'مذہبی انتہاپسندی اور عوامی حقوق میں تمیز کی ضرورت'

ایران میں بیرونی سرمایہ کاری سے متعلق برطانیہ کی حمایت

آزادی رائے اور نواز شریف

نااہل شخص سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا: سینیٹ میں بل منظور

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا قیام شرعا حرام ہے۔ علمائےاسلام کا بیان

حضرت حجت (عج) کو 'امام منصور' کیوں کہا جاتا ہے؟

ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم بنا رہے ہیں: تحریک حماس

کرپشن کیس میں رہنما پیپلزپارٹی شرجیل میمن گرفتار

سعودیہ میں دینی بحران؛ وہابیت میں تبدیلی اور اس کے بعد خاتمہ

امریکہ اور پاکستان کے روابط میں سرد مہری

تکفیریت نے پاکستان اور اسلام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ علمائے اہلسنت

کراچی: کالعدم انصار الشریعہ کے سربراہ سمیت 8 دہشتگرد ہلاک

مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی

ریکس ٹلرسن کا دورہ: پاک امریکہ تعلقات میں رکاوٹیں موجود رہیں گی

انصار الشریعہ کی دہشت گردی کی صلاحیت ختم کردی: کرنل فیصل

آئینی حقوق کا حصول اہلیان گلگت بلتستان کا حق ہے، جتنی دیر ہوگی حکومت کیلئے مشکلات بڑھیں گی: علامہ اعجاز بہشتی

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا قیام شرعا حرام ہے: علمائےاسلام کا بیان

نوازشریف کی وکٹ گرگئی اب زرداری کی باری ہے: عمران خان

سعودی عرب کا سیکولرزم: حقیقت یا ڈھونگ

آخری نبی (ص) کے چوتھے وصی امام زین العابدین (ع) کی سیرت میں بصیرت آفرینی

شام کے جنوب میں اسرائیل کس کی تلاش میں ہے؟

مکہ مکرمہ میں اب صرف سعودی مرد ہی ٹیکسی چلائیں گے

خلیج فارس تعاون کونسل بکھرنے کا خدشہ

امریکی وزیر خارجہ کا دورہ، پاکستان نو ڈو مور کا پیغام دے گا

شمالی کوریا مزید ایٹمی تجربے جاری رکھے گا

داعش کا یورپ میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملوں کا خطرہ؛ انٹیلی جنس اداروں نے خبردار کر دیا

کرد راہنماءبارزانی کا مستقبل

گلگت بلتستان بنام وفاق پاکستان

بشریت امام زمانہ(ع) کے ظہور کی کیوں پیاسی ہے؟

کردستان میں ریفرنڈم عراق کی خود مختاری کے لیے خطرہ ہے: مشرق وسطیٰ کے ماہر

امریکہ دہشتگردوں کی پشت پناہی کررہا ہے: ترکی

پاکستان نجی سرمایہ کاری کیلئے 5 بہترین ممالک میں شامل

'فاروق ستار کے لندن سے رابطے ہیں، سٹیبلشمنٹ کو دھوکہ دیا جا رہا ہے'

گلگت بلتستان بنام وفاق پاکستان

پاکستان میں چینی سفیر پر حملے کا خدشہ

یمن میں ہیضے میں مبتلا افراد کی تعداد 8 لاکھ

پاکستان اور امریکہ

افغانستان میں حملے: داعش کہاں ختم ہوئی؟!

سیاسی رسہ کشی میں نشانے پر پاکستان ہے

پاکستان میں 5 جی سروس شروع کرنے کی تیاری

سیاسی انتقام کی بدترین مثال،بحرینی جیلوں میں 4000 سے زائد سیاسی قیدی

زید حامد، دہشتگردوں کا سہولت کار

شریف خاندان میں بڑھتے ہوئے اختلافات

'شہباز شریف، چودھری نثار اور خواجہ سعد رفیق بھی ساتھ چھوڑ دیں گے'

معیشت کی تباہ حالی کے ذمہ دار کرپٹ حکمران ہیں، کرپشن ملک کیخلاف معاشی دہشتگردی ہے: علامہ راجہ ناصرعباس

مغرب پر اعتماد سب سے بڑی غلطی تھی: پوتن

احسان فراموش زید حامد کی شرانگیزی

بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ نے ایران کے خلاف امریکی صدر کا الزام مسترد کردیا

