نورین کی بازیابی اور پاکستان میں‌داعش

سعودی عرب کا سیکولرزم: حقیقت یا ڈھونگ

آخری نبی (ص) کے چوتھے وصی امام زین العابدین (ع) کی سیرت میں بصیرت آفرینی

شام کے جنوب میں اسرائیل کس کی تلاش میں ہے؟

مکہ مکرمہ میں اب صرف سعودی مرد ہی ٹیکسی چلائیں گے

خلیج فارس تعاون کونسل بکھرنے کا خدشہ

امریکی وزیر خارجہ کا دورہ، پاکستان نو ڈو مور کا پیغام دے گا

شمالی کوریا مزید ایٹمی تجربے جاری رکھے گا

داعش کا یورپ میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملوں کا خطرہ؛ انٹیلی جنس اداروں نے خبردار کر دیا

کرد راہنماءبارزانی کا مستقبل

گلگت بلتستان بنام وفاق پاکستان

بشریت امام زمانہ(ع) کے ظہور کی کیوں پیاسی ہے؟

کردستان میں ریفرنڈم عراق کی خود مختاری کے لیے خطرہ ہے: مشرق وسطیٰ کے ماہر

امریکہ دہشتگردوں کی پشت پناہی کررہا ہے: ترکی

پاکستان نجی سرمایہ کاری کیلئے 5 بہترین ممالک میں شامل

'فاروق ستار کے لندن سے رابطے ہیں، سٹیبلشمنٹ کو دھوکہ دیا جا رہا ہے'

گلگت بلتستان بنام وفاق پاکستان

پاکستان میں چینی سفیر پر حملے کا خدشہ

یمن میں ہیضے میں مبتلا افراد کی تعداد 8 لاکھ

پاکستان اور امریکہ

افغانستان میں حملے: داعش کہاں ختم ہوئی؟!

سیاسی رسہ کشی میں نشانے پر پاکستان ہے

پاکستان میں 5 جی سروس شروع کرنے کی تیاری

سیاسی انتقام کی بدترین مثال،بحرینی جیلوں میں 4000 سے زائد سیاسی قیدی

زید حامد، دہشتگردوں کا سہولت کار

شریف خاندان میں بڑھتے ہوئے اختلافات

'شہباز شریف، چودھری نثار اور خواجہ سعد رفیق بھی ساتھ چھوڑ دیں گے'

معیشت کی تباہ حالی کے ذمہ دار کرپٹ حکمران ہیں، کرپشن ملک کیخلاف معاشی دہشتگردی ہے: علامہ راجہ ناصرعباس

مغرب پر اعتماد سب سے بڑی غلطی تھی: پوتن

احسان فراموش زید حامد کی شرانگیزی

بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ نے ایران کے خلاف امریکی صدر کا الزام مسترد کردیا

کابل کی مسجد امام زمان میں خودکش حملہ، درجنوں شیعہ نمازی شہید

نوازشریف اوران کے خاندان کو فوری گرفتار کیا جائے: آصف زرداری

یمن کے انسانی حالات کے بارے میں کچھ حقائق

سعودیہ نے امریکہ کی حکمت عملی کی حمایت کرکے روس کی ثالثی ٹھوکرا دی

داعش کے ٹوٹنے سے القاعدہ کی طاقت میں اضافہ

کیا روس نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جگہ لے لی ہے ؟

فلسطینی گروہوں کی مفاہمت پر ایک نظر

پاک افغان سرحدی بحران، پاراچنار پر مرتب ہونے والے خطرناک نتائج

ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی بیماری اور دنیا کو درپیش خطرات

سادہ سا مطالبہ ہے کہ لاپتہ افراد کو رہا کرو: ایم ڈبلیو ایم

ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ دنیا اور ایران کی فتح ہے: موگرینی

قندھار میں طالبان کے کار بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 58 تک پنہچ گئی

