بھارت میں ہندو انتہا پسندی تباہی کا راستہ ہے

محمد بن سلمان کی ولی عہدی اسرائیل کے لئے نیک شگون ہے

جامع مسجد النوری کی شہادت داعش کا اعتراف شکست ہے

چاند یا مریخ کا رخ نہ کیا تو 30 سال میں انسانی آبادی ختم: سٹیفن ہاکنگ

اسرائیل، مسلم امۃ کا حقیقی دشمن ہے: تحریک انصار اللہ

سعودی عرب میں اقتدار کی رسہ کشی

کلبھوشن یادیو نے آرمی چیف سے رحم کی اپیل کردی

اگر بیت المقدس کی آزادی سعودی اتحاد کے ایجنڈے میں شامل نہیں تو آرمی چیف راحیل شریف کو فوری واپس بلائیں : علامہ راجہ ناصرعباس

سعودی عرب علاقائی و عالمی دہشتگردی کا اہم اسپانسر ہے: پروفیسر آئیرش یونیورسٹی

پاکستان ڈرون حملے برداشت نہیں کرے گا

پاک ایران گیس منصوبہ 2 سال میں مکمل ہوجائے گا: آصف درانی

جنگل میں منگل: تاریخ رقم ، پیسہ ہضم

جنگی جنون میں مبتلا شہزادہ ولی عہد مقرر:  مشرق وسطی کو جنگ میں دھکیلنے کا سعودی منصوبہ

وہابیت بمقابلہ اخوان المسلمین / قطر کے بحران میں اہلسنت کا پرانا زخم تازہ

داعش کے مفتی اعظم کی ہلاکت کی تصدیق

حامد کرزئی نے سعودیہ کا دل توڑ دیا

وہابی دہشت گردوں نے موصل کی نوری مسجد کو شہید کردیا

زکوۃ کے احکام

قطر کا پابندیوں کی صورت میں سعودی عرب سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان

سعودی عرب میں ولی عہد کے خلاف بغاوت + تصویر اور ویڈیو کلیپ

راحیل شریف ذاتی حیثیت میں نام نہاد اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کیلیے گئے، سرتاج عزیز

سعودی عرب کے نئے ولیعہد کا ایران کے خلاف اعلان جنگ

محمد بن نائف برطرف: سعودی عرب کے ڈکٹیٹر بادشاہ نے ولی عہد کو برطرف کرکے اپنے بیٹے کو ولی عہد بنادیا

سخت پالیسی کا عندیہ: ٹرمپ انتظامیہ پاکستان پر برہم کیوں؟

قدس کا عالمی دن، صہیونیوں کی آنکھ میں چھبتا ہوا کانٹا

سعودی عرب میں‌اقتدار کی رسہ کشی میں شدت: سعودی بادشاہ نے ولی عہد محمد بن نائف کو برطرف کر دیا

افغانستان بھارت ہنی مون: پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی نئی لہر شروع ہونے کا خدشتہ

حافظ سعید کی نظر بندی میں مزید توسیع کر دی گئی

تصاویر: لندن میں روز قدس کا جلوس

قیامت کے دن کون سےافراد امیرالمومنین (ع) کےدرجہ پر فائز ہوں گے؟

افغانستان کے شیعہ و سنی، علما کے ساتھ

وزیراعظم کا ٹیم کے ہر کھلاڑی کیلیے ایک ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان

رابرٹ فورڈ: ایران امریکہ کو مشرقی شام سے بھاگنے پر مجبور کر دے گا

قطر کا بائیکاٹ، امریکی صدر کے سعودی دورے کا نتیجہ ہے: جماعت اسلامی پاکستان

انتہا پسندی کا تیزی سے پھیلتا زہر

اسرائیلی وزير اعظم کا شام میں وہابی دہشت گردوں کی حمایت کا اعتراف

خیرپور، اسرائیل مخالف ریلی کی تیاری پر پولیس کی دھمکیاں

جے آئی ٹی تحقیقات: کیا سپریم کورٹ حکومتی ہتھکنڈوں کا مقابلہ کر سکتی ہے؟

سی پیک کے لئے متبادل روٹ کی ضرورت

وزیر اعظم کی نئی مشکل: شریف خاندان کے خلاف کرپشن کے ثبوتوں کا دعویدار انعام الرحمن سحری کون ہے؟

