شام : مغرب و آل سعود کے حامی دہشت گرد شامی مسیحیوں کی نسل کشی میں ملوث ہیں ۔ یاسمین

کوئٹہ: چرچ میں بم دھماکا، خواتین سمیت آٹھ افراد ہلاک

بھارت میں اردو زبان میں حلف اٹھانا جرم قرار

بیت المقدس کو کھو دیا تو مکہ اور مدینہ کی بھی حفاظت نہیں کرپائیں گے، اردوغان

اسرائیلی فوج کے ترجمان کی حماس مخالف باتیں، سعودی نیوز پیپر میں

خان بچ گیا، کیا پاکستان بچے گا

16 دسمبر 1971 سے 16 دسمبر 2014 تک کا سفر رائیگاں

امریکی ہتھیاروں سے یمنی عوام کا قتل کیا جا رہا ہے،: ترجمان انصار اللہ

انصاف کے دو ترازو کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے: نواز شریف

امریکہ فلسطین میں اسرائیل اور یمن میں سعودی عرب کے ہولناک جرائم میں برابر کا شریک

بیت المقدس سے ذرہ برابر چشم پوشی نہیں کریں گے

اگر ہم نے بیت المقدس کو کھو دیا تو پھر ہم مکہ اور مدینہ کی حفاظت نہیں کرسکیں گے

سعودی عرب کی عالم اسلام کو ایک بار پھر دھوکہ اور فریب دینے کی کوشش

سعودی خواتین کو گاڑی کے بعد موٹرسائیکل اور ٹرک چلانے کی بھی اجازت

ہمارے بیانات کسی بھی طرح ملکی مفاد میں نہیں: چوہدری نثار

ہم پر دباؤ ڈالنے والا ابھی پیدا نہیں ہوا: چیف جسٹس پاکستان

بٹ کوائن کے ذریعہ داعش کی فنڈنگ، پاکستانی دیوبندی خاتون زوبیہ شہناز گرفتار

داعش کے بعد بھی عراق میں تکفیری گروہوں کی سرگرمیوں کا امکان

امریکی روپ دھارے اسرائیلی جاسوس داعش کی مدد کیلئے افغانستان پہنچنا شروع

سعودی شہزادوں کی اوپن ٹرائل کی درخواست

اسلامی بلاک بمقابلہ امریکی بلاک/ مختصر جائزہ

بیت المقدس سے متعلق OIC قرارداد مسلمین عالم کے جذبات کی آئینہ دار: آغا حسن

سعودی عرب نے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے کا اعتراف کر لیا

امریکہ اور اس کے حواری عالم انسانیت کے مجرم ہیں: علامہ مقصود ڈومکی

امام غائب (عج) کو کس نام سے پکاریں؟

یمن سے ریاض پر داغا جانے والا میزائل ایرانی نہیں تھا

اسلامی ممالک صرف بیانات دینے پر ہی اکتفانہ کریں: خطیب جمعہ تہران

ایک سال کی تلاشی کے بعد اپنے حق میں فیصلے پر خوشی ہوئی: عمران خان

نواز شریف کا نظریہ

سعودی حکمرانوں کی اسلام مخالف پالیسیوں پر حریت رہنما کی کڑی تنقید

قدس کے بارے میں ٹرمپ کے فیصلے نے امریکہ کو اکیلا کردیا

82 فیصد فلسطینی سعودیہ پر اعتماد نہیں کرتے؛ سروے

اردغان نے مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لئے امریکی چودھراہٹ کو مسترد کردیا

دہلی میں امریکہ مخالف مظاہرہ

گاجر کے رس کے حیرت انگیز فوائد

روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سرکاری فوج کے مظالم کے انکشافات

تقریریں تو خوب رہیں، نتیجہ ڈھاک کے تین پات

سعودی ولی عہد کو اسرائیل کے دورے کی دعوت

آل خلیفہ اسرائيل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنا کر تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہوجائیں گے

شام میں امریکی فوج کی موجودگی غیر قانونی ہے: روس

مسئلہ فلسطین: اتحاد یا پھر اپنی باری کا انتظار

کراچی : پی ایس 128 میں کالعدم جماعت کی الیکشن مہم، سیکورٹی ادارے خاموش

بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا افغان لڑکیوں کو پاکستان مین دہشتگردی کہ لیے ٹریننگ دینے کا انکشاف

