پانامہ لیکس فیصلہ: کیا ن لیگ تشدد کی راہ اختیار کرے گی؟

حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین عالمی دہشت گرد قرار

نوازشریف سانحہ پاراچنارپرخاموش کیوں ہیں؟

بیعت سے انکار کی خبر نشر کرنے پر سعودی حکومت نے ٹی وی چینل بند کردیا

ڈونلڈ ٹرمپ کا سفری پابندیوں کا حکم نامہ جزوی طور پر بحال

پاراچنار میں دہشت گردوں کے بم دھماکے میں شہداء کی تعداد 72 تک پہنچ گئی

نیشنل ایکشن پلان میں وفاق کی غیر سنجیدگی تازہ دہشتگردی کا سبب ہے: وزیراعلیٰ سندھ

پانامہ کیس:‌کیا کیپٹن صفدر نواز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے؟

ہمارے دماغ میں بسی داعش

میں 2 سال سے بول رہا تھا ملک میں داعش موجود ہے، رحمان ملک

ایران کا قطر کی بھرپور حمایت کا اعلان

عیدالفطر آج مذہبی جوش وجذبے کے ساتھ منائی جائے گی

حضرت آیت اللہ سیستانی کے دفتر سے جاری اعلان کے مطابق برطانیہ میں یکم شوال بروز سوموار کو ہوگی

تصاویر : بہاولپور میں قیامتِ صغریٰ کے مناظر

قطر نے آل سعود کے تمام تر مطالبات مسترد کردیے

تسنیم نیوز : بات صرف آرمی چیف سے یا نواز شریف سے؛ ورنہ دھرنا جاری + تصاویر

مسئلہ فلسطین ، آغاز سے اب تک ~ نذر حافی

تصاویر: الوداع الوداع ماہِ رمضان، لوگ عبادتِ پروردگار میں مگن

قطر یا سعودی عرب، امریکا یا روس؟ پاکستان کس کس کو راضی کرے گا

 اتحادی حیثیت ختم کرنےکیلئےامریکی بل: پاکستان کے پاس امریکی چنگل سے نکلنے کا سنہرا موقع

دنیا اس بات کو تسلیم کرے کہ پاکستان دہشت گردی کےخلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے، چینی وزارت خارجہ

بہاولپور: آئل ٹینکر میں آتشزدگی، 135افراد ہلاک

امریکہ افغانستان میں داعش کو مسلح کر رہا ہے: روس

محمد بن سلمان کو ولی عہد بنائے جانے پر سعودی شہزادوں کی مخالفت

مسجد الحرام میں حملے کا منصوبہ ناکام، خودکش حملہ آور ہلاک

پاراچناردھماکے: شہادتیں 67 ہو گئیں

قطر نے عرب ممالک کے مطالبات کو ’غیر حقیقی‘ قرار دیا

پاکستان کا نان نیٹو اتحادی درجہ ختم کرنے کیلئے امریکی کانگریس میں بل پیش

سعودی عرب میں ایران پر جنگ مسلط کرنے کی ہمت نہیں: سید حسن نصر اللہ

سعودی خاندان میں مخملی بغاوت؛ سعودیہ کے جوان ولی عہد کیسے تختِ ولی عہدی تک پہنچ گئے

نواز شریف کی جھوٹی ثالثی: سعودی سفیر نے نواز شریف کے جھوٹ کا پول کھول دیا

ایک اور خون سے رنگی عید: پاکستانی قوم نوحہ خواں

عراق کی تقسیم اسرائیل کا اہم ترین ایجنڈا ہے ، ایران

سعودیہ: مسجد الحرام میں حملے کا منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ

عالمی یوم القدس کے موقع پر قبلہ اول کی آزادی کے لیے ملی یکجہتی کونسل کی مشترکہ ریلی کا انعقاد

قطر میں فوجی اڈے ختم کئے جانے کی درخواست ترکی کے امور میں مداخلت ہے : ترکی

نہایت اطمینان کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ بغدادی مارا گیا ہے: روس