بحرین نے ’قطری فوج کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا‘

داعش امریکہ کی آلہ کار تنظیم ہے، داعشی اسیر کے سنسنی خیز انکشافات

برطانیہ کی رہائشی عمارت میں لگنے سے ہلاکتوں کی تعداد 79 تک پہنچ گئی، اموات میں مزید اضافے کا خدشہ

شامی طیارہ گرانے پر امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

دنیا میں تیزی سے تنہا ہوتا پاکستان

بارسلونا کلب کے پرزیڈنٹ کی سعودی حکام کے موقف پر تنقید

مصری جزائر سعودی عرب کو دینے کے خلاف احتجاج , بڑی تعداد میں صحافیوں کی گرفتاری

آل سعود کی ''جنرل راحیل شریف" کو "جنرل قاسم سلیمانی" کے مقابلے میں چیمپئن بنانے کی سازش ناکام!

پاک افغان بارڈر پر پاکستان کے لیے خطرے کی نئی گھنٹی

پاکستانی صدر اور وزیراعظم کی سعودی یاترہ: شاہ سلمان کے نام خاص پیغام کیا ہے؟

لندن: ڈرائیور نے تراویح پڑھ کر نکلنے والے نمازیوں پر وین چڑھادی: متعدد زخمی

سعودی عرب داعش کیلئے امریکہ سے اسلحہ خرید رہا ہے ؛ امریکی اہلکار

پاکستان چیمپینز ٹرافی کا فاتح: بھارت کو 180 رنز سے شکست

گستاخ شیخ ولی خان کی مولا علی (ع) پر شراب پینے کی تہمت، عدلیہ خاموش کیوں؟

قطر بحران کا حل آسان نہیں

کشمیر میں مختلف مسلکوں کا حسین امتزاج: شیعہ اور سنی ایک مسجد میں اکٹھے

بکھری ہوئی امت مسلمہ اور عید کا چاند

 محلاتی سازشیں: کیا شہباز شریف بھی وزیر اعظم کی نا اہلی چاہتے ہیں؟

پاکستان کے ہندوستان کو ہرانے کا کتنا امکان موجود ہے؟

داعش اور جبہۃ النصرہ سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کو اسرائیل کی پشت پناہی حاصل ہے؛ اقوام متحدہ

علامہ ڈاکٹر غلام حسین عدیل کو دل کا شدید دورہ، اسپتال منتقل

امیرالمومنین علی (ع) قرآن اور حدیث کی روشنی میں

آل سعود کو فراہم کئے جانے والے ہتھیار آخر کار داعش کے پاس ہی پہنچتے ہیں

داعش نے شہر موصل میں 1 لاکھ شہریوں کو انسانی ڈھال بنا رکھا ہے

سعودی عرب میں حساس اداروں کے سربراہوں کی برطرفی

سعودیہ کا بڑھتا دباؤ: کیا پاکستنان قطر کے ساتھ گیس معاہدہ منسوخ کر دے گا؟

 امریکہ کا اصل چہرہ: خوف کی سیاست اور اسلحے کی فروخت

مشرق وسطی کے لئے امریکہ کی نئی سازش۔۔۔!

امریکا میں نئی بیماری ’ٹرمپ ڈس آرڈر‘ کا چرچہ

یوم علی(ع) پر کراچی جیل سے قیدیوں کا فرار ہونا انتہائی تشویشناک ہے، علامہ مختار امامی

