سندھ طاس معاہدہ، پاکستان کے لئے اہم کیوں؟

پارہ چنار کرم ایجنسی اور شیعہ ۔ سنّی لڑائی کا افسانہ – عامر حسینی

مسجد الحرام کا امن وامان ہماری ریڈلائن ہے

مشرق وسطیٰ بحران: پاکستان کہاں کھڑا ہے

سانحہ پارا چنار کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا: آرمی چیف

پاراچنار کے مظلومین کے مطالبات نہ مانے گئے تو پورے ملک میں احتجاجی دھرنےشروع کرینگے: علامہ ناصر عباس جعفری

عمران خان کی سانحہ پارا چنار کے متاثرین کی طرف وزیر اعظم کی بے حسی پر برھم

وزیر اعظم کو چاہیے تھا وہ ملک بھر میں ہونے والے سانحات کو برابری کی بنیاد پر دیکھتے: علامہ سید ساجد نقوی

چند ہفتوں میں نگراں حکومت یا نئے وزیراعظم کا فیصلہ ہوجائےگا، شیخ رشید

سعودی عرب کا بات چیت سے انکار عالمی اصولوں کیخلاف ورزی ہے

سعودی عرب کے بادشاہ میں اسرائیل کے خلاف بات کرنے کی ہمت نہیں

سعودی عرب میں آل سعود مخالف محاذ کی تشکیل کا اعلان

سعودی عرب کا قطر کو دی گئی فہرست پر مذاکرات نہ کرنے کا اعلان

احمد پور شرقیہ سے پارا چنار تک

دو دہشت گردوں کی ملاقات : امریکہ اور بھارت کی دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت

مودی کو گود میں بٹھا کر ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیانات : پاکستان کا ایران کی طرح کرارہ جواب

چرنوبل ایٹمی پلانٹ پھر خطرے میں: سائبر حملوں کی وجہ سے سسٹم فیل ہونے کا خدشہ

جناب وزیراعظم ! تماشہ تو آپ نے خود لگایا ہے

پاکستان کےخلاف امریکہ و بھارت کی فرد جرم

سربراہ ایم ڈبلیو ایم پاکستان علامہ ناصر عباس جعفری کی آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے ملاقات، سانحہ پاراچنار پر تبادلہ خیال

قلندر کی دھرتی پر تکفیریت کی تبلیغ

پارہ چنار میں دھماکے کیوں ہوتے ہیں؟ – محمد عامر حسینی

پاراچنار حملہ، پاکستان کے مختلف علاقوں میں دھرنے اور مظاہرے پانچویں روز بھی جاری

یمن میں سعودی ولی عہد کے کارنامے امریکی مفادات کے لئے خطرناک ہیں: واشنگٹن پوسٹ

امریکہ کی اسٹریٹیجی دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنا نہیں ہے

سعودی عرب خطے میں نفرت، کینہ ، دشمنی اور دہشت گردی کا بیج بو رہا ہے

امریکی انتظامیہ کا بھارت کی زبان بولنا تشویشناک ہے، چوہدری نثار

اے مسلمانو تمہیں قبلہ اول پکار رہا ہے!

حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین عالمی دہشت گرد قرار

نوازشریف سانحہ پاراچنارپرخاموش کیوں ہیں؟

بیعت سے انکار کی خبر نشر کرنے پر سعودی حکومت نے ٹی وی چینل بند کردیا

ڈونلڈ ٹرمپ کا سفری پابندیوں کا حکم نامہ جزوی طور پر بحال

پاراچنار میں دہشت گردوں کے بم دھماکے میں شہداء کی تعداد 72 تک پہنچ گئی

نیشنل ایکشن پلان میں وفاق کی غیر سنجیدگی تازہ دہشتگردی کا سبب ہے: وزیراعلیٰ سندھ

پانامہ کیس:‌کیا کیپٹن صفدر نواز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے؟

ہمارے دماغ میں بسی داعش

میں 2 سال سے بول رہا تھا ملک میں داعش موجود ہے، رحمان ملک

ایران کا قطر کی بھرپور حمایت کا اعلان

عیدالفطر آج مذہبی جوش وجذبے کے ساتھ منائی جائے گی

حضرت آیت اللہ سیستانی کے دفتر سے جاری اعلان کے مطابق برطانیہ میں یکم شوال بروز سوموار کو ہوگی

تصاویر : بہاولپور میں قیامتِ صغریٰ کے مناظر

قطر نے آل سعود کے تمام تر مطالبات مسترد کردیے

تسنیم نیوز : بات صرف آرمی چیف سے یا نواز شریف سے؛ ورنہ دھرنا جاری + تصاویر

مسئلہ فلسطین ، آغاز سے اب تک ~ نذر حافی

تصاویر: الوداع الوداع ماہِ رمضان، لوگ عبادتِ پروردگار میں مگن

قطر یا سعودی عرب، امریکا یا روس؟ پاکستان کس کس کو راضی کرے گا

 اتحادی حیثیت ختم کرنےکیلئےامریکی بل: پاکستان کے پاس امریکی چنگل سے نکلنے کا سنہرا موقع

