ترک حکومت کا تاریخی ریفرنڈم میں کامیابی کا دعویٰ

قطری حاجیوں کی سلامتی کے معاملے پر تشویش ہے: شیخ محمد بن عبدالرحمان ثانی

میڈرڈ سے مانچسٹر تا بارسلونا: دہشت گردانہ واقعات کا سلسلہ

سعودی عرب کی قطر پر مہربانی کا آغاز کیوں ہوا؟

ن لیگ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان کا فیصلہ

خاص خبر: ڈان لیکس پر فارغ پرویز رشید کے سنسنی خیز انکشاف

سعودی بادشاہ کے خرچ پرقطری شہریوں کے حج کی مخالفت

ہارٹ اٹیک سے 1 ماہ قبل سامنے آنے والی علامات

زائرین کی توہین ناقابل برداشت عمل ہے حکومت و ریاستی ادارے پاکستانی زائرین کے مسائل حل کریں: شیعہ علماء کونسل پاکستان

اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے پر نواز شریف کا واویلا چور مچائے شور کے مصداق ہے: علامہ ناصرعباس جعفری

شایک اور نیو لبرل نواز شریف کا طبلچی – عامر حسینی

شکریہ پاکستانی حکمرانوں : ہر پاکستانی تقریباً 95,000 روپے کا مقروض ہے، وزارتِ خزانہ

پاکستان نے پاک ایران سرحد پر گیٹ تو تعمیرکر دیا لیکن زائرین کی مدد کے حوالے سے کچھ نہ ہو سکا

مجھے کیوں نکالا گیا؟

شفقنا خصوصی: امریکہ تحریک کشمیر کو دبانے کے لیے کس طرح بھارت کی مدد کر رہا ہے؟

یمن جنگ طویل ہونے کی اصل وجہ، منصور ہادی ہیں

میرا ساتھ دو میں انقلاب لاؤں‌گا

قطر اور سعودی عرب کے درمیان گذشتہ 6 برس سے جاری جنگ کہاں لڑی جا رہی ہے؟

زرداری نواز مڈھ بھیڑ اور بیچاری جمہوریت

بارسلونا میں دہشت گردی، داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

نوجوان داعش سے منسلک تنظیموں سے بہت زیادہ محتاط رہیں، سربراہ پاک فوج

حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قراردینے پرپاکستان کی مایوسی

مسئلہ کشمیر اور مودی کی سیاست

چوہدری نثار کے پارٹی کے قائم مقام صدر کے انتخاب کے طریقہ کار پر شدید تحفظات

نواز شریف اور ان کے خاندان کو آئندہ سیاست میں نہیں دیکھ رہا: آصف زرداری

ترکی اور ایران کی عراقی کردستان میں ریفرنڈم کی مخالفت

آل شریف کا اقتدار اور پاکستان کی سلامتی کولاحق خطرا ت

 خفیہ ڈیل: کیا ن لیگ آصف زرداری کو صدر بنا رہی ہے؟

ظہران، سعودی عرب میں موجود مذہبی تضادات کا منہ بولتا ثبوت

جماعت الدعوہ کا سیاسی چہرہ

ٹرمپ نے امریکا میں نسل پرستی کی آگ پر تیل چھڑک دیا

چین اور بھارتی افواج میں جھڑپ، سرحد پر شدید کشیدگی

ماڈل ٹاؤن کیس میں شریف برادران کو ہر صورت پھانسی ہو گی: طاہرالقادری

کیا سعودیہ یمن جنگ سے فرار کا رستہ ڈھونڈ رہا ہے؟

نوازشریف کاسفر لاہور

پاکستان میں جاری دہشتگردی کا تعلق نظریے سے نہیں بلکہ پیسوں سے ہے۔ وزیراعلی بلوچستان

سعودی شہزادوں کا غیاب: محمد بن سلمان کامخالفین کو پیغام

یوم آزادی پہ تاریخ کے سیاہ اوراق کیوں پلٹے جارہے ہیں ؟

سعودی عرب کا جنگ یمن میں ناکامی کا اعتراف

سعودی عرب اور عراق کا 27 سال بعد سرحد کھولنے کا فیصلہ

ایران کی ایٹمی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی

وہ غذائیں جن کے کھانے سے کمزور بالوں اور گنج پن سے نجات ملتی ہے

گالی سے نہ گولی سے، مسئلہ کشمیر گلے لگانے سے حل ہو گا: نریندر مودی کا اعتراف

سری لنکن کرکٹ بورڈ نے دورہ پاکستان کی منظوری دیدی

امریکہ میں بحران

70 برس کا پاکستان: قومی شناخت کے بحران سے نکلا جائے

چین اور بھارت: روایتی جنگ سے تجارتی جنگ تک

 منفی سیاسی ہتھکنڈے:  کیا نواز شریف سزا سے بچنے کے لیے  اداروں‌کو دھمکانے کی کوشش کر رہے ہیں؟

