حسین حقانی پر الزام تراشی اور قومی مفاد کے تقاضے

سیکولر بھارت کا خون آلو چہرہ: بھارت میں مسلمانوں سے زیادہ گائے محفوظ

جنرل راحیل شریف کی کمان کس کے خلاف: 39 مسلم ممالک کا مشترکہ دشمن کون؟

موصل جنگ کا خاتمہ یا واشنگٹن کی ایک نئی سازش؟

 شفقنا خصوصی:  اسلامی جمعیت طلبہ کی غنڈہ گردی اور حکومتی خاموشی

سرکاری ٹی وی پر قیدیوں کو مجرم بنا کر پیش کرنا بحرینی آئین کی خلاف ورزی

فلسطینیوں پر اسرائیلی بربر یت کا اعتراف: اقوام متحدہ محض خاموش تماشائی

داعش کی حلب میں شکست پر اسد کے خلاف مغربی میڈیا کا پروپیگنڈا: کیاعراق میں داعش کی شکست پر بھی شیعہ ملیشیاء کے خلاف یہی ڈرامہ دہرایا جائے گا؟

راحیل شریف کی سربراہی: پاکستان کو انتشار کی طرف لے جانے کی سعودی کوشش

ان دلدلوں کو صاف کرو جو خالد مسعود جیسے دہشت گرد پالتی ہیں – عامر حسینی

مدارس سے نکلتا الحاد، الامان

پاک امریکہ تعلقات میں دشواریاں موجود ہیں

پاک فوج کا نیا کردار

لندن ہلاکتوں پر واویلا، شام اور عراق ہلاکتوں پر خاموشی: مسلمانوں کا خون ارزاں کیوں؟

ایران سے روابط، امریکہ کے لیے آج بھی دشمنی کا معیار ہے

پاکستانی حزب اختلاف کی راحیل شریف کے سعودی فوجی اتحاد میں شمولیت کی مخالفت

روہنگیا مسلمانوں کے خلاف آپریشن کابرما کے فوجی سربراہ کا دفاع

گستاخانہ مواد کیس؛ فیس بک سے 85 فیصد مواد ختم کر دیا گیا ہے، سیکرٹری داخلہ

دیواریں مسائل حل نہیں کرتیں

  سعودیہ کی دہشت گردوں کو فنڈنگ: برطانیہ کی آنکھیں کب کھلیں گی؟

امارات اور اسرائیل مشترکہ فوجی مشقیں: شرم تم کو مگر نہیں آتی

 وزیر داخلہ کی پہیلیاں : کون لوگ مذہب کے نام پر افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں؟

 سعودی باندی: کیا عرب لیگ کا واحد مقصد ایران کی مخالفت ہے؟

جنوبی سوڈان کا مسلح سیاسی بحران، جنسی جرائم بلند ترین سطح پر

شام اور عراق میں شکست کے بعد داعش کا مستقبل کیا ہوگا؟

اسلام آباد مذہبی مدارس کا گھر: انتہا پسندی کے خلاف جنگ کیا محض لفاظی ہے ؟

کیا اسلامی ممالک سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی اشاعت کو روک سکتے ہیں؟

مردم شماری کے دوران تخریب کاری کی بڑی کوشش ناکام

  پاکستانی آئین کی دھجیاں: کیا حکومت لال مسجد سے خائف ہے؟

بلی تھیلے سے باہر: شام میں تکفیری دہشتگردوں اورصیہونی حکومت کے درمیان تعلقات کھل کر سامنے آگئے

پاکستان نے ہاں کر دی: اسلامی اتحادی افواج کی کمان راحیل شریف سنبھالیں گے

پورا سچ بتائیں یا قوم پر رحم کریں

ایران کے ایٹمی معاہدے پر دوبارہ مذاکرات ناممکن ہیں: یورپی یونین

پاک فوج کا نیا اور غیر واضح کردار

افغان طالبان کی پاکستان آمد، داعش کے خلاف حکمت عملی؟

نواز شریف کی جلاوطنی کی پس پردہ حقیقت فاش

شیعہ افراد کو غیر مسلم شمار کرنے پر افسران معطل

روس پر طالبان کو اسلحہ فراہمی کا الزام: امریکہ کی اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش

شفقنا خصوصی: کیا پیپلز پارٹی غدار ہے؟

جماعت الدعوہ کی لاہور ریلی: دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مذاق

ابراہیم شریف کے خلاف کاروائی بحرینی سرگرم کارکنوں کو خاموش کرانے حکومتی مہم کا حصہ ،ایمنسٹی

'حسین حقانی کو ویزا جاری کرنے کا اختیار یوسف گیلانی نے دیا'

پورا سچ بتائیں یا قوم پر رحم کریں

ایک حقیقی المیہ:  کیا پاکستان میں انتہا پسندوں کو سیاست میں حصہ لینے سے روکا جا سکتا ہے؟

شفقنا خصوصی: برطانیہ اپنے ہی پالے سانپوں شکار

سعودیہ کے 5 ٹھکانوں پر یمن کی کامیاب کارروائی؛ 40 فوجی ہلاک اور زخمی

شیعوں‌کو حقیر قرار دینے کی سازش: کے پی کے حکومت کے پس پردہ عزائم کیا ہیں؟

ایٹمی معاہدے کے باوجود بھی اسرائیل کیلئے ایران اہم ترین خطرہ ،موساد سربراہ

فسادیوں کا قصہ

۲۳ مارچ ۔۔۔ ہماری کسرِ نفسی اور ہماراپاکستان ~ نذر حافی

یوم تجدید عہد کے تقاضے

  شفقنا خصوصی: چین اقوام متحدہ کو جوتے کی نوک پر کیوں رکھتا ہے؟

 ہندو انتہا پسندی کی انتہا : بھارت پاکستان پر حملے کا آغاز کرسکتا ہے

اسرائیل روئے زمین کا خبیث ترین قابض

مقدس ہستیوں کی توہین: کیا سوشل میڈیا کو بند کردینا ہی مسئلے کا حل ہے؟

ملک بھر میں یوم پاکستان آج ملی جوش و جذبے سے منایا جائے گا

لندن میں دہشتگردی کے واقعے میں حملہ آور سمیت 4 افراد ہلاک، 20 زخمی

برطانوی پارلیمنٹ کے باہر فائرنگ سے 12 افراد زخمی

یمنی کاروائیوں کا اگلا مرحلہ جنگ کا نقشہ تبدیل کردے گا: یمنی مقبول افواج

لحاف اور مونگ پھلی سے باہر کی دنیا

اصطلاحات کا کھیل اور معذرت کی لوریاں ~ نذر حافی

بیجنگ کے جنوبی ایشیائی ممالک کے تعلقات پر بھارت مداخلت سے بازرہے: چین کی تنبیہ

لبنان کے خلاف سعودیہ کی بھیانک سازش

فوجی عدالتوں سے سیاسی قوتیں خائف کیوں؟

شفقنا خاص : اسلامی جمعیت طلبا نے پاکستان کے تعلیمی اداروں کی کیسے یرغمال بنایا ہوا ہے؟

پس پردہ کہانی: برطانیہ الطاف حسین کے خلاف ایکشن لینے سے گریزاں کیوں؟

The art of hand clapping makes comeback in Egypt

11 ستمبر کے واقعات میں ہلاک ہونےوالوں کے اہل خانہ کی سعودی عرب کے خلاف قانونی کارروائی

یمن کے مظلوم عوام کے قتل عام کےلئے فرانس کی جانب سے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت

امریکا نے 7 اور برطانیہ نے 6 مسلم ممالک کے مسافروں پر نئی پابندی لگا دی

امریکا کے ساتھ جنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں: جنوبی کوریا

