3654993e-2979-4e81-878b-268dec5fd550_16x9_600x338

داعش تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی خبر پھیل جانے کے بعد توقع ہے کہ شدت پسند تنظیم اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنے کی غرض سے آنے والے عرصے میں اپنے نئے خلیفہ کے نام کا اعلان کر دے۔

یہ بات چند روز قبل داعش کی جانب سے جاری ہونے والے مختصر بیان میں سامنے آئی۔ اس بیان میں تنظیم نے اپنے مقتول سرغنہ ابوبکر البغدادی کی تعزیت کی اور تنظیم کے ارکان پر زور دیا کہ وہ اپنی صفوں میں یک جہتی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے مراکز اور گڑھ میں ڈٹے رہیں۔

داعش تنظیم کو ان دونوں کافی دشوار وقت کا سامنا ہے بالخصوص کچھ عرصہ قبل عراق میں پے در پے ہزیمتوں کے بعد.. اس دوران لڑائیوں میں اس کی قیادت کا بڑا حصہ ہلاک ہو گیا اور چند ہی اہم رہ نما باقی رہ گئے۔ ان میں نمایاں ترین نام لیبیا میں داعش کا امیر جلال الدین التونسی ہے جو ابوبکر البغدادی کی موت ثابت ہو جانے کے بعد البغدادی کی جاں نشینی کے لیے اہل ترین ناموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

جلال الدین التونسی کا اصلی نام محمد بن سالم العيونی ہے۔ وہ 1982 میں تیونس کے ساحلی صوبے سوسہ کے علاقے مساکن میں پیدا ہوا۔ گزشتہ صدی میں 90ء کی دہائی سے وہ فرانس ہجرت کر گیا۔ تیونس میں انقلاب کے بعد وطن واپس لوٹنے سے قبل وہ فرانسیسی شہریت حاصل کر چکا تھا۔

التونسی 2011 میں تیونس واپس آ گیا اور پھر لڑائی میں شریک ہونے کے لیے شام منتقل ہو گیا۔ 2014 میں اس نے داعش تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی ابو بکر البغدادی کے قریب سمجھے جانے والے تنظیم کے اہم ترین کمانڈروں میں سے ہو گیا۔ وہ 2014 میں شام اور عراق کے درمیان سرحدی رکاوٹوں کو ختم کرنے والے داعش کے ارکان کی وڈیو میں نمودار ہوا۔

لیبیا کے مختلف علاقوں بالخصوص داعش کے گڑھ سرت میں لیبیائی اسپیشل فورس اور امریکی فضائی حملوں کے سبب بڑے نقصانات کے بعد ابوبکر البغدادی نے گزشتہ برس التونسی کو لیبیا میں تنظیم کا امیر مقرر کر دیا۔ اس کی وجہ التونسی کی صلاحیت اور شمالی افریقہ میں بعض شدت پسند تنظیموں کے ساتھ اُس کے اچھے تعلقات تھے۔

واضح رہے کہ شمالی افریقہ اُن علاقوں میں سرِ فہرست ہے جہاں دہشت گرد تنظیم داعش اپنی بقاء اور توسیع کی خواہش رکھتی ہے۔ عراق میں تنظیم کا سقوط اس کو پھر سے افریقی ممالک میں پھیلنے کی کوشش پر مجبور کر سکتی ہے۔ اس کوشش کا آغاز لیبیا سے ہوگا جہاں ابھی تک سکیورٹی کے حالات مخدوش ہیں۔ لیبیا میں سرحدی محافظین کی عدم موجودگی کے سبب شدت پسند تنظیموں کے ارکان سہولت کے ساتھ دیگر افریقی ممالک میں آمد و رفت رکھتے ہیں۔

لیبیا بالخصوص سکیورٹی کے حوالے سے کمزور ترین اس کا جنوبی حصہ مسلح ارکان اور دہشت گردوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ہے جہاں وہ آزادی کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنی صفوں کو پھر سے منظم اور اپنے ارکان کی بھرتی اور تربیت کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اشیاء اور سامان کی اسمگلنگ کے ذریعے فنڈنگ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کا مقصد جلد ازجلد واپس آ کر عراق اور شام میں داعش کے حالیہ سقوط کے نقصان کو پورا کرنا ہے۔

منبع: العریبیہ ڈاٹ نیٹ