دنیا اس بات کو تسلیم کرے کہ پاکستان دہشت گردی کےخلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے، چینی وزارت خارجہ

بہاولپور: آئل ٹینکر میں آتشزدگی، 135افراد ہلاک

امریکہ افغانستان میں داعش کو مسلح کر رہا ہے: روس

محمد بن سلمان کو ولی عہد بنائے جانے پر سعودی شہزادوں کی مخالفت

مسجد الحرام میں حملے کا منصوبہ ناکام، خودکش حملہ آور ہلاک

پاراچناردھماکے: شہادتیں 67 ہو گئیں

قطر نے عرب ممالک کے مطالبات کو ’غیر حقیقی‘ قرار دیا

پاکستان کا نان نیٹو اتحادی درجہ ختم کرنے کیلئے امریکی کانگریس میں بل پیش

سعودی عرب میں ایران پر جنگ مسلط کرنے کی ہمت نہیں: سید حسن نصر اللہ

سعودی خاندان میں مخملی بغاوت؛ سعودیہ کے جوان ولی عہد کیسے تختِ ولی عہدی تک پہنچ گئے

نواز شریف کی جھوٹی ثالثی: سعودی سفیر نے نواز شریف کے جھوٹ کا پول کھول دیا

ایک اور خون سے رنگی عید: پاکستانی قوم نوحہ خواں

عراق کی تقسیم اسرائیل کا اہم ترین ایجنڈا ہے ، ایران

سعودیہ: مسجد الحرام میں حملے کا منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ

عالمی یوم القدس کے موقع پر قبلہ اول کی آزادی کے لیے ملی یکجہتی کونسل کی مشترکہ ریلی کا انعقاد

قطر میں فوجی اڈے ختم کئے جانے کی درخواست ترکی کے امور میں مداخلت ہے : ترکی

نہایت اطمینان کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ بغدادی مارا گیا ہے: روس

پارا چنار: 2 بم دھماکے، 30 افراد شہید، 100 زخمی

عرب ریاستوں نے تنازع ختم کرنے کیلئے قطر سے 13 مطالبات کردیے

کیا سرفراز نے شاہ رخ خان کو بھی شکست دیدی؟

تصاویر: تہران میں یوم قدس کے موقع پر عظیم ریلی

مسئلہ فلسطین دنیائے اسلام کا سب سے پہلا اور اہم مسئلہ ہے

کوئٹہ: بم دھماکے میں 15 افراد جاں بحق

 اسلامی ممالک کی تقسیم کا منصوبہ: کیا نئے سعودی ولی عہد کی تعیناتی کے احکامات واشنگٹن سے آئے؟

2017-03-20 22:31:12

سندھ طاس معاہدہ، پاکستان کے لئے اہم کیوں؟

l_285606_110120_updatesزرعی ملک ہونے کےناطے پاکستان میں فصلوں کی کاشت کا زیادہ تر دارومدار دریاؤں سے پانی کی آمد پر ہوتا ہے۔ایسے میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان کےلئے کافی اہم ہے۔اس معاہدے کی ضرور ت 1948 میں اس وقت پیش آئی جب بھارت نے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کردیا ۔دونوں ملک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی برادری متحرک ہوئی اور 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہد ہ طے پایا ۔

اس معاہدےکے تحت انڈس بیسن سے ہر سال آنے والے مجموعی طورپر168 ملین ایکڑفٹ پانی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کیا گیا جس میں تین مغربی دریاؤں یعنی سندھ ،جہلم اور چناب سے سے آنے والے 80 فیصد پانی پر پاکستان کاحق تسلیم کیا گیا جو 133 ملین ایکڑ فٹ بنتا ہےجبکہ بھارت کو مشرقی دریاؤں جیسے راوی،بیاس اور ستلج کا کنٹرول دے دیا گیا۔

چوں کہ مغربی دریاوں میں کئی کا منبع بھارت اور مقبوضہ کشمیرمیں تھا اس لئے بھارت کو 3اعشاریہ6 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنےاور محدود حد تک آب پاشی اور بجلی کی پیداوار کی اجازت بھی دی گئی لیکن بھارت نے معاہدے کی اس شق کو پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کےلئے استعمال کرنا شروع کردیا اور مقبوضہ علاقوں سے گزرنے والے دریاؤں میں یعنی سندھ ، چناب اور جہلم پر 15 سے زائد ڈیم بنا چکا ہے جبکہ مزید 45 سے 61 ڈیمز بنانے کی تیاری کررہا ہے ۔

