'مذہبی انتہاپسندی اور عوامی حقوق میں تمیز کی ضرورت'

عرب ریاستوں نے تنازع ختم کرنے کیلئے قطر سے 13 مطالبات کردیے

کیا سرفراز نے شاہ رخ خان کو بھی شکست دیدی؟

تصاویر: تہران میں یوم قدس کے موقع پر عظیم ریلی

مسئلہ فلسطین دنیائے اسلام کا سب سے پہلا اور اہم مسئلہ ہے

کوئٹہ: بم دھماکے میں 15 افراد جاں بحق

 اسلامی ممالک کی تقسیم کا منصوبہ: کیا نئے سعودی ولی عہد کی تعیناتی کے احکامات واشنگٹن سے آئے؟

 چوروں کا گٹھ جوڑ: کیا پی پی پی اور نواز لیگ کے مابین پانامہ لیکس پر خفیہ ڈیل طے پا گئی ہے؟

جرمنی جلد ہی اسلامی ریاست بن جائے گا، جرمن چانسلر انجیلا مرکل کا بیان ، دنیا بھر میں کھلبلی

دہشت گرد تنظیم داعش کو بارودی مواد فراہم کرنے والا بھارت دوسرا بڑا ملک ہے، یورپی رپورٹ

محمد بن سلمان کی ولی عہدی اسرائیل کے لئے نیک شگون ہے

جامع مسجد النوری کی شہادت داعش کا اعتراف شکست ہے

چاند یا مریخ کا رخ نہ کیا تو 30 سال میں انسانی آبادی ختم: سٹیفن ہاکنگ

اسرائیل، مسلم امۃ کا حقیقی دشمن ہے: تحریک انصار اللہ

سعودی عرب میں اقتدار کی رسہ کشی

کلبھوشن یادیو نے آرمی چیف سے رحم کی اپیل کردی

اگر بیت المقدس کی آزادی سعودی اتحاد کے ایجنڈے میں شامل نہیں تو آرمی چیف راحیل شریف کو فوری واپس بلائیں : علامہ راجہ ناصرعباس

سعودی عرب علاقائی و عالمی دہشتگردی کا اہم اسپانسر ہے: پروفیسر آئیرش یونیورسٹی

پاکستان ڈرون حملے برداشت نہیں کرے گا

پاک ایران گیس منصوبہ 2 سال میں مکمل ہوجائے گا: آصف درانی

جنگل میں منگل: تاریخ رقم ، پیسہ ہضم

جنگی جنون میں مبتلا شہزادہ ولی عہد مقرر:  مشرق وسطی کو جنگ میں دھکیلنے کا سعودی منصوبہ

وہابیت بمقابلہ اخوان المسلمین / قطر کے بحران میں اہلسنت کا پرانا زخم تازہ

داعش کے مفتی اعظم کی ہلاکت کی تصدیق

حامد کرزئی نے سعودیہ کا دل توڑ دیا

وہابی دہشت گردوں نے موصل کی نوری مسجد کو شہید کردیا

زکوۃ کے احکام

قطر کا پابندیوں کی صورت میں سعودی عرب سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان

سعودی عرب میں ولی عہد کے خلاف بغاوت + تصویر اور ویڈیو کلیپ

راحیل شریف ذاتی حیثیت میں نام نہاد اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کیلیے گئے، سرتاج عزیز

سعودی عرب کے نئے ولیعہد کا ایران کے خلاف اعلان جنگ

محمد بن نائف برطرف: سعودی عرب کے ڈکٹیٹر بادشاہ نے ولی عہد کو برطرف کرکے اپنے بیٹے کو ولی عہد بنادیا

سخت پالیسی کا عندیہ: ٹرمپ انتظامیہ پاکستان پر برہم کیوں؟

قدس کا عالمی دن، صہیونیوں کی آنکھ میں چھبتا ہوا کانٹا

سعودی عرب میں‌اقتدار کی رسہ کشی میں شدت: سعودی بادشاہ نے ولی عہد محمد بن نائف کو برطرف کر دیا