تورا بورا غاروں پر داعش کا قبضہ: کیا افغانستان دوسرا شام بننے جا رہا ہے؟

2017-03-19 22:54:16

بھارت میں ہندو انتہا پسندی تباہی کا راستہ ہے

jبھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے واضح کیا ہے کہ الزام تراشی کے ماحول اور مذاکرات سے گریز کی پالیسی سے برصغیر میں مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ایک مقامی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اس خطے کا واحد مسئلہ نہیں ہے بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی اور اعتماد کی فضا پیدا کرنے کےلئے کشمیر ، سیاچن اور سرکریک جیسے مسائل کو حل کرنا بھی اشد ضروری ہے۔ بھارت یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ دہشت گردی کی صورتحال کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ منقطع ہوا ہے۔ عبدالباسط نے اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر تعاون کی فضا بحال نہیں ہوگی تو معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔ بھارت کو یہ غلط فہمی دور کرنی ہوگی کہ وہ الزام تراشی کے ذریعے پاکستان کو دباؤ میں لا سکتا ہے۔ اس کے برعکس مذاکرات کا راستہ ہموار کرکے تمام امور طے کئے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے ایک اعلیٰ سطح کے نمائندے کی طرف سے بھارت کو یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاستی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کو ملک کا غیر متنازعہ اور طاقتور لیڈر سمجھا جا رہا ہے۔ ریاستی انتخابات کے نتیجہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی پانچ میں سے چار ریاستوں میں حکومتیں قائم کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ جبکہ ملک کے سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں اس نے فقید المثال کامیابی حاصل کی ہے۔ 403 کی اسمبلی میں بی جے پی کو 325 نشستیں ملی ہیں تاہم وہ بدستور ہندو انتہا پسندی کا چہرہ سامنے لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ کے طور پر یوگی آدتیہ ناتھ کا انتخاب اس رویہ کی نشاندہی کرتا ہے۔

پاکستان تسلسل سے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دیتا آیا ہے کیونکہ پاکستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد کشمیر سمیت تمام امور بات چیت کے ذریعے طے کرنا چاہتا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ برس کے دوران مقبوضہ کشمیر میں شروع ہونے والے احتجاج اور اس دوران اوڑی فوجی ہیڈ کوارٹرز پر دہشت گرد حملہ کے بعد پاکستان کے خلاف سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے اوڑی حملہ کا الزام براہ راست پاکستان پر عائد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کی حکومت دنیا میں پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کرے گی۔ تاہم نئی دہلی کی سرکار اپنی ان کوششوں میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ امریکہ جو بحر ہند میں اپنی حکمت عملی میں بھارت کو خاص اہمیت دینے لگا ہے، نے بھی بھارتی حکومت پر واضح کیا تھا کہ اسے پاکستان سے بات چیت کا سلسلہ شروع کرکے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بھارتی سفارت کاروں کو دیگر ملکوں اور عالمی فورمز پر یہی جواب سننا پڑا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھارت کی ترقی پذیر معیشت کی وجہ سے وہاں سرمایہ کاری کے امکانات اور تجارتی مواقع کی وجہ سے نئی دہلی کے ساتھ دوستانہ تعلقات میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے بھارت میں انتہا پسند رجحانات کے فروغ اور حکومت کی طرف سے ہندو انتہا پسندی اور تشدد کے پرچار کو کھل کر مسترد کرنے کی آوازیں سنائی نہیں دیتیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی دنیا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی تفصیلات سے بھی آگاہ ہے۔ کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینے کے بھارتی دعوؤں کے باوجود یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کشمیری عوام بھارت کے ساتھ رہنے کےلئے تیار نہیں ہیں۔ بھارت ہی کی درخواست پر اقوام متحدہ نے کشمیر میں استصواب رائے کے بارے میں جو قراردادیں منظور کی تھیں، وہ بھی عالمی ادارے کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس لئے دنیا کے بیشتر ممالک یہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلہ کا کوئی قابل قبول حل تلاش کر لیا جائے۔

