کيا پاکستان کے حوالے سے امريکی پاليسی تبديل ہونے والی ہے؟

ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم ہونے کا امکان، امریکی خارجہ پالیسی ’پاگل پن‘ قرار

سولہ برس سے کم عمر نوجوان واٹس ایپ استعمال نہیں کر پائیں گے

شام کا مسئلہ قطری مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے: محمد بن عبدالرحمن آل ثانی

مسلمانوں کو امریکہ کی منہ زوری اور تسلط پسندی کے خلاف قیام کرنا چاہیے

گاڈ فادر کا ایک اور درباری نااہل ہوگیا، عمران خان

خواجہ آصف تاحیات نااہل قرار، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ

نقیب اللہ قتل کیس؛ راؤ انوار ماورائے عدالت قتل کے ذمہ دار قرار

امریکا اور فرانس کا ایران سے کڑی شرائط پر نئے جوہری معاہدے پر اتفاق

پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن تحریک انصاف میں شامل ہوگئے

جوہری معاہدے کی پاسداری ضروری ہے، موگرینی

خواتین معاشرے کا طاقتور حصہ ہیں لیکن انہیں کمزور بنا کر پیش کیا جاتا ہے

قومی مستقبل کا سوال ہے بابا! نذر حافی

داعش کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی: عراق

قطر کو شام میں امریکی فوجی موجودگی کے اخراجات ادا کرنے چاہییں

دنیا کو بالادستی کے فریب کے چنگل سے نکلنا ہو گا، ایرانی وزیر خارجہ

جوہری معاہدے کو ضرر پہنچا تو بھیانک نتائج آپ کے منتظر ہیں، ایرانی صدرکا امریکہ کو انتباہ

احسن اقبال کی چیف جسٹس کو للکار: کیا اداروں کا تصادم لازم ہے؟

جوڈیشل مارشل لا کے سائے

پاکستان روس کے ساتھ فوجی روابط بڑھانا چاہتا ہے: پاکستان آرمی

پاکستانی نوجوان کو گاڑی سے کچلنے والا امریکی سفارت کار بلیک لسٹ

یمن کی کسی کو پرواہ نہیں ہے – عامر حسینی

وزیراعظم بیرون ملک مفرور ملزم سے ملتے ہیں شاید انہیں قانون کا پتہ نہیں، چیف جسٹس

ایران سے جنگ کرکے امریکا کو کچھ حاصل نہیں ہوگا، فرانسیسی صدر

ن لیگ کی شیعہ دشمنی، دہشتگردوں کو سرکاری پروٹوکول، شیعہ رہنماوں کی سیکورٹی واپس

فیس بک نے داعش اور القاعدہ کی 19 لاکھ پوسٹیں ڈیلیٹ کردیں

شامی افواج کا دمشق میں امام علی(ع) مسجد پر قبضہ

شبعان المعظم عبادت و بندگی اور پیغمبر اسلام کا مہینہ

پاکستان کا کرنل جوزف کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار

این آراو سے متعلق درخواست پر پرویز مشرف اور آصف زرداری کو نوٹس جاری

ایران سے جنگ امریکا کے لیے کتنی نقصان دہ ہو گی؟

تمام اہل بہشت ہمیشہ کیلئے امام حسین(ع) کے مہمان ہیں

مارشل لاء میں بھی اتنی پابندیاں نہیں لگیں جتنی اب ہیں، نواز شریف

بار بار اسمارٹ فون دیکھنے کی لت نشے کی مانند ہے: ماہرین

خون کی رگوں کو جوان کرنے والا نایاب اینٹی آکسیڈنٹ دریافت

تاحیات نااہلی اور نوازشریف

نقیب قتل کیس؛ پولیس نے راؤ انوار کو مرکزی ملزم قرار دے دیا

کے پی کے حکومت میں رخنہ: کیا پی ٹی آئی جماعت اسلامی کے بغیر اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے؟

سعودیہ میں تبدیلی کے پیچھے کون؟

شام میں مشترکہ عرب فوج تشکیل دینے پر مبنی امریکی منصوبہ

موجودہ حالات میں الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے، چوہدری شجاعت حسین