خطبات امام حسین اور مقصد قیام

افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ مراکز ہیں: نفیس ذکریا

پاکستان میں انصاف کا خون ہورہا ہے پھر بھی تمام مقدمات کا سامنا کروں گا: نوازشریف

سید الشہداء (ع) کی مصیبت کی عظمت کا فلسفہ

سعودی عرب داعش کا سب سے بڑا حامی ہے: تلسی گیبارڈ

امریکہ کے ملے جلے اشارے، پاکستان کو ہوشیار رہنے کی ضرورت

پاکستان میں سال کا خونریز ترین ڈرون حملہ

حماس اور الفتح کے مابین صلح میں مصر کا کردار

عراق کی تقسیم کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟

آن لائن چیزیں بیچنے کے 6 طریقے

داعش، عصر حاضر کے خوارج ہیں

یورپی یونین واضح کرے کہ ترکی کو اتحاد میں شامل کرنا ہے یا نہیں: اردوغان

داعش کے ٹوٹنے سے القاعدہ کی طاقت میں اضافہ

خواتین پر جنسی حملے، دنیا کے بدترین شہروں میں نئی دہلی سر فہرست

امریکہ قابل اعتماد نہیں ہے

جوان، عاشورا کے عرفانی پہلو کے پیاسے ہیں

مسلم لیگ (ن) کا سیاسی امتحان – محمد عامر حسینی

عراق میں ریفرنڈم کا مسئلہ ماضی کا حصہ بن چکا ہے: العبادی

علامہ عباس کمیلی کی علامہ احمد اقبال سے پولیس اسٹیشن میں ملاقات، جیل بھرو تحریک کی حمایت کا اعلان

برطانیہ میں بدترین دہشتگردی کا خطرہ ہے: سربراہ خفیہ ایجنسی

سعودیہ، اور یمن جنگ میں شکست کا اعتراف

کیا سعودیہ اپنی خطے کی پالیسیوں میں تبدیلی لانا چاہتا ہے؟

حلقہ این اے فور میں ضمنی الیکشن

سول ملٹری تصادم: قومی مفاد کا رکھوالا کون

انسان دوستی، انسان دشمنی

شام کا شہر رقہ داعش کے قبضے سے آزاد

ٹرمپ کی باتیں اس کی شکست اور بے بسی کی علامت ہیں: جنرل سلامی

یمن میں متحدہ عرب امارات کے 2 پائلٹ ہلاک

2017-04-18 01:38:25

نورین کی بازیابی اور پاکستان میں‌داعش

L

حکومت پاکستان میں داعش کی موجودگی سے انکار کرتی ہے لیکن فروری میں حیدر آباد سے غائب ہونے والی لڑکی نورین جبار لغاری لاہور میں دہشت گردوں کے گروپ کے خلاف کارروائی کے دوران گرفتار ہوئی ہے۔

 

خیال ہے کہ نورین داعش کے پروپیگنڈا سے متاثر ہوکر شام چلی گئی تھی جہاں سے تربیت کے بعد وہ چند روز قبل ہی وہ لاہور واپس آئی تھی۔ اب وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایسٹر کے موقع پر عیسائیوں کے خلاف دہشت گردی کرنا چاہتی تھی۔ فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس کارروائی میں ایک شخص ہلاک ہؤا ہے جبکہ چار افراد گرفتار ہوئے ہیں۔ فوج نے اس مکان سے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد اور خود کش جیکٹس بھی برآمد کی ہیں۔ ایک پڑھے لکھے خاندان کی تعلیم یافتہ نوجوان لڑکی کا یوں داعش سے متاثر ہو کر اس گروہ میں شامل ہونا اور اس کے بعد دہشت گردی پر آمادہ ہو جانا، ملک کے ارباب بست کشاد کے لئے شدید تشویش کا سبب ہونا چاہئے۔

