خلیج تنازع: آخر قطر ہی کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟

امریکا کی عالمی جوہری ڈیل سے ممکنہ دستبرداری اور اس کے اثرات

امام حسین علیہ السلام کی سیرت طیبہ

مسلم خاتون کو ہاتھ نہ ملانے کی وجہ سے فرانس کی شہریت سے محروم کر دیا گیا

اللہ تعالی کی طرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر تہنیت اور تعزیت

سعودی عرب میں چیک پوسٹ پر فائرنگ سے 4 سیکویرٹی اہلکار جاں بحق

امریکی ہتھیاروں پر انحصار میں کمی: کیا پاکستان امریکہ سے مستقل چھٹکارا پا رہا ہے؟

سائیکل چلانے سے بہتر کوئی ورزش نہیں

کیمائی گیس حملہ کا فسانہ – رابرٹ فسک

شام پر ناکام حملہ، ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ

سعودی حکومت کے بانی کے برطانوی ایجنٹ ہونے کی تصدیق

شام میں امریکہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے، ابوالخیرزبیر

بھارت سکھ زائرین کے دورے کو کیوں متنازع بنانا چاہتا ہے؟

میں شام پہ غیر جانبدار نہیں ہوں – عامر حسینی

شامی حکومت نے دوما میں کیمیائی حملہ نہیں کیا: رابرٹ فسک

ڈائریکٹر سی آئی اے کی سربراہ شمالی کوریا سے خفیہ ملاقات کا انکشاف

امریکی سفارتکار کی گاڑی کی ٹکر سے نوجوان کی ہلاکت؛ پولیس نے کیس خراب کر دیا؟

نواز شریف کو محب وطن ثابت کرنے کی کوشش

کیا پاکستان سکھ یاتریوں کو خالصتان کے لیے اکسا رہا ہے؟

جنوبی اور شمالی کوریا 70 سالہ جنگ کے باقاعدہ خاتمے پر رضامند

اب جہاز میں کھڑے ہو کر سفر کرنا ممکن

جنوبی اور شمالی کوریا 70 سالہ جنگ کے باقاعدہ خاتمے پر رضامند

روس کا شام کو ایس 300 دفاعی میزائل فراہم کرنے پر غور

3 ہزار سے زائد ایپس غیر قانونی طور پر ڈیٹا جمع کرنے میں مصروف

دیوبندی مکتب فکر میں جہاد و تکفیر اور پشتون و پنجابی فیکٹر – عامر حسینی

یورپ ایران جوہری معاہدے پر امریکہ کے سامنے نہ جھکے: روس کا مطالبہ

متنازعہ ایجاد: ایمسٹرڈم میں ’خودکشی کی مشین‘ کی عوامی نمائش

پاکستان پر افغان سرحد کے پار سے حملہ: امن کیسے قائم ہو گا؟

شامی میدان پر مفاد پرستوں کی لڑائی ختم ہونا مشکل کیوں؟

پیغمبراکرم (ص) نے بشریت کو حیات طیبہ کی تعلیم دی تھی

مصری پارلیمنٹ کی خارجہ کمیٹی کی شام پر تین مغربی ممالک کے حملے کی مذمت

کوئٹہ : داعش کے بھیس میں لشکر جھنگوی کے مسیحی برادری پر حملے

فوج نہ ہوتی تو پاکستان میں بھی دیگر مسلم ممالک کی طرح تباہی مچی ہوتی، عمران خان

شامی جنگی ڈرامے کا مرکزی ولن کون؟ – ولادیمر گولیسٹن

شام پر امریکی حملے جاری رہے تو دنیا کیلیے خطرناک ہوگا، ولادی میر پیوٹن

ڈونلڈ ٹرمپ جھوٹے اور اخلاقی طور پر صدارت کیلئے نااہل ہیں: جیمز کومی

غیرملکی ایجنسیاں لوگوں کو لاپتہ کرکے آئی ایس آئی پر الزام لگانا چاہتی ہیں، جاوید اقبال

