رمضان میں دہشت گردوں کی مالی مدد کا چیلنج

ایران کا قطر کی بھرپور حمایت کا اعلان

عیدالفطر آج مذہبی جوش وجذبے کے ساتھ منائی جائے گی

حضرت آیت اللہ سیستانی کے دفتر سے جاری اعلان کے مطابق برطانیہ میں یکم شوال بروز سوموار کو ہوگی

تصاویر : بہاولپور میں قیامتِ صغریٰ کے مناظر

قطر نے آل سعود کے تمام تر مطالبات مسترد کردیے

تسنیم نیوز : بات صرف آرمی چیف سے یا نواز شریف سے؛ ورنہ دھرنا جاری + تصاویر

مسئلہ فلسطین ، آغاز سے اب تک ~ نذر حافی

تصاویر: الوداع الوداع ماہِ رمضان، لوگ عبادتِ پروردگار میں مگن

قطر یا سعودی عرب، امریکا یا روس؟ پاکستان کس کس کو راضی کرے گا

 اتحادی حیثیت ختم کرنےکیلئےامریکی بل: پاکستان کے پاس امریکی چنگل سے نکلنے کا سنہرا موقع

دنیا اس بات کو تسلیم کرے کہ پاکستان دہشت گردی کےخلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے، چینی وزارت خارجہ

بہاولپور: آئل ٹینکر میں آتشزدگی، 135افراد ہلاک

امریکہ افغانستان میں داعش کو مسلح کر رہا ہے: روس

محمد بن سلمان کو ولی عہد بنائے جانے پر سعودی شہزادوں کی مخالفت

مسجد الحرام میں حملے کا منصوبہ ناکام، خودکش حملہ آور ہلاک

پاراچناردھماکے: شہادتیں 67 ہو گئیں

قطر نے عرب ممالک کے مطالبات کو ’غیر حقیقی‘ قرار دیا

پاکستان کا نان نیٹو اتحادی درجہ ختم کرنے کیلئے امریکی کانگریس میں بل پیش

سعودی عرب میں ایران پر جنگ مسلط کرنے کی ہمت نہیں: سید حسن نصر اللہ

سعودی خاندان میں مخملی بغاوت؛ سعودیہ کے جوان ولی عہد کیسے تختِ ولی عہدی تک پہنچ گئے

نواز شریف کی جھوٹی ثالثی: سعودی سفیر نے نواز شریف کے جھوٹ کا پول کھول دیا

ایک اور خون سے رنگی عید: پاکستانی قوم نوحہ خواں

عراق کی تقسیم اسرائیل کا اہم ترین ایجنڈا ہے ، ایران

سعودیہ: مسجد الحرام میں حملے کا منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ

عالمی یوم القدس کے موقع پر قبلہ اول کی آزادی کے لیے ملی یکجہتی کونسل کی مشترکہ ریلی کا انعقاد

قطر میں فوجی اڈے ختم کئے جانے کی درخواست ترکی کے امور میں مداخلت ہے : ترکی

نہایت اطمینان کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ بغدادی مارا گیا ہے: روس

پارا چنار: 2 بم دھماکے، 30 افراد شہید، 100 زخمی

عرب ریاستوں نے تنازع ختم کرنے کیلئے قطر سے 13 مطالبات کردیے

کیا سرفراز نے شاہ رخ خان کو بھی شکست دیدی؟

تصاویر: تہران میں یوم قدس کے موقع پر عظیم ریلی

مسئلہ فلسطین دنیائے اسلام کا سب سے پہلا اور اہم مسئلہ ہے

کوئٹہ: بم دھماکے میں 15 افراد جاں بحق

 اسلامی ممالک کی تقسیم کا منصوبہ: کیا نئے سعودی ولی عہد کی تعیناتی کے احکامات واشنگٹن سے آئے؟

 چوروں کا گٹھ جوڑ: کیا پی پی پی اور نواز لیگ کے مابین پانامہ لیکس پر خفیہ ڈیل طے پا گئی ہے؟

جرمنی جلد ہی اسلامی ریاست بن جائے گا، جرمن چانسلر انجیلا مرکل کا بیان ، دنیا بھر میں کھلبلی

دہشت گرد تنظیم داعش کو بارودی مواد فراہم کرنے والا بھارت دوسرا بڑا ملک ہے، یورپی رپورٹ