کوئٹہ میں ملک دشمن تکفیری دہشت گردوں کی فائرنگ، 2 شیعہ ہزارہ شہید 1 زخمی

فاروق ستار کی لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہونے پر وزیر اعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کی دھمکی

مغرب کیمیائی حملے کے شواہد تبدیل کر رہا ہے: روس

6 ماہ میں مختلف بیماریوں میں 2 ہزار یمنی شہریوں کا جانی نقصان

نظام تعلیم کا بیڑا غرق کردیا یہ ہے پنجاب حکومت کی کارکردگی، چیف جسٹس

ضیاالحق سے ڈکٹیشن لیتے وقت نواز شریف کو ووٹ کی عزت یاد نہیں آئی، بلاول بھٹو زرداری

مجھے دکھ ہے کہ بے گناہی ثابت کرنے کے لئے 14 ماہ زندان میں گزارے، ثمر عباس – از فواد حسن

ریاض میں شاہی محل کے قریب ‘کھلونا ڈروان’ مارگرایا

ہم آزادی سے خائف ہیں؟

’پاکستان سے زیارت کرنے جاؤ تو واپسی پر ایجنسیاں اٹھا لیتی ہیں‘، بی بی سی رپورٹ

اسلامی مزاحمت کے میزائل اسرائیل کے اندر ہر ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں

حضرت عابد (ع) کی ولادت مبارک ہو!

مانچسٹر میں سالانہ سیمینار: 'برطانیہ میں مسلمانوں کو درپیش چیلینجز'

حضرت عباس(ع) کی زندگی انتظار کا عملی نمونہ

حضرت ابوالفضل (ع) کے باب الحوائج ہونے کا راز

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا80 واں یوم وفات

فلسطینی بچوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ شرمناک ہے، اقوام متحدہ

اعیاد شعبانیہ اور جشن سرکار وفا

شمالی کوریا کا مزید ایٹمی اور میزائل تجربات نہ کرنے کا اعلان

شام کو اینٹی ایئر کرافٹ میزائل فراہم کرنا اخلاقی ذمہ داری

پاکستان کا کشمیر سے متعلق امام خامنہ ای کے بیان کا خیر مقدم

ان الحسین باب من ابواب الجنة

ہم تب کربلائی اور حسینی ؑنہضت کا حصہ بن سکتے ہیں جب ہمارے اندر انبیائی اور حسینیؑ صفات موجود ہوں: علامہ راجہ ناصر عباس

صحافت اور شہادت ساتھ ساتھ

چیئرمین سینیٹ منتخب کرانے کیلیے پی ٹی آئی نے کہا کہ اوپر سے آرڈر آیا ہے: سراج الحق

ایران کا ردعمل امریکہ کیلئے تکلیف دہ ہوگا: محمد جواد ظریف

امریکا کی عالمی جوہری ڈیل سے ممکنہ دستبرداری اور اس کے اثرات

امام حسین علیہ السلام کی سیرت طیبہ

مسلم خاتون کو ہاتھ نہ ملانے کی وجہ سے فرانس کی شہریت سے محروم کر دیا گیا

اللہ تعالی کی طرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر تہنیت اور تعزیت

2017-06-30 23:33:13

کيا پاکستان کے حوالے سے امريکی پاليسی تبديل ہونے والی ہے؟

39190251_303مغربی دفاعی اتحاد نيٹو نے اپنے اضافی دستے افغانستان ميں تعينات کرنے کا فيصلہ کيا ہے۔ اس بارے ميں اعلان نيٹو کے سيکرٹری جنرل ينس اشٹولٹن برگ نے گزشتہ روز برسلز ميں اس اتحاد کے رکن ممالک کے وزرائے دفاع کے اجلاس کے موقع پر کيا۔ اس موقع پر انہوں نے مزيد کہا کہ افغانستان ميں قيام امن کے ليے مبينہ طور پر پاکستان ميں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی بھی لازمی ہے۔

علاوہ ازيں امريکا ميں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظاميہ بھی پاکستان کے حوالے سے اپنی پاليسی تبديل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اطلاعات ہيں کہ پاکستان کے خلاف سختياں متعارف کرائی جا سکتی ہيں۔ ليکن جنوبی ايشيائی خطے کے موجودہ حالات اور پاکستان کی طرف سے افغانستان ميں قيام امن کی کوششوں کے تناظر ميں اس ممکنہ امريکی اقدام کے کيا اثرات مرتب ہو سکتے ہيں؟

