چیئرمین نیب نے جے آئی ٹی کے سامنے کیا کچھ اگلا ؟

اسرائیل، شام میں ایران کی موجودگی کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے؛ گوٹرش

اسمارٹ فون سے اب ڈیسک ٹاپ میں تصاویر منتقل کرنا آسان ہو گیا

نیب نے خادم پنجاب روڈ پروگرام اور میٹروبس میں کرپشن کی تحقیقات شروع کردیں

ایران کا مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ، 66 مسافر سوار تھے

بھارتی اور داعشی کے خطرات میں پاک فوج کی سعودیہ عرب میں تعیناتی خلاف عقل ہے

عوام سے ووٹ لے کر آنا قانون سے بالاتر نہیں بنادیتا، عمران خان

حضرت فاطمہ زہرا (س) کی شہادت

آصف زرداری کا راؤ انوار سے متعلق اپنے بیان پر اظہارِ افسوس

توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگانے پر سخت سزا کی تجویز

عمران کو سزا پاکستان کے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے

ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل باجوہ کو مشرف تصور کر کے غلطی کی: برطانوی تھنک ٹینک

فخر سے کہہ سکتے ہیں پاکستانی سرزمین پر دہشتگردوں کا کوئی منظم کیمپ موجود نہیں، پاک آرمی چیف

نائیجیریا میں یکے بعد دیگرے 3 خودکش حملوں میں 22 افراد ہلاک

سعودیہ میں فوجی دستوں کی تعیناتی

ایران اور ہندوستان نے باہمی تعاون کے 15 معاہدوں اور دستاویزات پر دستخط کردیئے

پاکستانی فوجیوں کو سعودی عرب کے زمینی دفاع کو مضبوط کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے، خرم دستگیر

17 امریکی سیکیورٹی سروسز کا پاکستانی ایٹمی پروگرام سے اظہارِ خوف

شام سے برطانیہ کے 100 دہشت گردوں کی واپسی کا خدشہ

آرام سے کھانا کھائیے، موٹاپے سے محفوظ رہیے

علامہ سید ساجد علی نقوی کا شہدائے سیہون شریف کی پہلی برسی سے خطاب

زینب کے گھر والوں کا مجرم کو سرِعام پھانسی دینے کا مطالبہ

زینب کے قاتل عمران علی کو 4 بار سزائے موت کا حکم

کرپشن الزامات کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

پاکستان کی 98 فیصد خواتین کو طبی و تعلیمی سہولیات میسر نہیں

شیعہ حریت لیڈر یوسف ندیم کی ہلاکت قتل ناحق ہے، بار ایسوسی ایشن

پاکستانی سینیٹ کا فوجی دستہ سعودی عرب بھیجنے پر تشویش کا اظہار

اسرائیل میں وزیراعظم نتین یاہو کے خلاف ہزاروں افراد کا مظاہرہ

سعودی علماء کونسل : عرب خواتین کے لئے چادر اوڑھنا ضروری نہیں ہے

صدر روحانی کا حیدر آباد کی تاریخی مسجد میں خطاب

افغانستان میں داعش کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ایشیا کے امن کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے

آیت اللہ زکزی کی رہائی کا مطالبہ

فاروق ستار کا اپنے سینیٹ امیدواروں کے ناموں سے دستبرداری کا اعلان

بن سلمان کا سعودی عرب؛ حرام سے حلال تک

پاکستان کی دہشت گردی کے معاملات میں کوتاہیوں پر تشویش ہے، امریکہ

اسلام آباد دھرنوں اور احتجاج پر خزانے سے 95 کروڑ روپے خرچ ہوئے، انکشاف

نقیب قتل کیس؛ راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم واپس، بینک اکانٹس منجمد

