مفادات کی جنگ اور اصولوں کا جنازہ

گیس پائپ لائن پر پاکستان کے جواب کا انتظار کررہے ہیں: ایرانی وزیر تیل

نواز شریف بہت خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں: خورشید شاہ

سعودیہ، مغربی صحافیوں کو خریدنا چاہتا ہے

حج سیکورٹی اسرائیلی کمپنی کے ہاتھ

نوازشریف آؤٹ، کلثوم نواز ان

دہشت گردی، برقع اور مسلمان

قطر کا سعودی ائیر لائنز کی حج پروازوں کو دوحہ میں اُترنے کی اجازت دینے سے انکار

سپیکر قومی اسمبلی کا جسٹس آصف سعید کیخلاف ریفرنس ایک معمہ, اصل کہانی سامنے آگئی

استعفے کی وجوہات بیان کیں تو پارٹی کو نقصان ہوگا، چوہدری نثار

 کیا بھارت محمود اچکزئی کو خرید چکا ہے؟

حیدرآباد سے ایک اور لڑکی داعش میں شامل

بحرین کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ کی باتیں کس حد تک سنجیدہ ہیں؟

راحیل شریف پاکستان میں 3 سالہ حکومت قائم کرکے احتساب کریں گے: پاکستانی میڈیا

نواز شریف اور اہل خانہ کا نیب کے سامنے پیشی سے انکار توہین عدالت ہے: علامہ ناصر عباس جعفری

ایران اور عراق کے مشترکہ مفادات کے خلاف موقف اختیار نہیں کریں گے: مقتدی صدر

وزیرآباد میں آج ہونے والا نواز شریف کا جلسہ کیوں منسوخ کر دیا گیا؟

چودھری نثار، پرویز رشید کی لفظی جنگ نے لیگی قیادت کو پریشان کر دیا

تفتان بارڈر پر زائرین کیساتھ بدترین سلوک انسانیت کی تذلیل اور ناقابل برداشت ہے

عراقی وزیر اعظم نے تلعفر کو آزاد کرانے کا حکم صادر کردیا

امریکا میں نسل پرستی کے خلاف ہزاروں افراد کی ریلی، پولیس سے جھڑپیں

شریف خاندان آج بھی نیب میں پیش نہ ہوا

پاکستان امریکہ کا کوئی ڈومور مطالبہ قبول نہیں کرے گا

سعودی حکومت یمن جنگ میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے باوجود شکست سے دوچار ہے

سعودی عرب نفسیاتی محاصرے سے باہر نکلنے کے لئے اب عراق کا سہارا لے رہا ہے

شریف برادران کی فطرت میں ہے کہ وہ سیدھی بات کرنے والےکو پسند نہیں کرتے

مسجد اقصیٰ آج بھی جل رہی ہے!

شام،لبنان تعلقات لازوال ہیں، شام پر صہیونی جارحیت کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا: شامی سفیر

دہشتگردی کا کسی بھی نسل یا مذہب سے کوئی تعلق نہیں: ایران

امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے دہشت گردوں کو کیمیائی ہتھیار فراہم کئے

نوازشریف نے آئین و قانون کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا ہے: شیخ رشید

عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی باضابطہ کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ

دبئی کے حکام کی ابوظہبی سے آزادی کے لئے منصوبہ بندی شروع

سپین میں دولت اسلامیہ کی دہشت گردی

مقبوضہ کشمیر کوفلسطین بنانے کی سازش

بدلتے پاکستان کی مزاحمت

قطری حاجیوں کی سلامتی کے معاملے پر تشویش ہے: شیخ محمد بن عبدالرحمان ثانی

میڈرڈ سے مانچسٹر تا بارسلونا: دہشت گردانہ واقعات کا سلسلہ

سعودی عرب کی قطر پر مہربانی کا آغاز کیوں ہوا؟

ن لیگ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان کا فیصلہ

خاص خبر: ڈان لیکس پر فارغ پرویز رشید کے سنسنی خیز انکشاف

سعودی بادشاہ کے خرچ پرقطری شہریوں کے حج کی مخالفت

ہارٹ اٹیک سے 1 ماہ قبل سامنے آنے والی علامات

زائرین کی توہین ناقابل برداشت عمل ہے حکومت و ریاستی ادارے پاکستانی زائرین کے مسائل حل کریں: شیعہ علماء کونسل پاکستان

اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے پر نواز شریف کا واویلا چور مچائے شور کے مصداق ہے: علامہ ناصرعباس جعفری

شایک اور نیو لبرل نواز شریف کا طبلچی – عامر حسینی

شکریہ پاکستانی حکمرانوں : ہر پاکستانی تقریباً 95,000 روپے کا مقروض ہے، وزارتِ خزانہ

پاکستان نے پاک ایران سرحد پر گیٹ تو تعمیرکر دیا لیکن زائرین کی مدد کے حوالے سے کچھ نہ ہو سکا

