رمضان میں دہشت گردوں کی مالی مدد کا چیلنج

زید حامد، دہشتگردوں کا سہولت کار

شریف خاندان میں بڑھتے ہوئے اختلافات

'شہباز شریف، چودھری نثار اور خواجہ سعد رفیق بھی ساتھ چھوڑ دیں گے'

معیشت کی تباہ حالی کے ذمہ دار کرپٹ حکمران ہیں، کرپشن ملک کیخلاف معاشی دہشتگردی ہے: علامہ راجہ ناصرعباس

مغرب پر اعتماد سب سے بڑی غلطی تھی: پوتن

احسان فراموش زید حامد کی شرانگیزی

بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ نے ایران کے خلاف امریکی صدر کا الزام مسترد کردیا

کابل کی مسجد امام زمان میں خودکش حملہ، درجنوں شیعہ نمازی شہید

نوازشریف اوران کے خاندان کو فوری گرفتار کیا جائے: آصف زرداری

یمن کے انسانی حالات کے بارے میں کچھ حقائق

سعودیہ نے امریکہ کی حکمت عملی کی حمایت کرکے روس کی ثالثی ٹھوکرا دی

داعش کے ٹوٹنے سے القاعدہ کی طاقت میں اضافہ

کیا روس نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جگہ لے لی ہے ؟

فلسطینی گروہوں کی مفاہمت پر ایک نظر

پاک افغان سرحدی بحران، پاراچنار پر مرتب ہونے والے خطرناک نتائج

ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی بیماری اور دنیا کو درپیش خطرات

سادہ سا مطالبہ ہے کہ لاپتہ افراد کو رہا کرو: ایم ڈبلیو ایم

ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ دنیا اور ایران کی فتح ہے: موگرینی

قندھار میں طالبان کے کار بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 58 تک پنہچ گئی

خطبات امام حسین اور مقصد قیام

افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ مراکز ہیں: نفیس ذکریا

پاکستان میں انصاف کا خون ہورہا ہے پھر بھی تمام مقدمات کا سامنا کروں گا: نوازشریف

سید الشہداء (ع) کی مصیبت کی عظمت کا فلسفہ

سعودی عرب داعش کا سب سے بڑا حامی ہے: تلسی گیبارڈ

امریکہ کے ملے جلے اشارے، پاکستان کو ہوشیار رہنے کی ضرورت

پاکستان میں سال کا خونریز ترین ڈرون حملہ

حماس اور الفتح کے مابین صلح میں مصر کا کردار

عراق کی تقسیم کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟

آن لائن چیزیں بیچنے کے 6 طریقے

داعش، عصر حاضر کے خوارج ہیں

یورپی یونین واضح کرے کہ ترکی کو اتحاد میں شامل کرنا ہے یا نہیں: اردوغان

داعش کے ٹوٹنے سے القاعدہ کی طاقت میں اضافہ

خواتین پر جنسی حملے، دنیا کے بدترین شہروں میں نئی دہلی سر فہرست

امریکہ قابل اعتماد نہیں ہے

جوان، عاشورا کے عرفانی پہلو کے پیاسے ہیں

مسلم لیگ (ن) کا سیاسی امتحان – محمد عامر حسینی

عراق میں ریفرنڈم کا مسئلہ ماضی کا حصہ بن چکا ہے: العبادی

علامہ عباس کمیلی کی علامہ احمد اقبال سے پولیس اسٹیشن میں ملاقات، جیل بھرو تحریک کی حمایت کا اعلان

برطانیہ میں بدترین دہشتگردی کا خطرہ ہے: سربراہ خفیہ ایجنسی

سعودیہ، اور یمن جنگ میں شکست کا اعتراف

کیا سعودیہ اپنی خطے کی پالیسیوں میں تبدیلی لانا چاہتا ہے؟

حلقہ این اے فور میں ضمنی الیکشن

سول ملٹری تصادم: قومی مفاد کا رکھوالا کون

انسان دوستی، انسان دشمنی

شام کا شہر رقہ داعش کے قبضے سے آزاد

ٹرمپ کی باتیں اس کی شکست اور بے بسی کی علامت ہیں: جنرل سلامی

یمن میں متحدہ عرب امارات کے 2 پائلٹ ہلاک

افغانستان: پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ،32 ہلاک 200 زخمی

