وزیراعظم کا افسوس، مشعل خان کو انصاف اور حکومت کی رٹ

 نواز جندل خفیہ ملاقات: کیا نواز شریف کلبھوشن کو معافی دے دیں گے؟

مگرمچھ کے آنسو: ایوانکا ٹرمپ کی شامی پناہ گزینوں سے ہمدردی

شفقنا خصوصی: بدعنوان وزیر خزانہ کا راحیل شریف پر فخر

شام کے خلاف حالیہ امریکی حملوں کا کوئی اخلاقی جواز نہیں: جرمی کوربن

سعودی معاشرہ عورتوں کے لئے بدترین قید خانہ بن چکا ہے – مستجاب حیدر

یہ کیسا دھندا ہے؟ – طاہر یاسین طاہر

'شام میں 45 مرتبہ مبینہ کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے'

سعودیہ، امریکا سے اچھا برتاؤ نہیں کر رہا، ڈونلڈ ٹرمپ

پاکستان شام میں روس کے اقدامات کی حمایت کریگا، خواجہ آصف

علمائے کرام تکفیری فتوؤں کا منہ توڑ جواب دیں

عراق میں داعش کی آمدنی کا اہم ذریعہ ...

’شمالی کوریا سے بڑی جنگ کا امکان‘

امام زمانہ(عج) کے ظہور کے وقت انسانی معاشرہ کیسا ہو گا؟

ایرانی انٹیلی جنس کا 120 اسرائیلی اداروں پر سائبر حملہ

کلبھوشن اور عزیر بلوچ کے بعد احسان اللہ احسان

منی لانڈرنگ کیس؛ نواز شریف، شہبازشریف اور اسحاق ڈار کو نوٹس جاری

کرم ایجنسی میں شیعہ کمیونٹی کا قتل عام کب تک؟

شمالی وزیرستان میں مبینہ امریکی ڈرون حملہ، متعدد ’جنگجو' ہلاک

بھارتی وفد کا دورہ: مفاہمت کا پیغام یا عیارانہ چال

یمنی انقلابی فوج کی جوابی کاروئیاں، آل سعود کے فوجی ہتھیاروں کے ڈپو کو آگ لگ گئی

دہشتگردی کیخلاف جنگ میں گھرا پاکستان یمن جنگ کا حصہ بن گیا

کیا بھارت بھی داعش کا سرپرست ہے؟

نواز شریف کے لئے ایک کے بعد دوسرا بحران

تکفیری داعش اور اسرائیلی گٹھ جوڑ: داعش نے  اسرائیل سے معافی کیوں مانگی؟

شفقنا خصوصی: تحریک طالبان کا اسرائیل سے خفیہ تعلق

ترکی میں گرفتاریاں، انسانی حقوق پر حملہ

10 ارب روپے کی پیشکش کرنے والا شہباز شریف کا قریبی تھا، عمران خان

نواز شریف کے لئے ایک کے بعد دوسرا بحران

طالبان کے ’’را‘‘ اور افغان خفیہ ایجنسی سے رابطے ہیں، احسان اللہ احسان کا اعترافی بیان

وہابی مفتی: عید معراج کا جشن منانا حرام ہے!

سعودی شاہی خاندان میں پھوٹ: کیا شاہ سلمان اپنے تخت کو بچا پائیں گے؟

یوم بعثت و نبوت: زیارت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

امریکی عدالت نے ٹرمپ کا ایک اور حکم نامہ معطل کردیا

ای او بی آئی میں اربوں روپے کی چوری کی ذمہ دار حکومت ہے: سپریم کورٹ

دہشت گردوں کا سوفٹ امیج اور کرپٹ سیاست دان

بھارت دفاع پر خرچ کرنے والا دنیا کا پانچواں ملک بن گیا، رپورٹ

عمران خان کا دعویٰ سیاسی ماحول خراب کرے گا

نواز شریف کب استعفیٰ دیں گے

وزیراعظم عہدے سے استعفیٰ دیں: افتخار چوہدری

راحیل شریف

پانامہ کے نمائشی کیس کے پس پردہ جنرل راحیل کی سعودیہ روانگی / کیا پاکستان، یمن جنگ کا حصہ بن رہا ہے؟

طارق فاطمی نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا، ذرائع

سعودی عرب پاکستان میں فرقہ وارانہ فساد کیلئے فنڈنگ کرتا ہے، عاصمہ شیرازی

 شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار: برطانیہ کا ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے ایرانی شہریوں پر پابندیاں

کرم ایجنسی میں بارودی سرنگ کا دھماکا مردم شماری ٹیم کے 2 ورکروں سمیت 10 فراد جاں بحق

