ترک حکومت کا تاریخی ریفرنڈم میں کامیابی کا دعویٰ

خان بچ گیا، کیا پاکستان بچے گا

16 دسمبر 1971 سے 16 دسمبر 2014 تک کا سفر رائیگاں

امریکی ہتھیاروں سے یمنی عوام کا قتل کیا جا رہا ہے،: ترجمان انصار اللہ

انصاف کے دو ترازو کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے: نواز شریف

امریکہ فلسطین میں اسرائیل اور یمن میں سعودی عرب کے ہولناک جرائم میں برابر کا شریک

بیت المقدس سے ذرہ برابر چشم پوشی نہیں کریں گے

اگر ہم نے بیت المقدس کو کھو دیا تو پھر ہم مکہ اور مدینہ کی حفاظت نہیں کرسکیں گے

سعودی عرب کی عالم اسلام کو ایک بار پھر دھوکہ اور فریب دینے کی کوشش

سعودی خواتین کو گاڑی کے بعد موٹرسائیکل اور ٹرک چلانے کی بھی اجازت

ہمارے بیانات کسی بھی طرح ملکی مفاد میں نہیں: چوہدری نثار

ہم پر دباؤ ڈالنے والا ابھی پیدا نہیں ہوا: چیف جسٹس پاکستان

بٹ کوائن کے ذریعہ داعش کی فنڈنگ، پاکستانی دیوبندی خاتون زوبیہ شہناز گرفتار

داعش کے بعد بھی عراق میں تکفیری گروہوں کی سرگرمیوں کا امکان

امریکی روپ دھارے اسرائیلی جاسوس داعش کی مدد کیلئے افغانستان پہنچنا شروع

سعودی شہزادوں کی اوپن ٹرائل کی درخواست

اسلامی بلاک بمقابلہ امریکی بلاک/ مختصر جائزہ

بیت المقدس سے متعلق OIC قرارداد مسلمین عالم کے جذبات کی آئینہ دار: آغا حسن

سعودی عرب نے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے کا اعتراف کر لیا

امریکہ اور اس کے حواری عالم انسانیت کے مجرم ہیں: علامہ مقصود ڈومکی

امام غائب (عج) کو کس نام سے پکاریں؟

یمن سے ریاض پر داغا جانے والا میزائل ایرانی نہیں تھا

اسلامی ممالک صرف بیانات دینے پر ہی اکتفانہ کریں: خطیب جمعہ تہران

ایک سال کی تلاشی کے بعد اپنے حق میں فیصلے پر خوشی ہوئی: عمران خان

نواز شریف کا نظریہ

سعودی حکمرانوں کی اسلام مخالف پالیسیوں پر حریت رہنما کی کڑی تنقید

قدس کے بارے میں ٹرمپ کے فیصلے نے امریکہ کو اکیلا کردیا

82 فیصد فلسطینی سعودیہ پر اعتماد نہیں کرتے؛ سروے

اردغان نے مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لئے امریکی چودھراہٹ کو مسترد کردیا

دہلی میں امریکہ مخالف مظاہرہ

گاجر کے رس کے حیرت انگیز فوائد

روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سرکاری فوج کے مظالم کے انکشافات

تقریریں تو خوب رہیں، نتیجہ ڈھاک کے تین پات

سعودی ولی عہد کو اسرائیل کے دورے کی دعوت

آل خلیفہ اسرائيل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنا کر تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہوجائیں گے

شام میں امریکی فوج کی موجودگی غیر قانونی ہے: روس

مسئلہ فلسطین: اتحاد یا پھر اپنی باری کا انتظار

کراچی : پی ایس 128 میں کالعدم جماعت کی الیکشن مہم، سیکورٹی ادارے خاموش

بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا افغان لڑکیوں کو پاکستان مین دہشتگردی کہ لیے ٹریننگ دینے کا انکشاف

اسرائیل کے قیام پر علامہ اقبال کا بیان

حضرت امام مہدی(عج) کی حوائج کےحصول کے لیےنصیحت

او آئی سی کا ہنگامی اجلاس: مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ

ناقابل قبول عدالتی فیصلہ

پاکستان اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ کام کرنا پر لطف نہیں: امریکی وزیر خارجہ

پاکستان کیلیے امریکی امداد دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی سے مشروط