عراق: مخمور سے بھی پیشمرگہ کی پسپائی

ایٹمی جنگ کسی بھی وقت چھڑ سکتی ہے

آئندہ انتخابات جیتنے کے بعد ملک کے تمام ادارے ٹھیک کریں گے: عمران خان

نیوز ون چینل کے مالک کے داعش سے مراسم، خطرناک انکشاف

انڈیا میں سبھی مذاہب کے لیے یکساں قانون کے نفاذ کا راستہ ہموار

مشرق وسطیٰ کو «سی آئی اے» کے حوالے کرنا، ٹرمپ کی اسٹرٹیجک غلطی

حضرت زینب (س) کس ملک میں دفن ہیں؟

ایران جوہری معاہدہ، امریکہ اپنے وعدوں پر عمل کرے: یورپی یونین کا مطالبہ

امام سجاد(ع) کا طرز زندگی انسان سازی کیلئے بہترین نمونہ ہے

پاک-ایران گوادر اجلاس؛ دہشتگردوں کی نقل و حرکت کے خلاف موثر کارروائی کا فیصلہ

فوج کے نئے مستعد وکیل

امام زین العابدین علیہ السلام کے یوم شہادت پر عالم اسلام سوگوار

علامہ ناصر عباس جعفری کا کرم ایجنسی دھماکےاور پاک فوج کے جوانوں کی شہادت پر اظہار افسوس

’’باوردی سیاستدانوں‘‘ کے ہوتے جمہوریت محفوظ نہیں

نواز شریف کا کیپٹن صفدر کی احمدی مخالف تقریر سے لاتعلقی کا اظہار

عمران خان کا 26 اکتوبر کو الیکشن کمیشن میں رضاکارانہ پیش ہونے کا فیصلہ

ایران کی دفاعی حکمت عملی میں ایٹمی ہتھیاروں کی کوئی جگہ نہیں

سعودی کارندوں کی آپس میں جنوبی یمن میں جنگ

پانچ مغویان کی بازیابی پاک امریکہ تعلقات کشیدگی کے خاتمے میں مثبت پیشرفت

دس سال جدائی کے بعد فلسطینی گروہ متحد

کے پی کے۔۔۔پی ٹی آئی ناکام ہوئی یا جمہوریت

یمن میں ہیضہ کی بیماری میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2156 ہو گئی

2017-06-16 06:28:57

رمضان میں دہشت گردوں کی مالی مدد کا چیلنج

 

 

Zakat2.1 copy

رمضان المبارک  خیراتی اداروں کے لئے سال کا سب سے موزوں مہینہ ہوتا ہے ۔جس میں اتنے عطیات اکھٹے کر لیتے ہیں جو ان کی سال بھر کی ضروریات کے لئے کافی ہوتے ہیں ۔لوگ ا س مہینے میں اپنے مذہبی تقاضوں کے مطابق عطیات (زکوٰۃ و عشر )دیتے ہیں۔ان عطیات کا بڑا حصہ بلاواسطہ یا بلواسطہ مختلف نوعیت کے مذہبی اداروں کو جاتا ہے جن میں خیراتی ، فلاحی تنظیموں کے ساتھ کالعدم ،انتہا پسند اور دہشت گرد گروہ بھی شامل ہیں ۔

 

 