اسرائیل کے قیام پر علامہ اقبال کا بیان

حضرت امام مہدی(عج) کی حوائج کےحصول کے لیےنصیحت

او آئی سی کا ہنگامی اجلاس: مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ

ناقابل قبول عدالتی فیصلہ

پاکستان اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ کام کرنا پر لطف نہیں: امریکی وزیر خارجہ

پاکستان کیلیے امریکی امداد دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی سے مشروط

لگتا نہیں اسمبلیاں مدت پوری کریں گی، ایاز صادق

مذہبی جماعتوں کا ایم ایم اے کی بحالی کا اعلان

ایران کا بیت المقدس کے دفاع کے لئے اسلامی ممالک سے تعاون پر آمادگی کا اظہار

شام میں کردوں، امریکیوں اور داعشیوں کے درمیان تین سمجھوتوں کا راز

یمن میں 8 ملین افراد شدید قحط کا شکار

ٰیروشلم : پہلے مسلمان خود تو اتحاد کر لیں

القدس سے متعلق امریکی اعلان پراوآئی سی کا ہنگامی اجلاس

فلسطینی امن عمل میں امریکا کا کردار ختم ہوگیا: خواجہ آصف

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات

سعودی سلطنت کا مستقبل

ترکی اور روس نے مقبوضہ القدس سے متعلق امریکی اعلان خطرناک قراردے دیا

ملک میں جمہوریت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

پانچ استعفوں پر حکومت گرانے کا خواب

مقام شہادت ایک درجہ کمال ہے، ان کو نصیب ہوتا جو معرفت الہی کے راہی ہوتے ہیں: علامہ امین شہیدی

او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس، وزیر اعظم ترکی پہنچ گئے

ایران اور پاکستان کے درمیان ثقافتی میدانوں میں تعلقات کو فروغ دینے پر تاکید

ایران اور برطانیہ کے تعلقات میں نئے دور کا آغاز

بعض لوگ میری پشت میں خنجر گھونپنا چاہتے تھے

بیت المقدس اور فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے مسئلہ کو فراموش کردیں

ہماری نگاہیں قدس کی جانب ہیں اور قدس کی نگاہیں سید مقاومت کی طرف

سعودی نواز پاکستانی اینکر کا بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کے فیصلے کا دفاع

پاکستانی عدالتیں فوجی حکومتوں کی باقیات ہیں

2017-03-16 23:11:29

شام : مغرب و آل سعود کے حامی دہشت گرد شامی مسیحیوں کی نسل کشی میں ملوث ہیں ۔ یاسمین

17352093_10212633733386633_5135075974790136366_n-768x480انٹرویو : سارہ عبید
ترتیب و ترجمہ : مستجاب حیدر

سارہ عبید شامی نژاد امریکی صحافی اور سوشل ایکٹوسٹ ہیں،وہ گلوبل ریسرچ،منٹ پریس نیوز سمیت درجنوں نیوز ویب سائٹ پہ لکھتی ہیں۔حال ہی میں ان کی شام میں آرتھوڈوکس کتھولک کرسچن پہ بشار الاسد حکومت کے مخالف مغرب و سعودی عرب کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں کے مظالم بارے ایک خصوصی رپورٹ مختلف جرائد میں جاری ہوئی۔

سارہ کا کہنا ہے

 
ہم سے بہت سے مقصد زندگی ،کسی چیز بارے ہماری تلاش کے جذبے بارے سوچ بچار کرتے اور اس کے مطابق عمل کرتے گزار دیتے ہیں۔کئی سالوں کے بعد مجھے بھی اپنی زندگی کا مقصد مل گیا۔شام کے لوگ اپنے اوپر مسلط کی جانے والی جنگ کے دنوں میں زندگی گزارتے اور اپنی بپتا سناتے ہیں اور اسی نے میرے اندر ایک آگ بھڑکادی ہے۔میں ایک شامی نژاد امریکی ہوں جو کہ شام میں پیدا ہوئی،میری ساری زندگی ان دونوں ملکوں میں بسر ہوئی ہے۔میں اپنے ثقافتی ورثے، اپنی جنم بھومی سے،اپنی ثقافت ،زبان ،رسوم و رواج ،قومیت اور اپنی تاریخ سے بہت مضبوط اور توانا ربط محسوس کرتی ہوں۔