مجھے کیوں نکالا گیا؟

شفقنا خصوصی: امریکہ تحریک کشمیر کو دبانے کے لیے کس طرح بھارت کی مدد کر رہا ہے؟

یمن جنگ طویل ہونے کی اصل وجہ، منصور ہادی ہیں

میرا ساتھ دو میں انقلاب لاؤں‌گا

قطر اور سعودی عرب کے درمیان گذشتہ 6 برس سے جاری جنگ کہاں لڑی جا رہی ہے؟

زرداری نواز مڈھ بھیڑ اور بیچاری جمہوریت

بارسلونا میں دہشت گردی، داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

نوجوان داعش سے منسلک تنظیموں سے بہت زیادہ محتاط رہیں، سربراہ پاک فوج

حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قراردینے پرپاکستان کی مایوسی

مسئلہ کشمیر اور مودی کی سیاست

چوہدری نثار کے پارٹی کے قائم مقام صدر کے انتخاب کے طریقہ کار پر شدید تحفظات

نواز شریف اور ان کے خاندان کو آئندہ سیاست میں نہیں دیکھ رہا: آصف زرداری

ترکی اور ایران کی عراقی کردستان میں ریفرنڈم کی مخالفت

آل شریف کا اقتدار اور پاکستان کی سلامتی کولاحق خطرا ت

 خفیہ ڈیل: کیا ن لیگ آصف زرداری کو صدر بنا رہی ہے؟

ظہران، سعودی عرب میں موجود مذہبی تضادات کا منہ بولتا ثبوت

جماعت الدعوہ کا سیاسی چہرہ

ٹرمپ نے امریکا میں نسل پرستی کی آگ پر تیل چھڑک دیا

چین اور بھارتی افواج میں جھڑپ، سرحد پر شدید کشیدگی

ماڈل ٹاؤن کیس میں شریف برادران کو ہر صورت پھانسی ہو گی: طاہرالقادری

کیا سعودیہ یمن جنگ سے فرار کا رستہ ڈھونڈ رہا ہے؟

نوازشریف کاسفر لاہور

پاکستان میں جاری دہشتگردی کا تعلق نظریے سے نہیں بلکہ پیسوں سے ہے۔ وزیراعلی بلوچستان

2017-05-30 14:20:47

مفادات کی جنگ اور اصولوں کا جنازہ

Nazar-Hafi11

عرب ممالک اور پاکستان دینی رشتے میں منسلک ہیں، ان کے آپس میں  گہرے روابط پائے جاتے ہیں، ان کے عوام ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اس طرح کے جملے جتنے بھی لکھے جائیں ان کے لکھنے سے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آجائے گی۔

مثلا اگر ہم  سارا دن بیٹھ کر چینی ، چینی، چینی کہتے رہیں تو اس سے ہمارا منہ میٹھا نہیں ہو جائے گا۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ریاض کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان اور ملت پاکستان  کے ساتھ جو ہوا وہ انتہائی برا ہوا لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہمیں سچائی کو چھپانے کے بجائے عیاں کرنا چاہیے اور اپنے ملک کی پالیسیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ 

عرب ممالک  کی کسی سے نہ ہی تو دینی و مسلکی دوستی ہے اور نہ  ہی اس بنیاد پردشمنی، اگر آپ کو یقین نہ آئے تو خود سوچ لیں کہ کیا  امریکہ اور اسرائیل کا عرب ممالک کے ساتھ دین یا مسلک مشترک ہے، نہیں ہر گز نہیں تو پھر یہ دوستی کیوں !؟ صاف ظاہر ہے کہ مفادات کی دوستی ہے۔

اسی طرح کیا پاکستان کو ریاض کانفرنس میں نظر انداز کرنا ، پاکستان  اور کشمیر کا ذکر نہ کرنا، دینی یا مسلکی اختلافات کی وجہ سے تھا!؟

نہیں ہر گز نہیں بلکہ یہ سب  موقع و مناسبت کے لحاظ سے   عرب ممالک  کے مفادات کے خلاف تھا۔

ہم ہیں کہ مسلمان ہونے کی بنیاد پر  مسئلہ کشمیر پر اپنی امیدیں عربوں سے لگائے بیٹھے ہیں ، اورسعودی عرب کی پالیسی دیکھ لیجئے کہ اس نے عالمی فوجی اتحاد کا کمانڈر تو پاکستان سے منگوایا لیکن اس فوجی  اتحاد کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر کے علاوہ باقی سب کچھ ہے۔

ایسا فوجی اتحاد جس کا کمانڈر تو پاکستانی ہے لیکن اس کے ایجنڈے میں کشمیر نہیں، کیوں کیا سعودی مسلک اس سے منع کرتا ہے ، نہیں بلکہ سعودی  حکومت کے مفادات کو اس سے نقصان پہنچتاہے۔

جس طرح گزشتہ دنوں ٹرمپ کا ریاض میں شاندار استقبال کیا گیا ہے ،آپ خود بتائیں یہ کتنی بڑی اور اہم کانفرنس تھی ، صرف سعودی عرب سے ہی گلہ کیوں!؟ دیگر مقررین کی خبر بھی لیجئے ، کیا  اس کانفرنس میں  دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی خدمات کے حوالے سے کسی ایک مقرر نے بھی کوئی  ایک لفظ  بولا، کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے فرنٹ لائن اتحادی پاکستان کو بھارت کی طرف سے دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے !کیا انہیں ان کے مسلک نے بھارت کے خلاف بولنے سے روکا تھا!