پارا چنار: 2 بم دھماکے، 30 افراد شہید، 100 زخمی

عرب ریاستوں نے تنازع ختم کرنے کیلئے قطر سے 13 مطالبات کردیے

کیا سرفراز نے شاہ رخ خان کو بھی شکست دیدی؟

تصاویر: تہران میں یوم قدس کے موقع پر عظیم ریلی

مسئلہ فلسطین دنیائے اسلام کا سب سے پہلا اور اہم مسئلہ ہے

کوئٹہ: بم دھماکے میں 15 افراد جاں بحق

 اسلامی ممالک کی تقسیم کا منصوبہ: کیا نئے سعودی ولی عہد کی تعیناتی کے احکامات واشنگٹن سے آئے؟

 چوروں کا گٹھ جوڑ: کیا پی پی پی اور نواز لیگ کے مابین پانامہ لیکس پر خفیہ ڈیل طے پا گئی ہے؟

جرمنی جلد ہی اسلامی ریاست بن جائے گا، جرمن چانسلر انجیلا مرکل کا بیان ، دنیا بھر میں کھلبلی

دہشت گرد تنظیم داعش کو بارودی مواد فراہم کرنے والا بھارت دوسرا بڑا ملک ہے، یورپی رپورٹ

محمد بن سلمان کی ولی عہدی اسرائیل کے لئے نیک شگون ہے

جامع مسجد النوری کی شہادت داعش کا اعتراف شکست ہے

چاند یا مریخ کا رخ نہ کیا تو 30 سال میں انسانی آبادی ختم: سٹیفن ہاکنگ

اسرائیل، مسلم امۃ کا حقیقی دشمن ہے: تحریک انصار اللہ

سعودی عرب میں اقتدار کی رسہ کشی

کلبھوشن یادیو نے آرمی چیف سے رحم کی اپیل کردی

اگر بیت المقدس کی آزادی سعودی اتحاد کے ایجنڈے میں شامل نہیں تو آرمی چیف راحیل شریف کو فوری واپس بلائیں : علامہ راجہ ناصرعباس

سعودی عرب علاقائی و عالمی دہشتگردی کا اہم اسپانسر ہے: پروفیسر آئیرش یونیورسٹی

پاکستان ڈرون حملے برداشت نہیں کرے گا

پاک ایران گیس منصوبہ 2 سال میں مکمل ہوجائے گا: آصف درانی

جنگل میں منگل: تاریخ رقم ، پیسہ ہضم

جنگی جنون میں مبتلا شہزادہ ولی عہد مقرر:  مشرق وسطی کو جنگ میں دھکیلنے کا سعودی منصوبہ

وہابیت بمقابلہ اخوان المسلمین / قطر کے بحران میں اہلسنت کا پرانا زخم تازہ

داعش کے مفتی اعظم کی ہلاکت کی تصدیق

حامد کرزئی نے سعودیہ کا دل توڑ دیا

وہابی دہشت گردوں نے موصل کی نوری مسجد کو شہید کردیا

زکوۃ کے احکام

قطر کا پابندیوں کی صورت میں سعودی عرب سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان

سعودی عرب میں ولی عہد کے خلاف بغاوت + تصویر اور ویڈیو کلیپ

راحیل شریف ذاتی حیثیت میں نام نہاد اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کیلیے گئے، سرتاج عزیز

سعودی عرب کے نئے ولیعہد کا ایران کے خلاف اعلان جنگ

محمد بن نائف برطرف: سعودی عرب کے ڈکٹیٹر بادشاہ نے ولی عہد کو برطرف کرکے اپنے بیٹے کو ولی عہد بنادیا

سخت پالیسی کا عندیہ: ٹرمپ انتظامیہ پاکستان پر برہم کیوں؟

قدس کا عالمی دن، صہیونیوں کی آنکھ میں چھبتا ہوا کانٹا

2017-04-20 01:21:37

پانامہ لیکس فیصلہ: کیا ن لیگ تشدد کی راہ اختیار کرے گی؟

17992260_1799949573665275_1045592478168846360_n-768x517

پاناما کیس کا فیصلہ سامنے آنے سے پہلے ملک میں ہیجان کی کیفیت طاری ہے۔ یہ صورت حال پیدا کرنے میں ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے والے سیاستدانوں کے علاوہ میڈیا نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

