سندھ طاس معاہدہ، پاکستان کے لئے اہم کیوں؟

یمنی انقلابی فوج کی جوابی کاروئیاں، آل سعود کے فوجی ہتھیاروں کے ڈپو کو آگ لگ گئی

دہشتگردی کیخلاف جنگ میں گھرا پاکستان یمن جنگ کا حصہ بن گیا

کیا بھارت بھی داعش کا سرپرست ہے؟

نواز شریف کے لئے ایک کے بعد دوسرا بحران

تکفیری داعش اور اسرائیلی گٹھ جوڑ: داعش نے  اسرائیل سے معافی کیوں مانگی؟

شفقنا خصوصی: تحریک طالبان کا اسرائیل سے خفیہ تعلق

ترکی میں گرفتاریاں، انسانی حقوق پر حملہ

10 ارب روپے کی پیشکش کرنے والا شہباز شریف کا قریبی تھا، عمران خان

نواز شریف کے لئے ایک کے بعد دوسرا بحران

طالبان کے ’’را‘‘ اور افغان خفیہ ایجنسی سے رابطے ہیں، احسان اللہ احسان کا اعترافی بیان

وہابی مفتی: عید معراج کا جشن منانا حرام ہے!

سعودی شاہی خاندان میں پھوٹ: کیا شاہ سلمان اپنے تخت کو بچا پائیں گے؟

یوم بعثت و نبوت: زیارت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

امریکی عدالت نے ٹرمپ کا ایک اور حکم نامہ معطل کردیا

ای او بی آئی میں اربوں روپے کی چوری کی ذمہ دار حکومت ہے: سپریم کورٹ

دہشت گردوں کا سوفٹ امیج اور کرپٹ سیاست دان

بھارت دفاع پر خرچ کرنے والا دنیا کا پانچواں ملک بن گیا، رپورٹ

عمران خان کا دعویٰ سیاسی ماحول خراب کرے گا

نواز شریف کب استعفیٰ دیں گے

وزیراعظم عہدے سے استعفیٰ دیں: افتخار چوہدری

راحیل شریف

پانامہ کے نمائشی کیس کے پس پردہ جنرل راحیل کی سعودیہ روانگی / کیا پاکستان، یمن جنگ کا حصہ بن رہا ہے؟

طارق فاطمی نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا، ذرائع

سعودی عرب پاکستان میں فرقہ وارانہ فساد کیلئے فنڈنگ کرتا ہے، عاصمہ شیرازی

 شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار: برطانیہ کا ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے ایرانی شہریوں پر پابندیاں

کرم ایجنسی میں بارودی سرنگ کا دھماکا مردم شماری ٹیم کے 2 ورکروں سمیت 10 فراد جاں بحق

امریکی پیٹ میں پھر مروڑ: روس طالبان کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے،امریکی جنرل

فوج کی دیانت اور سپریم کورٹ کی شہرت کا سوال

شمالی کوریا کی امریکی بحری بیڑے کو تباہ کرنے کی دھمکی: سپر پاور کیسے بھیگی بلی بن گیا؟

فرانس کا صدارتی انتخاب

ایران کے لیے پاکستان کی سیکیورٹی انتہائی اہم ہے، جواد ظریف

پاناما لیکس جے آئی ٹی: 'فوج شفاف، قانونی کردار ادا کرے گی'

ایران کے خلاف عرب یہودی اتحاد:  مسلم دنیا کے حکمرانوں کے اصل چہرے عیاں

پانامہ لیکس جے آئی ٹی: کیا عدلیہ نے نواز شریف کو بچاؤ کا راستہ دیا ہے؟

مخصوص ممالک کا فوجی اتحاد عالم اسلام کی وحدت کیخلاف امریکی سازش ہے، پاکستان کو کسی بھی سازش کا حصہ نہیں بننا چاہیئے، علامہ مختار امامی

اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری:‌شاہ سلمان نے اپنے بیٹے کو امریکا میں سفیر مقرر کر دیا

تہذیب نام تھا جس کا....... از نذر حافی

نواز شریف کب استعفیٰ دیں گے

قم میں حقیقی اسلام کا درس دیا جاتا ہے نہ کہ داعشی یا طالبانی اسلام کا۔ پاکستانی اسپیکر

ایاز صادق کی ایران کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت

وزیر اعظم پر تنقید ہو سکتی ہے تو کوئی بھی مقدس گائے نہیں ، مریم نواز اور ڈی جی آئی ایس آئی کی انتہائی قریبی رشتہ داری ایک حقیقت ہے: اعتزاز احسن

راحیل شریف سعودیہ سدھار گئے

اضافی دستوں کی تعیناتی: کیا سعودیہ پاکستان سے درخواست کرتا ہے؟

سعودیہ بغاوت کے دہانے پر

پاناما فیصلہ، فلم ابھی باقی ہے!