مغربی موصل کو بارودی مواد سے صاف کرنے کے لئے دس سال درکار ہیں؛ اقوام متحدہ

جو شخص یقین کی منزل پر فائز ہوتا ہے وہ گناہ نہیں کرتا ہے

عالمی دباؤ کا مقابلہ داخلی ہم آہنگی سے کیا جائے

تعاون اور اعتماد سازی

عدالت جواب دے یا سزا ۔ فیصلہ چیف جسٹس کو کرنا ہے

میں نہیں مان سکتا کوئی ڈکیت پارٹی صدر بن کر حکومت کرے، چیف جسٹس

انسانی حقوق کے عالمی چیمپئن کے دعویدار مسئلہ کشمیر و فلسطین پر خاموش کیوں ہیں

ایران کی ترکی کو ایک نرم دھمکی

معاشرہ، امربالمعروف ونہی عن المنکرسے زندہ ہوتا ہے

یمن پر سعودی جنگی طیاروں کے حملے جاری

ریڑھ کی ہڈی کا پانی کیا ہےاور یہ کیوں نکالا جاتا ہے؟

زینب قتل کیس کا فیصلہ محفوظ، ہفتے کو سنایا جائے گا

جنوبی ایشیا میں امن کی تباہی کا ذمہ دار بھارت ہے: وزیر دفاع

لودھراں الیکشن ہارنے کی وجہ ہمارے لوگوں کی (ن) لیگ میں شمولیت ہے: عمران خان

شام میں اسرائیل اور ایران کے مابین ایک علاقائی جنگ کے واقع ہونے کی علامتیں

بیلجیئم کی حکومت کا سعودی عرب کی تعمیر کردہ جامع مسجد کو اپنی تحویل میں لینے کا مطالبہ

حضرت زہرا(س) کی شہادت سےمربوط واقعات کا تجزیہ وتحلیل

امام زمانہ(عج) کی عالمی حکومت میں انبیاء کا کردار

بن سلمان کا سعودی عرب؛ حرام سے حلال تک

ٹرمپ: نئی جوہری دوڑ اور جنوبی ایشیا

نقیب قتل کیس؛ چیف جسٹس پاکستان کا راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

پاکستان نے اپنے علاقوں سے دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ختم کردی ہیں، آرمی چیف

پوری نیند اور مناسب پانی سے جھریوں کا بہترین علاج

امریکہ کو داعش کا ڈرامہ اور تماشا اب ختم کرنا چاہیے

ایران میں شیعہ اور سنی سخت ترین شرائط میں ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں

ایران سے جنگ نہیں چاہتے: اسرائیل کی روس سے مدد کی اپیل

مودی اسرائیل کا چپراسی

مشرق وسطیٰ ، متحدہ عرب امارات میں پہلے ہندو مندرکی تعمیر کا افتتاح

فوجی کیمپ پر حملہ: بھارت کی پاکستان کو خطرناک نتائج کی دھمکی

حزب اللہ بدستور طاقتور رہے گی: امریکی تجزیہ کار

دہشت گردوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہر سطح پر ختم کئے جائیں

کامیاب لوگ اور قومیں اپنی ناکامیوں سے سیکھتی ہیں، عمران خان

ایم کیو ایم میں پرویز مشرف کے مائنس ٹو فارمولے پر عمل ہورہا ہے، فاروق ستار

لودھراں ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف کو شکست دیدی

2017-07-15 04:21:04

چیئرمین نیب نے جے آئی ٹی کے سامنے کیا کچھ اگلا ؟

Chaimran

چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے  شریف خاندان کے خلاف مقدمات کی تمام تفصیل بیان کی  اور انکشاف کیا کہ وزیراعظم نواز شریف کےخلاف  فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس نیب راولپنڈی نے تیار کرکے فیصلے کے لیے نیب ہیڈ کوارٹر ز کو ارسال کردیا ہے  اسی طرح  رائیونڈ سڑک کی تعمیر کا کیس بھی نیب لاہور نے تیار کرکے نیب ہیڈ کوارٹر کو فیصلے کے لیے ارسال کیا ۔

 

 

 چیئرمین نیب نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے اپنا بیان 5جولائی کو اسی روز ریکارڈ کروایا تھا جس روز وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔ اس نمائندے نے چیئرمین نیب کے بیان کی نقل حاصل کی ہے جس میں چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کہا کہ میں نے  نیب کو بطور چیئرمین نیب سال 2013 کے آخر میں جوائن کیامگر  چند مسائل کے باعث مستعدی سے میں اپنی زمہ داریاں نہ شروع کر سکا ۔  بعد میں جب  میں نے باضابطہ طور پر نیب جوائن کیا اور فروری 2014 میں نیب سے متعلق کئی زیر التواء کیسز پر کام کیا مگر کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی، اس پر  میں نے ڈپٹی چیئرمین نیب کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی،اس کمیٹی کا مقصد تاخیری اور پرانے  کیسز پر کام کرنا تھا۔ زیرالتوا کیسز میں سے 285 سیاستدانوں سے متعلق  تھے ان 285 میں سے 21 کیسز نواز شریف اور انکے خاندان سے متعلق تھے جبکہ مقدمات دیگر سیاستدانوں سے متعلق تھے ۔ تاخیری مقدمات سے متعلق قائم کردہ کمیٹی ے 22 اجلاس ہوئے۔  ان 285 کیسز سے متعلق کمیٹی نے مناسب کارروائی کی ۔

دسمبر 2015 میں تاخیری مقدمات کی تعداد کم ہو کر 56 ہو گئی .