امریکی پیٹ میں پھر مروڑ: روس طالبان کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے،امریکی جنرل

فوج کی دیانت اور سپریم کورٹ کی شہرت کا سوال

شمالی کوریا کی امریکی بحری بیڑے کو تباہ کرنے کی دھمکی: سپر پاور کیسے بھیگی بلی بن گیا؟

فرانس کا صدارتی انتخاب

ایران کے لیے پاکستان کی سیکیورٹی انتہائی اہم ہے، جواد ظریف

پاناما لیکس جے آئی ٹی: 'فوج شفاف، قانونی کردار ادا کرے گی'

ایران کے خلاف عرب یہودی اتحاد:  مسلم دنیا کے حکمرانوں کے اصل چہرے عیاں

پانامہ لیکس جے آئی ٹی: کیا عدلیہ نے نواز شریف کو بچاؤ کا راستہ دیا ہے؟

مخصوص ممالک کا فوجی اتحاد عالم اسلام کی وحدت کیخلاف امریکی سازش ہے، پاکستان کو کسی بھی سازش کا حصہ نہیں بننا چاہیئے، علامہ مختار امامی

اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری:‌شاہ سلمان نے اپنے بیٹے کو امریکا میں سفیر مقرر کر دیا

تہذیب نام تھا جس کا....... از نذر حافی

نواز شریف کب استعفیٰ دیں گے

قم میں حقیقی اسلام کا درس دیا جاتا ہے نہ کہ داعشی یا طالبانی اسلام کا۔ پاکستانی اسپیکر

ایاز صادق کی ایران کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت

وزیر اعظم پر تنقید ہو سکتی ہے تو کوئی بھی مقدس گائے نہیں ، مریم نواز اور ڈی جی آئی ایس آئی کی انتہائی قریبی رشتہ داری ایک حقیقت ہے: اعتزاز احسن

راحیل شریف سعودیہ سدھار گئے

اضافی دستوں کی تعیناتی: کیا سعودیہ پاکستان سے درخواست کرتا ہے؟

سعودیہ بغاوت کے دہانے پر

پاناما فیصلہ، فلم ابھی باقی ہے!

امریکہ سعودیہ گٹھ جوڑ: امت مسلمہ کے داعی کا اصل چہرہ کیا ہے؟

شفقنا خصوصی:پاکستان، سعودی اتحاد اور یمن کے معصوم بچوں کا خون

سعودیہ اگلے مہینے سے اسرائیل کو پیٹرول برآمد کریگا

مودی دنیا کا دوسرا ہٹلر ہے، اسے سبق سکھانے کےلیے کلبھوشن کو پھانسی دی جائے، منموہن سنگھ

اولاند: ٹرمپ، داعش کو منہ بولا بیٹا ماننے کو تیار ہیں

سعودی اتحاد کے منفی عزائم:  کیا پاکستان کو دھوکے میں رکھا گیا ہے؟

2017-04-16 10:37:26

وزیراعظم کا افسوس، مشعل خان کو انصاف اور حکومت کی رٹ

 

najo

مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں نوجوان طالب علم مشعل خان کے سفاکانہ قتل کے دو روز بعد وزیراعظم میاں نواز شریف نے اس سانحہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

 

آج ہی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی ایک بیان میں مردان کے سانحہ کی مذمت کی ہے اور مجرموں کو سنگین سزائیں دلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم جس طرح وزیراعظم کو آج سے پہلے مشعل خان کے ساتھ ہونے والے ظلم پر بات کرنے کا موقع نہیں ملا لیکن وہ جیکب آباد میں پیپلز پارٹی کے خلاف تند و تیز باتیں کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کےلئے وسائل تقسیم کرنے میں مصروف رہے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی آج سے پہلے اس سانحہ پر اظہار خیال کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔

 

کل قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کے دوستوں پر لگنے والے الزامات کے بارے میں تو بحث میں دلچسپی رکھتی تھی لیکن انہیں مشعل خان کی مسخ شدہ لاش کا حساب مانگنے کی فرصت نہیں تھی۔ یہ بھی محض اتفاق ہی ہو سکتا ہے کہ آج ہی اقوام متحدہ نے مردان میں رونما ہونے والے سانحہ پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ایک نوجوان طالب علم کے قتل کو پاکستان کے لاکھوں طالب علموں کےلئے باعث شرم قرار دیا ہے۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر آنی چاہئے کہ وزیراعظم کے بیان کے بعد ہی ان کی صاحبزادی مریم نواز نے ٹویٹ پیغامات میں مشعل خان کی ہلاکت پر شدید صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا ہم ایک گمراہ اور شب گرفتہ قوم کے طور پر پہچانے جانا چاہتے ہیں۔