اور وہ مزید کہتی ہیں

“جب مین سٹریم اور سوشل میڈیا میں جھوٹ اور پروپیگنڈے کا طومار باندھا جاتا ہے جس نے 6 سال سے جنگ کا الاؤ بھڑکا رکھا ہے تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔اس جنگ کو جاری ہوئے 6 سال مکمل ہوگئے ہیں۔یہ ایک ایسی جنگ ہے جس کا امریکہ نے 1949ء ہی میں منصوبہ بنالیا تھا۔سی آئی آے تسلیم کرتی ہے کہ اس نے 1949ء میں شام میں ایک کودتا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔یہ شام کو غیر مستحکم کرنے کی امریکی کوششوں میں سے ایک کوشش تھی۔نیچے وڈیو لنک پہ کلک کریں

https://youtu.be/VEEvFZSfmlg

میں یہاں مغرب میں شام کی آواز بننا چاہتی ہوں۔مجھے خوشی ہے کہ یہاں بہت سے شامیوں نے مجھے رابطہ کیا اور وہ مجھ سے اپنی کہانیاں بیان کرنا چاہتے ہیں۔یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔مجھے امید ہے کہ میں ان کے تجربات سے جنگ بارے اور زیادہ سیکھ پاؤں گی اور یہ شام میں گزشتہ چھے سالوں سے جو ہورہا ہے اس بارے سچ کو پھیلانے کا مجھے اور موقعہ ملے گا۔”

شامی حکومت کو شیطان حکومت ثابت کرنے کے لئے کیسے جھوٹ پھیلائے جاتے ہیں۔اسے جاننے کے لئے آپ نیچے دئے گئے وڈیو لنک پہ کلک کریں اور اس وڈیو میں ابو مازن یہ کہتا ہے کہ شامی حکومت نے حراستہ میں ان کے چرچ کو تباہ کردیا ہے۔یہ ایک اور بے بنیاد الزام ہے جو شامی حکومت کو بدنام کرنے کے لئے لگایا گیا ہے۔

https://youtu.be/sE0fucxLvKI

شام میں دہشت گرد گروپ کئی ایک مذہبی اور نسلی گروہوں کی نسل کشی میں ملوث ہیں جن میں شامی مسیحی برادری بھی شامل ہے۔منٹ پریس نیوز ایجنسی نے یاسمین نامی ایک شامی مسیحی لڑکی سے بات کی ہے۔وہ جنگ کی شکار مسیحی کمیونٹی سے ہونے والی زیادتیوں بارے بتاتی ہے۔

یاسمین ایک انجینئر ہے جس نے ایم بی اے کیا اور وہ دمشق کے پرانے شہر میں رہتی ہے جو کہ بہت قدیم زمانوں سے آباد ہے اور 9000قبل مسیح میں اس کو بسایا گیا تھا۔یاسمین آرمیئنن آرتھوڈوکس شامی مسیحی عورت ہے جوکہ شام کے شمال مشرق میں واقع القمشلے سے تعلق رکھتی ہے اور اس نے پرورش دمشق میں پائی۔دمشق اصل میں یاسمین شہر کی عرفیت ہے۔

سارہ عبید سے یاسمین نے فیس بک پہ اس کے مضامین اور پوسٹ پڑھنے کے بعد رابطہ کیا۔ان دونوں نے جھوٹ پہ مبنی رپورٹنگ سے پیدا فرسٹریشن بارے بات چیت کی۔سارہ نے اس سے کہا کہ وہ اپنی کہانی بیان کرے جس پہ وہ رضامند ہوگئی۔فیس بک پہ اس کی گفتگو کے بعد سے اچانک یاسمین کا اکاؤنٹ بلاک کردیا گیا۔اور وہ فیس بک پہ تب سے سارہ عبید سے رابطہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔اور مزید ستم یہ ہے کہ سارہ اب فیس بک میسنجر پہ ان کی بات چیت کے باکس میں صرف اپنے میسجز ہی دیکھ سکتی ہے۔کچھ روز پہلے یاسمین کی ایک دوست نے سارہ سے رابطہ کیا اور اس کا ای میل ایڈریس مانگا۔اور اسی ای میل ايڈریس پہ ” شامی لڑکی کی یادیں ” نام کی میل موصول ہوئی جس میں یاسمین نے دمشق میں جنگ سے پہلے اور بعد کی اپنی یادوں کا تذکرہ کیا ہے۔سارہ نے اس سے کہا کہ وہ اس بطور شامی مسیحی کے اس کے تجربات بارے انٹرویو کرنے کی آرزو مند ہے۔اس پہ وہ رضامند ہوگئی۔