کشمیر کے سوال پر پاکستان اور بھارت آمنے سامنے ہیں اور آزادی کے بعد سے اسی مسئلہ پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بنیاد ضد اور دشمنی کے طرز عمل پر استوار ہوئی ہے۔ اس دوران دونوں ممالک جوہری قوت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ برصغیر میں اب اتنی بڑی تعداد میں جوہری ہتھیار موجود ہیں کہ اگر پاکستان اور بھارت انہیں استعمال کرنے کی غلطی کریں تو یہ پوری دنیا کے امن و سلامتی کےلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ گزشتہ دنوں امریکی کانگریس کو بتایا گیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کا حقیقی خطرہ موجود ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ دونوں ملکوں کے درمیان روایتی عسکری صلاحیت میں عدم توازن ہے۔ بھارت کا دفاعی بجٹ 50 ارب ڈالر سالانہ سے زائد ہوتا ہے جبکہ پاکستان اس کا 10 فیصد ہی دفاع پر صرف کر سکتا ہے۔ بھارت اپنی فوجی قوت میں اضافہ کرتے ہوئے مسلسل یہ پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اسے دراصل چین کی طرف سے خطرہ لاحق ہے۔ حالانکہ بھارت کا یہ دعویٰ بے بنیاد اور حقائق کے برعکس ہے۔ 1962 کی سرحدی جھڑپ کے بعد چین اور بھارت کے درمیان کوئی مسلح تصادم نہیں ہوا۔ اس دوران چین نے تجارتی حکمت عملی کے ذریعے ملکی معیشت کو کئی گنا بڑھا لیا ہے۔ چین مسلح تصادم کی بجائے تجارتی اور معاشی پالیسیوں کے ذریعے دنیا کے ملکوں سے تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔ بے شمار عسکری قوت اور مالی وسائل کے باوجود اس نے کبھی بھارت کو دھمکی نہیں دی اور نہ ہی فوجی برتری کا دعویٰ کرتے ہوئے بھارت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے برعکس چین دیگر ملکوں کی طرح بھارت کے ساتھ تجارتی تعاون بڑھانے اور بھارتی منڈیوں میں سرمایہ کاری کی پالیسی پر کاربند ہے۔

اس کے مقابلے میں بھارت بڑی فوجی قوت ، بڑی معیشت اور بہتر سفارتی مراسم کے باوجود پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس نے مسلسل کشمیری عوام کو حق خود اختیاری دینے سے انکار کیا ہے اور وہاں ابھرنے والی ہر عوامی تحریک کو فوجی قوت سے دبانے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح ریاست میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 60 کی دہائی سے وہ پاکستان کے ساتھ تین بڑی جنگوں میں بھی ملوث ہوا ہے جن میں 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدہ کرنے کی سازش کو کامیاب بنانے کےلئے مسلط کی ہوئی جنگ بھی شامل ہے۔ بھارتی حکمرانوں کا خیال تھا کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد باقی ماندہ ملک خودبخود انتشار اور بدامنی کا شکار ہوکر اکھنڈ بھارت کی تکمیل کےلئے بھارتی ارادوں کی راہ ہموار کر دے گا۔ البتہ بھارت کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ اور 1998 میں بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے جوہری صلاحیت کا مظاہرہ کرکے بھارت کے علاوہ پوری دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ برصغیر کے یہ دو ہمسایہ ملک ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد عقل کے ناخن لیتے اور جنگ کرنے کی احمقانہ باتیں کرنے کی بجائے مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن قائم کرنے کی کوشش کرتے۔ بڑی قوت اور زیادہ وسائل کا ملک ہونے کی وجہ سے بھارت سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ تعاون اور مذاکرات کا ماحول پیدا کرے گا۔ لیکن اس کے برعکس بھارت نے مسلسل پاکستان پر دباؤ بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ گزشتہ پندرہ برس کے دوران بھارت نے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کے ذریعے اچانک اور بھرپور حملہ کرکے پاکستان کی فوجی قوت تباہ کرنے کے منصوبہ پر عمل کیا ہے۔ یہ حکمت عملی دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل تنازعہ اور سنسنی خیز صورتحال کا باعث بنی ہوئی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا تبادلہ معمول کی بات ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بھارت مذاکرات سے انکار کرتا ہے۔

