سپریم کورٹ پاناما کیس کا فیصلہ 20 اپریل کو سنائے گی

خان بچ گیا، کیا پاکستان بچے گا

16 دسمبر 1971 سے 16 دسمبر 2014 تک کا سفر رائیگاں

امریکی ہتھیاروں سے یمنی عوام کا قتل کیا جا رہا ہے،: ترجمان انصار اللہ

انصاف کے دو ترازو کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے: نواز شریف

امریکہ فلسطین میں اسرائیل اور یمن میں سعودی عرب کے ہولناک جرائم میں برابر کا شریک

بیت المقدس سے ذرہ برابر چشم پوشی نہیں کریں گے

اگر ہم نے بیت المقدس کو کھو دیا تو پھر ہم مکہ اور مدینہ کی حفاظت نہیں کرسکیں گے

سعودی عرب کی عالم اسلام کو ایک بار پھر دھوکہ اور فریب دینے کی کوشش

سعودی خواتین کو گاڑی کے بعد موٹرسائیکل اور ٹرک چلانے کی بھی اجازت

ہمارے بیانات کسی بھی طرح ملکی مفاد میں نہیں: چوہدری نثار

ہم پر دباؤ ڈالنے والا ابھی پیدا نہیں ہوا: چیف جسٹس پاکستان

بٹ کوائن کے ذریعہ داعش کی فنڈنگ، پاکستانی دیوبندی خاتون زوبیہ شہناز گرفتار

داعش کے بعد بھی عراق میں تکفیری گروہوں کی سرگرمیوں کا امکان

امریکی روپ دھارے اسرائیلی جاسوس داعش کی مدد کیلئے افغانستان پہنچنا شروع

سعودی شہزادوں کی اوپن ٹرائل کی درخواست

اسلامی بلاک بمقابلہ امریکی بلاک/ مختصر جائزہ

بیت المقدس سے متعلق OIC قرارداد مسلمین عالم کے جذبات کی آئینہ دار: آغا حسن

سعودی عرب نے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے کا اعتراف کر لیا

امریکہ اور اس کے حواری عالم انسانیت کے مجرم ہیں: علامہ مقصود ڈومکی

امام غائب (عج) کو کس نام سے پکاریں؟

یمن سے ریاض پر داغا جانے والا میزائل ایرانی نہیں تھا

اسلامی ممالک صرف بیانات دینے پر ہی اکتفانہ کریں: خطیب جمعہ تہران

ایک سال کی تلاشی کے بعد اپنے حق میں فیصلے پر خوشی ہوئی: عمران خان

نواز شریف کا نظریہ

سعودی حکمرانوں کی اسلام مخالف پالیسیوں پر حریت رہنما کی کڑی تنقید

قدس کے بارے میں ٹرمپ کے فیصلے نے امریکہ کو اکیلا کردیا

82 فیصد فلسطینی سعودیہ پر اعتماد نہیں کرتے؛ سروے

اردغان نے مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لئے امریکی چودھراہٹ کو مسترد کردیا

دہلی میں امریکہ مخالف مظاہرہ

گاجر کے رس کے حیرت انگیز فوائد

روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سرکاری فوج کے مظالم کے انکشافات

تقریریں تو خوب رہیں، نتیجہ ڈھاک کے تین پات

سعودی ولی عہد کو اسرائیل کے دورے کی دعوت

آل خلیفہ اسرائيل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنا کر تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہوجائیں گے

شام میں امریکی فوج کی موجودگی غیر قانونی ہے: روس

مسئلہ فلسطین: اتحاد یا پھر اپنی باری کا انتظار

کراچی : پی ایس 128 میں کالعدم جماعت کی الیکشن مہم، سیکورٹی ادارے خاموش

بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا افغان لڑکیوں کو پاکستان مین دہشتگردی کہ لیے ٹریننگ دینے کا انکشاف

اسرائیل کے قیام پر علامہ اقبال کا بیان

حضرت امام مہدی(عج) کی حوائج کےحصول کے لیےنصیحت

او آئی سی کا ہنگامی اجلاس: مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ

ناقابل قبول عدالتی فیصلہ

پاکستان اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ کام کرنا پر لطف نہیں: امریکی وزیر خارجہ

پاکستان کیلیے امریکی امداد دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی سے مشروط