57 کیسز میں 9 شریف خاندان اور 47 کیسز دیگر سیاستدانوں سے متعلق تھے.

چیئرمین نیب کا چارج سنبھالتے ہی کیسز کے مختلف مراحل کے لئے ٹائم لائنز کے لئے ایس او پی متعارف کرائے ۔  چیئرمین نیب  کا کہنا تھا کہ ایس او پی کا مقصد کیسز کی پیش رفت کو مانیٹر کرنا تھا ۔ تفتیشی افسر نے 2 ماہ میں شکایت کی مکمل جانچ پڑتال 4 ماہ میں تحقیق اور 4 ماہ میں تفتیش مکمل کرنا تھی۔ اس حساب سے مقدمے کو مکمل ہونے کے لئے 10 ماہ درکار تھے ، اس ٹائم لائن پر عمل کرنے کے لئے سخت ہدایت جاری کیں ۔ نواز شریف اور انکے خاندان سے متعلق مقدمات شروع سے ہی زیر التواء رہے  ۔ زیر التواء ہونے کی وجہ ملزمان کا بیرون ملک میں ہونا تھا ۔ بیرون ملک ہونے کے باعث انکا موقف نہیں لیا جا سکا، نیب میں زیر التواء کیسز میں ایون فیلڈ پراپرٹی کا کیس بھی شامل تھا ، نیب لاہور کو یہ کیس سونپا گیا ۔نیب لاہور نے نیب ہیڈ کوارٹر کو آگاہ کیا کہ سوائے ایک شکایت کے نیب کے پاس کوئی دستاویزی ریکارڈ موجود نہیں ، نیب لاہور کے مطابق اس  کیس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ فروری 2015 میں نیب لاہور کی جانب سے نیب ہیڈ کوارٹرکو خط لکھا گیا ۔خط میں ایون فیلڈ پراپرٹی سے متعلق تصدیق شدہ کاپی برطانیہ سے لینے کی  سفارش کی گئی تھی۔

چیئرمین نیب  نے کہا کہ جب انہوں  نے عہدہ سنبھالا تو شریف ٹرسٹ سے متعلق ایک اور مقدمہ زیر التوا تھا۔  مقدمے میں الزام تھا  کہ شریف خاندان نے شریف ٹرسٹ کو جواز بنا کر خفیہ طریقے سے کروڑوں روپے وصول کئے  ۔ الزامات میں مزید یہ بات ثابت ہوئی کہ شریف ٹرسٹ کے اکاونٹس کا آڈٹ نہیں  ہوا۔ شریف خاندان پر الزام تھا کہ انہوں نے ٹرسٹ کے نام پر بے نامی اثاثے بنا رکھے ہیں۔ کیس کا آغاز سال 2000 میں کیا گیا مگر متعلقہ فائلوں میں ریکارڈ کے حصول کے لئے کوششیں نظر نہیں آئیں2015 میں کیس کی زمہ داری نئے تفتیشی افسر کو سونپی گئی ،  اب ریکارڈ کو جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے . تحقیقات  کے دوران انکشاف ہوا مطلوبہ دور سے متعلق شریف ٹرسٹ کا کوئی متعلقہ ریکارڈ موجود نہیں ۔شریف خاندان کے مطابق 1999 میں فوج نے چارج سنبمھال لیا۔ چیئرمین نیب کے مطابق  اس کیس  پر کام جاری ہے ، دیگر ذرائع سے معلومات اکھٹی کی جا رہی ہیں ۔  نوازشریف کے خلاف ایف آئی اے میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس نیب راولپنڈی نے فائنل کیا ، اس کیس کو ایگزیکیٹو بورڈ میٹنگ میں فیصلے کے لئے نیب ہیڈ کوارٹر کو بھیجا گیا جو زیر تفتیش ہے ۔نوازشریف  کے خلاف ایک الگ کیس نیب لاہور نے بھی بنایا ۔نیب لاہور نے وزیر اعظم کے خلاف راوئیوانڈ روڈ کی تعیمر سے متعلق کیس بنایا جسے نیب ہیڈ کوراٹر کو بھیجا ۔نیب  ہیڈ کوارٹر کی جانب سے چند سوالات اٹھائے گئے ، جس پر ریجن میں کام جاری ہے ۔ نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف 1 انکوائری اور 2 تفتیش بھی جاری ہیں ۔ نواز شریف اور شہباز شریف پر ایل ڈی اے پلاٹ کی الاٹمنٹ میں اتھارٹی کے غلط استعمال کا الزام ہے ۔ ایل ڈی اے پلاٹ سے متعلق تحقیقات نیب لاہور میں جاری ہیں ۔ چیئرمین نیب ان کیسز سے متعلق موزوں معلومات کو اکھٹا کیا جا رہا ہے ، جنھیں جلد حتمی شکل دے دی جائے گی ۔  حدیبیہ  پیپر ریفرنسز ، جان بوجھ کر قرض ڈی فالٹ کیس اور رائیونڈ اسٹیٹ ریفرنسز لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے خارج کر دئے گئے ۔نیب پراسیکیوٹر کے کے آغا  کی تجویز پر میں نے مزید اپیل فائل نہیں کی ، کے کے آغا اب سندھ ہائی کورٹ کے جج ہیں ،نیب پراسیکیوٹر کا شعبہ نیب میں ایک خود مختار قانونی دفتر ہے جو چیئرمین نیب کی قانونی معاونت کے لئے بنایا گیا تھا ۔