سارہ عبید کا کہنا ہے کہ شامی مسیحی لڑکی یاسمین کے لئے سوالات مارک ٹالیانو نے تیار کئے جوکہ پیشہ کے اعتبار سے استاد ہیں اور انہوں نے گزشتہ سال شام کا دورہ بھی کیا تھا۔مارک بھی شام بارے سچ کو پھیلانے بارے پرچوش ہیں اور انہوں نے سارہ کے ساتھ ملکر گلوبل ریسرچ ڈاٹ کام کے لئے کئی آرٹیکلز بھی لکھے ہیں۔اور انہوں نے شام بارے اپنے تجربے پہ مشتمل شام بارے ایک ای بک بھی لکھی ہے۔

یاسمین نے جو جوابات دئے بقول سارہ کے ان کو موڈیفائی نہیں کیا گیا تاکہ ان کی ثقاہت باقی رہے۔سارہ کا کہنا ہے کہ حقیقی لوگوں کی آواز سننا کس قدر خوشی کی بات ہے جو لینا الشامی ،بنا العبد ،کریم عبدالکریم کی طرح کرائے پہ منگوائے نہیں گئے۔ان جیسے کرائے کے ٹٹوؤں بارے میں بھی سارہ نے ایک تفصیلی آرٹیکل لکھا ہے۔

https://youtu.be/sNkYR_9MGDk

یاسمین سے انٹرویو

س: جب مغرب کی دہشت گرد پراکسیز مقامی مسیحی آبادی کو قتل کرتی ہیں اور ان کی نسل کشی کی مرتکب ہوتی ہیں جیسے انہوں نے کیساب شام میں کیا تو کیا وہ تاریخ کو مٹانے کی درپے ہوتی ہیں؟

یاسمین: تاریخ اور آرتھوڈوکس مسیحیت کو مٹاتی ہیں

س: جب مغربی حمایت یافتہ دہشت گرد مالولہ شام جیسے قصبوں پہ قبضہ کرتے ہیں اور مسیحی مذہبی نشانیوں کو مٹاتے ہیں تو کیا یہ بھی تاریخ مٹانے کے برابر ہے؟

یاسمین: میری رائے میں یہ کوئی اتفاق یا حادثہ نہیں ہے کہ وہ تاریخی مقامات کو ہدف بناتے ہیں،کیونکہ مثال کے طور جب داعش نے آثار قدیمہ کو مٹانے کے لئے الیکٹرک اوزار استعمال کئے،تو اس سے اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ یہ فرض ان کو سونپا گیا تھا اور یہ محض نفرت میں اٹھایا گیا اقدام نہیں تھا۔

س: جب مغرب کے حمایت یافتہ دہشت گرد مسلمانوں یا مسیحیوں کو نشانہ بناتے ہیں تو وہ یا ان کے سامراجی آقا فرقہ وارانہ خانہ جنگی پیدا کرکے ملک تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟

یاسمین : اگر ہم کنڈولیزا رائس کے دور میں واپس جائیں،جب اس نے کہا تھا کہ نئے مڈل ایسٹ کے لئے کی جانے والی محنت ہے اور اس نے ایک نئے مڈل ایسٹ جیسی چیز کی بات کہی تھی۔تو یہ 2003ء میں ناکامی سے دوچار ہونے والے منصوبے کا دوسرا حصّہ ہے۔انہوں نے روڈ میپ شایع کیا،جس میں مڈل ایسٹ کو جھوٹے فرقہ وارانہ بنیادوں پہ استوار ممالک پہ مشتمل دکھایا گیا تھا۔ہر ایک مذہب کے لئے الگ ملک تھا سوائے مسیحیت کے لئے۔اور یہ بات بہت صاف ہوجاتی ہے اگر آپ اسے سرکوزی کے اس بیان کے ساتھ ملاکر دیکھیں جس میں اس نے لبنانی پریسٹ سے کہا کہ وہ مڈل ایسٹ کے تمام مسیحیوں کو یورپ روانہ کردیں۔

