کیا سیاستدانوں کے بعد ججوں اور جرنیلوں کا احتساب بھی ممکن ہے؟

شام میں امریکہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے، ابوالخیرزبیر

بھارت سکھ زائرین کے دورے کو کیوں متنازع بنانا چاہتا ہے؟

میں شام پہ غیر جانبدار نہیں ہوں – عامر حسینی

شامی حکومت نے دوما میں کیمیائی حملہ نہیں کیا: رابرٹ فسک

ڈائریکٹر سی آئی اے کی سربراہ شمالی کوریا سے خفیہ ملاقات کا انکشاف

امریکی سفارتکار کی گاڑی کی ٹکر سے نوجوان کی ہلاکت؛ پولیس نے کیس خراب کر دیا؟

نواز شریف کو محب وطن ثابت کرنے کی کوشش

کیا پاکستان سکھ یاتریوں کو خالصتان کے لیے اکسا رہا ہے؟

جنوبی اور شمالی کوریا 70 سالہ جنگ کے باقاعدہ خاتمے پر رضامند

اب جہاز میں کھڑے ہو کر سفر کرنا ممکن

جنوبی اور شمالی کوریا 70 سالہ جنگ کے باقاعدہ خاتمے پر رضامند

روس کا شام کو ایس 300 دفاعی میزائل فراہم کرنے پر غور

3 ہزار سے زائد ایپس غیر قانونی طور پر ڈیٹا جمع کرنے میں مصروف

دیوبندی مکتب فکر میں جہاد و تکفیر اور پشتون و پنجابی فیکٹر – عامر حسینی

یورپ ایران جوہری معاہدے پر امریکہ کے سامنے نہ جھکے: روس کا مطالبہ

متنازعہ ایجاد: ایمسٹرڈم میں ’خودکشی کی مشین‘ کی عوامی نمائش

پاکستان پر افغان سرحد کے پار سے حملہ: امن کیسے قائم ہو گا؟

شامی میدان پر مفاد پرستوں کی لڑائی ختم ہونا مشکل کیوں؟

پیغمبراکرم (ص) نے بشریت کو حیات طیبہ کی تعلیم دی تھی

مصری پارلیمنٹ کی خارجہ کمیٹی کی شام پر تین مغربی ممالک کے حملے کی مذمت

کوئٹہ : داعش کے بھیس میں لشکر جھنگوی کے مسیحی برادری پر حملے

فوج نہ ہوتی تو پاکستان میں بھی دیگر مسلم ممالک کی طرح تباہی مچی ہوتی، عمران خان

شامی جنگی ڈرامے کا مرکزی ولن کون؟ – ولادیمر گولیسٹن

شام پر امریکی حملے جاری رہے تو دنیا کیلیے خطرناک ہوگا، ولادی میر پیوٹن

ڈونلڈ ٹرمپ جھوٹے اور اخلاقی طور پر صدارت کیلئے نااہل ہیں: جیمز کومی

غیرملکی ایجنسیاں لوگوں کو لاپتہ کرکے آئی ایس آئی پر الزام لگانا چاہتی ہیں، جاوید اقبال

پختون تحفظ موومنٹ: حقوق کی جنگ یا غداری

سعودی عرب کا مشرقی یروشلم میں اسلامی ورثے کے تحفظ کی آڑ میں اسرائیل کو 15کروڑ ڈالر کی امداد

امریکہ کا شام پر حملہ دہشت گردوں کو شکست سے بچانے کی ناکام کوشش کا حصہ ہے

عالمی استکبار شام پر عراقی تاریخ دہرانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہے: علامہ راجہ ناصرعباس جعفری

برطانوی وزیراعظم امریکا کو نہیں پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں، جیرمی کوربن

امریکی صدر نے شام پر دوبارہ حملے کی دھمکی دے دی

کیا امریکہ شام پر اگلی دفعہ بڑا حملہ کرے گا؟

ن لیگ کا چیف جسٹس کو واضح پیغام: سپریم کورٹ جج اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ

شام کیوں زد پرہے ؟

خوفناک ترین ہتھیار: کیا روس کا اینٹی سیٹلائٹ میزائل امریکہ کو مفلوج کر دے گا؟

حملوں کے بعد بشار کی معمول کے مطابق دفتر آمد! فوجی پرسکون, سیکیورٹی عمومی، زندگی رواں دواں

شام نے مغربی ممالک کے 13 میزائل تباہ کردیئے

سعودی عرب کا شام پر امریکی حملے کی حمایت کا اعلان

امریکہ، فرانس اور برطانوی حکمران مجرم ہیں: آیت اللہ خامنہ ای

برطانیہ شام میں کیمیائی حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے: روسی جنرل