نریندر مودی کے جارحانہ رویہ کے سبب پاکستان کی پالیسی تو تبدیل نہیں ہوئی لیکن بھارت میں انتہا پسند ہندو گروہوں نے قوت پکڑنا شروع کی ہے جو مسلسل طاقتور ہو رہے ہیں اور ملک میں اقلیتوں کےلئے زبردست خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ اترپردیش میں فرقہ وارانہ ایجنڈے پر بی جے پی کی کامیابی اور ریاست کے ایک چوتھائی مسلمان ووٹرز کو نظر انداز کرنے کی حکمت عملی اسی انتہا پسندانہ سیاسی مزاج کا حصہ ہے۔ بی جے پی کے کامیاب ہونے والے 325 ارکان اسمبلی میں سے ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔ پارٹی قیادت مسلسل مسلمانوں کو ملنے والی ’’خصوصی مراعات‘‘ کے خاتمہ کی بات کرتی ہے اور اس طرح ہندو اکثریت کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملک میں اقلیتوں کو خطرہ نہیں ہے بلکہ اکثریتی ہندو آبادی کو خطرہ ہے اس لئے انہیں اپنے حقوق کے تحفظ کےلئے متحد اور مسلح ہو جانا چاہئے۔ نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا یہ نعرہ ہندو آبادی میں مقبول ہو رہا ہے۔ ہندو توا کے فلسفہ کے تحت کئی مسلح گروہ منظم ہو رہے ہیں جنہیں بی جے پی کی حمایت حاصل ہے۔ یہ گروہ اپنے کارکنوں کےلئے عسکری تربیت کے مراکز چلاتے ہیں اور انہیں جنگی مقاصد کےلئے تیار کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نوجوان نسل کی سوچ کو تبدیل کرنے کےلئے اسکولوں میں متعصبانہ اور مسخ شدہ تاریخی حقائق پر مشتمل مواد پڑھایا جاتا ہے۔ بنگال کی حکومت نے گزشتہ ہفتے کے دوران جن سنگھ کے ایسے ڈیڑھ سو اسکولوں کو نوٹس جاری کئے ہیں لیکن بی جے پی نے ریاستی حکومت کی اس کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔

بھارت میں انتہا پسند ہندو تنظیمیں جس طرح منظم ہو کر عسکری گروہ تیار کر رہی ہیں اور انہیں جیسے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تشدد کےلئے تیار کیا جا رہا ہے، یہ بھارت جیسے کثیر الثقافتی معاشرہ کےلئے  بہت بڑا خطرہ ہے۔ لیکن مرکز اور ملک کی آدھی سے زیادہ ریاستوں میں برسر اقتدار بی جے پی ان رجحانات کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ یہ وہی طریقہ کار ہے جو افغانستان میں سوویت فوجوں کا مقابلہ کرنے کےلئے مسلمان جہادی گروہوں کو تیار کرتے ہوئے اختیار کیا گیا تھا اور جس کے نتیجہ میں خطرناک دہشت گرد گروہ وجود میں آئے تھے۔ تاہم 80 کی دہائی میں تیار کئے جانے والے جہادی افغانستان میں غیر ملکی فوج کے خلاف تیار کئے گئے تھے۔ اس کے باوجود وہ بعد میں ایک خاص نظریہ کی تکمیل کےلئے عالمی دہشت گردی کی بنیاد بن گئے۔ اس کے مقابلے میں ہندو مسلح دستے اقلیتوں پر حملے کرنے کےلئے تیار کئے جا رہے ہیں۔ ڈیڑھ ارب آبادی کے ملک میں ایسے رجحان کی حوصلہ افزائی ایک نئی طرز کی دہشت گردی کے فروغ کا سبب بن سکتی ہے۔ لیکن نریندر مودی فی الوقت اسے اپنے سیاسی مقاصد کےلئے استعمال کر رہے ہیں۔ اسی لئے وہ پاکستان سے مذاکرات کی بجائے تصادم کی بات کرتے ہیں۔ حالانکہ ماضی کے تجربے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر تیار کئے جانے والے دہشت گرد کبھی بھی دیرپا سیاسی مقاصد کی تکمیل میں مددگار نہیں ہو سکتے اور یہ دراصل خود اپنے سرپرستوں کےلئے خطرہ کا سبب بن جاتے ہیں۔ جو تجربہ افغانستان ، پاکستان اور عراق میں کامیاب نہیں ہو سکا، وہ ہندو دہشت گردوں کے ذریعے بھارت میں بھی کامیاب نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نریندر مودی کو ان حالات میں جلد عقل کے ناخن لینے اور انتہا پسندانہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے پاکستان کے ساتھ مواصلت اور مفاہمت کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اسی طرح وہ خود کو بڑا لیڈر اور بھارت کا ہوشمند رہنما منوانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں کھیل کر وہ عسکری گروہوں کو ایسی قوت عطا کر سکتے ہیں جو براہ راست ریاستی طاقت کو چیلنج کرے گی۔ سیاسی مقبولیت کے عروج پر ان کےلئے سوچنے اور عمل کرنے کا یہ نادر موقع ہے۔ پاکستانی ہائی کمشنر نے بھارت کو یہی مخلصانہ مشورہ  دیا ہے۔

  تحریر: سید مجاہد علی

 

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

جام جم

- سحر نیوز