ہنوز عسکریت پسندوں کے معاشی ذرائع پر کافی تحقیق کی ضرورت ہے تاہم شواہد کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ عسکری گروہوں کے وسائل کا بڑا ذریعہ لوگوں سے جمع کئے گئے عطیات ہی ہیں ۔حکومت ابھی تک  خاطر خواہ اقدامات اٹھانے میں ناکام رہی ہے جن کے ذریعے لوگوں کے عطیات کا رخ ایسے خیراتی اداروں کی جانب موڑ اجا سکے جو کہ بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر کسی کسی انتہا پسند گروہ یا دہشت گردی کی کارروائیوں سے منسلک نہیں ہیں ۔حکومت سمجھتی ہے کہ سرکاری ٹی وی پر چند اشتہارات دینے سے لوگوں کو شعور مل جاتا ہے ۔یہ پاکستان کے لئے انتہائی حساس معاملہ ہے ۔فنانشیل ٹاسک فورس کو ا س مہینے بالخصوص ان مقامات پر نظر رکھنی ہو گی جو مشتبہ ہوں ۔

 

 

دہشت گردوں کی مالی مدد کا چیلنج  تین مختلف پرتیں لئے ہوئے ہے  ۔پہلا تو یہ کہ پاکستان عالمی معاہدوں کے تحت اس بات کا پابند ہے کہ وہ دہشت گردوں کی مالی مدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔دوسرا یہ کہ کالعدم تنظیمیں ابھی تک پاکستان اور پاکستان سے باہر عطیات اکھٹے کرنے کا مؤثر نظام رکھتی ہیں اور تیسرا یہ کہ حکومت  ابھی تک ایسا کوئی مؤثر ڈھانچہ یا حکمت ِ عملی نہیں بنا سکی جو کہ پاکستان کے فلاحی ترقیاتی ادروں کو ظابطوں کے اندر لائے ۔

 

 

جہاں تک عالمی معاہدوں کا تعلق ہے اس سلسلے میں حکومت نے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے کچھ اقدامات ضرور اٹھائے ہیں لیکن حال ہی میں ایسوسی ایٹیڈ پریس نے نقطہ اٹھایا ہے کہ عالمی برادری گردوں کی مالی مددکے معاملے پر پاکستان سے سخت اقدامات کی متمنی ہے ۔اس سال لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں کے خلاف حکومت نے جو اقدامات اٹھائے ہیں ان کے بارے میں بہت سوں کی رائے ہے کہ یہ اس لئے بھی ناگزیر ہوگئے تھے کیونکہ Asia Pacific Group of Money Launderingنے جماعت الدعوۃ کے مالی وسائل پر اعتراضات اٹھائے تھے ۔

 

 

گزشتہ سال سٹیٹ بنک آف پاکستان نے ملک کے تمام بینکوں کو فورتھ شیڈول میں شامل 2021افراد کی ایک فہرست د ی کہ انسدادِ ہشت گردی ایکٹ1997کے تحت  ان کے اکاؤنٹ منجمد کر دیئے جائیں۔سٹیٹ بینک نے منی لانڈرنگ،دہشت گردوں کی مالی مدداور غیر قانونی ذریعہ سے رقم کی منتقلی روکنے کے لئے نئے ضابطے بھی متعارف کروائے ۔صدر ِ پاکستان ممنون حسین نے ایک آرڈیننس کی منظوری بھی دی جس کے تحت سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو اختیار دیا گیا کہ وہ فراڈ ، منی لانڈرنگاور دہشت گردوں کی مالی مدد کے خلاف ضروری اقدامات اٹھائے ۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومت رقوم کی ایک جگی سے دوسری جگہ منتقلی کے بارے میں ایک نیا قانون متعارف کروانے جا رہی ہے جس کے بعد لوگوں کو بتانا پڑ ے گا کہ یہ رقم کہاں سے اور کس ذریعے سے آئی ۔

 

 

یہ تمام اقدامات ضروری ہیں تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کی مالی مدد جو عمومی ذرائع سے ہو رہی ہے    اس سے کس طرح نمٹا جائے ؟روایتی اور غیر روایتی طریقوں پر مشتمل بھر پور اقدامات کی ضرورت ہے ۔کیونکہ عمومی بینکوں کو شاید کچھ دہشت گرد ہی استعمال کرتے ہوں اور اگر کرتے بھی ہوں گے تو دوسرے ناموں سے ،فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا کام اگر آسان کرنا ہے تو پھر کالعدم تنظیموں کی فہرست  کواقوام ِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 1267سے نتھی کردیں ۔