افغانستان بھارت ہنی مون: پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی نئی لہر شروع ہونے کا خدشتہ

حافظ سعید کی نظر بندی میں مزید توسیع کر دی گئی

تصاویر: لندن میں روز قدس کا جلوس

قیامت کے دن کون سےافراد امیرالمومنین (ع) کےدرجہ پر فائز ہوں گے؟

افغانستان کے شیعہ و سنی، علما کے ساتھ

وزیراعظم کا ٹیم کے ہر کھلاڑی کیلیے ایک ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان

رابرٹ فورڈ: ایران امریکہ کو مشرقی شام سے بھاگنے پر مجبور کر دے گا

قطر کا بائیکاٹ، امریکی صدر کے سعودی دورے کا نتیجہ ہے: جماعت اسلامی پاکستان

انتہا پسندی کا تیزی سے پھیلتا زہر

اسرائیلی وزير اعظم کا شام میں وہابی دہشت گردوں کی حمایت کا اعتراف

خیرپور، اسرائیل مخالف ریلی کی تیاری پر پولیس کی دھمکیاں

جے آئی ٹی تحقیقات: کیا سپریم کورٹ حکومتی ہتھکنڈوں کا مقابلہ کر سکتی ہے؟

سی پیک کے لئے متبادل روٹ کی ضرورت

وزیر اعظم کی نئی مشکل: شریف خاندان کے خلاف کرپشن کے ثبوتوں کا دعویدار انعام الرحمن سحری کون ہے؟

بحرین نے ’قطری فوج کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا‘

داعش امریکہ کی آلہ کار تنظیم ہے، داعشی اسیر کے سنسنی خیز انکشافات

برطانیہ کی رہائشی عمارت میں لگنے سے ہلاکتوں کی تعداد 79 تک پہنچ گئی، اموات میں مزید اضافے کا خدشہ

شامی طیارہ گرانے پر امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

دنیا میں تیزی سے تنہا ہوتا پاکستان

بارسلونا کلب کے پرزیڈنٹ کی سعودی حکام کے موقف پر تنقید

مصری جزائر سعودی عرب کو دینے کے خلاف احتجاج , بڑی تعداد میں صحافیوں کی گرفتاری

آل سعود کی ''جنرل راحیل شریف" کو "جنرل قاسم سلیمانی" کے مقابلے میں چیمپئن بنانے کی سازش ناکام!

پاک افغان بارڈر پر پاکستان کے لیے خطرے کی نئی گھنٹی

پاکستانی صدر اور وزیراعظم کی سعودی یاترہ: شاہ سلمان کے نام خاص پیغام کیا ہے؟

لندن: ڈرائیور نے تراویح پڑھ کر نکلنے والے نمازیوں پر وین چڑھادی: متعدد زخمی

سعودی عرب داعش کیلئے امریکہ سے اسلحہ خرید رہا ہے ؛ امریکی اہلکار

پاکستان چیمپینز ٹرافی کا فاتح: بھارت کو 180 رنز سے شکست

گستاخ شیخ ولی خان کی مولا علی (ع) پر شراب پینے کی تہمت، عدلیہ خاموش کیوں؟

قطر بحران کا حل آسان نہیں

کشمیر میں مختلف مسلکوں کا حسین امتزاج: شیعہ اور سنی ایک مسجد میں اکٹھے

بکھری ہوئی امت مسلمہ اور عید کا چاند

 محلاتی سازشیں: کیا شہباز شریف بھی وزیر اعظم کی نا اہلی چاہتے ہیں؟

پاکستان کے ہندوستان کو ہرانے کا کتنا امکان موجود ہے؟

داعش اور جبہۃ النصرہ سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کو اسرائیل کی پشت پناہی حاصل ہے؛ اقوام متحدہ