نواز شریف کی زندگی بھرنا اہلی کا فیصلہ قبول ہے: وزیراعظم

پاکستان میں 5G ٹیکنالوجی کب آئے گی؟

شام پر امریکی اتحادیوں کا حملہ: روس کے پاس کیا آپشن بچے ہیں؟

تاحیات نااہلی: کیا اب بھی نواز شریف کے پاس راستہ موجود ہے؟

امریکا، برطانیہ اور فرانس نے شام پر حملہ کردیا

شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار تشویش

پاکستان میں امریکہ مخالف مظاہرہ

پشتون تحفظ مومنٹ، / تحفظات و سوالات – حیدر جاوید سید

دوما میں کیمیائی حملے کا ڈراما غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے رچایا گیا: روس

امریکا نے شام پر حملہ کیا تو جنگ چھڑ سکتی ہے: روس کا انتباہ

مذہبی سلیبرٹیز کا دور

مغربی ممالک شام کے خلاف مہم جوئی سے باز رہیں، چین

پی ٹی آئی جہانگیر ترین کی نااہلی کا فیصلہ قبول کرتی ہے، شاہ محمود قریشی

سپریم کورٹ نے نواز شریف اور جہانگیر ترین کو تاحیات نااہل قرار دے دیا

سپریم کورٹ نے نواز شریف اور جہانگیر ترین کو تاحیات نااہل قرار دے دیا

کیا نواز شریف کو عمر بھر کے لیے نا اہل قرار دے دیا جائے گا؟

شام پر حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، وائٹ ہاوس

نواز شریف نظریہ نہیں مافیا کا نام ہے: عمران خان

بچوں سے جنسی زیادتی پوپ فرانسس کی معافی

حضرت امام موسی کاظم (ع) کا یوم شہادت

ٹرمپ کو شام میں فوجی مداخلت کا حق نہیں: امریکی سینیٹر

چیف جسٹس نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے جائزے کاعندیہ دے دیا

امام موسی کاظم (ع) نے اسلامی تعلیمات کی ترویج کے ساتھ عباسی حکومت کے خلاف جد و جہد بھی جاری رکھی

سعودی عرب میں جنوری 2013ء سے اب تک 66 پاکستانیوں کو سزائے موت دی گئی، خواجہ آصف

ڈپلومیٹک جنگ: پاکستان اور امریکی تناؤ میں اضافہ

امام کاظم اور سخت ترین حالات میں غریبوں و ناداروں کی مسیحائی

مغرب کیلئے سب سے بڑا خطرہ اسلام ناب محمدی (ص) ہے، علامہ مرزا یوسف

سعودی عرب خطے میں اسرائیلی کردار ادا کررہا ہے: ایران

ملالہ پر فتوے نہ لگائیے، خود کو ٹھیک کرلیجیے

2017-07-15 08:29:33

 کیا سیاستدانوں کے بعد ججوں اور جرنیلوں کا احتساب بھی ممکن ہے؟

SONY DSC

 

پاکستان میں سیاسی بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ وزیرِ اعظم نواز شریف نے مستعفی ہونے سے انکار کردیا ہے جب کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں اس بات پر بضد ہیں کہ وزیراعظم کو اب اپنا استعفیٰ پیش کر دینا چاہیے۔

 

حکومت کی اتحادی جماعتوں نے نواز شریف کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گی جب کہ نواز شریف کے قریبی ساتھیوں نے بھی انہیں مشورہ دیا کہ وہ استعفیٰ نہ دیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے رہنما بابر اعوان نے نہ صرف نواز شریف بلکہ شہباز شریف اور اسحاق ڈار کے استعفوں کا بھی مطالبہ کر دیا ہے اور کہا کہ وہ نیا وزیرِ اعظم نہیں بلکہ نئے الیکشن چاہتے ہیں۔

 

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے علاوہ وکلاء برادری بھی اب نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے، جس کی وجہ سے کئی تجزیہ کار یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک سنگین سیاسی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے اوراس کے جلدی ختم ہونے کے کوئی امکان نہیں۔

 

معروف سیاسی مبصر عائشہ صدیقہ نے اس مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ملک سنگین بحران سے گزر رہا ہے۔ حکومت مفلوج ہوکر رہے گئی ہے۔ نوکر شاہی نے کام بند کیا ہوا ہے۔ کوئی بڑا فیصلہ نہیں ہو پا رہا اور آنے والے دنوں میں اس بحران میں شدت آئے گی۔ مسئلہ سپریم کورٹ میں جائے گا اور ملک میں ایک بار پھر دھرنوں اور احتجاج کی سیاست شروع ہو جائے گی۔‘‘

 

