تعلیم حکومت کی ذمہ داری یا مذہبی تنظیموں کی؟

استعفے کی وجوہات بیان کیں تو پارٹی کو نقصان ہوگا، چوہدری نثار

 کیا بھارت محمود اچکزئی کو خرید چکا ہے؟

حیدرآباد سے ایک اور لڑکی داعش میں شامل

بحرین کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ کی باتیں کس حد تک سنجیدہ ہیں؟

راحیل شریف پاکستان میں 3 سالہ حکومت قائم کرکے احتساب کریں گے: پاکستانی میڈیا

نواز شریف اور اہل خانہ کا نیب کے سامنے پیشی سے انکار توہین عدالت ہے: علامہ ناصر عباس جعفری

ایران اور عراق کے مشترکہ مفادات کے خلاف موقف اختیار نہیں کریں گے: مقتدی صدر

وزیرآباد میں آج ہونے والا نواز شریف کا جلسہ کیوں منسوخ کر دیا گیا؟

چودھری نثار، پرویز رشید کی لفظی جنگ نے لیگی قیادت کو پریشان کر دیا

تفتان بارڈر پر زائرین کیساتھ بدترین سلوک انسانیت کی تذلیل اور ناقابل برداشت ہے

عراقی وزیر اعظم نے تلعفر کو آزاد کرانے کا حکم صادر کردیا

امریکا میں نسل پرستی کے خلاف ہزاروں افراد کی ریلی، پولیس سے جھڑپیں

شریف خاندان آج بھی نیب میں پیش نہ ہوا

پاکستان امریکہ کا کوئی ڈومور مطالبہ قبول نہیں کرے گا

سعودی حکومت یمن جنگ میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے باوجود شکست سے دوچار ہے

سعودی عرب نفسیاتی محاصرے سے باہر نکلنے کے لئے اب عراق کا سہارا لے رہا ہے

شریف برادران کی فطرت میں ہے کہ وہ سیدھی بات کرنے والےکو پسند نہیں کرتے

مسجد اقصیٰ آج بھی جل رہی ہے!

شام،لبنان تعلقات لازوال ہیں، شام پر صہیونی جارحیت کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا: شامی سفیر

دہشتگردی کا کسی بھی نسل یا مذہب سے کوئی تعلق نہیں: ایران

امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے دہشت گردوں کو کیمیائی ہتھیار فراہم کئے

نوازشریف نے آئین و قانون کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا ہے: شیخ رشید

عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی باضابطہ کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ

دبئی کے حکام کی ابوظہبی سے آزادی کے لئے منصوبہ بندی شروع

سپین میں دولت اسلامیہ کی دہشت گردی

مقبوضہ کشمیر کوفلسطین بنانے کی سازش

بدلتے پاکستان کی مزاحمت

قطری حاجیوں کی سلامتی کے معاملے پر تشویش ہے: شیخ محمد بن عبدالرحمان ثانی

میڈرڈ سے مانچسٹر تا بارسلونا: دہشت گردانہ واقعات کا سلسلہ

سعودی عرب کی قطر پر مہربانی کا آغاز کیوں ہوا؟

ن لیگ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان کا فیصلہ

خاص خبر: ڈان لیکس پر فارغ پرویز رشید کے سنسنی خیز انکشاف

سعودی بادشاہ کے خرچ پرقطری شہریوں کے حج کی مخالفت

ہارٹ اٹیک سے 1 ماہ قبل سامنے آنے والی علامات

زائرین کی توہین ناقابل برداشت عمل ہے حکومت و ریاستی ادارے پاکستانی زائرین کے مسائل حل کریں: شیعہ علماء کونسل پاکستان

اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے پر نواز شریف کا واویلا چور مچائے شور کے مصداق ہے: علامہ ناصرعباس جعفری