علامہ ڈاکٹر غلام حسین عدیل کو دل کا شدید دورہ، اسپتال منتقل

امیرالمومنین علی (ع) قرآن اور حدیث کی روشنی میں

2017-04-17 09:40:30

'مذہبی انتہاپسندی اور عوامی حقوق میں تمیز کی ضرورت'

aziz

سندھ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) عامر فاروقی نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور مذہبی انتہاپسندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدم تحفظ، تعصب اور ناانصافی جیسی وجوہات اور تحفظات کے سبب لوگ معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

اتوار (16 اپریل) کو کراچی آرٹس کونسل میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے زیراہتمام ہونے والے سیمینار میں ’انتہاپسندی پر کنٹرول‘ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی عامر فاروق نے مذہبی انتہاپسندی میں پڑھے لکھے لوگوں کے ملوث ہونے کی وجوہات پر بات چیت کرتے ہوئے سانحہ صفورہ کے مرکزی ملزم اور سماجی کارکن سبین محمود قتل کے ماسٹر مائنڈ سعد عزیز کا کیس پیش کیا۔

خیال رہے کہ سعد عزیز المعروف ٹن ٹن عرف جان، سول سوسائٹی کی نمائندہ سبین محمود پر حملے کا ماسٹرمائنڈ تھا، اس نے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی سے بی بی اے کر رکھا تھا جبکہ وہ 2009ء سے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں حصہ لے رہا تھا۔

سعد عزیز ایک تربیت یافتہ عسکریت پسند تھا، جسے مختلف قسم کے لٹریچر کی تیاری میں مہارت حاصل تھی اور وہ شہر میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے فنڈز فراہم کرتا رہا تھا۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے مئی 2016 میں سانحہ صفورہ میں ملوث مجرم سعد عزیز سمیت پانچ انتہائی خطرناک دہشت گردوں کے ڈیتھ وارنٹس پر دستخط کیے تھے۔

ان مجرمان نے جون میں اپنی سزائے موت کو ملٹری اپیل کورٹ میں چیلنج کردیا تھا تاہم فوج کے محکمہ ایڈووکیٹ جنرل کے جج نے ان کی اپیل مسترد کردی اور اس حوالے سے 15 اگست 2016 کو آگاہی خط سپرٹنڈنٹ سینٹرل جیل کراچی کو بھی بھیجا گیا تھا۔

سمینار کے دوران ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ مجرم معروف تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل تھا جبکہ ہوٹل انڈسٹری کے شعبے میں کام کرتا تھا۔

عامر فاروقی کے مطابق سعد عزیز کو ابتدائی طور پر مذہبی لگاؤ اپنے گھر بالخصوص والدہ سے ملا، جو خود درس و تدریس میں دلچسپی رکھتی تھیں، بعد ازاں دوران تعلیم اپنے مذہبی پس منظر اور شرمیلی وضع کی وجہ سے محبت میں ناکامی سعد عزیز کے خیالات کو منتشر کرنے کا بڑا سبب بنی۔

انہوں نے بتایا کہ مجرم کے سائیکو اینالیسز میں یہ سامنے آیا کہ وہ کم عمری کی اس ناکامی کے سبب بےسکونی کا شکار رہا اور یہی وجہ آگے چل کر اس کے بہت سے عزائم کی وجہ بنی۔

انہوں نے مجرم کی کیس ہسٹری کی تفصیلات بتاتے ہوئے مزید کہا کہ سعد عزیز نے لوگوں کے مشورے پر قرآن کی مترجم تعلیم حاصل کرنا شروع کی، عمرہ کرنے گیا اور بعد ازاں ایک تبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کرلی۔

ان کا کہنا تھا کہ دوران انٹرن شپ سعد عزیز کی ‘تنظیم اسلامی’ سے تعلق رکھنے والے شخص علی الرحمٰن سے ملاقات ہوئی، علی الرحمٰن نے 2010 کو سعد عزیز کو حارث نامی شخص سے ملایا جو القاعدہ کے احمد فاروق گروپ سے منسلک تھا۔