بھارت اور پاکستان، جنگ کا میدان نصابی کتب

سعودیہ کے بحیرہ احمر پراجیکٹ میں اسرائیلی کمپنی کی مشارکت

برطانیہ میں پیٹرول، ڈیزل گاڑیوں پر 2040 تک پابندی

این اے 120: چہرہ جو بھی ہو جیت نون لیگ کی ہو گی، ضروری نہیں شریف ہو‘

عراق، سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرنے میں کردار ادا کرے: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

بے کس پاکستانی زائرین کی چونکا دینے والی تصاویر بے حس پاکستانی حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت

نااہلی کا متفقہ فیصلہ یوم آزادی پر ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے: طاہرالقادری

پاکستان میں یوم آزادی روایتی جوش و جذبے سے منایا گیا

امریکہ کی شمالی کوریا کے بعد وینیزویلا کو بھی دھمکی

آئین میں ترمیم کیلیے مسلم لیگ ن کا ساتھ نہیں دے سکتے: بلاول بھٹو زرداری

حیدر العبادی نے بحرینی وزير خارجہ کی درخواست کی رد کر دی

یمنی بحران کا بحرین میں دوبارہ دہرائے جانے کا انتباہ

خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف تحریک عدم اتحاد : پاکستان میں انتقامی سیاست کی واپسی

جی ٹی روڈ ریلی: کیا نواز شریف عالمی طاقتوں کو مداخلت کی دعوت دے رہے ہیں؟

پاکستان کا یومِ آزادی 14 یا15 اگست

اب کوئی این آر او (NRO) نہیں بنے گا: شیخ رشید

ایک اور اقامہ سامنے آگیا

جی ٹی روڈ ڈرامہ سپریم کورٹ اور نیب پر دباؤ ڈالنے کیلئے رچایا گیا: عمران خان

آزادی کے 70 سال، قوم خوشی سے سرشار، ہر طرف قومی پرچموں کی بہار

راولپنڈی: شیخ رشید اور پی ٹی آئی کا جلسہ، بارش کارکنوں کا جوش کم نہ کر سکی

عراق اور شام میں امریکہ دہشت گردوں کا اصلی حامی، صہیونیوں کو پہلے سے سخت شکست ہوگی

شمالی کوریا کی دھمکی کی زد میں امریکی جزیرہ گوام ؟

نوازشریف کواب پارلیمنٹ یاد آرہی ہے، حکومت تھی تواسمبلی نہیں آتے تھے: بلاول بھٹو

2017-04-17 01:43:35

ترک حکومت کا تاریخی ریفرنڈم میں کامیابی کا دعویٰ

Erdo

ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے دعویٰ کیا ہے کہ صدارتی نظام کے نفاذ کے لیے ہونے والے تاریخی ریفرنڈم میں حکومت کی جیت ہوئی ہے۔

ترکی کے آئین میں تبدیلی کے لیے ووٹنگ کا عمل مقامی وقت شام 4 بجے ختم ہوا، جس کے بعد گنتی کا عمل شرع کیا گیا۔

غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق ریفرنڈم میں ترک حکومت کو واضح برتری حاصل ہے، اور 97 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک حکومت نے اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق حکومت کی حمایت میں پڑنے والے ووٹوں کی تعداد 51 فیصد سے بھی زائد ہے، جب کہ حکومت کے خلاف پڑنے والے ووٹوں کی تعداد 48 سے کچھ زیادہ ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنی خبر میں بتایا کہ ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے نتائج کے سرکاری اعلان سے قبل ہی حکومتی جیت کا دعویٰ کیا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی اناطولو نے ریفرنڈم کے نتائج کو براہ راست نشر کیا،جس کے مطابق ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے سے قبل ہی حکومت نے اپنی جیت کا اعلان کیا۔

ادھر ترک وزیر خارجہ نے بھی ترک خبر رساں ادارے اناطولو کو بتایا کہ ریفرنڈم میں ’ہاں‘ کے ووٹوں کی تعداد 51.4 فیصد سے بھی زائد ہے، جب کہ 97 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی۔

دوسری جانب مختلف نشریاتی اداروں کے مطابق ترکی میں رجب طیب اردگان کی حامیوں کی جانب سے جشن کا آغاز کردیا گیا۔

ریفرنڈم میں ‘ہاں’ کو برتری حاصل ہونے کے بعد ترک آئین میں تبدیلی کی راہ ہموار ہوگی۔