يہ جاننے کے ليے ڈی ڈبليو نے مائيکل کوگلمين سے بات چيت کی جو امريکی ’ووڈرو ولسن سينٹر ميں جنوبی ايشيائی امور کے ايک ماہر ہيں اور بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے بارے ميں کافی معلومات رکھتے ہيں۔  

Michael Kugelman (C. David Owen Hawxhurst / WWICS)

ڈی ڈبليو: اس بات کے کتنے امکانات ہيں کہ واشنگٹن حکومت پاکستان کے حوالے سے سخت پاليسی اپنانے والی ہے؟

مائيکل کوگلمين: پاکستان کے حوالے سے امريکی پاليسی ميں سختی متعارف کرائے جانے کے قوی امکانات ہيں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دہشت گردی کے خلاف سخت رويہ رکھتے ہيں اور ان کا ماننا ہے کہ ايسے عناصر کا جڑ سے خاتمہ کيا جانا چاہيے، خواہ وہ جہاں بھی ہوں۔ ايسا لگتا ہے کہ پاکستان کی چند دہشت گردوں کو نشانہ بنانے اور چند کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی مبينہ پاليسی ٹرمپ کو بالکل ہی قبول نہيں ہو گی۔

ڈی ڈبليو: اگر پاکستان کے حوالے سے واشنگٹن کی پاليسی تبديل ہوتی ہے، تو کيا ممکنہ اقدامات اٹھائے جا سکتے ہيں؟

مائيکل کوگلمين: يہ تاحال واضح نہيں۔ تاہم ايسی قياس آرائياں جاری ہيں کہ پاکستان ميں ڈرون حملوں کو توسيع دی جا سکتی ہے اور اسلام آباد کو فراہم کی جانے والی عسکری مالی امداد ميں بھی کمی ممکن ہے۔ واشنگٹن ميں پاکستان کے حوالے سے سخت نظريات کے حامل اہلکاروں کا يہ بھی ماننا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ميں نيٹو اتحاد کے باہر ايک کليدی اتحادی ملک کی حيثيت تلف کر دی جائے۔ چند ايک کا تو يہ بھی مطالبہ ہے کہ پاکستان کو ايک ايسی رياست قرار ديا جائے، جو دہشت گردی کی حمايت جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم يہ انتہائی سخت اقدامات اگرچہ انتظاميہ کے اختيارات ميں ضرور ہيں ليکن ميرا نہيں خيال کہ ان پر فوری عمل در آمد ممکن ہے۔ فی الحال فنڈز کی کٹوتی اور بغير پائلٹ والے طياروں کے حملوں کو وسعت دی جا سکتی ہے۔

ڈی ڈبليو: تو کيا ان ممکنہ اقدامات سے واشنگٹن انتظاميہ اور نيٹو اپنے مقاصد حاصل کر سکيں گے؟

مائيکل کوگلمين: يہاں اہم سوال يہی ہے کہ کيا نئی ممکنہ امريکی پاليسی کے نتيجے ميں پاکستان دہشت گردی کے خلاف اقدامات ميں تيزی لائے گا۔ ميں نہيں سمجھتا کہ ايسا ہو گا۔ اس کے رد عمل ميں پاکستانی سکيورٹی اسٹيبلشمنٹ لشکر طيبہ اور حقانی نيٹ ورک جيسی دہشت گرد تنظيموں کے ساتھ اپنے روابط مزيد بڑھا سکتی ہے۔

ڈی ڈبليو: اگر امريکا دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ميں نيٹو اتحاد کے باہر ايک کليدی اتحادی ملک کی پاکستان کی حيثيت تلف کر ديتا ہے، تو اس کے کيا اثرات مرتب ہوں گے؟

مائيکل کوگلمين: يہ پاکستانی فوج کے ليے کافی منفی پيش رفت ہو گی۔ اس کا مطلب عسکری امداد اور پاکستان کو اسلحے کی فروخت ميں نماياں کمی ہو گی۔ اگرچہ پاکستان کے ليے سعودی عرب اور چين کے دروازے کھلے ہيں ليکن امريکی امداد پاکستان کے ليے کافی اہميت کی حامل ہے۔ پاکستان کی بطور ايک اتحادی ملک حيثيت ميں تبديلی سکيورٹی اسٹيبلشمنٹ ميں کافی لوگوں کو بہت تنگ کر سکتی ہے۔