شایک اور نیو لبرل نواز شریف کا طبلچی – عامر حسینی

شکریہ پاکستانی حکمرانوں : ہر پاکستانی تقریباً 95,000 روپے کا مقروض ہے، وزارتِ خزانہ

پاکستان نے پاک ایران سرحد پر گیٹ تو تعمیرکر دیا لیکن زائرین کی مدد کے حوالے سے کچھ نہ ہو سکا

مجھے کیوں نکالا گیا؟

شفقنا خصوصی: امریکہ تحریک کشمیر کو دبانے کے لیے کس طرح بھارت کی مدد کر رہا ہے؟

یمن جنگ طویل ہونے کی اصل وجہ، منصور ہادی ہیں

میرا ساتھ دو میں انقلاب لاؤں‌گا

قطر اور سعودی عرب کے درمیان گذشتہ 6 برس سے جاری جنگ کہاں لڑی جا رہی ہے؟

زرداری نواز مڈھ بھیڑ اور بیچاری جمہوریت

بارسلونا میں دہشت گردی، داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

نوجوان داعش سے منسلک تنظیموں سے بہت زیادہ محتاط رہیں، سربراہ پاک فوج

حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قراردینے پرپاکستان کی مایوسی

مسئلہ کشمیر اور مودی کی سیاست

چوہدری نثار کے پارٹی کے قائم مقام صدر کے انتخاب کے طریقہ کار پر شدید تحفظات

نواز شریف اور ان کے خاندان کو آئندہ سیاست میں نہیں دیکھ رہا: آصف زرداری

ترکی اور ایران کی عراقی کردستان میں ریفرنڈم کی مخالفت

آل شریف کا اقتدار اور پاکستان کی سلامتی کولاحق خطرا ت

 خفیہ ڈیل: کیا ن لیگ آصف زرداری کو صدر بنا رہی ہے؟

ظہران، سعودی عرب میں موجود مذہبی تضادات کا منہ بولتا ثبوت

جماعت الدعوہ کا سیاسی چہرہ

ٹرمپ نے امریکا میں نسل پرستی کی آگ پر تیل چھڑک دیا

چین اور بھارتی افواج میں جھڑپ، سرحد پر شدید کشیدگی

ماڈل ٹاؤن کیس میں شریف برادران کو ہر صورت پھانسی ہو گی: طاہرالقادری

کیا سعودیہ یمن جنگ سے فرار کا رستہ ڈھونڈ رہا ہے؟

نوازشریف کاسفر لاہور

پاکستان میں جاری دہشتگردی کا تعلق نظریے سے نہیں بلکہ پیسوں سے ہے۔ وزیراعلی بلوچستان

سعودی شہزادوں کا غیاب: محمد بن سلمان کامخالفین کو پیغام

یوم آزادی پہ تاریخ کے سیاہ اوراق کیوں پلٹے جارہے ہیں ؟

سعودی عرب کا جنگ یمن میں ناکامی کا اعتراف

سعودی عرب اور عراق کا 27 سال بعد سرحد کھولنے کا فیصلہ

ایران کی ایٹمی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی

وہ غذائیں جن کے کھانے سے کمزور بالوں اور گنج پن سے نجات ملتی ہے

گالی سے نہ گولی سے، مسئلہ کشمیر گلے لگانے سے حل ہو گا: نریندر مودی کا اعتراف

سری لنکن کرکٹ بورڈ نے دورہ پاکستان کی منظوری دیدی

2017-03-20 06:39:37

تعلیم حکومت کی ذمہ داری یا مذہبی تنظیموں کی؟

taleem

 

 

برسوں سے ریاست کی مسلسل کئی کوتاہیوں میں سے ایک کوتاہی، جس کا براہ راست تعلق پاکستان کی موجودہ صورتحال سے بھی ہے، شعبہ تعلیم کو نظر انداز کرنا ہے۔

 

دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ کی حالیہ تحقیق، ان دیگر عناصر کو ظاہر کرتی ہے جو اس خلا کو پُر کر چکے ہیں۔ تحقیقی نتائج کے مطابق شہر میں تعلیمی اداروں کی تعداد 348 ہے— ان میں ہائر سیکنڈری اسکولوں کو شمار نہیں کیا گیا، جو کہ عام طور پر انٹر کالج تصور کیے جاتے ہیں— جبکہ اس تعداد سے زیادہ مدرسے موجود ہیں جن کی موجودہ تعداد 374 بنتی ہے۔ بات صرف یہاں پر ہی ختم نہیں ہو جاتی۔ نصف سے زائد مدرسے — 205 — رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ یہ بات بذات خود ان اداروں کو قائم کرنے میں مذہبی تنظیموں کو حاصل غیر معمولی آزادی اور حکومت کی عدم نگرانی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

 

ساتھ ہی یہ معلوم بھی ہوا ہے کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران وفاقی حکومت نے شہر میں ایک بھی اسکول قائم نہیں کیا ہے، جب کہ اس دوران مدرسوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا، اور آپ اس پوری تاریک تصویر یوں مختصر انداز میں دیکھ سکتے ہیں۔ شعبہ تعلیم میں فرائض میں حیران کن غفلت صرف مقامی سطح تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان میں یہی صورتحال ہے۔

 

کافی عرصے سے کئی مذہبی رہنما، جن میں مولانا فضل الرحمن سب سے زیادہ پیش پیش ہیں، مدرسوں پر مذہب کی بنیاد پر شدت پسندی کا الزام لگانے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک حقیقت ہے کہ تمام مدارس بنیادی طور پر شدت پسندی کو فروغ نہیں دیتے، یہاں پر تشدد، شدت پسندی کی بھی بات نہیں، مگر یہ بھی اتنی ہی بڑی ایک حقیقت ہے کہ مدارس اپنی مخصوص نکتہ نظر کے ساتھ ایک قدامت پسند تعلیم فراہم کرتے ہیں جو اکثر ناخوشگوار نظریاتی تقسیم کو تقویت بخشتی ہے۔

 

شعبہ تعلیم کے لیے انتہائی ناقص بجٹ کی فراہمی، آمدن میں بڑھتا ہوا عدم مساوات اور کس طرح تعلیمی اداروں تک غریب کی عدم رسائی کے اثرات، جو کہ مدرسوں کے زبردست مفاد کی صورت میں نکلتے ہیں، کو نہ سمجھنے کی یہ حکومتی بے حسی ہی ہے۔ کم آمدن والے گھرانوں کے پاس یا تو اپنے بچوں کو مفت، مگر غیر معیاری سرکاری اسکولوں میں بھیجنے کا آپشن ہوتا ہے یا پھر معیاری نجی اسکولوں بھیجنے کا آپشن — مگر ان میں سے مناسب ترین نجی اسکول بھی اس قدر زیادہ فیس لیتے ہیں جن کی ادائیگی بڑے گھرانے کی بھی استعداد سے باہر ہو جاتی ہے۔

 

جبکہ مدرسے ایک بہترین فارمولے کی پیش کش کرتے ہیں؛ جہاں مفت قیام و طعام، کے ساتھ ساتھ کم از کم اطمینان بخش معیار کی تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ صوبائی سطح پر ہونے والی مدرسوں کی جیو ٹیگنگ نے ایسے اداروں کی خطرناک حد تک بڑھتی تعداد کا انکشاف کیا ہے، جن میں سے زیادہ تعداد غیر رجسٹرڈ مدارس کی ہے۔

 

حکومت طویل عرصے سے آبادی کو تعلیم کی فراہمی کا اہم کام مذہبی تنظیموں پر چھوڑ چکی ہے۔ جس کا تباہ کن نتیجہ اب ہمارے سامنے بھی ہے، حکومت کو اب بنا زیادہ دیر کیے اقدامات کرنے ہوں گے۔

 

ڈان نیوز

 

 

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)