ریفرنڈم کے بعد آئین میں 18 ویں ترمیم کی جائے گی، جس کے ذریعے ملک سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ ختم ہونے کے ساتھ ساتھ صدارتی نظام نافذ کیا جائے گا۔

اس تاریخی ریفرنڈم میں ترکی کے 5 کروڑ سے زائد اہل ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

ترک صدر رجب طیب اردگان کافی عرصے سے ملک میں صدارتی نظام لانے کے خواہاں ہیں اور اسی سلسلے میں اس ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا تھا۔

ترکی میں صدر طیب رجب اردگان کے اختیارات میں توسیع کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کا سلسلہ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوا اور شام 5 بجے تک جاری رہا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ترکی میں ریفرنڈم مہم پاکستانی وقت کے مطابق ہفتے کی رات 8 بجے اختتام کو پہنچی جس کےبعد ریفرنڈم میں پوچھے جانے والے سوالوں کے حامی اور مخالف کیمپوں کو بند کردیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیٹو کی رکنیت کے پیش نظر یہ ایک تاریخی ریفرنڈم ہے جو مغربی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ملکی مستقبل کی سمت واضح کرےگا۔

ترکی میں ہونے والے ریفرنڈم کی کامیابی کی صورت میں نئے صدارتی نظام کا آغاز ہوگا جو ترکی کی حالیہ تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی جس کے تحت بیورکریسی سمیت تمام اختیارات وزیراعظم سے صدر کو منتقل ہوں گے۔

ترک صدر طیب اردگان نے استنبول میں ریفرنڈم کی مہم کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ ‘ترکی اپنی تاریخ کا ایک نہایت اہم فیصلہ کرے گا’۔

اردگان نے جیت کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ ‘انتخاب بہت اچھائی نظر آرہا ہے’ لیکن انھوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ووٹنگ کے عمل میں ‘سستی’ کا مظاہرہ نہ کریں اور ‘بہترین نتائج ہی نیک شگون ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘بیلٹ بکس سے ‘ہاں’ جوابات زیادہ نکلیں گے تو مغرب کے لیے سبق ہوگا۔

خیال رہے کہ اردگان حالیہ مہم کے دوران ریلیوں میں یورپین یونین کے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں۔

دوسری جانب ریفرنڈم کے مندرجات سے اختلاف رکھنے والوں میں سرفہرست ری پبلکن پیپلز پارٹی ہے جس کے رہنما کمال کیلیداراوگلو نے انقرہ میں ایک تقریب کے دوران خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ترکی یہ فیصلہ کرنے جارہا ہے کہ ‘ہم جمہوری پارلیمان کا تسلسل چاہتے ہیں یا ایک شخص کی حکمرانی چاہتے ہیں’۔

انھوں نے نئے نظام کو ‘بغیربریکس کے نامعلوم منزل کی جانب سفر کرنے والی بس’ سے تعبیر کیا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے ریفرنڈم کے انعقاد میں ہیر پھیر کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مہم میں ریفرنڈم کے حق میں ‘ہاں’ کے خانے کو نمایاں کیا جارہا ہے اور مخالف آوازوں کو میڈیا میں دبا جارہا ہے۔

تاہم ریفرنڈم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ تاریخی ریفرنڈم میں واضح اکثریت سے جیت ہوگی تاہم ریفرنڈم کے حق میں راہ ہموار ہونے کے باوجود پولز کے نتائج اس کے برخلاف آرہے ہیں اور تجزیہ کاروں کو سخت مقابلے کی کی توقع ہے۔

اردگان کی مہم کو اختتامی لمحات میں اس وقت نقصان پہنچا جب ان کی اتحادی جماعت نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (ایم ایچ پی) نے صدارتی مشیر کی جانب سے ترکی میں وفاقی طرز نظام کی تجویز پر سختی سے جواب دیا گیا۔

تاہم صدر اردگان نے فوری طور پر وضاحت کرتے ہوئے کہا اس حوالے سے کوئی منصوبہ زیرغور نہیں جس کے بعد ایم ایچ پی کے رہنما کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ اب ختم ہوچکا ہے۔

ترکی میں ریفرنڈم کے موقع پر سیکیورٹی کے مسائل بھی ہوں گے جبکہ ایک روز قبل حکام نے استنبول سے پولنگ کے روز تخریب کاری کے شبہے میں پانچ افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ ہفتے کے آغاز میں 19 مبینہ عسکریت پسندوں کو پکڑا گیا تھا۔

ترک میڈیا کے میڈیا کے مطابق ریفرنڈم کے موقع پر صرف استنبول میں 33 ہزار500 سے زائد پولیس افسران ڈیوٹی پر ہوں گے۔

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)