انہوں نے کہا نوازر شریف کو کرپشن کی وجہ سے ہٹانے کی کوشش نہیں کی جا رہی ہے، ’’مسئلہ یہ ہے کہ نواز نے آرمی کو ناراض کیا ہے اور آرمی اس کو نکالنا چاہتی ہے۔ اگر مسئلہ صرف کرپشن کا ہی ہوتا تو آصف زرداری یا دوسرے لوگوں کو پکڑا کیوں نہیں جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کرپشن آرمی کی سیاست میں مداخلت کی وجہ سے بڑھی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کرپٹ لوگوں کو آگے بڑھاتی ہے اور ان کو کرپشن کی وجہ سے اپنے کنڑول میں بھی رکھتی ہے تاکہ انہیں کسی وقت بھی خریدا جا سکے‘‘۔

 

ان کے خیال میں اب ن لیگ لڑے گی اور وقت کو بھی طول دے گی،’’لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ نون لیگ نے پی پی او اور سائبر کرائم جیسے قوانین بنا کر خود فوج کو مضبوط کیا ہے۔ انہیں اس وقت لڑنا چاہیے تھا جب یہ قوانین بن رہے تھے۔‘‘۔

 

ایسٹیبلشمنٹ مخالف سمجھی جانے والی جماعتیں بھی حکومت کے حق میں بولتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی نے حزبِ اختلاف سے اپیل کی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے جب کہ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی نے متنبہ کیا ہے کہ جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

 اچکزئی کی پارٹی کے ایک مرکزی رہنما عثمان کاکڑ نے موجودہ صورتِ حال پر اپنا موقف دیتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’کرپشن کے حوالے سے صرف سیاست دانوں کا ہی احتساب نہیں ہونا چاہیے بلکہ جو جج ، بیوروکریٹ اور جنرل کرپشن میں ملوث ہیں، ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ اگر کرپشن کی آڑ میں جمہوریت پر شبِ خون مارا گیا تو ہماری پارٹی اس کے خلاف سخت مزاحمت کرے گی‘‘۔

 

پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر نے موجودہ سیاسی بحران پر اپنی رائے دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’نون لیگ کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ نواز شریف صورتِ حا ل پر کیسے ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں اور کیسے اس سے نمٹنے کی تدبیر کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو تو اس حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ نواز شریف کو خود چلے جانا چاہیے بجائے اس کے انہیں بھیجا جائے۔ میرے خیال میں میاں صاحب کو چلے جانا چاہیے اور اگر سپریم کورٹ ان کو الزامات سے بری الذمہ قرار دیتی ہے تو وہ پھر واپس آجائیں۔ ہم نے یہ مشورہ جے آئی ٹی بننے سے پہلے بھی میاں صاحب کو دیا تھا‘‘۔

 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’پیپلز پارٹی کا خیال ہے کہ سیاست دانوں کے احتساب کا اختیار ججوں یا بیورکریٹس کو نہیں ہونا چاہیے۔ جب پانامہ سامنا آیا، تو ہم نے سیاست دانوں کے کرپشن کے حوالے سے قوانین بنانے کی کوشش کی تھی لیکن ن لیگ نے اس کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ ہمارے خیال میں میاں صاحب کے خلاف پارلیمانی کمیٹی کو انکوائری کرنی چاہیے تھی‘‘۔

 

ان کا کہنا تھا ملک میں شدید سیاسی بحران ہے،’’جب کبھی بھی ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے یا کوئی سیاسی بحران آتا ہے تو اس کا فائدہ غیر جمہوری قوتوں کو ہوتا ہے اور سیاست دانوں کا اس میں نقصان ہوتا ہے۔ موجودہ حالات میں جمہوریت کو خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ غیر جمہوری قوتیں ایسے ہی مواقع سے فائدہ اٹھاتی ہیں‘‘۔

 

پی ٹی آئی کے سابقہ رہنما جاوید ہاشمی کا کہنا ہے احتساب صرف سیاستدانوں کا ہوتا ہے جبکہ کہ پانامہ لسٹ میں ایک حاضر سروس جج اور جرنیلوں کے نام بھی شامل ہیں ان کا احتساب کیوں نہیں ہوتاکیا ان سے بھی کبھی باز پرس ہو گی؟ کیا سپریم جوڈیشل کونسل نے آج تک کسی جج کو کوڈ آف کنڈ کٹ کے خلاف عمل پر سزا دی ہے ؟  انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کے بہت سے جرنیل (جہانگیر کرامت ، جنرل پاشا ، جنرل راحیل شریف اور جنرل جہانگیر کرامت وغیرہ ) باہر اربوں کی جائداد کے ما لک ہیں۔۔کوئی ہے جو اس پر سوال اٹھا سکے۔

 

ڈی ڈبلیو

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)