لگتا نہیں اسمبلیاں مدت پوری کریں گی، ایاز صادق

مذہبی جماعتوں کا ایم ایم اے کی بحالی کا اعلان

ایران کا بیت المقدس کے دفاع کے لئے اسلامی ممالک سے تعاون پر آمادگی کا اظہار

شام میں کردوں، امریکیوں اور داعشیوں کے درمیان تین سمجھوتوں کا راز

یمن میں 8 ملین افراد شدید قحط کا شکار

ٰیروشلم : پہلے مسلمان خود تو اتحاد کر لیں

القدس سے متعلق امریکی اعلان پراوآئی سی کا ہنگامی اجلاس

فلسطینی امن عمل میں امریکا کا کردار ختم ہوگیا: خواجہ آصف

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات

سعودی سلطنت کا مستقبل

ترکی اور روس نے مقبوضہ القدس سے متعلق امریکی اعلان خطرناک قراردے دیا

ملک میں جمہوریت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

پانچ استعفوں پر حکومت گرانے کا خواب

مقام شہادت ایک درجہ کمال ہے، ان کو نصیب ہوتا جو معرفت الہی کے راہی ہوتے ہیں: علامہ امین شہیدی

او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس، وزیر اعظم ترکی پہنچ گئے

ایران اور پاکستان کے درمیان ثقافتی میدانوں میں تعلقات کو فروغ دینے پر تاکید

ایران اور برطانیہ کے تعلقات میں نئے دور کا آغاز

بعض لوگ میری پشت میں خنجر گھونپنا چاہتے تھے

بیت المقدس اور فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے مسئلہ کو فراموش کردیں

ہماری نگاہیں قدس کی جانب ہیں اور قدس کی نگاہیں سید مقاومت کی طرف

سعودی نواز پاکستانی اینکر کا بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کے فیصلے کا دفاع

پاکستانی عدالتیں فوجی حکومتوں کی باقیات ہیں

ٹرمپ نے سعودیہ، مصر اور امارات کے مشورے کے بعد بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا

مسلم عسکری اتحاد اپنی پوزیشن واضح کرے کہ یہ اتحاد کیوں اور کس لئے بنایاگیا،17دسمبر کو ملین مارچ ہوگا امیر جماعت اسلامی

نماز تمام انسانی کمالات کو حاصل کرنے کا وسیلہ ہے

برسلز بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کرتا: موگرینی

2017-04-18 16:42:00

سپریم کورٹ پاناما کیس کا فیصلہ 20 اپریل کو سنائے گی

sc

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ضمنی کاز لسٹ جاری کردی جس کے مطابق پاناما کیس کا فیصلہ 20 اپریل کو سنایا جائے گا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے پاناما کیس کی سماعت کی تھی اور اس کیس کا فیصلہ 23 فروری کو محفوظ کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ پر جاری سپلیمنٹری کاز لسٹ کے مطابق پاناما کیس کا فیصلہ 20 اپریل کو دوپہر دو بجے سنایا جائے گا۔

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس پر درخواستوں کی سماعت مکمل 23 فروری کو مکمل ہوگئی تھی اور جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں قائم 5 رکنی لارجر بنچ نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

جسٹس آصف کھوسہ نے اس وقت کہا تھا کہ فیصلے کا کوئی شارٹ آرڈر جاری نہیں ہوگا، بلکہ تفصیلی فیصلہ ہی جاری کیا جائے گا۔

جسٹس آصف کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ کیس کا فیصلہ مناسب وقت پر سنایا جائے گا اور 20 سال کے بعد بھی لوگ کہیں گے کہ یہ فیصلہ قانون کے عین مطابق تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر 20 کروڑ لوگ ناخوش بھی ہوتے ہیں تو ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں، صرف قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے۔

جسٹس شیخ عظمت کا کہنا تھا کہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے قانون کے مطابق کریں گے، جس نے بھی شور مچانا ہے وہ مچاتا رہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے کاز لسٹ جاری ہونے کے بعد اپنے رد عمل میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ فیصلہ جوبھی آیا قبول کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’20 اپریل کو انصاف جیت جائےگا، کرپشن ہارجائےگی، پرسوں کوئی کام نہیں ہوگا صرف فیصلے کا انتظار ہوگا’۔