پختون تحفظ موومنٹ: حقوق کی جنگ یا غداری

سعودی عرب کا مشرقی یروشلم میں اسلامی ورثے کے تحفظ کی آڑ میں اسرائیل کو 15کروڑ ڈالر کی امداد

امریکہ کا شام پر حملہ دہشت گردوں کو شکست سے بچانے کی ناکام کوشش کا حصہ ہے

عالمی استکبار شام پر عراقی تاریخ دہرانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہے: علامہ راجہ ناصرعباس جعفری

برطانوی وزیراعظم امریکا کو نہیں پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں، جیرمی کوربن

امریکی صدر نے شام پر دوبارہ حملے کی دھمکی دے دی

کیا امریکہ شام پر اگلی دفعہ بڑا حملہ کرے گا؟

ن لیگ کا چیف جسٹس کو واضح پیغام: سپریم کورٹ جج اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ

شام کیوں زد پرہے ؟

خوفناک ترین ہتھیار: کیا روس کا اینٹی سیٹلائٹ میزائل امریکہ کو مفلوج کر دے گا؟

حملوں کے بعد بشار کی معمول کے مطابق دفتر آمد! فوجی پرسکون, سیکیورٹی عمومی، زندگی رواں دواں

شام نے مغربی ممالک کے 13 میزائل تباہ کردیئے

سعودی عرب کا شام پر امریکی حملے کی حمایت کا اعلان

امریکہ، فرانس اور برطانوی حکمران مجرم ہیں: آیت اللہ خامنہ ای

برطانیہ شام میں کیمیائی حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے: روسی جنرل

نواز شریف کی زندگی بھرنا اہلی کا فیصلہ قبول ہے: وزیراعظم

پاکستان میں 5G ٹیکنالوجی کب آئے گی؟

شام پر امریکی اتحادیوں کا حملہ: روس کے پاس کیا آپشن بچے ہیں؟

تاحیات نااہلی: کیا اب بھی نواز شریف کے پاس راستہ موجود ہے؟

امریکا، برطانیہ اور فرانس نے شام پر حملہ کردیا

شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار تشویش

پاکستان میں امریکہ مخالف مظاہرہ

پشتون تحفظ مومنٹ، / تحفظات و سوالات – حیدر جاوید سید

دوما میں کیمیائی حملے کا ڈراما غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے رچایا گیا: روس

امریکا نے شام پر حملہ کیا تو جنگ چھڑ سکتی ہے: روس کا انتباہ

مذہبی سلیبرٹیز کا دور

مغربی ممالک شام کے خلاف مہم جوئی سے باز رہیں، چین

پی ٹی آئی جہانگیر ترین کی نااہلی کا فیصلہ قبول کرتی ہے، شاہ محمود قریشی

سپریم کورٹ نے نواز شریف اور جہانگیر ترین کو تاحیات نااہل قرار دے دیا

سپریم کورٹ نے نواز شریف اور جہانگیر ترین کو تاحیات نااہل قرار دے دیا

کیا نواز شریف کو عمر بھر کے لیے نا اہل قرار دے دیا جائے گا؟

شام پر حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، وائٹ ہاوس

نواز شریف نظریہ نہیں مافیا کا نام ہے: عمران خان

بچوں سے جنسی زیادتی پوپ فرانسس کی معافی

2017-06-13 15:05:17

خلیج تنازع: آخر قطر ہی کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟

 

Why qatar

 

قطر اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی ہر گزرتے دن کے ساتھ بدترین صورت حال اختیار کرتی جارہی ہے اور اس میں مزید اضافہ اُس وقت دیکھنے میں آیا جب سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک، جن میں مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین شامل ہیں، نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں قطر سے تعلق رکھنے والے 59 افراد اور 12 تنظیموں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کردیا۔

 