2017-03-18 14:12:56

حسین حقانی پر الزام تراشی اور قومی مفاد کے تقاضے

jمسلم لیگ (ن) کے سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم کی پیش کردہ تحریک التوا پر سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے امریکہ میں سابق سفیر حسین حقانی کے نام نہاد اعترافات پر بحث کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس سے پہلے قومی اسمبلی میں بحث کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے حسین حقانی کے تحریر کردہ ایک مضمون میں کئے گئے ’’انکشافات‘‘ کی تحقیقات کےلئے پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ حکمران جماعت اس وقت وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما مقدمہ کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال میں شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ملک بھر میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ عدالت وزیراعظم کو غلط بیانی کا مجرم قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی کی نشست سے محروم کر دے۔ اس سے پہلے عدالت عظمیٰ ایسی روایت قائم کر چکی ہے۔ اگرچہ یوسف رضا گیلانی کو عہدے سے برطرف کرنے کا حکم عدالت کی حکم عدولی پر توہین عدالت کے الزام میں دیا گیا تھا۔ اس طرح یہ دونوں معاملات مختلف ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ ملک کی سپریم کورٹ وزیراعظم کو معزول کرنے کی روایت قائم کر چکی ہے اور اسے دہرایا بھی جا سکتا ہے۔ غیر یقینی اور سیاسی دباؤ کے اس ماحول میں حکومت کسی بھی غیر اہم اور غیر متعلقہ معاملہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ حسین حقانی کے مضمون پر ہنگامہ آرائی بھی اسی بدحواسی کا شاخسانہ ہے۔ ورنہ ان پر الزام تراشی سے پہلے سب حکمران اور ذمہ داران قوم کو یہ جواب دیں کہ اسامہ بن لادن مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں کیا کر رہا تھا۔

اس سیدھے اور آسان سوال کا جواب تلاش کرنے کےلئے مئی 2011 میں ایبٹ آباد کے ایک مکان پر امریکی ہیلی کاپٹروں کے حملے اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ایبٹ آباد کمیشن بنایا گیا تھا۔ اس کمیشن نے سال بھر سماعت کے بعد تفصیلی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی تھی لیکن سابقہ یا موجودہ حکومت نے اس رپورٹ کو منظر عام پر لانا مناسب نہیں سمجھا۔ اس حوالے سے عام طور پر قومی مفاد کا آزمودہ نسخہ استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن کوئی سیاست دان یا فوجی لیڈر یہ وضاحت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ یہ قومی مفاد مجرموں کے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کا نام ہے، حکومت کی ناقص کارگزاری کو چھپانے کا طریقہ ہے، بعض اداروں کی ناکامیوں کا راز فاش نہ کرنے کی کوشش ہے یا ایسی ’’حساس‘‘ معلومات کے افشا سے کوئی ایسی بات سامنے آ سکتی ہے جو دشمن کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ اس لئے اصطلاح کے معانی یہ لئے جا سکتے ہیں کہ ملک کے سیاسی حکمران ہوں یا فوجی قیادت، وہ عوام کی برتری اور حق حکمرانی کا نعرہ ضرور بلند کرتے ہیں لیکن انہیں اہم قومی رازوں میں شریک کرنا گوارا نہیں کرتے۔

یوں تو سول اور ملٹری لیڈر شپ ملک میں اقتدار کی بندر بانٹ کےلئے ایک دوسرے سے پنجہ آزمائی کرتی رہتی ہے۔ فوج اور سیاسی قیادت ہمیشہ اس نکتہ پر اختلاف کا شکار رہی ہے کہ اہم خارجہ امور اور قومی سلامتی کے معاملات میں کس کی بات کو تسلیم کیا جائے۔ عام مشاہدے میں یہی بات آئی ہے کہ اس زور آزمائی میں عام طور سے فتح فوج کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ اسی لئے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سول فوجی اور سول انتظام کے باوجود ملک کی خارجہ پالیسی ، بھارت کے ساتھ تعلقات کی نوعیت ، افغانستان کے ساتھ مراسم طے کرنے کی حکمت عملی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ پالیسی کسی سیاسی سوچ یا اثر و رسوخ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ فوج کی مرضی و منشا سے اختیار کیا ہوا راستہ ہے جسے ہزار دشواریوں اور مشکلات کے باوجود ترک نہیں کیا گیا۔ اسی لئے علاقائی تعلقات اور ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے میں کوئی قابل ذکر کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ملک کی پالیسی ایک ہی ادارہ ایک ہی طریقے سے چلانے پر اصرار کر رہا ہے۔