محمد بن سلمان کی ولی عہدی اسرائیل کے لئے نیک شگون ہے

جامع مسجد النوری کی شہادت داعش کا اعتراف شکست ہے

چاند یا مریخ کا رخ نہ کیا تو 30 سال میں انسانی آبادی ختم: سٹیفن ہاکنگ

اسرائیل، مسلم امۃ کا حقیقی دشمن ہے: تحریک انصار اللہ

سعودی عرب میں اقتدار کی رسہ کشی

کلبھوشن یادیو نے آرمی چیف سے رحم کی اپیل کردی

اگر بیت المقدس کی آزادی سعودی اتحاد کے ایجنڈے میں شامل نہیں تو آرمی چیف راحیل شریف کو فوری واپس بلائیں : علامہ راجہ ناصرعباس

سعودی عرب علاقائی و عالمی دہشتگردی کا اہم اسپانسر ہے: پروفیسر آئیرش یونیورسٹی

پاکستان ڈرون حملے برداشت نہیں کرے گا

پاک ایران گیس منصوبہ 2 سال میں مکمل ہوجائے گا: آصف درانی

جنگل میں منگل: تاریخ رقم ، پیسہ ہضم

جنگی جنون میں مبتلا شہزادہ ولی عہد مقرر:  مشرق وسطی کو جنگ میں دھکیلنے کا سعودی منصوبہ

وہابیت بمقابلہ اخوان المسلمین / قطر کے بحران میں اہلسنت کا پرانا زخم تازہ

داعش کے مفتی اعظم کی ہلاکت کی تصدیق

حامد کرزئی نے سعودیہ کا دل توڑ دیا

وہابی دہشت گردوں نے موصل کی نوری مسجد کو شہید کردیا

زکوۃ کے احکام

قطر کا پابندیوں کی صورت میں سعودی عرب سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان

سعودی عرب میں ولی عہد کے خلاف بغاوت + تصویر اور ویڈیو کلیپ

راحیل شریف ذاتی حیثیت میں نام نہاد اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کیلیے گئے، سرتاج عزیز

سعودی عرب کے نئے ولیعہد کا ایران کے خلاف اعلان جنگ

محمد بن نائف برطرف: سعودی عرب کے ڈکٹیٹر بادشاہ نے ولی عہد کو برطرف کرکے اپنے بیٹے کو ولی عہد بنادیا

سخت پالیسی کا عندیہ: ٹرمپ انتظامیہ پاکستان پر برہم کیوں؟

قدس کا عالمی دن، صہیونیوں کی آنکھ میں چھبتا ہوا کانٹا

سعودی عرب میں‌اقتدار کی رسہ کشی میں شدت: سعودی بادشاہ نے ولی عہد محمد بن نائف کو برطرف کر دیا

افغانستان بھارت ہنی مون: پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی نئی لہر شروع ہونے کا خدشتہ

حافظ سعید کی نظر بندی میں مزید توسیع کر دی گئی

تصاویر: لندن میں روز قدس کا جلوس

قیامت کے دن کون سےافراد امیرالمومنین (ع) کےدرجہ پر فائز ہوں گے؟

افغانستان کے شیعہ و سنی، علما کے ساتھ

وزیراعظم کا ٹیم کے ہر کھلاڑی کیلیے ایک ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان

رابرٹ فورڈ: ایران امریکہ کو مشرقی شام سے بھاگنے پر مجبور کر دے گا

قطر کا بائیکاٹ، امریکی صدر کے سعودی دورے کا نتیجہ ہے: جماعت اسلامی پاکستان

2017-06-16 06:28:57

رمضان میں دہشت گردوں کی مالی مدد کا چیلنج

 

 

Zakat2.1 copy

رمضان المبارک  خیراتی اداروں کے لئے سال کا سب سے موزوں مہینہ ہوتا ہے ۔جس میں اتنے عطیات اکھٹے کر لیتے ہیں جو ان کی سال بھر کی ضروریات کے لئے کافی ہوتے ہیں ۔لوگ ا س مہینے میں اپنے مذہبی تقاضوں کے مطابق عطیات (زکوٰۃ و عشر )دیتے ہیں۔ان عطیات کا بڑا حصہ بلاواسطہ یا بلواسطہ مختلف نوعیت کے مذہبی اداروں کو جاتا ہے جن میں خیراتی ، فلاحی تنظیموں کے ساتھ کالعدم ،انتہا پسند اور دہشت گرد گروہ بھی شامل ہیں ۔