کابل کی مسجد امام زمان میں خودکش حملہ، درجنوں شیعہ نمازی شہید

نوازشریف اوران کے خاندان کو فوری گرفتار کیا جائے: آصف زرداری

یمن کے انسانی حالات کے بارے میں کچھ حقائق

سعودیہ نے امریکہ کی حکمت عملی کی حمایت کرکے روس کی ثالثی ٹھوکرا دی

داعش کے ٹوٹنے سے القاعدہ کی طاقت میں اضافہ

کیا روس نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جگہ لے لی ہے ؟

فلسطینی گروہوں کی مفاہمت پر ایک نظر

پاک افغان سرحدی بحران، پاراچنار پر مرتب ہونے والے خطرناک نتائج

ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی بیماری اور دنیا کو درپیش خطرات

سادہ سا مطالبہ ہے کہ لاپتہ افراد کو رہا کرو: ایم ڈبلیو ایم

ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ دنیا اور ایران کی فتح ہے: موگرینی

قندھار میں طالبان کے کار بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 58 تک پنہچ گئی

خطبات امام حسین اور مقصد قیام

افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ مراکز ہیں: نفیس ذکریا

پاکستان میں انصاف کا خون ہورہا ہے پھر بھی تمام مقدمات کا سامنا کروں گا: نوازشریف

سید الشہداء (ع) کی مصیبت کی عظمت کا فلسفہ

سعودی عرب داعش کا سب سے بڑا حامی ہے: تلسی گیبارڈ

امریکہ کے ملے جلے اشارے، پاکستان کو ہوشیار رہنے کی ضرورت

پاکستان میں سال کا خونریز ترین ڈرون حملہ

حماس اور الفتح کے مابین صلح میں مصر کا کردار

عراق کی تقسیم کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟

آن لائن چیزیں بیچنے کے 6 طریقے

داعش، عصر حاضر کے خوارج ہیں

2017-04-17 09:40:30

'مذہبی انتہاپسندی اور عوامی حقوق میں تمیز کی ضرورت'

aziz

سندھ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) عامر فاروقی نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور مذہبی انتہاپسندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدم تحفظ، تعصب اور ناانصافی جیسی وجوہات اور تحفظات کے سبب لوگ معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

اتوار (16 اپریل) کو کراچی آرٹس کونسل میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے زیراہتمام ہونے والے سیمینار میں ’انتہاپسندی پر کنٹرول‘ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی عامر فاروق نے مذہبی انتہاپسندی میں پڑھے لکھے لوگوں کے ملوث ہونے کی وجوہات پر بات چیت کرتے ہوئے سانحہ صفورہ کے مرکزی ملزم اور سماجی کارکن سبین محمود قتل کے ماسٹر مائنڈ سعد عزیز کا کیس پیش کیا۔

خیال رہے کہ سعد عزیز المعروف ٹن ٹن عرف جان، سول سوسائٹی کی نمائندہ سبین محمود پر حملے کا ماسٹرمائنڈ تھا، اس نے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی سے بی بی اے کر رکھا تھا جبکہ وہ 2009ء سے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں حصہ لے رہا تھا۔

سعد عزیز ایک تربیت یافتہ عسکریت پسند تھا، جسے مختلف قسم کے لٹریچر کی تیاری میں مہارت حاصل تھی اور وہ شہر میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے فنڈز فراہم کرتا رہا تھا۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے مئی 2016 میں سانحہ صفورہ میں ملوث مجرم سعد عزیز سمیت پانچ انتہائی خطرناک دہشت گردوں کے ڈیتھ وارنٹس پر دستخط کیے تھے۔

ان مجرمان نے جون میں اپنی سزائے موت کو ملٹری اپیل کورٹ میں چیلنج کردیا تھا تاہم فوج کے محکمہ ایڈووکیٹ جنرل کے جج نے ان کی اپیل مسترد کردی اور اس حوالے سے 15 اگست 2016 کو آگاہی خط سپرٹنڈنٹ سینٹرل جیل کراچی کو بھی بھیجا گیا تھا۔

سمینار کے دوران ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ مجرم معروف تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل تھا جبکہ ہوٹل انڈسٹری کے شعبے میں کام کرتا تھا۔

عامر فاروقی کے مطابق سعد عزیز کو ابتدائی طور پر مذہبی لگاؤ اپنے گھر بالخصوص والدہ سے ملا، جو خود درس و تدریس میں دلچسپی رکھتی تھیں، بعد ازاں دوران تعلیم اپنے مذہبی پس منظر اور شرمیلی وضع کی وجہ سے محبت میں ناکامی سعد عزیز کے خیالات کو منتشر کرنے کا بڑا سبب بنی۔