س: کیا سامراجی نسلی اور مذہبی بنیادوں پہ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء مملکتیں پیدا کرنے کے منصوبے پہ کام کرہے ہیں؟

یاسمین: سامراجی مڈل ایسٹ کو ویسے ہی تباہ اور غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں جیسے انہوں نے افغانستان کو کیا تھا جو اتنا ہی ماڈرن و سیکولر تھا جتنا شام ہے۔وہ مذہب کو خاص طور پہ جہاد کو آڑ کے طور پہ استعمال کرتے ہیں۔میں یقین رکھتی ہوں کہ انہوں نے جہاد کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔ثبوت سعودیہ عرب ہے جہاں نہ تو کوئی انسانی حقوق ہیں،لوگوں پہ سخت جبر ہے اور کوئی بدی ایک لفظ نہیں کہتا ہے۔

س: شام میں سامراج کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کے ہتھکنڈے کام کررہے ہیں؟ کیا شامی عوام کی اکثریت متحد ہے؟

یاسمین: جو منصوبہ سے باخبر ہیں وہ خوب تعلیم یافتہ اور متحد ہیں،لیکن وہ جن میں سے کچھ نے اپنے خاندان کے لوگ کھودئے ہیں،یا جن کی ہمدردیاں ریڈیکل مسلمانوں کے ساتھ ہیں،وہ جو اسد رجیم سے نفرت کرتے ہیں اور ان سے بھی نفرت کرتے ہیں جو حکومت کے حامی ہیں وہ اس ہتھکنڈے کا شکار بنے ہیں۔

س: مغرب اور اس کی پراکسیز آل سعود اور وہابی ازم کے نظریہ کی حمایت کرتے ہیں،وہ مسیحی کو مارنے اور ان کی نسل کشی کی بات کرتے ہیں۔تو اگر کینڈا کی آبادی اس سے واقف ہو تو کیا وہ سچ کو قبول کریں گے؟ کیا وہ اس پہ عمل کرتے ہوئے چرچ اور اپنی کمیونٹی کے نمائندوں سے رابطہ کریں گے؟

یاسمین: میں نے انٹرنیٹ پہ دیکھا ہے کہ اب ان میں بیداری آنا شروع ہوگئی ہے،وہ ہمارے ساتھ اظہار ہمدردی کررہے ہیں،لیکن کیا وہ اس حوالے سے عملی اقدام بھی اٹھائیں گے ؟کیا وہ یہ کرنے کے قابل ہیں ؟مجھے کچھ اندازہ نہیں ہے لیکن میں یہ جانتی ہوں کہ وہ اپنی حکومتوں کے برعکس اچھے ہیں۔

س: شام میں حکومت کی تبدیلی کے نام پہ 6 سال سے شامیوں کے خلاف جاری گندی لڑائی کے بعد سچ سے بے خبری کیا اب بھی ایک قابل برداشت عذر کے طور پہ موجود ہے؟

یاسمین: ایسا نہیں ہونا چاہئیے،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ شام میں ایسے لوگ ہیں جو اب بھی حقائق کو نہیں دیکھ سکتے ،اب بھی وہ ظلم کا سارا دوش حکومت پہ دھرتے ہیڑ،تو دوسرے ممالک پہ بے خبری کا الزام لگانے سے پہلے ہمیں اپنے بے خبر اور نادان لوگوں کی خبر لینا ہوگی۔

س: جب مغرب نے اپنے سفارت خانے شام میں بند کئے اور سفارتی تعلقات ختم کرڈالے تو کیا ایسا کرکے وہ اپنے جرائم پہ پردہ ڈال رہے تھے؟