عامر فاروقی کے مطابق یہیں سے سعد عزیز کا یہ سفر شروع ہوا اور وہ القاعدہ کا میڈیا سیل چلانے لگا، 2011 میں 4 مہینے کے لیے اس نے افغانستان کا بھی رخ کیا۔

ڈی آئی جی کے مطابق 2013 میں سعد عزیز کی ملاقات طاہر منہاس سے ہوئی جو پہلے سے ہی پولیس کی واچ لسٹ پر تھا اور ایک بار گرفتار بھی ہوچکا تھا، 2014 کے اواخر میں طاہر اور سعد کے القاعدہ سے اختلافات کا آغاز ہوا جس کے بعد ان دونوں نے داعش سے رابطہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سعد عزیز کے لیپ ٹاپ سے پولیس کو ایسے بہت سے شواہد ملے جن سے ثابت ہوا کہ وہ داعش کا حصہ بن چکا تھا۔

سعد عزیز کے جرائم کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 2014 سے 2015 کے دوران مجرم نے کراچی اور حیدرآباد میں کئی پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں کی توجیہہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائیاں ایک پالیسی کے تحت کی جاتی ہیں اور ان کا مقصد ریاستی اداروں کو کمزور کرنا ہوتا ہے جس کے بعد معاشرہ خود بخود متاثر ہوجاتا ہے۔

مذہبی انتہاپسندی کے پیچھے چھپی اصل وجوہات کو سامنے لانے پر زور دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مذہب کسی بھی معاملے پر قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا حکم نہیں دیتا۔

’عدم تحفظ، تعصب اور ناانصافی مسائل کی وجہ‘

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ عدم تحفظ، تعصب اور ناانصافی جیسی وجوہات اور تحفظات کے سبب لوگ معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس موقع پر انھوں نے گذشتہ ہفتے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم پر ہونے والے تشدد اور قتل کی مثال پیش کی اور کہا کہ اس کے پیچھے کوئی ایک وجہ تلاش نہیں کی جاسکتی، لوگوں کے اس ردعمل کے پیچھے مختلف وجوہات تھیں جن کو سمجھنا اور حل کرنا بہت ضروری ہے۔

عامر فاروقی نے کہا کہ بہت سی وجوہات ایسی ہیں جنہیں مذہبی انتہاپسندی کا نام دیا جاتا ہے لیکن درحقیقت وہ معاملات مختلف ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عدم برداشت، ناانصافی، عدم تحفظ کا احساس، عدم مساوات، بے حسی، تعصب اور تنگ نظری یہ وہ معاملات ہیں جن کو انتہاپسندی کا نام دیا جانا درست نہیں، لیکن ان وجوہات کو یکجا کرکے کہا جاتا ہے کہ معاشرے میں انتہاپسندی بڑھ رہی ہے’۔

عامر فاروقی کے مطابق موجودہ دور میں جبکہ ہمارے مسائل اور سیکیورٹی معاملات پیچیدہ ہوچکے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ مذہبی انتہا پسندی اور عوام کی جانب سے اپنے حقوق کے مطالبات میں تمیز برتی جائے، عوام کے ہر ردعمل کو انتہا پسندی کا نام دیا جانا مسئلے کا حل نہیں۔

انہوں نے کہا، ’ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ عدم برداشت ہے، تاہم یہ مذہب کی وجہ سے نہیں، مذہب ہمیں یہ تعلیم نہیں دیتا کہ کسی بھی معاملے پر برادشت کا دامن چھوڑ کر چیزوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیا جائے‘۔