حسین حقانی کو ملک میں اسی لئے ولن کی حیثیت حاصل ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے سول معاملات میں فوجی زور زبردستی کے بارے میں کھل کر بات کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ جواب جاننے سے پہلے کہ حسین حقانی نے اپنے دوست اور ملک کے سابقہ حکمران آصف علی زرداری کے ساتھ مل کر ملک کو کیا نقصان پہنچایا ہے، سب سے پہلے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ قوم اور اس کے حکمران دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد کے پاکستان میں قیام کے ذمہ داروں کو تلاش کرنے میں کیوں ناکام ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اسامہ بن لادن 5 برس تک ایبٹ آباد میں مقیم رہا ور امریکی انٹیلی جنس کی سخت محنت اور صدر باراک اوباما کے حوصلہ مندانہ فیصلہ کی وجہ سے آخر اسی گھر میں مارا گیا جہاں وہ بزعم خویش محفوظ و مامون تھا۔ جو لوگ اور ادارے اس ملک کی سلامتی اور مفادات کے تحفظ پر مامور ہیں، انہیں اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ یہ انہونی کیوں ہوئی۔ حیرت کی بات ہے کہ اس وقت ملک کا بے باک اور آزاد میڈیا اور حکمران جماعت کے رہنما اس بات پر تو جزبز ہیں کہ حسین حقانی کی طرف سے سینکڑوں امریکیوں کو ویزے دینے کے معاملہ کی تحقیقات کی جائیں اور ملک دشمنوں کو سزا دی جائے۔ لیکن اس سوال پر اف تک نہیں کرتے کہ اسامہ بن لادن کو بغیر ویزا کے پاکستان لانے والے اور یہاں اس کی حفاظت اور نگرانی کا فریضہ سرانجام دینے والے لوگوں کو تلاش کیا جائے اور انہیں ملکی مفادات کے خلاف کام کرنے کے الزام میں سزا دی جائے۔ لیکن اس دردناک کہانی کے ہر موڑ پر چونکہ اس ملک کی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کا نام آتا ہے لہٰذا سیاستدان بھی تاریخ کے اس بھیانک باب کو دیکھے بغیر آگے بڑھنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔

پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں قومی سلامتی کے تحفظ میں ناکام ہونے پر کسی فوجی یا سیاسی لیڈر نے ذمہ داری قبول نہیں کی اور 3 مئی 2011 کو امریکی فورسز کے حملہ کے بعد معاملات بالکل اسی طرح چلتے رہے جیسے کوئی غیر معمولی واقعہ سرزد نہ ہوا ہو۔ نہ فوجی قیادت نے ضرورت محسوس کی کہ وہ ملک کی خود مختاری کی خلاف ورزی سے غفلت برتنے والے افسروں کا تعین کرے اور نہ ملک کی سیاسی حکومت نے یہ ضروری سمجھا کہ علامتی طور پر ہی سہی وہ اپنے کسی وزیر کو قربان کرکے یہ واضح کرنے کی کوشش کرتی کہ غیر ملکی افواج امریکی ہوں یا بھارتی ۔۔۔۔۔  جہاں تک ملک کی خود مختاری کا تعلق ہے ۔۔۔۔۔۔ دونوں کا راستہ روکنا اس ملک کی افواج اور سیاسی حکومت کا قومی اور آئینی فریضہ تھا۔ اس میں کامیاب نہ ہونے پر کوئی تو ذمہ داری قبول کرتا۔ اس کے برعکس طول طویل کمیشن کارروائی کا ڈرامہ ضرور رچایا گیا اور پھر اس رپورٹ کو کسی سرکاری دفتر کی کسی الماری میں بند کر دیا گیا۔ البتہ قوم کو بے وقوف بنانے کےلئے ڈاکٹر شکیل آفریدی پر امریکی سی آئی اے کی مدد کرنے کے نام نہاد الزام میں مقدمہ چلا کر اسے جیل میں ڈال دیا گیا۔ یہ بھی مضحکہ خیزی ہے کہ شکیل آفریدی پر الزام تو سی آئی اے کی ناجائز مدد کرنے کا عائد ہے لیکن اسے سزا دہشت گرد گروہوں کی معاونت کے غیر واضح الزام میں دی گئی ہے۔ ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے جج اگرچہ قانون کی حکمرانی نافذ کرنے کے بلند بانگ دعوے کرتے رہتے ہیں لیکن بنیادی انسانی حقوق اور اصول قانون کی ایسی صریح خلاف ورزی پر کوئی سوموٹو دیکھنے  یا آبزوویشن سننے میں نہیں آتی۔