لگتا نہیں اسمبلیاں مدت پوری کریں گی، ایاز صادق

مذہبی جماعتوں کا ایم ایم اے کی بحالی کا اعلان

ایران کا بیت المقدس کے دفاع کے لئے اسلامی ممالک سے تعاون پر آمادگی کا اظہار

شام میں کردوں، امریکیوں اور داعشیوں کے درمیان تین سمجھوتوں کا راز

یمن میں 8 ملین افراد شدید قحط کا شکار

ٰیروشلم : پہلے مسلمان خود تو اتحاد کر لیں

القدس سے متعلق امریکی اعلان پراوآئی سی کا ہنگامی اجلاس

فلسطینی امن عمل میں امریکا کا کردار ختم ہوگیا: خواجہ آصف

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات

سعودی سلطنت کا مستقبل

ترکی اور روس نے مقبوضہ القدس سے متعلق امریکی اعلان خطرناک قراردے دیا

ملک میں جمہوریت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

پانچ استعفوں پر حکومت گرانے کا خواب

مقام شہادت ایک درجہ کمال ہے، ان کو نصیب ہوتا جو معرفت الہی کے راہی ہوتے ہیں: علامہ امین شہیدی

او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس، وزیر اعظم ترکی پہنچ گئے

ایران اور پاکستان کے درمیان ثقافتی میدانوں میں تعلقات کو فروغ دینے پر تاکید

ایران اور برطانیہ کے تعلقات میں نئے دور کا آغاز

بعض لوگ میری پشت میں خنجر گھونپنا چاہتے تھے

بیت المقدس اور فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے مسئلہ کو فراموش کردیں

ہماری نگاہیں قدس کی جانب ہیں اور قدس کی نگاہیں سید مقاومت کی طرف

سعودی نواز پاکستانی اینکر کا بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کے فیصلے کا دفاع

پاکستانی عدالتیں فوجی حکومتوں کی باقیات ہیں

ٹرمپ نے سعودیہ، مصر اور امارات کے مشورے کے بعد بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا

مسلم عسکری اتحاد اپنی پوزیشن واضح کرے کہ یہ اتحاد کیوں اور کس لئے بنایاگیا،17دسمبر کو ملین مارچ ہوگا امیر جماعت اسلامی

نماز تمام انسانی کمالات کو حاصل کرنے کا وسیلہ ہے

برسلز بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کرتا: موگرینی

2017-04-17 01:43:35

ترک حکومت کا تاریخی ریفرنڈم میں کامیابی کا دعویٰ

Erdo

ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے دعویٰ کیا ہے کہ صدارتی نظام کے نفاذ کے لیے ہونے والے تاریخی ریفرنڈم میں حکومت کی جیت ہوئی ہے۔

ترکی کے آئین میں تبدیلی کے لیے ووٹنگ کا عمل مقامی وقت شام 4 بجے ختم ہوا، جس کے بعد گنتی کا عمل شرع کیا گیا۔

غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق ریفرنڈم میں ترک حکومت کو واضح برتری حاصل ہے، اور 97 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک حکومت نے اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق حکومت کی حمایت میں پڑنے والے ووٹوں کی تعداد 51 فیصد سے بھی زائد ہے، جب کہ حکومت کے خلاف پڑنے والے ووٹوں کی تعداد 48 سے کچھ زیادہ ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنی خبر میں بتایا کہ ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے نتائج کے سرکاری اعلان سے قبل ہی حکومتی جیت کا دعویٰ کیا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی اناطولو نے ریفرنڈم کے نتائج کو براہ راست نشر کیا،جس کے مطابق ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے سے قبل ہی حکومت نے اپنی جیت کا اعلان کیا۔

ادھر ترک وزیر خارجہ نے بھی ترک خبر رساں ادارے اناطولو کو بتایا کہ ریفرنڈم میں ’ہاں‘ کے ووٹوں کی تعداد 51.4 فیصد سے بھی زائد ہے، جب کہ 97 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی۔

دوسری جانب مختلف نشریاتی اداروں کے مطابق ترکی میں رجب طیب اردگان کی حامیوں کی جانب سے جشن کا آغاز کردیا گیا۔

ریفرنڈم میں ‘ہاں’ کو برتری حاصل ہونے کے بعد ترک آئین میں تبدیلی کی راہ ہموار ہوگی۔

ریفرنڈم کے بعد آئین میں 18 ویں ترمیم کی جائے گی، جس کے ذریعے ملک سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ ختم ہونے کے ساتھ ساتھ صدارتی نظام نافذ کیا جائے گا۔

اس تاریخی ریفرنڈم میں ترکی کے 5 کروڑ سے زائد اہل ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

ترک صدر رجب طیب اردگان کافی عرصے سے ملک میں صدارتی نظام لانے کے خواہاں ہیں اور اسی سلسلے میں اس ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا تھا۔

