zaka 
پاکستانی مشہور سوشل میڈیا ورکر وقار ذکاء نے شام کے مختلف شہروں کا دورہ کیا ہے اور بہترین ویڈیوز بنا کر بعض حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔
 

بی بی سی اور سی این این جیسے ٹی وی چینلز کی جانب سے شام سے متعلقہ جھوٹی ویڈیوز چلائے جانے کے بعد وقار ذکاء نے فیصلہ کیا کہ خود جا کر حقائق کی جانچ پڑتال کرے۔ وقار کے فیس بک پیج کے تقریبا ایک ملین فالورز ہیں۔ وقار نے خان شیخون جا کر لوگوں سے ملاقات بھی کی ہے جہاں دعوی کیا گیا ہے کہ شامی حکومت نے مبینہ کیمیائی گیسس استعمال کی ہے۔ خان شیخون میں ایک شخص عبد الحمید ہے کہ جس کے خاندان کے ۳۹ افراد کیمیائی حملے میں مارے گئے۔ عبد الحمید کا کہنا ہے کہ یہ کیمیائی حملہ دہشت گرد گروہ داعش کی جانب سے ہوا ہے۔

وقار ذکاء نے اپنے شام کے سفر کا نتیجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ بی بی سی اور سی این این بشار کو ڈکٹیٹر کے طور پرر متعارف کرواتے ہیں جبکہ یہ چینلز عوام کو دھوکہ دیتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ شام کے لوگوں کو بشار اسد سے کوئی مشکل نہیں ہے بلکہ عوام بشار اسد کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

وقار ذکاء کا ایک خیراتی ادارہ بھی ( وقار ذکا فاونڈیشن ) کے نام سے کام کرتا ہے جس کے ذریعے وقار لوگوں سے پیسے اور مختلف اشیا جمع کرتا ہے تا کہ شام کے لوگوں تک امداد پہنچا سکے۔