یاسمین: وہ یہ شام پہ اور دباؤ بڑھانے کے لئے کررہے تھے،تو انہوں نے اسد کو اقتدار سے الگ ہوجانے کے لئے مجبور کرنے کے لئے یہ سب کیا۔انہوں نے صرف سفارت خانے بند نہیں کئے ،انہوں نے ہم پہ پابندیاں لگائیں،انہوں نے ہمیں دھمکایا اور ڈرایا،ہم نے سارا کھیل دیکھا،ہم دیکھ رہے تھے،یہ بہت تکلیف دہ ہے،کیسے ہم نے ہر بار سازشی مفروضوں کو رد کیا،لیکن اب سارے واقعات آپ کو ایک ہی سمت لے جاتے ہیں،جن کا نام اشرافیہ ہے وہ دنیا کو کنٹرول کرتی ہے،شام اور عراق میں اسارین کی جو تباہی ہے اس کا سبب تیل ،گیس جیسے وسائل ہیں۔اسی طرح ماضی بعید میں اسارین نے یہودیوں کے ساتھ جو برا سلوک کیا تھا وہ بھی ایک وجہ ہے اور آج یہودی اس کا بدلہ چاہتے ہیں۔ایسے ہی 1967ء میں شام اور اسرائیل میں ہوئی جنگ کی کہانی ہے،جب اسرائیل نے چند شامی لڑاکوں کو پکڑ لیا تھا۔جبکہ وہ جانتے تھے ان میں ایک اسارین مسیحی شامی بھی تھا اور اسے انہوں نے الگ سیل میں ڈال دیا تھا اور اسے الگ طریقوں سے اذیتیں دیتے اور اسے ایک بار اذیت دیتے تو کہتے یہ سارگون کے لئے ،دوسری بار دیتے تو کہتے کہ یہ نوبخت نصر کے لئے،صرف اس کی توہین کرنے کے لئے۔اگر مجھے کہا جائے کہ میری یہ بات مذکورہ موضوع سے کیسے ملتی ہے؟تو میں آپ کو بتاؤں گی کہ اردوگان ایک اخوانی ہے جو یہودیوں کے ساتھ اس سب کچھ کرنے کا انچارج ہے۔یہ ایسے ہی ہے جیسے سارے صہیونی اس پائپ لاغن کو چاہتے ہیں اور سب کے سب ایک سی آئیڈیالوجی یا فکر رکھتے ہیں،وہ سب میزونک ہیں یا اس سے جڑے ہوئے ہیں۔

س: مغرب جب یہ کہتا ہے کہ شام میں رہنے والے مسیحی کے لئے خطرہ ہے (بشار الاسد سے ) تو کتنا جھوٹ ہوتا ہے اس میں ؟

یاسمین: ہماری عوام کا سب سے نمبرون دشمن مغرب ہے،اّپ جانتے ہیں کہ ہمارے خلاف ترکی کی نسل کشی یورپی اتحاد کی نگرانی میں ماضی میں کی کئی تو وہ ہمارے دشمن ہیں۔جب جنونی ترک قبضے کے دوران شام آئے تو انہوں نے ایک بھی مسلمان تک رسائی نہ کی ،وہ کرسچن کو ان کے آرتھوڈوکس کتھولک سے ہٹانا چاہتے تھے اور ایسا کرکے وہ چرچ کو کمزور کرنے کے آرزومند تھے۔

س: اگر مغرب القاعدہ/داعش جیسے پٹھو تنظیموں کی حکومت شام میں لانے میں کامیاب ہوگیا تو کیامسیحی شام سے بالکل ہی ختم کردئے جائیں گے؟

یاسمین : اگر منصوبہ کامیاب رہا تو ایک بھی مسیحی وہاں نہیں رہے گا، وہ یا تو مارے جائیں گے یا وہابی اسلام کو مان لیں گے یا پھر بھاگ جائیں گے ۔

سارہ کا خیال ہے کہ شام میں جنگ روکنے کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ اس تاریخ سے مالا مال ملک میں قدیم مقامی باشندوں کی مکمل نسلی صفائی ہوجائے۔یہ ایک ایسا خطرہ ہے جس پہ ہم سب کو تشویش ظاہر کرنے کی ضرورت ہے چاہے ہمارا مذہب کچھ بھی ہو ،اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے۔یہ نسل کشی اب روکی جانی چاہئیے ۔

نوٹ: یاسمین ایک فرضی نام ہے جو انٹرویو والی لڑکی کی حفاظت کے لئے اصلی نام کی جگہ اختیار کیا گیا ہے۔

 

زمرہ جات:   Horizontal 3 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)