 

 

ہنوز عسکریت پسندوں کے معاشی ذرائع پر کافی تحقیق کی ضرورت ہے تاہم شواہد کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ عسکری گروہوں کے وسائل کا بڑا ذریعہ لوگوں سے جمع کئے گئے عطیات ہی ہیں ۔حکومت ابھی تک  خاطر خواہ اقدامات اٹھانے میں ناکام رہی ہے جن کے ذریعے لوگوں کے عطیات کا رخ ایسے خیراتی اداروں کی جانب موڑ اجا سکے جو کہ بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر کسی کسی انتہا پسند گروہ یا دہشت گردی کی کارروائیوں سے منسلک نہیں ہیں ۔حکومت سمجھتی ہے کہ سرکاری ٹی وی پر چند اشتہارات دینے سے لوگوں کو شعور مل جاتا ہے ۔یہ پاکستان کے لئے انتہائی حساس معاملہ ہے ۔فنانشیل ٹاسک فورس کو ا س مہینے بالخصوص ان مقامات پر نظر رکھنی ہو گی جو مشتبہ ہوں ۔

 

 

دہشت گردوں کی مالی مدد کا چیلنج  تین مختلف پرتیں لئے ہوئے ہے  ۔پہلا تو یہ کہ پاکستان عالمی معاہدوں کے تحت اس بات کا پابند ہے کہ وہ دہشت گردوں کی مالی مدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔دوسرا یہ کہ کالعدم تنظیمیں ابھی تک پاکستان اور پاکستان سے باہر عطیات اکھٹے کرنے کا مؤثر نظام رکھتی ہیں اور تیسرا یہ کہ حکومت  ابھی تک ایسا کوئی مؤثر ڈھانچہ یا حکمت ِ عملی نہیں بنا سکی جو کہ پاکستان کے فلاحی ترقیاتی ادروں کو ظابطوں کے اندر لائے ۔

 

 

جہاں تک عالمی معاہدوں کا تعلق ہے اس سلسلے میں حکومت نے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے کچھ اقدامات ضرور اٹھائے ہیں لیکن حال ہی میں ایسوسی ایٹیڈ پریس نے نقطہ اٹھایا ہے کہ عالمی برادری گردوں کی مالی مددکے معاملے پر پاکستان سے سخت اقدامات کی متمنی ہے ۔اس سال لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں کے خلاف حکومت نے جو اقدامات اٹھائے ہیں ان کے بارے میں بہت سوں کی رائے ہے کہ یہ اس لئے بھی ناگزیر ہوگئے تھے کیونکہ Asia Pacific Group of Money Launderingنے جماعت الدعوۃ کے مالی وسائل پر اعتراضات اٹھائے تھے ۔

 

 

گزشتہ سال سٹیٹ بنک آف پاکستان نے ملک کے تمام بینکوں کو فورتھ شیڈول میں شامل 2021افراد کی ایک فہرست د ی کہ انسدادِ ہشت گردی ایکٹ1997کے تحت  ان کے اکاؤنٹ منجمد کر دیئے جائیں۔سٹیٹ بینک نے منی لانڈرنگ،دہشت گردوں کی مالی مدداور غیر قانونی ذریعہ سے رقم کی منتقلی روکنے کے لئے نئے ضابطے بھی متعارف کروائے ۔صدر ِ پاکستان ممنون حسین نے ایک آرڈیننس کی منظوری بھی دی جس کے تحت سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو اختیار دیا گیا کہ وہ فراڈ ، منی لانڈرنگاور دہشت گردوں کی مالی مدد کے خلاف ضروری اقدامات اٹھائے ۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومت رقوم کی ایک جگی سے دوسری جگہ منتقلی کے بارے میں ایک نیا قانون متعارف کروانے جا رہی ہے جس کے بعد لوگوں کو بتانا پڑ ے گا کہ یہ رقم کہاں سے اور کس ذریعے سے آئی ۔

 

 