پاکستانی الیکٹرانک میڈیا پر یوں تو گزشتہ ایک برس کے دوران پاناما پیپرز کے معاملہ کو لے کر بال کی کھال اتارنے کا کام احسن طریقے سے کیا گیا ہے۔ لیکن کل سپریم کورٹ کی طرف سے یہ اعلان سامنے آنے کے بعد کہ اس مقدمہ کا فیصلہ آج دن کے دو بجے سنا دیا جائے گا، قیاس آرائیوں، اندازوں اور تبصروں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ یوں تو یہ ساری سرگرمی عوام کو صورت حال کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے نام پر کی جا رہی ہے لیکن اس کھینچا تانی میں سنسنی اور اشتعال کا ایک ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے جس نے عوام میں شدت پسند رویوں کو مزید راسخ کیا ہے۔ ایک طرف حکومت کی ساری توجہ اس ایک مقدمہ کی طرف مبذول رہی ہے تو میڈیا کی غیر ضروری کوریج کی وجہ سے مقدمہ کی سماعت اور فیصلہ لکھنے کے دوران سپریم کورٹ کے ججوں کو بھی سکون سے کام کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ اگرچہ کوئی ماہر قانون سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینے کے لئے تیار نہیں ہے لیکن میڈیا کے پاس بعض مبصر اورایسے اینکر حضرات موجود ہیں جو ججوں کے دلوں کا حال اور سایست دانوں کے خلوت کدوں میں ہونے والی گفتگو کی تفصیل بتانے پر قادر ہیں۔

اسی مقابلہ بازی میں ایک نان اشو پر لوگوں کے جذبات کو غیر ضروری طور پر بھڑکایا جارہا ہے۔ مقدمہ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد، عدالت کا فیصلہ خواہ کچھ بھی ہو، ملک و قوم کی بہتری اسی میں ہوگی کہ اس معاملہ پر اشتعال انگیزی اور غیر ضروری سنسنی خیزی سے گریز کیا جائے۔

اس معاملہ میں سیاست دانوں نے بھی ملک و قوم کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ معاملہ کی تفصیلات پر نت نئے اور یک طرفہ تبصرے اور دعوؤں سے بدگمانی اور بد اعتمادی کی فضا قائم کی گئی ہے۔ خاص طور سے مقدمہ کی سماعت کے دوران ایک طرف وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمہ دائر کرنے والے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے اور دوسری طرف وزیر اعظم کی حمایت میں کابینہ کے وزیروں اور مشیروں کی روزانہ کی بنیاد پر میڈیا سے دنگل نما گفتگو نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس طرح ایک طرف لوگوں کو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ وزیر اعظم کو نااہل قرار دے تو اس ملک میں بد عنوانی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس دعویٰ کو کم از کم بھی صدی کا سب سے بڑا جھوٹ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر نواز شریف یا ملک کے دیگر سیا ستدان ، سرکاری عہدیدار یا فوجی بدعنوانی کا شکار ہوئے ہیں تو وہ ایک ناقص اور کمزور نظام کی وجہ سے ایسا کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ یہ نظام طاقتور کو کٹہرے میں لانے اور سزا دلانے کا اہل نہیں ہے۔ ماضی میں ملک میں احتساب کرنے کے متعدد ادارے سامنے آچکے ہیں لیکن بالآخر ان میں سے ہر ادارے کو ناکارہ قرار دیا گیا۔