نہیں ہر گز نہیں بلکہ بھارت کے خلاف بولنا ان کے حکومتی مفادات کے خلاف تھا۔

اچھا  ٹھیک ہے کہ  وزیر اعظم پاکستان کو خطاب کا موقع نہیں دیا  گیا اور  پوری کانفرنس میں پاکستان کا ذکر تک نہیں کیا گیا لیکن  مجال ہے کہ  کسی  مقررنے کوئی ایک لفظ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے بارے میں ہی کہا ہو یا پاکستان کے بارڈرز پر بھارت کی گولہ باری  کے بارے میں کچھ کہاہو۔

سوچنے کی بات ہے کہ ایسا کیوں ہوا!؟ کیا ان  کے دین یا مسلک نے انہیں روکا تھا یا ان کے  حکومتی مفاد میں نہیں تھا۔

یاد کیجئے   ۱۹۵۶ ء   کا وہ دن  جب  مسئلہ کشمیر پوری آب و تاب کے ساتھ منظر عام پر  تھا اور پاکستانی مسلمان کشمیر کی آزادی کے لئے سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے  تو  ایسے میں  جواھر لال نہرو نے  سعودی عرب کا دورہ کیا۔

اس وقت بھی  سعودی حکومت نے نہرو کا شاندار اور پرتپاک  استقبال  کیا اور  ” مرحبا یا رسول الاسلام ” کے نعرے لگائے۔

اس واقعے کے اگلے روز “روزنامہ ڈان ” نے  نہرو کو رسول الاسلام  کہنے پر سعودی حکومت کی مذمت کرتے ہوئے اس واقع پر اظہار افسوس کیا۔

اگلے دن  سعودی عرب کی ایمبیسی نے اس کی یہ توجیہ پیش کی کہ اس سے مراد امن کا پیامبر ہے ،جس کے جواب میں روزنامہ ڈان نے لکھا کہ لاکھوں ہندوستانی ا ور کشمیری مسلمانوں کا قاتل سعودی عرب کے لئے امن کا پیامبر کیسے بن گیا ہے۔۔۔۔اور یہ بھی لکھا  کہ پاکستانی مسلمان بخوبی جانتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے: دین اسلام کے ظہور کے بعد یہ اصطلاح پیامبر اسلام  سے مخصوص ہے۔

آپ  نریندر مودی کے دورہ سعودی عرب کو ہی لیجئے،  نریندر مودی  کا بھی اسی طرح شاندار استقبال کیا گیا اور شاہی محل میں، شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سعودی عرب کا سب سے بڑا سول اعزاز ’’شاہ عبدالعزیز ایوارڈ‘‘ نریندر مودی کو عطا کیا۔ باقی جو معاہدے اور معاملات طے پائے وہ اپنی جگہ محل بحث ہیں۔

کفار کے سرداروں کے یہ استقبال اور عزت افزائی  سعودی بادشاہوں  کے دین کا تقاضا نہیں بلکہ ان کے حکومتی مفادات کے لئے ضروری ہے۔

ہم میں سے کچھ لوگوں نے مسلک، فرقے اور دین کا کمبل اوڑھا کر آل سعود کی حقیقت کو چھپانے پر کمر باندھ رکھی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ  رقص سعودی بادشاہ کرتے ہیں اور تاویل ہمارے ہاں کا ملاں کرتا ہے، نامحرم عورتوں سے مصافحے سعودی  حکمران کرتے ہیں اور جواز ہمارے ہاں کے جہادی ڈھونڈتے ہیں، کفار کے سرداروں کو آل سعود چومتی ہے اور اس کے جائز ہونے کے لئے احادیث ہمارے ہاں کے محدثین کرام تلاش کرتے ہیں۔

بڑے افسوس کی بات ہے کہ  بادشاہ  اپنے  حکومتی مفادات کے پیچھے چلتے ہیں اور ہم  میں سے بعض لوگ ان کے کرتوتوں کا دفاع مسلک کے مورچے سے کرتے ہیں۔ تاریخ ملوکیت و بادشاہت کا خلاصہ یہی ہے کہ بادشاہوں کی پالیسیاں مسالک کے تابع نہیں ہوتیں بلکہ وہ مسالک کو اپنے تابع رکھ کر مسالک سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔

نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

 

زمرہ جات:   Horizontal 4 ،
ٹیگز:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

جذام سے بھی بدتر مرض

- اسلام ٹائمز