 

چئرمین نیب سے جے آئی ٹی سے پانچ سوال پوچھے

 

سوال نمبر 1 : نیب  ضابطے کے مطابق مقدمہ دس ماہ میں مکمل کیا جاتا ہے ۔

ضا بطے  کے باوجود شریف خاندان کے خلاف مقدمات سترہ اتھارہ سال زیر التوا کیوں رہے ؟

چئرمین نیب : عہدہ سنبھالا تو شریف خاندان اورسیاستدانوں کے خلاف مقدمات سابق چئرمینوں زیر التوا رکھے فروری 2014میں ان مقدمات پر کاروائی کا آغاز کیا ۔

یہ درست ہےکہ شریف خاندان کے خلاف بعض مقدمات کومکمل نہیں کیا گیا ۔

 

سوال نمبر 2: ایون فیلڈجائیدادوں کے مقدمے میں کیا ان جائیدادوں کے مالکان کو کبھی طلب کیا گیا ؟

جواب : ریکارڈ کے مطابق ان جائیدادوں کے مالکان کو کبھی طلب نہ کیا گیا

 

سوال نمبر 3: جائیدادوں پر نیب ریجن کی 2015  کی درخواست کے باوجود باہمی قانونی معاونت کی درخواست کیوں نہیں کی گئی ؟

جواب : بنیادی معلومات موجود نہ تھیں اس لیے یہ معاملہ شروع نہ کیا جاسکا۔

 

 

سوال نمبر 4: کیا کبھی نیب نے جائیدادوٕں کے بارے بنیادی معلومات حآصل کرنے کے لیے شریف خاندان سے رابطہ کیا ؟

جواب : ریکارڈ کے مطابق کبھی رابطہ نہیں کیا گیا

 

سوال نمبر 5: شریف ٹرسٹ  کیس پر 2014میں کاروائی شروع کرنےکے باوجود ییشرفت کیوں نہ ہوسکی ؟

جواب :  کیس پر کاروائی 2015میں شروع ہوئی۔ شریف ٹرسٹ کا ریکارڈ انڈ سٹریز ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے حاصل کیا گیا ، کمپنی کے آڈیٹر سے بھی معلومات طلب کیں توجواب آیا کہ آڈٹ رپورٹس شریف خاندان کےپاس ہیں ۔ شریف ٹرسٹ کے اکاونٹ آفیسر کونوٹس جاری کیا گیا ۔اکاونٹ آفیسرعبدالرزاق نے بتایا کہ ریکارڈ 1999میں فوج لے گئی تھی ۔ اکاونٹ آفیسر کے مطابق اس لیے1999سے پہلے کی آڈٹ رپورٹ موجود نہیں تھی ۔ اکاونٹ آفیسر نے وعدہ کیا کہ 1999کے بعد کا ریکارڈ دے گا مگر ابھی تک نہ دیا۔

 

سوال نمبر 6 : عبدالرزاق کب حاضر ہوئے ؟

 

جواب : وہ نیب لاہور کے سامنے ستمبر 2016میں پیش ہوئے

 