نورین لغاری سندھ یونیورسٹی کے پروفیسر کی بیٹی ہے۔ وہ 10 فروری کو اچانک غائب ہو گئی تھی ۔ وہ گھر سے لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز پڑھنے کے لئے گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس نے اس روز کی کلاسز میں شرکت کی لیکن اس کے بعد وہ پر اسرار طریقے سے غائب ہوگئی۔ پولیس کا خیال تھا کہ وہ انٹرنیٹ پر رابطوں کے ذریعے انتہا پسندی کی طرف مائل ہوئی تھی اور داعش میں شامل ہونے کے لئے گھر سے چلی گئی ہے۔ تاہم اس کے اہل خاندان کے لئے اس بات کو تسلیم کرنا آسان نہیں تھا۔ لیکن چند روز بعد ہی سوشل میڈیا کے ذریعے نورین نے اپنے خاندان کو پیغام بھیجا کہ ’وہ خیریت سے ہے اور خلافت کی مملکت میں پہنچ گئی ہے۔ اس لئے اس کے بارے میں پریشان نہ ہوں‘۔ اس پیغام کے بعد بھی یہ بے یقینی موجود تھی کہ شاید نورین کسی سانحہ کا شکار ہو گئی ہو اور یہ پیغام درست نہ ہو۔ تاہم آج لاہور میں دہشت گردوں کے ساتھ اس کی گرفتاری نے سارا معاملہ صاف کردیا ہے۔

لاہور میں کی جانے والی فوجی کارروائی میں مارا جانے والے شخص کا نام طارق علی بتایا گیا ہے اور خیال ہے کہ نورین سوشل میڈیا پر اسی کے ذریعے داعش سے متاثر ہوئی۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نورین نے اس شخص سے شادی کرلی تھی اور وہ دونوں مل کر اب پاکستان میں دہشت گردی منظم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ اس واقعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نہ صرف داعش پاکستان میں متحرک ہے اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے یہاں تخریب کاری منظم کرنے کی کوششیں کررہی ہے بلکہ اس کا سوشل میڈیا کا پروپگنڈا نیٹ ورک بھی مستحکم ہے جو نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لئے مؤثر طریقے سے کام کررہا ہے۔ یہ صورت حال صرف داعش کی کامیابی کا پیغام نہیں دیتی بلکہ اس سے ملک کے تعلیمی نظام اور گھرں کے ماحول کی ناکامی کا پتہ بھی چلتا ہے۔

تین روز قبل مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں نوجوان طالب علم مشعل خان کا بے رحمی سے قتل بھی اس بات کی خبر دیتا ہے کہ ملک کے تعلیمی ادارے طالب علموں کو مہذب اور قانون کا رکھوالا بنانے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ یہ دونوں واقعات ملک کے حکمرانوں کے لئے ایک سنگین وارننگ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جو جنگ لڑی جا رہی ہے ، اسے صرف لوگوں کو مار کر یا جیلوں میں ڈال کر نہیں جیتا جا سکتا۔ اس کے لئے تعلیمی نظام میں دوررس اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کو ایک مہذب معاشرے کی تعمیر میں کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ حکومت اگر موجودہ نظام میں موجود اس کمزوری کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہے اور اصلاح احوال کے لئے فوری مؤثر اقدامات نہیں کئے جاتے تو ایک کے بعد دوسرا فوجی آپریشن شروع کرنے سے نتائیج حاصل نہیں کئے جا سکتے۔

عبدالولی خان یونیورسٹی میں جن نوجوانوں نے مشعل خان کو توہین مذہب کے شبہ میں بے دردی سے ہلاک کیا، وہ اسے بہت بڑی نیکی کا کام سمجھ رہے تھے۔ اسی مزاج کے نوجوان کل کو اس ملک میں ذمہ دار عہدوں پر فائز ہوں گے۔ اسی طرح نورین ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھنے اور خود اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہوئے ، پروپیگنڈا سے گمراہ ہو کر یہ سمجھتے ہوئے داعش میں شامل ہوئی اور دہشت گردی پر تیار ہوگئی کہ یہ راستہ ہی دراصل دین کا راستہ ہے۔ اس صورت میں حکومت اور ملک کے دینی رہنما خواہ کہتے رہیں کہ یہ گمراہی کا راستہ ہے ، جب تک اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لئے عملی اقدامات نہیں کئے جاتے، اور جب تک دین کے نام پر قتل و غارتگری کو جائز قرار دینے کے پیغام کے بارے میں قومی مزاج تبدیل نہیں ہو گا، ملک کو دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی سے محفوظ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

زمرہ جات:  
ٹیگز:   تخت لاہور ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

تف ہے ایسی جمہوریت پر!

- بی بی سی اردو

سڑکوں پربچے جنم دیں

- ڈیلی پاکستان

یادوں کے جھروکے

- سحر نیوز