعودیہ کے مشترکہ تعاون کا معاہدہ

علامہ سید مشتاق حسین ہمدانی کی ملّی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا: علامہ ساجد نقوی

نیٹو داعش کے خلاف کارروائی میں شریک نہیں ہوگا: اسٹولٹنبرگ

ایران کے صدارتی انتخاب: صدر حسن روحانی بمقابلہ ابراہیم رئیسی

عالمی عدالت میں پاکستان کی ناکامی

پروفیسر کو کافر کیوں کہا جارہا ہے ؟

حتمی فیصلے تک کلبھوشن کو پھانسی نہ دی جائے: عالمی عدالت انصاف

آسٹریا میں عوامی مقامات پر نقاب لگانے پر پابندی عائد

ٹرمپ نے ایران پر پابندیاں نہ لگانے کے فیصلے کی توثیق کردی

مشعال خان کی روح بے چین رہے گی!

نوجوانوں کو داعش کے نظریات سے بچانا اولین ترجیح ہے: ترجمان پاک فوج

داعش کے راز فاش ہونے پر صہیونی حکومت کیوں چراغ پا ہورہی ہے؟

ڈان لیکس II: حکومت کی برہمی اور سی پیک پر حکومت جھوٹ کی قلعی

احسان اللہ احسان کی معافی کا معاملہ ،ریاست کہاں پر کھڑی ہے ؟

سعودی عرب فضائی حملہ، بچوں سمیت متعدد بے گناہ یمنی شہری ہلاک

اسلامی اتحادی افواج کا معاملہ نازک ہے، پاکستان کو اس اتحاد کا حصہ نہیں بننا چاہیے، پرویز مشرف

سعودی عرب کا امریکی صدر ٹرمپ کے ہاتھ اسلام کو فروخت کرنے کا بھیانک اور ناکام منصوبہ

پی پی رہنما فردوس عاشق اعوان کا تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان

کیا ٹرمپ جال میں پھنس رہے ہیں ؟

2017-03-16 20:34:26

گلگت بلتستان - وفاداریاں اور محرومیاں

8 (2)۲۸ہزار مربع میل پر مشتمل جنت نظیر گلگت بلتستان قدرتی حسن میں اپنی مثال آپ ہے۔ دنیا کا بلند ترین میدان وسائی کا میدان یہاں واقع ہے، دنیا کے بلند ترین پہاڑوں میں دوسرے نمبر پر کے ٹو ہے، یہ بھی یہاں واقع ہے،پاکستان کو چین کا ہمسایہ قرار دینے والا باڈر بھی یہاں واقع ہے، جہاں سے اقتصادی راہداری کے عنوان سے اب ۴۶ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سارے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کا سنگم بھی یہاں واقع ہے، معدنیات میں تو یہ ایریا اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں کی معدنیا ت سے اگر کماحقہ استفادہ کیا جائے تو شاید ہی یہاں کوئی غریب باقی رہ جائے، پاکستان کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ بھی یہاں ہی سے گزر کر دوسری جگہوں کو سیراب کرتا ہے،یہاں کی آبادی لگ بھگ ۲۰لاکھ ہے۔ یہاں کے لوگ سادہ زیست، مہمان نواز، شریف النفس، متدین اور اعلی درجے کے محب وطن ہیں۔ جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے، پاکستان کا سب سے پرامن ترین ایریا یہی ہے، پورے پاکستان میں سب سے کم قیدی یہاں کے جیلوں میں ہیں، محرم الحرام وغیرہ میں وعظ و نصیحت کے ذریعے روحانی اور نفسیاتی علاج کا سلسلہ ہونے کے باعث بہت سارے قیدی جیل سے ہی توبہ کرکے نکل جاتے ہیں جس کے بعد وہ کبھی بھی کسی جرم کا مرتکب نہیں ہوتا، پاک بھارت مختلف جنگوں میں نہ صرف یہاں کے لوگوں نے ہر قسم کی قربانیاں پیش کی ہیں بلکہ یہاں کے پہاڑوں نے سپر کا اور یہاں کے چٹیل میدانوں نے پاک فوج کی تربیت گاہ کا رول ادا کیا ہے۔ دفاعی اعتبارسے سب سے اہم اور بلند ترین جنگی محاذ سیاچن بھی یہاں واقع ہے، ہر مشکل مرحلے پر یہاں کے باسیوں نے بھرپور مملکت خداداد کا دفاع کیا ہے۔ جہاں یہاں کے باسیوں کی وفاداریاں اور قربانیاں بے شمار ہیں، وہیں یہاں کی محرومیاں بھی ناقابل شمار ہیں۔پاکستان کو بنے۷۰سال بیت جانے کے باوجود ابھی تک ۱۸ سربراہان مملکت بدل چکے ہیں لیکن ہر حکومت یہاں کے لوگوں کو لالی پاپ اور طفل تسلیوں پر ہی کام چلاتی رہی، ابھی تک آئینی حقوق کا خواب پورا نہ ہوسکا،جس کی بنا پر آج تک اتنا بڑا ایریا نصف وفاقی وزیر(کشمیر + گلگت بلتستان) اور ایک چیف سیکرٹری کے ہاتھوں اسیر ہے، ظاہری طور پر ایک حکومتی سیٹ اپ ہے لیکن درحقیقت تمام اختیارات کی بازگشت انہی دو افراد کی طرف ہے، بدقسمتی سے آج تک یہاں کے باسیوں میں سے کسی کو بھی ان دونوں عہدوں کے قریب جانے کا بھی موقع فراہم نہیں ہوا، جب بھی حقوق کی بات چلتی ہے تو کشمیر کے مسئلے کو آگے لایا جاتا ہے، حال ہی میں سینٹ چیئرمین کا بیان بھی بہت ہی افسوسناک ہے۔یہاں پر وہی سوالات آتےہیں جو درد دل رکھنے والے یہاں کے باسی کیاکرتے آئے ہیں۔ کیا بھارت سے الگ ہونے کے بعد بھی پاکستان بھارت سے منسلک ہے؟کیا بنگال کی جدائی کے بعد بھی بنگال کے حقوق کا مسئلہ پاکستان سے مربوط ہے؟ کیا گلگت بلتستان کی آزادی میں کشمیری عوام کا بھی کوئی ہاتھ ہے؟ کیا پاکستان کے بننے کے بعد آج تک کسی کشمیری حکمران نے باضابطہ یہاں کا دورہ کیا ہے؟ کیا آج تک کسی بھی کشمیری حکمران نے یہاں کے حقوق کے لیے کوئی ایک بات بھی کی ہے؟ ۷۳ کے آئین میں جب کشمیر کے لیے الگ قانونی حیثیت مل رہی تھی تو کیا اس میں گلگت بلتستان کو شامل کیا گیا ہے؟ جب ان سب کا جواب یقینا نفی میں ہے تو پھر گلگت بلتستان کا کشمیر کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اگر کبھی بھی مسئلہ کشمیر حل نہ ہو تو گلگت بلتستان کو بھی اس حالت میں رکھا جائے گا؟ یہ کہاں کی منطق ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے جسے ایک چھوٹا بچہ بھی سمجھ سکتا ہے۔ چین کی جانب سے راہداری منصوبے کے باعث پریشر بڑھنے کے سبب گزشتہ سال مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں یہاں کی قانونی حیثیت کی تعیین کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، بدقسمتی سے یہاں کے محرومین میں سے کسی کے حصے میں اس کمیٹی کی رکنیت بھی نہیں آئی، ستم بالائے ستم یہ کہ ایک سال سے زیادہ عرصے کے گزرجانے کے باوجود حال ہی میں وزیر امورکشمیر و گلگت بلتستان نے برملا کہا کہ ابھی تک اس کمیٹی کا فیصلہ مجھ تک بھی نہیں پہنچ پایا تو وزیر اعظم تک تو دور کی بات ہے۔ در اصل نہ ۷۳کے آئین میں یہاں کے لیے کوئی شق موجود ہے اور نہ ہی بعد میں جو ترامیم کی گئی ہیں ان میں کہیں گلگت بلتستان کا نام ہے۔ چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے تو آئین میں ترامیم کی جاتی ہیں لیکن اتنے اہم مسئلے کے لیے آج تک کوئی ایک ترمیم عمل میں نہ آسکی۔ اب تو فاٹا کو بھی قومی دھارے میں لانے کا اعلان ہوگیا۔ قانونی طورپر پانچ سال کی مدت میں وہ باقاعدہ صوبہ خیبر پختونخواہ کا حصہ شمار کیا جائے گا۔ وہاں کے عوام کے حوالے سے یہ خبر خوش کن ہے۔ لیکن یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ پاک فوج کے لیے جتنی مشکلات اس ایریے میں پیش آئیں شاید ہی کہیں اور آئی ہوں، یہاں سے دہشتگردوں کو ماربھگانے کی خاطر ۵۰۰سے زائد پاک فوج کے جوان جام شہادت نوش کرچکے ہیں اور بہت سارے زندگی اور موت کی کشمش میں ہیں۔ جب ان کو آئینی حقوق دیے جارہے ہیں تو گلگت بلتستان کو کیوں ان حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔ جب تک آئین پاکستان میں ترمیم کے ذریعے گلگت بلتستان کو مستقل صوبہ قرار نہ دیا جائے باقی تمام صورتیں ناقابل قبول ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں کے عوام، عوامی نمائندے، علماو عمائدین سب مل کر آئینی حقوق کے لیے یک زبان ہوکر صدائے احتجاج بلند کریں کیونکہ اب ہمارے لیے آئینی حقوق کا مسئلہ موت و حیات کا مسئلہ ہے۔

تحریر: ایس ایم شاہ

 

زمرہ جات:   Horizontal 1 ،
ٹیگز:   گلگت بلتستان ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

یادوں کے جھروکے

- سحر ٹی وی

ٹیزر- نقطہ نگاہ

- سحر ٹی وی

عرب امریکہ اجلاس

- سحر ٹی وی

Ayena 22 May 2017

- وقت نیوز

WAQT Special 22 May 2017

- وقت نیوز

قند پارسی - 21 مئی

- سحر ٹی وی