اس سوال کا جواب مردان میں بریریت کا مظاہرہ کرنے والے ہجوم سے پہلے وزیراعظم سمیت اس ملک کے تمام لیڈروں کو دینا ہوگا کہ کیا وہ اس ملک کو ایسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں جہاں لاقانونیت عام ہو اور لوگ مذہب یا کسی بھی عذر پر خود فیصلے کرنے اور سزا دینے پر قادر ہوں۔ مشعل خان مذہب کے نام پر قتل کیا جانے والا پہلا شخص نہیں ہے۔ ایک تحقیقاتی مرکز کے اعداد و شمار کے مطابق 1990 سے اب تک 65  افراد کو توہین مذہب کا الزام عائد کرتے ہوئے ہلاک کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار البتہ ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو اس ملک کے نظام عدل سے کیا سزا دی گئی۔ اس کا جواب بھی ملک کے وزیراعظم کو ہی دینا ہے کہ وہ جس جرم کو مسترد کر رہے ہیں، کیا ماضی میں اس کا ارتکاب کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہے۔ البتہ یہ بات بتائی جا سکتی ہے کہ توہین مذہب کا الزام عائد ہونے کے جرم میں درجنوں لوگ سالہا سال سے جیلوں میں بند ہیں۔ کسی کو مقدمہ لڑنے کےلئے وکیل نہیں ملتا اور کسی کا مقدمہ سننے کےلئے جج دستیاب نہیں ہوتا۔ اگر یہ دونوں ناممکنات واقع ہو جائیں تو انصاف میسر نہیں ہوتا۔ مردان کا سانحہ گزر گیا اور مشعل خان اب وہاں پہنچ گیا جہاں سب کو صرف انصاف ہی ملنا ہے لیکن ایسے ہی سانحات ملک میں خوف اور دہشت کی وہ فضا پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں جو توہین مذہب کا الزام عائد ہونے کے بعد کسی شخص کو صفائی پیش کرنے اور انصاف پانے کا موقع نہیں دیتی۔ کیونکہ معاشرہ میں جذبات کی ایک ایسی کیفیت پیدا کر دی گئی ہے جس میں الزام کو سچ اور اس کی وضاحت کو جھوٹ قرار دیا گیا ہے۔ اس کیفیت کو ختم کرنے کی ذمہ داری اس ملک کے اسی وزیراعظم پر عائد ہوتی ہے جسے مشعل خان کے قتل پر افسوس کا اظہار کرنے کےلئے الفاظ تلاش کرنے میں دو روز صرف کرنا پڑے۔

وزیراعظم اگر مشعل خان کو انصاف دلانا چاہتے ہیں تو وہ ان سب لوگوں کے مقدمات کی سماعت کا اہتمام کریں جو توہین مذہب کے الزام میں جیلوں میں بند ہیں۔ وہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ ان لوگوں کو کسی خوف کے بغیر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع ملے گا۔ وکیل کسی دھمکی کے بغیر اپنے کلائنٹ کا دفاع کر سکیں گے اور ججوں کو یقین ہوگا کہ اگر انہوں نے میرٹ پر فیصلہ کیا تو کوئی انہیں ہلاک کرنے کےلئے ان کا راستہ نہیں روکے گا اور وہ پہلے کی طرح معمول کی زندگی بسر کر سکیں گے۔ توہین مذہب کی جو شقات سابق فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں قانون کا حصہ بنائی گئی تھیں، ان کی موجودگی میں الزام عائد ہونے کے بعد موت کے سے کم پر معاملہ ٹلتا نہیں ہے۔ یہ موت خود مدعی، استغاثہ ، قاضی اور جلاد بننے والے ہجوم کے ہاتھوں بھی واقع ہو سکتی ہے اور کسی جج کے قلم سے بھی لکھی جا سکتی ہے۔ اور کوئی اس لکھے کو چیلنج کرنے کا حوصلہ نہیں کر سکتا۔ آسیہ بی بی کے مقدمہ میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے یہی حوصلہ کیا تھا۔ انہیں ان کے سرکاری گارڈ نے سر عام گولی مار کر ہلاک کر دیا اور اس ملک کے عالی دماغ قانون دانوں نے سپریم کورٹ کے سامنے دلیل دی تھی کہ توہین رسالت کرنے والے کو قتل کر دینا عین سعادت و عبادت ہے۔ لیکن کوئی یہ ثابت نہیں کر سکا کہ سلمان تاثیر نے کبھی توہین مذہب یا رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں کوئی غلط بات کہنے کی جسارت کی تھی۔ اس کے باوجود کہ ملک میں اسی پارٹی کی حکومت تھی جس کے پنجاب میں نمائندے کے طور پر سلمان تاثیر گورنر کے عہدے پر فائز تھے لیکن ان کی نماز جنازہ کےلئے نہ صوبے کا کوئی گراؤنڈ میسر آیا اور نہ امام فراہم ہو سکا۔