معاشرے میں عدم مساوات اور حقوق کی غیر منصفانہ تقسیم کے بعد سامنے آنے والی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ ’ہمارے معاشرے کے بیشتر طبقات کو انصاف میسر نہیں، انہیں جب ریاستی اداروں سے انصاف نہیں ملتا تو وہ کسی اور جانب دیکھنا شروع کردیتے ہیں‘۔

عامر فاروقی کا مزید کہنا تھا کہ ’شہر کراچی کی سیاسی صورتحال اور پاکستان سمیت مسلم دنیا کو جن مسائل کا سامنا ہے اسے مذہبی انتہا پسندی یا مذہب کے نام پر دہشت گردی کا نام دیا جارہا ہے لیکن صورتحال کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو یہ معاملات سول رائٹس سے جڑے ہیں، لہذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ عوامی حقوق کی جنگ اور مذہبی انتہاپسندی کے درمیان غلط فہمی کو دور کیا جائے‘۔

ماضی میں پیش آنے والے واقعات کی مثال دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 70 کی دہائی میں آئرلینڈ میں کیتھولک اور پروٹیسٹنٹس، جنوبی افریقا میں سیاہ فام اور سفید فام کا ٹکراؤ بھی محض عوام کا اپنے حقوق کے لیے لڑنا تھا، افغانستان، کشمیر، فلسطین کے معاملات کی صورتحال کو دیکھیں تو یہاں بھی مقامی لوگ اپنے حقوق مانگ رہے ہیں جو بظاہر انتہاپسندی جیسا نظر آتا ہے‘۔

ڈی آئی جی کے مطابق ’انتہاپسند رویوں کو مزید گمبھیر ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ مقامی معاملات کو مقامی نقطہ نظر کے مطابق حل کیا جائے‘۔

’صرف گستاخی کا معاملہ نہیں‘

مشعال خان کے سفاک قتل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں انتظامیہ کے لوگ بھی ملوث تھے، طالب علم پر تشدد کرنے والے مذہبی پس منظر سے تعلق نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ عام لوگ تھے، لیکن ہمارے معاشرے میں مذہبی معاملات کو شروع سے ہی اس قدر راسخ کردیا جاتا ہے کہ لوگ چھوٹی سی بات پر فوراً بھڑک اٹھتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ مذہبی عقیدت درست ہے تاہم سوچا جانا چاہیئے کہ جو ہوا ، جس طرح ہوا اسے کس طرح سے روکا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ 13 اپریل کو عبدالولی خان یونیورسٹی میں دیگر طلبہ کے تشدد سے ایک 23 سالہ طالب علم کی موت ہوگئی تھی جبکہ ایک طالب علم زخمی ہوا تھا۔

ڈی آئی جی مردان عالم شنواری کے مطابق ہلاک ہونے والے طالب علم پر الزام تھا کہ اس نے فیس بک پر ایک پیج بنا رکھا تھا، جہاں وہ توہین آمیز پوسٹس شیئر کیا کرتا تھا۔

عامر فاروقی کے مطابق مشعال کے قتل کا معاملہ بھی صرف گستاخی کا معاملہ نہیں تھا، اس کے پیچھے دیگر وجوہات تھیں، مشعال مختلف مواقع پر یونیورسٹی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنا چکا تھا، مختلف معاملات پر اظہار خیال کرچکا تھا اور جب یہ سب وجوہات یکجا ہوگئیں اور لوگوں کو موقع ملا تو اس پر حملہ کیا گیا۔

’پرہجوم تشدد کے اپنے محرکات ہوتے ہیں‘
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ ہجوم کی جانب سے لوگوں کو نشانہ بنایا جانا صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں، ایسے واقعات دنیا بھر میں ہوتے ہیں جبکہ اس طرح کے تشدد کے اپنے محرکات ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سماج میں عدم برداشت کی صورتحال کے سبب لوگ اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہیں جبکہ گذشتہ برسوں کے دوران کراچی میں ڈاکوؤں کے ساتھ ہونے والا تشدد اس کی مثال تھا۔

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)