انہوں نے بتایا کہ مجرم کے سائیکو اینالیسز میں یہ سامنے آیا کہ وہ کم عمری کی اس ناکامی کے سبب بےسکونی کا شکار رہا اور یہی وجہ آگے چل کر اس کے بہت سے عزائم کی وجہ بنی۔

انہوں نے مجرم کی کیس ہسٹری کی تفصیلات بتاتے ہوئے مزید کہا کہ سعد عزیز نے لوگوں کے مشورے پر قرآن کی مترجم تعلیم حاصل کرنا شروع کی، عمرہ کرنے گیا اور بعد ازاں ایک تبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کرلی۔

ان کا کہنا تھا کہ دوران انٹرن شپ سعد عزیز کی ‘تنظیم اسلامی’ سے تعلق رکھنے والے شخص علی الرحمٰن سے ملاقات ہوئی، علی الرحمٰن نے 2010 کو سعد عزیز کو حارث نامی شخص سے ملایا جو القاعدہ کے احمد فاروق گروپ سے منسلک تھا۔

عامر فاروقی کے مطابق یہیں سے سعد عزیز کا یہ سفر شروع ہوا اور وہ القاعدہ کا میڈیا سیل چلانے لگا، 2011 میں 4 مہینے کے لیے اس نے افغانستان کا بھی رخ کیا۔

ڈی آئی جی کے مطابق 2013 میں سعد عزیز کی ملاقات طاہر منہاس سے ہوئی جو پہلے سے ہی پولیس کی واچ لسٹ پر تھا اور ایک بار گرفتار بھی ہوچکا تھا، 2014 کے اواخر میں طاہر اور سعد کے القاعدہ سے اختلافات کا آغاز ہوا جس کے بعد ان دونوں نے داعش سے رابطہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سعد عزیز کے لیپ ٹاپ سے پولیس کو ایسے بہت سے شواہد ملے جن سے ثابت ہوا کہ وہ داعش کا حصہ بن چکا تھا۔

سعد عزیز کے جرائم کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 2014 سے 2015 کے دوران مجرم نے کراچی اور حیدرآباد میں کئی پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں کی توجیہہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائیاں ایک پالیسی کے تحت کی جاتی ہیں اور ان کا مقصد ریاستی اداروں کو کمزور کرنا ہوتا ہے جس کے بعد معاشرہ خود بخود متاثر ہوجاتا ہے۔

مذہبی انتہاپسندی کے پیچھے چھپی اصل وجوہات کو سامنے لانے پر زور دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مذہب کسی بھی معاملے پر قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا حکم نہیں دیتا۔

’عدم تحفظ، تعصب اور ناانصافی مسائل کی وجہ‘

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ عدم تحفظ، تعصب اور ناانصافی جیسی وجوہات اور تحفظات کے سبب لوگ معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس موقع پر انھوں نے گذشتہ ہفتے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم پر ہونے والے تشدد اور قتل کی مثال پیش کی اور کہا کہ اس کے پیچھے کوئی ایک وجہ تلاش نہیں کی جاسکتی، لوگوں کے اس ردعمل کے پیچھے مختلف وجوہات تھیں جن کو سمجھنا اور حل کرنا بہت ضروری ہے۔

عامر فاروقی نے کہا کہ بہت سی وجوہات ایسی ہیں جنہیں مذہبی انتہاپسندی کا نام دیا جاتا ہے لیکن درحقیقت وہ معاملات مختلف ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عدم برداشت، ناانصافی، عدم تحفظ کا احساس، عدم مساوات، بے حسی، تعصب اور تنگ نظری یہ وہ معاملات ہیں جن کو انتہاپسندی کا نام دیا جانا درست نہیں، لیکن ان وجوہات کو یکجا کرکے کہا جاتا ہے کہ معاشرے میں انتہاپسندی بڑھ رہی ہے’۔

عامر فاروقی کے مطابق موجودہ دور میں جبکہ ہمارے مسائل اور سیکیورٹی معاملات پیچیدہ ہوچکے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ مذہبی انتہا پسندی اور عوام کی جانب سے اپنے حقوق کے مطالبات میں تمیز برتی جائے، عوام کے ہر ردعمل کو انتہا پسندی کا نام دیا جانا مسئلے کا حل نہیں۔