ترکی میں صدر طیب رجب اردگان کے اختیارات میں توسیع کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کا سلسلہ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوا اور شام 5 بجے تک جاری رہا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ترکی میں ریفرنڈم مہم پاکستانی وقت کے مطابق ہفتے کی رات 8 بجے اختتام کو پہنچی جس کےبعد ریفرنڈم میں پوچھے جانے والے سوالوں کے حامی اور مخالف کیمپوں کو بند کردیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیٹو کی رکنیت کے پیش نظر یہ ایک تاریخی ریفرنڈم ہے جو مغربی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ملکی مستقبل کی سمت واضح کرےگا۔

ترکی میں ہونے والے ریفرنڈم کی کامیابی کی صورت میں نئے صدارتی نظام کا آغاز ہوگا جو ترکی کی حالیہ تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی جس کے تحت بیورکریسی سمیت تمام اختیارات وزیراعظم سے صدر کو منتقل ہوں گے۔

ترک صدر طیب اردگان نے استنبول میں ریفرنڈم کی مہم کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ ‘ترکی اپنی تاریخ کا ایک نہایت اہم فیصلہ کرے گا’۔

اردگان نے جیت کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ ‘انتخاب بہت اچھائی نظر آرہا ہے’ لیکن انھوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ووٹنگ کے عمل میں ‘سستی’ کا مظاہرہ نہ کریں اور ‘بہترین نتائج ہی نیک شگون ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘بیلٹ بکس سے ‘ہاں’ جوابات زیادہ نکلیں گے تو مغرب کے لیے سبق ہوگا۔

خیال رہے کہ اردگان حالیہ مہم کے دوران ریلیوں میں یورپین یونین کے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں۔

دوسری جانب ریفرنڈم کے مندرجات سے اختلاف رکھنے والوں میں سرفہرست ری پبلکن پیپلز پارٹی ہے جس کے رہنما کمال کیلیداراوگلو نے انقرہ میں ایک تقریب کے دوران خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ترکی یہ فیصلہ کرنے جارہا ہے کہ ‘ہم جمہوری پارلیمان کا تسلسل چاہتے ہیں یا ایک شخص کی حکمرانی چاہتے ہیں’۔

انھوں نے نئے نظام کو ‘بغیربریکس کے نامعلوم منزل کی جانب سفر کرنے والی بس’ سے تعبیر کیا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے ریفرنڈم کے انعقاد میں ہیر پھیر کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مہم میں ریفرنڈم کے حق میں ‘ہاں’ کے خانے کو نمایاں کیا جارہا ہے اور مخالف آوازوں کو میڈیا میں دبا جارہا ہے۔

تاہم ریفرنڈم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ تاریخی ریفرنڈم میں واضح اکثریت سے جیت ہوگی تاہم ریفرنڈم کے حق میں راہ ہموار ہونے کے باوجود پولز کے نتائج اس کے برخلاف آرہے ہیں اور تجزیہ کاروں کو سخت مقابلے کی کی توقع ہے۔

اردگان کی مہم کو اختتامی لمحات میں اس وقت نقصان پہنچا جب ان کی اتحادی جماعت نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (ایم ایچ پی) نے صدارتی مشیر کی جانب سے ترکی میں وفاقی طرز نظام کی تجویز پر سختی سے جواب دیا گیا۔

تاہم صدر اردگان نے فوری طور پر وضاحت کرتے ہوئے کہا اس حوالے سے کوئی منصوبہ زیرغور نہیں جس کے بعد ایم ایچ پی کے رہنما کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ اب ختم ہوچکا ہے۔

ترکی میں ریفرنڈم کے موقع پر سیکیورٹی کے مسائل بھی ہوں گے جبکہ ایک روز قبل حکام نے استنبول سے پولنگ کے روز تخریب کاری کے شبہے میں پانچ افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ ہفتے کے آغاز میں 19 مبینہ عسکریت پسندوں کو پکڑا گیا تھا۔

ترک میڈیا کے میڈیا کے مطابق ریفرنڈم کے موقع پر صرف استنبول میں 33 ہزار500 سے زائد پولیس افسران ڈیوٹی پر ہوں گے۔

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

ٹرمپ فیصلہ واپس لیں گے؟

- ایکسپریس نیوز

جمہوریت کا حسن

- ایکسپریس نیوز

عبداللہ چانڈیو کی کتھا

- ایکسپریس نیوز

ایک اہم سوال کا جواب

- ایکسپریس نیوز

لہو لہو دسمبر…

- ایکسپریس نیوز