اسی طرح گزشتہ تین چار دہائیوں میں درجنوں سیاستدانوں پر کرپشن کے الزام میں مقدمات قائم ہوئے لیکن ملک کا عدالتی نظام کسی ایک کو بھی سزا دینے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اب اگر ایک خاص طرح کے سیاسی ماحول کی وجہ سے ملک کے وزیر اعظم کو بدعنوانی کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے تو یہ نظام کی کامیابی نہیں ہوگی۔ بلکہ یہ واضح ہوگا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت بھی میرٹ پر فیصلہ کرنے کی اہل نہیں ہے۔ وہ بھی ملک کے معروضی سیاسی ماحول سے متاثر ہوتی ہے اور ایک خالص سیاسی معاملہ کو ایک ٹھوس بدعنوانی کے مقدمہ کے طور پر قبول کرکے اور وزیر اعظم کو نااہل قرار دے کر ملک کے پاور اسٹرکچر میں اپنی اہمیت اجاگر کرنا چاہتی ہے۔ اس طرح کے فیصلہ سے نواز شریف تو گھر چلے جائیں گے لیکن بدعنوانی کا خاتمہ ایک خواب ہی رہے گا۔ اب تک ملک کے عوام فوج کی آئین شکنی کا شکوہ کرتے تھے اور سیاستدان اس سے خوفزدہ رہتے تھے ، وزیر اعظم کو معزول کرنے کے فیصلہ سے عدلیہ کو بھی خوف کا وہی مقام حاصل ہو جائے گا۔ یہ کسی طرح بھی نظام کی کامیابی نہیں ہوگا۔ بلکہ ایک نئے ادارے کی طرف سے طاقت کے کھیل میں شامل ہونے کا اعلان نامہ ہوگا۔

اس کے برعکس اگر سپریم کورٹ نواز شریف کو کسی نہ کسی طرح قصوروار قرار دینے میں ’ناکام‘ رہتی ہے تو بظاہر سارے مدعین اس فیصلہ کو قبول کرلیں گے لیکن جلد ہی ایسے تبصرے سامنے آنا شروع ہو جائیں گے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت بھی انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہے اور یہ کہ عدالتوں نے کبھی نواز شریف کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ ایک سیاسی ہتھکنڈے میں اس ناکامی کو عوام میں مایوسی پھیلانے کے لئے استعمال کیا جائے گا تاکہ اس کا سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ملک میں قائم کی گئی موجودہ فضا میں سب لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ مقدمہ کے فیصلہ کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں اور یہ کہ صدیوں تک یاد رکھا جانے والا فیصلہ سامنے آنے کو ہے۔ لیکن درحقیقت ہر شخص اپنی صوابدید اور ضرورتوں کے مطابق پاناما کیس کے مقدمہ کا فیصلہ کرچکا ہے۔ اب کل عدالت کی طرف سے سامنے آنے والے فیصلہ کو اس ’طے شدہ‘ فیصلہ کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔ اگر یہ اس معیار کے مطابق یا اس کے قریب ہؤا تو اسے قوم و ملک کی خوش قسمتی اور عدالت کی خود مختاری سے تعبیر کیا جائے گا۔ تاہم یہ فیصلہ جس شخص یا گروہ کے پہلے سے وضع کردہ معیار کے مطابق نہ ہؤا، وہ اسے ملک کے لئے تاریک باب قرار دیتے دیر نہیں لگائے گا۔ دونوں قسم کی آراء ظاہر کرنے والوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ نہ اس قوم کے سفر میں حرف آخر ہو سکتا ہے اور نہ ایک وزیر اعظم کی معزولی سے بدعنوانی اور کرپشن کا مزاج بدل جائے گا۔ یہ کام نئے ناموں اور نئے طریقوں سے جاری رہے گا۔ ملک میں جس تبدیلی کی بات کی جاتی ہے ، وہ عدالتی فیصلوں یا الزام تراشیوں کے ذریعے نہیں، عوام میں سیاسی شعور بیدار کرنے اور انہیں جمہوری عمل میں دیانتدارانہ کردار ادا کرنے کے لئے تیار کرنے کے ذریعے ہی آسکتی ہے۔