شیخ رشید نے کہا کہ فیصلہ جو بھی آئے اس کے لیے تیار ہیں اور اس سلسلے میں کل چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کریں گے۔

واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ جو بھی آئے گا وہ اسے تسلیم کریں گے۔

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ ملکی تاریخ میں اہم ترین فیصلہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ’57 روز کے انتظار کے بعد فیصلہ آرہا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ فیصلے سے ملک کو فائدہ پہنچے گا’۔

پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق نے دعویٰ کیا کہ ’20 اپریل کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے نوازشریف جیسا کرپٹ کردار الگ کردیا جائے گا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘سپریم کورٹ کا فیصلہ حق اورسچ کی ترجمانی کرے گا، 20 اپریل کوحق کی فتح اورجھوٹ خاک آلود ہوگا اور 20 اپریل ملکی تاریخ کا سنہرا دن ثابت ہوگا’۔

پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ پانامہ کیس کے فیصلے میں بلی تھیلے سے باہر آنی چاہیئے اور وہ عوام کی خواہشات کے مطابق باہر آئے گی، ہماری خواہش ہے کہ فیصلہ عوامی توقعات کے مطابق آئے۔

وزیراعظم کی نااہلی کا سوچنے والے احمق

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے ڈان نیوز کے پروگرام نیوز وائز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘ وزیراعظم کی نااہلی کا سوچنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں’۔

عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ ‘ پاناما کیس میں وزیراعظم نواز شریف کا نام ہی نہیں لیکن بہت سے لوگوں کی خواہش ہے کہ وزیراعظم نااہل ہوجائیں’۔

ن لیگ کے ایک اور رہنما طلال چوہدری نے اپنے رد عمل میں استفسار کیا کہ ‘وزیراعظم کے خلاف فیصلہ کیوں آئے گا؟’

طلال چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے استثنیٰ حاصل ہونے کے باوجود خود کوعدالت کے سامنے پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘جس شخص کا نام پاناما پیپرز میں نہیں اس کے خلاف فیصلہ آنے کاامکان نہیں’۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بننے والا پانچ رکنی نیا لارجر بینچ 4 جنوری سے پاناما کیس پر درخواستوں کی سماعت کررہا تھا، بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن شامل ہیں۔

31 جنوری کو ہونے والی سماعت کے بعد لارجر بینچ کے رکن جسٹس شیخ عظمت سعید کو دل کی تکلیف کے باعث سماعت ملتوی کردی گئی تھی جس کا دوبارہ سے آغاز پندرہ روز بعد (15 فروری) سے ہوا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں۔

سپریم کورٹ نے 20 اکتوبر 2016 کو وزیراعظم کے خلاف دائر درخواستوں پر وزیراعظم نواز شریف، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) صفدر، بیٹوں حسن نواز، حسین نواز، ڈی جی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی تھی، بعد ازاں اس کی سماعت کے لیے یکم نومبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔

گذشتہ سال اپریل میں بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے ‘آف شور’ مالی معاملات عیاں ہو گئے تھے۔

پاناما لیکس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح دنیا بھر کے امیر اور طاقت ور لوگ اپنی دولت چھپانے اور ٹیکس سے بچنے کے لیے بیرون ملک اثاثے بناتے ہیں۔

صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگٹیو جرنلسٹس (International Consortium of Investigative Journalists) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل تھا جس میں درجنوں سابق اور موجودہ سربراہان مملکت، کاروباری شخصیات، مجرموں، مشہور شخصیات اور کھلاڑیوں کی ‘آف شور’ کمپنیوں کا ریکارڈ سامنے آیا تھا۔

ان دستاویزات میں روس کے ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا، آئس لینڈ کے وزیراعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت چین، ملائیشیا، ارجنٹائن اور یوکرائن کے اہم رہنماؤں سمیت 140 سیاستدانوں اور عوامی افسران کے نام شامل تھے۔

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

ٹرمپ فیصلہ واپس لیں گے؟

- ایکسپریس نیوز

جمہوریت کا حسن

- ایکسپریس نیوز

عبداللہ چانڈیو کی کتھا

- ایکسپریس نیوز

ایک اہم سوال کا جواب

- ایکسپریس نیوز

لہو لہو دسمبر…

- ایکسپریس نیوز