سوال نمبر 7: نیب نے نو ماہ گذرنے  کے باوجود کیا کاروائی کی، کوئی ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا؟

 

جواب : نیب نے ان سے خط وکتابت شروع کی۔حال ہی میں مجھے بتایا گیا کی ٹیم ٹرسٹ کے دفتر کا دورہ کرسکتی ہے ۔

 

سوال 8: کیا آپ کے پاس کلثوم ٹرسٹ کے بارے میں کوئی معلومات ہیں؟

جواب :  نیب ریکارڈ میں ایسا کوئی کیس زیر التوا نہیں۔

 

 سوال 9:  کیا آپکو التوفیق اور البراقہ کے بارے کوئی معلومات ہیں ؟

جواب :  میرے علم میں نہیں۔

 

 سوال 10: حدیبیہ انجنئرنگ کیس کا کیا اسٹیٹس ہے ؟

 

 جواب : یہ کیس حدیبیہ پیپر ملز کیس کے ساتھ ضم کردیا گیا تھا۔

 

سوال 11:  لیکن نیب ریکارڈ کے مطابق یہ کیس سال 2000میں سونپا گیا ، 69ملین ایکوٹی سے متعلق ، یہ ضم نہیں کیا گیا؟

 

جواب :  مجھے یہ چیک کرنا پڑے گا۔

 

 

سوال 12: ریکارڈ  کے مطابق عبدالغنی ٹرسٹ کے بارے میں دستاویزات ہیں جس کے مطابق شریف خاندان کے قرضوٕں کے لیے کولیٹرلز کے زریعے ادائیگی کی گئی تھی ؟ اسکا اسٹیٹس کیا ہے؟

 جواب : الماریوں میں بہت سا ریکارڈ رکھا ہے ۔ جے آئی ٹی کو فراہم کی گئی فہرست وہی ہے جو 1999-2000سے دستیاب ہے ۔ میں اسے دیکھوں گا اوراسکا پتہ لگاوں گا۔

سوال 13: نوازشریف کے خلاف ہیلی کاپٹر خریداری کا ایک ریفرنس تھا ، اس کیس میں احتساب عدالت نے انہیں 14سال کی سزا اور 20ملین  کا جرمانہ کیا تھا۔ بعدازاں لاہور ہائیکورٹ نے انہیں بری کردیا ۔ نیب نے اس پر اپیل کیوں دائر نہ کی ؟

 

 

جواب : چونکہ یہ کیس میرے دور کا نہیں لہذا میرے پاس اس بارے علم نہیں۔

سوال 14:حدیبیہ پیپر ملز کیس کے مسترد ہونے کے بعد کوئی اپیل کیو ں نہ کی گئی ، یہ واضع ثبوتوں کے ساتھ بڑا مضبوط کیس تھا؟

 

 

جواب : اس  پر این اے او 1999کے تحت پراسیکیوٹر جنرل نیب کے آزاد دفتر نے سیکشن 8کے تحت ایک ایڈوائز دی تھی جس کا میں پابند تھا۔ اس وقت کے پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا تھے  جو آج کل سندھ ہائیکورٹ کے معزز جج ہیں۔ وہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر  اور ان کی ٹیم نے آبزرو کیا تھا گو کہ اپیل فائل کی جاسکتی تھی لیکن میں نے ان کی آبزرویشن  حقائق سن کر فیصلہ کیا ۔ میرے پاس کوئی  دوسری عقلی چوائس نہیں تھی ۔

 

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم  نے اپنے تجزئے  میں کہا   نیب نے سترہ سال تک شریف خاندان کےخلاف مقدمات پیش رفت نہ کی ۔ چیئرمین نیب کی طرف سے لاہور ہائیکورٹ میں شریف خاندان کے کیسز مسترد  ہونے کے بارے میں  اپیل نہ کرنے کی وضاحت  کویہ کہہ کرمسترد کردیا گا کہ  ایسا کوئی قانون موجود نہیں جس میں چئرمین نیب  پراسیکیوٹر  جنرل  کی رائے کاپابند ہو . جے آئی ٹی نے رائے دی کہ نیب سترہ سال تک شریف خاندان کے خلاف کیسز پر بیٹھی رہی اور اس دوران ایک یا دوسری وجہ سے ان کیسز پر کوئی پیشرفت کی گئی نہ ملزمان کو شامل تفتیش کیا گیا۔

 

اعزاز سید

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

جام جم - 18 فروری

- سحر نیوز