 

 

اگر ہم کالعدم تنظیموں کے عطیات جمع کرنے کے عمل کو دیکھا جائے تو ضروت اس امر کی ہے کہ حکومتی ادارے فلاحی ادارے بننے کی وجوہات اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔مذہبی اور غیر مذہبی فلاحی ادروں کے حکام کے ساتھ گفتگو سے یہ دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے کہ فلاحی ادارے کس طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔

 

 

پاکستان میں اسلامی فلاحی ادارے کئی طرح کے ہیں جس میں مقامی اور فلاحی تنظیموں سے لے کر قومی اور علاقائی سطح کی تنظیمیں بھی موجود ہیں ۔لوگوں کی اکثریت عطیات دینے کے لئے سہل راستہ ڈھونڈتی ہے یعنی جو نظر آیا اسے پیسے تھما دیئے ۔اس معاملے میں وہ قریب کے فلاحی اور مذہبی اداروں کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ ایک مذہبی تقاضا بھی ہے ۔زیادہ تر چھوٹی نوعیت کے عطیات اسی طرح دیئے جاتے ہیں لوگوںکی ایک اچھی خاصی تعداد ایسی بھی ہے جو کہ دیکھ بھال کے عطیات دیتی ہے ۔متمول گھرانوں کی ایک بڑی تعداد جو کہ مختلف شعبوں سے منسلک ہے ان میں غیر مذہبی اداروں کو عطیات دینے کا رجحان ہے ۔پنجاب کے تاجر حضرات مذہبی اداروں بشمول کالعدم تنظیموں کی مالی مدد کرتے ہیں۔اسی طرح لوئر مڈل کلاس کا رجحان بھی مقامی مذہبی اداروں کی جانب ہے ۔فاٹا ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے افغان طالبان کو بھی عطیات دیئے جاتے ہیں۔ایک حالیہ میڈیا رپورٹ کے مطابق مختلف مساجد کے مولوی حضرات افغانستان میں لڑنے والے طالبان کے لئے عطیات جمع کر رہے ہیں ۔

 

 

مشرقِ وسطی ٰ میں رہنے والے پاکستانیوں کے عطیات کا بڑا حصہ بھی پاکستان کے مذہبی فلاحی اداروں اور  مدارس کو جاتا ہے ۔اس کے مقابلے پر مغربی ممالک میں رہائش پزیر پاکستانیوں کے عطیات غیر مذہبی خیراتی اداروں کے ساتھ پیروں اور مزاروں سے وابستہ خیراتی اداروں کو جا رہے ہیں۔بہت سے مذہبی ادارے  اور کالعدم گروہ اپنے لوگوں کو خلیجی ممالک میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ پاکستانیو ں، عرب خیاراتی اداروں اور شیخوں سے عطیات اکھٹے کر سکیں ۔

 

 

جہاں تک خیراتی اور فلاحی تنظیموں کے بارے میں قواعد و ضوابط کا معاملہ ہے حکومت کا ہدف مغربی غیر سرکاری داروں کی جانب ہے تاکہ انہیں سخت ضوابط کا پابند بنایا جائے ۔تاہم خلیجی ممالک سے آنے والے عطیات ابھی بھی مذہبی اورعسکری گروہو ں  کو جا رہے ہیں ۔حکومت ابھی تک پاکستان میں ’’محفوظ خیرات ‘‘کے بارے میں کوئی لائحہ عمل بنانے میں ناکام رہی ہے جس کا فائدہ انتہا پسند اور عسکری گروہوں کو ہو رہا ہے ۔

محمد عامر رانا

 

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

قانون یاانصاف کی حکومت؟

- ایکسپریس نیوز