ليکن سوال يہ اٹھتا ہے کہ آيا امريکا اپنی پاليسی ميں اتنی بڑی تبديلی لائے گا۔ ميرے خيال ميں فی الحال اور مستقبل قريب ميں بھی ايسا ممکن نہيں۔ افغانستان ميں امريکی دستے موجود ہی نہيں بلکہ ان ميں توسيع بھی کی جا رہی ہے۔ ايسی صورتحال ميں واشنگٹن کو سپلائی روٹس اور ديگر معاملات ميں پاکستان کی مدد درکار ہو گی۔

NATO Versorgung Afghanistan Pakistan (DW)

ڈی ڈبليو: ممکنہ امريکی سختيوں کے نتيجے ميں پاکستان روس اور چين کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھا سکتا ہے۔ کيا نيٹو اور امريکا کے ليے يہ موزوں ہو گا؟

مائيکل کوگلمين: يقيناً واشنگٹن کی طرف سے پاليسی کی تبديلی کی صورت ميں پاکستان، چين اور روس کے ساتھ قريبی تعلقات کا خواہاں ہو گا ليکن ہميں اس خطرے کو طول نہيں دينی چاہيے۔ پاکستان ويسے ہی اس جانب بڑھ رہا ہے ليکن يہاں يہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہيے کہ بيجنگ اور ماسکو کے افغانستان ميں اہداف امريکی حکومت کے اہداف کے قريب تر ہيں، نہ کہ پاکستان کے۔ روس اور چين افغانستان ميں استحکام کے خواہاں ہيں۔ پاکستان کے طالبان کے ساتھ مبينہ روابط ہيں اور امکاناً افغانستان ميں عدم استحکام ممکنہ طور پر پاکستان کے مفاد ميں ہے کيونکہ اس سے وہاں بھارتی اثر و رسوخ متاثر ہوتا ہے۔

ڈی ڈبليو: کيا پاکستان اور امريکا کے تعلقات اب بھی عدم اعتماد يا بد اعتمادی کے شکار ہيں؟ 

مائيکل کوگلمين: يہ بات اس وقت تو غير واضح ہے ليکن وائٹ ہاؤس کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے عنقريب سامنے آنے والے تفصيلی جائزے کے بعد واضح ہو جائے گی۔ ميرا ذاتی خيال ہے کہ انتظاميہ کے ارکان اس سلسلے ميں منقسم ہيں، چند لوگ سخت رويے کے حامی ہيں تو چند ايک زيادہ سفارت کاری چاہتے ہيں۔ ديکھنا يہ ہے کہ آخر ميں کس کا پلڑا بھاری ہوتا ہے۔

ميرا ذاتی خيال ہے کہ حقانی نيٹ ورک کے خلاف کارروائی کے ليے ابتداء ميں پاکستان کے ساتھ سفارت کاری کا راستہ اختيار کيا جائے گا تاہم اگر يہ کارآمد ثابت نہيں ہوتا تو بلوچستان ميں اضافی ڈرون حملے اور عسکری امداد ميں واضح کٹوتياں ديکھی جا سکتی ہيں۔

ڈی ڈبليو: خطے ميں چين اور روس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود رکھنے کے ليے پاکستان امريکا کے ليے کس قدر اہم ہے؟

مائيکل کوگلمين: پاکستان اپنی جغرافيہ اور جيو پوليٹيکل عناصر کے سبب انتہائی اہم ملک ہے، اس ميں کسی شک کی گنجائش نہيں۔ امريکا افغانستان ميں اپنی طويل ترين جنگ لڑ رہا ہے اور اس ملک کی سرحديں پاکستان سے ملتی ہيں، تو پاکستان کی اہميت کو نظر انداز کيا ہی نہيں جا سکتا۔ يہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان کے چين کے ساتھ اچھے روابط اور روس کی طرف جھکاؤ بڑھ رہا ہے۔ يہ بھی اس ملک کو کافی اہم بنا ديتے ہيں۔ DW.COM

 
 

 

زمرہ جات:   Horizontal 2 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)