اگر کوئی خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کی سیاست سے واقف ہے تو وہ اس حقیقت کو جانتا ہوگا کہ 6 ملکی خلیجی ممالک کے بلاک میں اٹھائے جانے والے حالیہ اقدام کی نظیر گذشتہ 3 دہائیوں کی تاریخ میں نہیں ملتی جبکہ پردے کے پیچھے سازش اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا کوئی نئی بات نہیں ہے، کسی ایک ریاست کے لیے اس قسم کے سخت اقدامات عرب ممالک کے درمیان تنازعات کے عکاس ہیں۔ جی سی سی میں جنگ کی لکیر کھینچی جاچکی ہے، جس کے مطابق سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ مل کر قطر کو الگ تھلگ کردیا ہے جبکہ کویت اور عمان سمیت جی سی سی کے دیگر ارکان اس گروپ میں شمولیت کو مشکل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

 

قطر سے متعلق بنائی گئی دہشت گردی کی فہرست کے حوالے سے دو اہم نکات جاننے کی ضرورت ہے۔ پہلا یہ کہ انتہائی اہم دہشت گردوں اور ان کے حمایتوں کے علاوہ اس فہرست میں قطر کے اہم عہدیداروں اور قطر کے تاجروں، حکومتی حکام، قطر کے حکمران خاندان الثانی کے لوگ، مصر کے جلاوطن عالم یوسف القرضاوی، جنہیں اخوان المسلمون کا روحانی پیشوا سمجھا جاتا ہے، شامل ہیں۔

 

مزید پڑھیں: سعودی عرب سمیت 6 ممالک نے قطر سے سفارتی تعلقات ختم کردیئے

 

عرب اتحاد کی جانب سے ترتیب دی گئی فہرست میں عبدالعزیز العطیہ، جو قطر کی بلئرڈس اور اسنوکر فیڈریشن کے سربراہ کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ قطر کی اولمپک کمیٹی کے رکن بھی ہیں، عبدالرحمٰن بن عمیر النعیمی، جو قطر کی فٹبال ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ ہیں اور عبداللہ بن خالد الثانی، جو قطر کے شاہی خاندان کے فرد اور سابق وزیر داخلہ و موقوفات بھی رہ چکے ہیں، شامل ہیں۔

 

مشرق وسطیٰ کے میڈیا میں اس فہرست میں شامل افراد کی دہشت گردی کی حمایت کے حوالے سے کافی تفصیلات شائع ہوئی ہیں، مثال کے طور پر، کچھ افراد پر امریکا اور اقوام متحدہ نے دہشت گرد گروپ القاعدہ کی امداد کے سلسلے میں پابندی عائد کی تھی، الزامات کی یہ فہرست بہت سال پہلے 2008 میں ترتیب دی گئی تھی؛ تو کیوں اچانک سے یہ تفصیلات 2017 میں بڑھا چڑھا کر پیش کی گئیں؟ درحقیقت ان میں سے بیشتر نام امریکا اور اقوام متحدہ کی فہرست سے لیے گئے ہیں جو کافی سال قبل بنائی گئی تھی، جس میں القاعدہ اور شام میں موجود اس سے جڑے ذیلی گروپوں سے تعلقات بتائے گئے ہیں، جن میں داعش کا معمولی سا ذکر بھی ملتا ہے۔

 

اس کے علاوہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اسلامی سیاسی جدوجہد اخوان المسلمون کو کالعدم القاعدہ اور داعش جسے گروپوں سے ملایا۔ یہ ایک انتہائی عجیب سی درجہ بندی ہے، کیونکہ اخوان المسلمون ایک قدامت پرست مذہبی سیاسی طاقت ہے اور یہ سمجھنا انتہائی مشکل ہے کہ کیونکر اسے شدت پسند عسکری تنظیموں کے گروپ میں شامل کیا گیا۔

 