ملک کے تمام سیاست دانوں اور میڈیا کے تمام نمائیندوں کو یہ بات خود بھی سمجھنی چاہئے اور لوگوں کو باور کروانے کے علاوہ اس کے لئے مسلسل کام کرنے کے لئے بھی پر عزم ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ پاناما کیس کے حوالے سے جو غیر معمولی ہیجان پیدا کیا گیا ہے، اسے فیصلہ سامنے آنے کے بعد ختم کرنے اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کے رویہ کو عام کرنے کی ضرورت ہوگی۔ بدقسمتی سے حکومت میں شامل سیاستدان اور اپوزیشن رہنما معاملہ کا یہ پہلو سمجھنے اور اس کے مطابق حکمت عملی بنانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس وقت سب دھڑوں کے لئے کسی بھی طرح اقتدار پر قابض رہنا یا اسے کسی بھی طرح حاصل کرنا ہی مقصود ہے۔ حالانکہ سیاسی جماعتوں کا مطمع نظر ایک خاص ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لئے اقتدار کا حصول ہونا چاہئے۔ اس وقت ملک کی سیاسی پارٹیوں کے ایجنڈے کا نکتہ نمبر1 مخالف سیاستدان کوزیر کرنا ہے۔ کسی کے پاس فلاح اور تبدیلی کا کوئی ایسا پروگرام نہیں ہے جس پر عمل کرنے کے لئے اسے اقتدار کی ضرورت ہو۔ البتہ سب پارٹیوں کے پاس اپنی اپنی شخصیتوں کے بت ضرور ہیں ، جنہیں اقتدار میں لاکر مسائل حل کردینے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اس کھیل میں ملک پر حکومت کرنے کی کئی کئی باریاں لینے والی پارٹیاں بھی شامل ہیں اور اب اپنا حصہ مانگنے والی نئی پارٹیاں بھی زور شور سے شریک ہونے کا اعلان کررہی ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی قومی اصلاح کے کسی ایجنڈے کو نافذ کرنے کی نہ تو صلاحیت رکھتا ہے اور نہ ہی اس کے لئے کام کرنا چاہتا ہے۔ اسی لئے معاشرہ کو انتشار سے بچانے، بنیادی امور پر اتفاق رائے پیدا کرنے اور ملک کی تعمیر کے لئے کام کرنے کی بجائے شخصیت پرستی کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ دوسرے کی ہر بات کو مسترد اور اپنی ہر بات کو قوم کی تقدیر بدلنے کی کنجی قرار دینے کا رویہ عام ہے۔

اسی مزاج کی وجہ سے پاناما کیس کا فیصلہ آنے سے پہلے وزیر اعظم کے حامیوں نے ایسے اشتہارات شہروں میں آویزاں کئے ہیں جن سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اگر وزیر اعظم کے خلاف کوئی فیصلہ آیا تو ان کے حامی قیامت برپا کردیں گے اور ملک میں خون کی ندیاں بہنے لگیں گی۔ مرکز اور ملک کے سب سے بڑے صوبے میں حکومت کرنے والی پارٹی کی طرف سے یہ طرز عمل شرمناک حد تک افسوسناک ہے۔ اسی طرح مخالفین کی طرف سے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے حامیوں کو یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ فیصلہ آنے تک یا اس کے فوری بعد کوئی بھی ’انہونی‘ ہو سکتی ہے۔ نواز شریف اقتدار بچانے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اس لئے اپنی حفاظت کا خیال رکھا جائے اور زیادہ نقل و حرکت سے گریز کیا جائے۔ ایسے اشتہار اور بیان ملک کے لوگوں کی پریشانی بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کو مل جل کر اس ماحول کو بدلنے اور ملک کے جمہوری اور سیاسی نظام پر اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ہر نمائیندے کا احترام واجب ہے۔ اسی طرح جمہوریت کے تقاضے پورے کئے جا سکتے ہیں۔ تب ہی لوگ ووٹ ڈالنے کو اپنے اور ملک کے لئے ضروری تصور کریں گے ۔
پاناما کیس کا فیصلہ اہم ہوگا لیکن اسے بنیاد بنا کر ملک کے عوام کو تقسیم کرنے کی کوششیں ملک و قوم کے مفاد کے برعکس ہوں گی۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو قانون کے تناظر میں نئی راہیں متعین کرنے کے لئے استعمال کیا جائے تاکہ ملک کا جمہوری نظام مستحکم ہو سکے، جس میں خود مختار عدلیہ کا کردار بھی اہم اور غیر متنازعہ ہونا چاہئے۔

سید مجاہد علی

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

یادوں کے جھروکے

- سحر نیوز