صوابی میں مشعل خان کے گاؤں کے امام نے بھی اس کی نماز جنازہ ادا کروانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس امام کے دماغ میں کس نے یہ بات ڈال دی تھی کہ مشعل خان سے کوئی گناہ سرزد ہوا تھا اور اگر اس نے نماز جنازہ ادا کروا دی تو وہ خود بھی جہنمی ہو جائے گا۔ وزیراعظم نے آج اپنے بیان میں شہادت دی ہے کہ مشعل خان کو بے گناہ قتل کیا گیا تھا۔ قصور وار یا بے قصور کا فیصلہ عدالت کا حق ہے۔ اس مظلوم طالبعلم پر نہ الزام عائد ہؤا، نہ مقدمہ چلا اور نہ اسے اپنی صفائی دینے کا موقع ملا۔ لیکن وہ جس گاؤں میں پل بڑھ کر جوان ہوا، اس کا امام مسجد اس کی نماز جنازہ ادا کرنے سے انکار کر رہا تھا۔ کیا وزیراعظم اس امام مسجد سے مل کر پوچھیں گے کہ اس نے اسلام کی کون سی تفہیم ، قرآن و حدیث کے کون سے درس اور قانون کی کس کتاب پر عمل کرتے ہوئے ایک مظلوم کی میت کی نماز جنازہ ادا کرنے سے انکار کیا۔ کیا وزیراعظم اس پولیس افسر کے بارے میں بھی جاننا چاہیں گے جو ہنگامہ کی اطلاع ملنے کے بعد جب جائے وقوعہ پر پہنچا تو یہ سن کر ایک طرف ہو گیا کہ جس نوجوان کو مارا جا رہا ہے، اس پر توہین مذہب کا الزام ہے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ اس افسر نے کہا کہ ’’اچھا ہے یہ لوگ ایک کافر کو جہنم تک پہنچا رہے ہیں‘‘۔ کیا میاں نواز شریف اس پولیس افسر کو بلا کر پوچھیں گے کہ اسے بے رحم مشتعل ہجوم کی زد پر آئے ہوئے ایک مظلوم کو کافر قرار دینے کا حق کس نے دیا اور وہ کون سا جذبہ تھا جس کی وجہ سے اس افسر نے اپنا فرض ادا کرنے کی بجائے یہ دیکھنا مناسب سمجھا کہ ہجوم ایک ’’کافر کو جہنم تک پہنچا لے‘‘۔

جوان بیٹے کی میت گھر آنے کے بعد مشعل خان کے والد اقبال خان نے ایک ریڈیو رپورٹر کے سوال پر کہا تھا کہ ’’مجھے تو کسی پر شک نہیں۔ میں تو وہاں موجود نہیں تھا۔ میں کسی پر بے بنیاد الزام نہیں لگا سکتا۔ لیکن اس یونیورسٹی میں کیمرے لگے ہوئے ہیں۔ ان میں سب موجود ہے۔ صرف میرا بیٹا نہیں مارا گیا، اور لوگ بھی زخمی ہوئے ہیں۔ بلکہ ان لوگوں نے حکومت کی رٹ بھی چیلنج کی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی رٹ بحال کرے۔ حکومت جب اپنی رٹ بحال کرنے کےلئے تفتیش کرے گی تو اس کے (مشعل خان) کے قتل کی تفتیش بھی ہو جائے گی‘‘۔

وزیراعظم نواز شریف کیا مشعل خان کے والد اقبال خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یقین دلوا سکتے ہیں کہ حکومت اس ملک میں اپنی رٹ بحال کروائے گی اور مذہب کے نام پر غنڈہ گردی اور قتل و غارتگری کا خاتمہ کرے گی۔ اگر وزیراعظم یہ نہیں کر سکتے تو وہ بھی ارکان اسمبلی کی طرح خاموشی سے مرنے والے کےلئے دعائے مغفرت ہی کر سکتے ہیں۔ ایک گھناؤنے جرم کے ارتکاب کے دو روز بعد اظہار افسوس ہی کر سکتے ہیں اور اس بات پر شرمندہ ہو سکتے ہیں کہ وہ ان قوتوں کے سامنے لاچار ہیں جنہوں نے مذہب کو ہتھیار بنا کر ملک کو لاقانونیت کا گڑھ بنا دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)