اخوان المسلمون کے محمد مرسی جو جدید مصر کی سوچ کے حامل تھے، نے 2012 کے صدارتی انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کی؛ دوسری جانب القاعدہ اور داعش جمہوریت کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔ شاید عرب بادشاہوں کو سب سے زیادہ مشکل یہ ہے کہ اخوان المسلمون اور اس سے متاثر گروپس جمہوریت کو اسلام کے مطابق ڈھال رہے ہیں، جو مطلق العنان حکمرانی کی قانونی حیثیت کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔

 

خفیہ حمایت

 

 

جبکہ یوسف القرضاوی کو قدامت پرست علماء میں تعظیم دی جاتی ہے، انہیں دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دینا دیوانہ پن ہے، خاص طور پر اس وقت جبکہ انتہائی سخت گیر سلفی علماء سعودی عرب کی عدالتوں میں موجود ہیں۔

 

دوسرا نکتہ جس پر خاص طور پر توجہ دی جانی چاہیے، وہ یہ ہے کہ سعودی اور کچھ حد تک متحدہ عرب امارات پر بھی ایسے ہی گناہ کرنے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں جس میں ریاض اور ابو دبئی، دوحہ کو ملوث قرار دے رہے ہیں۔

 

مثال کے طور پر جب یہ شام کے تنازع کے حوالے سے ہو تو سعودی عرب ایسی فورسز کی حمایت کررہا ہے جو اعتدال پسند تصور نہیں کی جاتیں۔ یہ متعدد مرتبہ رپورٹ ہوچکا ہے کہ داعش کے ساتھ لڑنے کے لیے ہزاروں سعودی باشندوں نے اپنے ملک کو چھوڑا اور اب جبکہ سعودی ملک میں شدت پسندی کو کم کرنے کے دعوے کررہے ہیں ایسے موقع پر شام میں ان کی حمایت کا طریقہ کار سوالات اٹھا رہا ہے۔

 

مثال کے طور پر اگر ہیلری کلنٹن کی قریبی دوست جان پودیستا کی لیک ای میل کو مد نظر رکھیں، جس میں ان کا کہنا تھا، ’ہمیں اپنے جمہوری اور اس سے زیادہ روایتی انٹیلی جنس اثاثوں کو قطر اور سعودی عرب کی حکومتوں پر دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہے، جو داعش اور دیگر شدت پسند سنی گروپوں کو خفیہ مالی امداد اور لاجسٹک حمایت فراہم کررہے ہیں‘۔

 

اور اس بیان کے بارے میں کیا کہیں گے جو سابق امریکی نائب صدر جیو بائیڈن سے منسلک ہے، جنہوں نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کو ’کروڑوں ڈالر اور لاکھوں ہتھیار بشارالاسد کے خلاف لڑنے والے کسی بھی فرد کو فراہم کرنے کا الزام عائد کیا۔۔۔۔ جو النصرہ فرنٹ، القاعدہ اور دیگر شدت پسند عناصر کو فراہم کیے گئے جو دنیا کے دیگر حصوں سے آرہے ہیں‘۔

 

واضح طور پر ان ممالک کے سلفی عسکریت پسندی کے ساتھ پیچیدہ تعلقات ہیں، جبکہ ان کی حکومتیں اس میں براہ راست ملوث نہیں، خلیجی ریاستیں شاید عراق اور شام میں شدت پسند گروپوں کو نجی طور پر فنڈز فراہم کررہی ہیں، تو ریاض کا قطر پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام اس کے برعکس کچھ عجیب معلوم ہوتا ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنا انتہائی خطرناک حکمت عملی ہے، تیل سے مالا مال ان ریاستوں کی پروپیگنڈا مہم خطے کی ریاستوں کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، جس میں داعش اور خطے کی دیگر شدت پسند گروپوں کو غیر مؤثر کرنے کے لیے اتحادی فورس میں شمولیت شامل ہے اور عرب ریاستیں اسے جس قدر جلد محسوس کرلیں گی، وہ بہتر ہے۔

ڈان نیوز

 

زمرہ جات:   Horizontal 1 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

حسین (ع) سب کا ہے

- اسلام ٹائمز