انہوں نے کہا، ’ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ عدم برداشت ہے، تاہم یہ مذہب کی وجہ سے نہیں، مذہب ہمیں یہ تعلیم نہیں دیتا کہ کسی بھی معاملے پر برادشت کا دامن چھوڑ کر چیزوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیا جائے‘۔

معاشرے میں عدم مساوات اور حقوق کی غیر منصفانہ تقسیم کے بعد سامنے آنے والی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ ’ہمارے معاشرے کے بیشتر طبقات کو انصاف میسر نہیں، انہیں جب ریاستی اداروں سے انصاف نہیں ملتا تو وہ کسی اور جانب دیکھنا شروع کردیتے ہیں‘۔

عامر فاروقی کا مزید کہنا تھا کہ ’شہر کراچی کی سیاسی صورتحال اور پاکستان سمیت مسلم دنیا کو جن مسائل کا سامنا ہے اسے مذہبی انتہا پسندی یا مذہب کے نام پر دہشت گردی کا نام دیا جارہا ہے لیکن صورتحال کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو یہ معاملات سول رائٹس سے جڑے ہیں، لہذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ عوامی حقوق کی جنگ اور مذہبی انتہاپسندی کے درمیان غلط فہمی کو دور کیا جائے‘۔

ماضی میں پیش آنے والے واقعات کی مثال دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 70 کی دہائی میں آئرلینڈ میں کیتھولک اور پروٹیسٹنٹس، جنوبی افریقا میں سیاہ فام اور سفید فام کا ٹکراؤ بھی محض عوام کا اپنے حقوق کے لیے لڑنا تھا، افغانستان، کشمیر، فلسطین کے معاملات کی صورتحال کو دیکھیں تو یہاں بھی مقامی لوگ اپنے حقوق مانگ رہے ہیں جو بظاہر انتہاپسندی جیسا نظر آتا ہے‘۔

ڈی آئی جی کے مطابق ’انتہاپسند رویوں کو مزید گمبھیر ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ مقامی معاملات کو مقامی نقطہ نظر کے مطابق حل کیا جائے‘۔

’صرف گستاخی کا معاملہ نہیں‘

مشعال خان کے سفاک قتل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں انتظامیہ کے لوگ بھی ملوث تھے، طالب علم پر تشدد کرنے والے مذہبی پس منظر سے تعلق نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ عام لوگ تھے، لیکن ہمارے معاشرے میں مذہبی معاملات کو شروع سے ہی اس قدر راسخ کردیا جاتا ہے کہ لوگ چھوٹی سی بات پر فوراً بھڑک اٹھتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ مذہبی عقیدت درست ہے تاہم سوچا جانا چاہیئے کہ جو ہوا ، جس طرح ہوا اسے کس طرح سے روکا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ 13 اپریل کو عبدالولی خان یونیورسٹی میں دیگر طلبہ کے تشدد سے ایک 23 سالہ طالب علم کی موت ہوگئی تھی جبکہ ایک طالب علم زخمی ہوا تھا۔

ڈی آئی جی مردان عالم شنواری کے مطابق ہلاک ہونے والے طالب علم پر الزام تھا کہ اس نے فیس بک پر ایک پیج بنا رکھا تھا، جہاں وہ توہین آمیز پوسٹس شیئر کیا کرتا تھا۔

عامر فاروقی کے مطابق مشعال کے قتل کا معاملہ بھی صرف گستاخی کا معاملہ نہیں تھا، اس کے پیچھے دیگر وجوہات تھیں، مشعال مختلف مواقع پر یونیورسٹی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنا چکا تھا، مختلف معاملات پر اظہار خیال کرچکا تھا اور جب یہ سب وجوہات یکجا ہوگئیں اور لوگوں کو موقع ملا تو اس پر حملہ کیا گیا۔

’پرہجوم تشدد کے اپنے محرکات ہوتے ہیں‘
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ ہجوم کی جانب سے لوگوں کو نشانہ بنایا جانا صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں، ایسے واقعات دنیا بھر میں ہوتے ہیں جبکہ اس طرح کے تشدد کے اپنے محرکات ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سماج میں عدم برداشت کی صورتحال کے سبب لوگ اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہیں جبکہ گذشتہ برسوں کے دوران کراچی میں ڈاکوؤں کے ساتھ ہونے والا تشدد اس کی مثال تھا۔

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

مسنگ پرسنز اور حکومتی پالیسیاں

- مجلس وحدت المسلمین

مقدمہ: تحریک؟

- ایکسپریس نیوز