اس کے علاوہ ان دریاؤں پر آب پاشی کے 30 سے زائد منصوبے بھی مکمل کئے گئے ہیں ۔حال ہی میں آنے والی خبروں کے مطابق اب بھارت 15 ارب ڈالر کی لاگت سے مزید منصوبوں پر کام کا آغاز کرہا ہے جس میں 1856 میگاواٹ کا سوا لکوٹ پاور پروجیکٹ بھی شامل ہے ۔ کشن گنگا ، رتل ، میار ،لوئر کلنائی ،پاکال دل ہائیڈروالیکٹرک پلانٹ اور وولر بیراج نیوی گیشن پروجیکٹ پر بھی کام کا آغاز کررہا ہے جن کا مقصد بظاہر تو بجلی بنانا ہے لیکن اس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنا بتایا جاتا ہے ۔

بھارت پاکستان کو دباؤ میں لانے کےلیے کئی بار سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی بھی دے چکا ہے جبکہ دریاؤں کا رخ موڑنے کا اعلان بھی کرتا نظر آتا ہے لیکن کیا ایسا کرنا اتنا آسان ہے ۔۔۔۔ ؟ یہ جاننے کےلیے اس معاہدے کے تحت آنے والے دریاؤں کے ماخذ پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔

دریائے راوی کا منبع بھارت کی ریاست ہماچل پردیش کے ضلع چمبہ کا پہاڑی سلسلے ہے جو’آر ایف چولن‘ کے چھوٹےسے گاؤں کے نزدیک ہے۔ اسی طرح دریائے بیاس بھی اسی ریاست کے علاقے بیاس کُنڈ سے نکلتا ہے اور بھارت کے سرحدی شہر فیروزپور پر دریائے ستلج میں جاملتا ہے یعنی دریائے بیاس پورا کا پورا بھارت میں بہتا ہے۔دریائے ستلج کی بات کی جائے تو اس کا منبع چین کے علاقے تبت میں ایک جھیل کے قریب ہے جسے بھارت میں راکشس تل کہاجاتا ہے۔

دریائے ستلج چین سے بھارتی ریاست ہماچل پردیش سے ہوتا ہوا بھارتی پنجاب اور وہاں سے پاکستان کے ضلع قصور سے ہوتا ہوا ہیڈ سلیمانکی سے جا ملتا ہے۔

مشرقی دریاؤں سے ہر سال اوسطاً 19ملین ایکٹر فٹ پانی پاکستان میں آتا تھا لیکن سندھ طاس معاہدے سے قبل اور اس کے بعد بھارت نے راوی اور ستلج پر کئی ڈیمز اور کنال تعمیر کرکے پانی کے بہاؤ کو راجستھان اور دیگر ریاستوں کی جانب موڑ دیا جس کے بعد ان دریاؤں سے سالانہ پانی کی آمد تین لاکھ ایکڑ فٹ سے بھی کم رہ گئی لیکن یہ کرنا اس لیے آسان تھا کہ مشرقی دریاؤں کا منبع اور محل وقوع بھارت کےلیے سازگار تھا۔

مگر پاکستان کے مغربی دریاؤں پر صورتحال مختلف ہے، دریائے سندھ، چین کے علاقے تبت سے نکلتا ہے اور مقبوضہ کشمیر سے ہوتا ہوا پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔جہلم کا آغاز مقبوضہ کشمیر کے پیر پنجال پہاڑی سلسلے میں ویری ناگ چشمے سے ہوتا ہے جہاں سے یہ سری نگر سے ہوتا ہوا آزاد کشمیر اور پھر ضلع جہلم سے پاکستان میں داخل ہوتا ہےجبکہ چناب کا منبع بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں ہے۔یہ دریا سیالکوٹ میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے پانی کو روکنا اور اسے بھارت کی دیگر ریاستوں کی طرف موڑنا آسان نہیں کیوں کہ مقبوضہ کشمیر کی وادی ہمالیہ اور پیر پنجل پہاڑی سلسلے کے درمیان گھری ہوئی ہے اور دریاؤں کو موڑنے کےلیے ان پہاڑوں میں 300 کلومیٹر سے زائد سرنگیں بنانی پڑیں گی جس کےلیے کثیر سرمایہ درکار ہوگا۔

دریائے چناب جو بھارتی ریاست ہماچل پردیش سے آتا ہے اس کا راستہ پتلا اور گہری گھاٹیوں پر مشتمل ہے اور اس کو موڑنا بھی کافی مشکل ہےالبتہ تمام ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بھارت ان دریاؤں پرمزید بند باندھ کرپانی کا استعمال بڑھا سکتا ہے جس کے باعث پاکستان کو ملنے والے پانی میں کمی ہوگی جبکہ یہ ڈیمز بھارت کو پانی پر کنٹرول کرنے کی مزید صلاحیت دیں گے، یعنی بھارت پانی کا اخراج اپنی مرضی سے کریں گا جس سے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

 
زمرہ جات:   Horizontal 1 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

عنوان کے بغیر

- اسلام ٹائمز

عنوان کے بغیر

- اسلام ٹائمز