امریکہ سعودیہ گٹھ جوڑ: امت مسلمہ کے داعی کا اصل چہرہ کیا ہے؟

شفقنا خصوصی:پاکستان، سعودی اتحاد اور یمن کے معصوم بچوں کا خون

سعودیہ اگلے مہینے سے اسرائیل کو پیٹرول برآمد کریگا

مودی دنیا کا دوسرا ہٹلر ہے، اسے سبق سکھانے کےلیے کلبھوشن کو پھانسی دی جائے، منموہن سنگھ

اولاند: ٹرمپ، داعش کو منہ بولا بیٹا ماننے کو تیار ہیں

سعودی اتحاد کے منفی عزائم:  کیا پاکستان کو دھوکے میں رکھا گیا ہے؟

سیاسی جماعتوں میں انتہا پسند عناصر میں اضافہ

النصرہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے کنگ کون؟

 امریکی منافقت:‌داعش کو عراق میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی کھلی چھٹٰی کیوں؟

وزیراعظم صادق و امین نہیں رہے، جسٹس گلزار کا اختلافی نوٹ

سابق ایرانی صدر احمدی نژاد صدارتی انتخاب کیلئے نااہل قرار

پاکستان کے خبر نگار کا دورہ شام، لوگوں کو بشار اسد سے کوئی مشکل نہیں

ٹوپی ڈرامہ جاری رہے: سپریم کورٹ کا فیصلہ

'سپریم کورٹ جو نہ کرسکی وہ 19 گریڈ کے افسر کریں گے؟'

پاناما کیس: سپریم کورٹ کا جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ

رینجرز اختیارات میں توسیع : سندھ حکومت خائف کیوں ہے؟

 جعلی ریفرنڈم: کیا ترک عوام ڈکٹیٹر شپ چاہتے ہیں؟

شفقنا تجزیہ: وزیراعظم اہل یا نا اہل، پانامہ لیکس کیا لے کر آرہا ہے؟

پانامہ لیکس فیصلہ: کیا ن لیگ تشدد کی راہ اختیار کرے گی؟

آرمی چیف نے 30 دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی

اتحاد بین المسلمین کے حوالہ سے پاکستان میں ایک اہم پیش رفت ،اتحاد امت مصطفیٰ فورم کی تشکیل

پاناما کیس فیصلہ: حکمراں جماعت میں قبل از وقت انتخابات پر بحث

سعودی اتحاد کی بلی تھیلے سے باہر: نام نہاد اتحادی مسلم فوج کا حوثی افواج کے خلاف کارروائی کا عندیہ

ڈونلڈ ٹرمپ خطرناک صدر نہیں :احمدی نژاد

شفقنا خصوصی: بشار الاسد کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے

2017-03-20 22:31:12

سندھ طاس معاہدہ، پاکستان کے لئے اہم کیوں؟

l_285606_110120_updatesزرعی ملک ہونے کےناطے پاکستان میں فصلوں کی کاشت کا زیادہ تر دارومدار دریاؤں سے پانی کی آمد پر ہوتا ہے۔ایسے میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان کےلئے کافی اہم ہے۔اس معاہدے کی ضرور ت 1948 میں اس وقت پیش آئی جب بھارت نے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کردیا ۔دونوں ملک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی برادری متحرک ہوئی اور 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہد ہ طے پایا ۔

اس معاہدےکے تحت انڈس بیسن سے ہر سال آنے والے مجموعی طورپر168 ملین ایکڑفٹ پانی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کیا گیا جس میں تین مغربی دریاؤں یعنی سندھ ،جہلم اور چناب سے سے آنے والے 80 فیصد پانی پر پاکستان کاحق تسلیم کیا گیا جو 133 ملین ایکڑ فٹ بنتا ہےجبکہ بھارت کو مشرقی دریاؤں جیسے راوی،بیاس اور ستلج کا کنٹرول دے دیا گیا۔

چوں کہ مغربی دریاوں میں کئی کا منبع بھارت اور مقبوضہ کشمیرمیں تھا اس لئے بھارت کو 3اعشاریہ6 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنےاور محدود حد تک آب پاشی اور بجلی کی پیداوار کی اجازت بھی دی گئی لیکن بھارت نے معاہدے کی اس شق کو پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کےلئے استعمال کرنا شروع کردیا اور مقبوضہ علاقوں سے گزرنے والے دریاؤں میں یعنی سندھ ، چناب اور جہلم پر 15 سے زائد ڈیم بنا چکا ہے جبکہ مزید 45 سے 61 ڈیمز بنانے کی تیاری کررہا ہے ۔

اس کے علاوہ ان دریاؤں پر آب پاشی کے 30 سے زائد منصوبے بھی مکمل کئے گئے ہیں ۔حال ہی میں آنے والی خبروں کے مطابق اب بھارت 15 ارب ڈالر کی لاگت سے مزید منصوبوں پر کام کا آغاز کرہا ہے جس میں 1856 میگاواٹ کا سوا لکوٹ پاور پروجیکٹ بھی شامل ہے ۔ کشن گنگا ، رتل ، میار ،لوئر کلنائی ،پاکال دل ہائیڈروالیکٹرک پلانٹ اور وولر بیراج نیوی گیشن پروجیکٹ پر بھی کام کا آغاز کررہا ہے جن کا مقصد بظاہر تو بجلی بنانا ہے لیکن اس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنا بتایا جاتا ہے ۔