یہ تمام اقدامات ضروری ہیں تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کی مالی مدد جو عمومی ذرائع سے ہو رہی ہے    اس سے کس طرح نمٹا جائے ؟روایتی اور غیر روایتی طریقوں پر مشتمل بھر پور اقدامات کی ضرورت ہے ۔کیونکہ عمومی بینکوں کو شاید کچھ دہشت گرد ہی استعمال کرتے ہوں اور اگر کرتے بھی ہوں گے تو دوسرے ناموں سے ،فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا کام اگر آسان کرنا ہے تو پھر کالعدم تنظیموں کی فہرست  کواقوام ِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 1267سے نتھی کردیں ۔

 

 

اگر ہم کالعدم تنظیموں کے عطیات جمع کرنے کے عمل کو دیکھا جائے تو ضروت اس امر کی ہے کہ حکومتی ادارے فلاحی ادارے بننے کی وجوہات اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔مذہبی اور غیر مذہبی فلاحی ادروں کے حکام کے ساتھ گفتگو سے یہ دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے کہ فلاحی ادارے کس طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔

 

 

پاکستان میں اسلامی فلاحی ادارے کئی طرح کے ہیں جس میں مقامی اور فلاحی تنظیموں سے لے کر قومی اور علاقائی سطح کی تنظیمیں بھی موجود ہیں ۔لوگوں کی اکثریت عطیات دینے کے لئے سہل راستہ ڈھونڈتی ہے یعنی جو نظر آیا اسے پیسے تھما دیئے ۔اس معاملے میں وہ قریب کے فلاحی اور مذہبی اداروں کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ ایک مذہبی تقاضا بھی ہے ۔زیادہ تر چھوٹی نوعیت کے عطیات اسی طرح دیئے جاتے ہیں لوگوںکی ایک اچھی خاصی تعداد ایسی بھی ہے جو کہ دیکھ بھال کے عطیات دیتی ہے ۔متمول گھرانوں کی ایک بڑی تعداد جو کہ مختلف شعبوں سے منسلک ہے ان میں غیر مذہبی اداروں کو عطیات دینے کا رجحان ہے ۔پنجاب کے تاجر حضرات مذہبی اداروں بشمول کالعدم تنظیموں کی مالی مدد کرتے ہیں۔اسی طرح لوئر مڈل کلاس کا رجحان بھی مقامی مذہبی اداروں کی جانب ہے ۔فاٹا ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے افغان طالبان کو بھی عطیات دیئے جاتے ہیں۔ایک حالیہ میڈیا رپورٹ کے مطابق مختلف مساجد کے مولوی حضرات افغانستان میں لڑنے والے طالبان کے لئے عطیات جمع کر رہے ہیں ۔

 

 

مشرقِ وسطی ٰ میں رہنے والے پاکستانیوں کے عطیات کا بڑا حصہ بھی پاکستان کے مذہبی فلاحی اداروں اور  مدارس کو جاتا ہے ۔اس کے مقابلے پر مغربی ممالک میں رہائش پزیر پاکستانیوں کے عطیات غیر مذہبی خیراتی اداروں کے ساتھ پیروں اور مزاروں سے وابستہ خیراتی اداروں کو جا رہے ہیں۔بہت سے مذہبی ادارے  اور کالعدم گروہ اپنے لوگوں کو خلیجی ممالک میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ پاکستانیو ں، عرب خیاراتی اداروں اور شیخوں سے عطیات اکھٹے کر سکیں ۔

 

 

جہاں تک خیراتی اور فلاحی تنظیموں کے بارے میں قواعد و ضوابط کا معاملہ ہے حکومت کا ہدف مغربی غیر سرکاری داروں کی جانب ہے تاکہ انہیں سخت ضوابط کا پابند بنایا جائے ۔تاہم خلیجی ممالک سے آنے والے عطیات ابھی بھی مذہبی اورعسکری گروہو ں  کو جا رہے ہیں ۔حکومت ابھی تک پاکستان میں ’’محفوظ خیرات ‘‘کے بارے میں کوئی لائحہ عمل بنانے میں ناکام رہی ہے جس کا فائدہ انتہا پسند اور عسکری گروہوں کو ہو رہا ہے ۔

محمد عامر رانا

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

احساس کو زندہ رکھئے!

- مجلس وحدت المسلمین

جام جم

- سحر ٹی وی

یادوں کے جھروکے

- سحر ٹی وی