اس طرح امریکہ میں سابق سفیر حسین حقانی پر غداری اور ملکی مفادات کے خلاف الزامات عائد کرکے ایک غیر ضروری بحث شروع کی گئی ہے۔ حسین حقانی کو ملزم ٹھہرانے کی باری تب ہی آ سکتی ہے جب ملک میں موجود اور وقوعہ کے وقت اپنے فرائض سے غفلت برتنے یا بین الاقوامی ذمہ داریوں سے انحراف کے مرتکب ہونے والے لوگوں کا تعین ہو سکے اور انہیں بعد از وقت ہی سہی سزا دہنے کا اہتمام کیا جا سکے۔ جب تک یہ قوم اور اس کی منتخب حکومت یا پارلیمنٹ سچ کا سامنا کرنے اور اصل مجرموں تک پہنچنے کا حوصلہ کرنے کےلئے تیار نہیں ہ گی تو پونچھ کو ہاتھی بتانے کے طریقے سے کسی کا بھلا نہیں ہو سکے گا۔

حسین حقانی  پر ملکی مفاد کے خلاف سازش کرنے کے الزام میں میمو کمیشن قائم ہوا تھا۔ پھر سپریم کورٹ ہی کی اجازت سے حقانی ملک سے باہر گئے تھے۔ جو لوگ اس وقت حسین حقانی کے اس بیان حلفی کو دلیل بناتے ہیں کہ وہ طلب کرنے پر حاضر ہونے کا وعدہ کرکے ملک سے باہر گئے تھے، کیا وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ حقانی کی روانگی کے وقت عدالت کے ججوں سے لے کر حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں تک کو یہ علم نہیں تھا کہ وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ اس قسم کی پراسرار بیرون ملک روانگی صرف حسین حقانی سے ہی متعلق نہیں ہے۔ پاک فوج کے سابق سربراہ اور آئین سے غداری کے مقدمہ میں مطلوب جنرل (ر) پرویز مشرف بھی اسی قسم کا وعدہ کرکے چند ہفتوں کےلئے ملک سے باہر گئے تھے۔ اس وقت بھی ای سی ایل سے نام نکالنے کا حکم دینے والی سپریم کورٹ اور پھر انہیں باعزت ملک سے روانہ کرنے کا حکم دینے والے چوہدری نثار علی خان بخوبی جانتے تھے کہ وہ غداری کے الزامات سے بچنے کےلئے ملک سے فرار ہو رہے ہیں۔ کیا اس فرار میں معاونت کرنے والوں کا احتساب کر لیا گیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ میں حسین حقانی کے مضمون میں کوئی نئی بات نہیں ہے اور نہ ہی کسی جرم کا اعتراف کیا گیا ہے۔ صرف یہ کہا گیا ہے کہ امریکی پاکستانی انٹیلی جنس پر بھروسہ نہیں کرتے تھے اور آصف زرداری کی حکومت طالبان کے خلاف پالیسی تبدیل کرنا چاہتی تھی جس کے عوض امریکہ سے کثیر امداد طلب کی گئی تھی۔ اس لین دین میں امریکہ نے اپنے متعدد اہلکاروں کےلئے پاکستانی ویزے طلب کئے جو ملک کی سول قیادت کے ایما پر جاری ہوئے۔ اب یہ ویزے لینے والے اگر امریکی ایجنٹ تھے تو اس کا الزام حسین حقانی پر عائد کرنا درست نہیں ہوگا۔ اصل الزام اس صورتحال کا ہے جو گزشتہ 6 دہائیوں تک حلیف ملک کے ساتھ بداعتمادی کا رشتہ استوار کرکے پیدا کی گئی ہے۔ امریکہ اور پاکستان کے درمیان بداعتمادی کی وجہ سے ملک کو اب بھی متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ بہتر ہوگا کہ حسین حقانی کو غدار ثابت کرنے کی بجائے یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ امریکہ کیوں پاکستان پر اعتبار نہیں کرتا۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

دعائے ماہ رجب

- سحر ٹی وی

Fifa World Cup 2017.

- وقت نیوز