بھارت پاکستان کو دباؤ میں لانے کےلیے کئی بار سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی بھی دے چکا ہے جبکہ دریاؤں کا رخ موڑنے کا اعلان بھی کرتا نظر آتا ہے لیکن کیا ایسا کرنا اتنا آسان ہے ۔۔۔۔ ؟ یہ جاننے کےلیے اس معاہدے کے تحت آنے والے دریاؤں کے ماخذ پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔

دریائے راوی کا منبع بھارت کی ریاست ہماچل پردیش کے ضلع چمبہ کا پہاڑی سلسلے ہے جو’آر ایف چولن‘ کے چھوٹےسے گاؤں کے نزدیک ہے۔ اسی طرح دریائے بیاس بھی اسی ریاست کے علاقے بیاس کُنڈ سے نکلتا ہے اور بھارت کے سرحدی شہر فیروزپور پر دریائے ستلج میں جاملتا ہے یعنی دریائے بیاس پورا کا پورا بھارت میں بہتا ہے۔دریائے ستلج کی بات کی جائے تو اس کا منبع چین کے علاقے تبت میں ایک جھیل کے قریب ہے جسے بھارت میں راکشس تل کہاجاتا ہے۔

دریائے ستلج چین سے بھارتی ریاست ہماچل پردیش سے ہوتا ہوا بھارتی پنجاب اور وہاں سے پاکستان کے ضلع قصور سے ہوتا ہوا ہیڈ سلیمانکی سے جا ملتا ہے۔

مشرقی دریاؤں سے ہر سال اوسطاً 19ملین ایکٹر فٹ پانی پاکستان میں آتا تھا لیکن سندھ طاس معاہدے سے قبل اور اس کے بعد بھارت نے راوی اور ستلج پر کئی ڈیمز اور کنال تعمیر کرکے پانی کے بہاؤ کو راجستھان اور دیگر ریاستوں کی جانب موڑ دیا جس کے بعد ان دریاؤں سے سالانہ پانی کی آمد تین لاکھ ایکڑ فٹ سے بھی کم رہ گئی لیکن یہ کرنا اس لیے آسان تھا کہ مشرقی دریاؤں کا منبع اور محل وقوع بھارت کےلیے سازگار تھا۔

مگر پاکستان کے مغربی دریاؤں پر صورتحال مختلف ہے، دریائے سندھ، چین کے علاقے تبت سے نکلتا ہے اور مقبوضہ کشمیر سے ہوتا ہوا پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔جہلم کا آغاز مقبوضہ کشمیر کے پیر پنجال پہاڑی سلسلے میں ویری ناگ چشمے سے ہوتا ہے جہاں سے یہ سری نگر سے ہوتا ہوا آزاد کشمیر اور پھر ضلع جہلم سے پاکستان میں داخل ہوتا ہےجبکہ چناب کا منبع بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں ہے۔یہ دریا سیالکوٹ میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے پانی کو روکنا اور اسے بھارت کی دیگر ریاستوں کی طرف موڑنا آسان نہیں کیوں کہ مقبوضہ کشمیر کی وادی ہمالیہ اور پیر پنجل پہاڑی سلسلے کے درمیان گھری ہوئی ہے اور دریاؤں کو موڑنے کےلیے ان پہاڑوں میں 300 کلومیٹر سے زائد سرنگیں بنانی پڑیں گی جس کےلیے کثیر سرمایہ درکار ہوگا۔

دریائے چناب جو بھارتی ریاست ہماچل پردیش سے آتا ہے اس کا راستہ پتلا اور گہری گھاٹیوں پر مشتمل ہے اور اس کو موڑنا بھی کافی مشکل ہےالبتہ تمام ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بھارت ان دریاؤں پرمزید بند باندھ کرپانی کا استعمال بڑھا سکتا ہے جس کے باعث پاکستان کو ملنے والے پانی میں کمی ہوگی جبکہ یہ ڈیمز بھارت کو پانی پر کنٹرول کرنے کی مزید صلاحیت دیں گے، یعنی بھارت پانی کا اخراج اپنی مرضی سے کریں گا جس سے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

 
زمرہ جات:   Horizontal 1 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

عنوان کے بغیر

- اسلام ٹائمز

عنوان کے بغیر

- اسلام ٹائمز

عنوان کے بغیر

- اسلام ٹائمز

Venezuela is a mess, says Trump

- دنیا نیوز

Shaban moon sighted in Pakistan

- دنیا نیوز

Ayena 27 April 2017

- وقت نیوز

صلوات شعبانیہ

- سحر ٹی وی

Labb Azaad 27 April 2017

- وقت نیوز

When ISIS kidnapped Messi

- دنیا نیوز