جرمنی کی ایک مفکرہ خاتون کی قبر پر حضرت علی (ع) کی حدیث

ایسا برا ملک دنیا میں نہیں، کبھی امریکا نہیں جاؤں گا: فلپائنی صدر

یورپی ممالک پر ڈیڑھ سو سے زائد خودکش حملوں کا خطرہ

شریف خاندان تاثر دے رہا ہے کہ میرا اور ان کا کیس ایک ہے: عمران خان

’’میاں صاحب جانے دو شہباز شریف کو آنے دو‘‘ کے بینرلگ

کیا چوہدری نثار ن لیگ کو چھوڑ دیں گے؟

نیتن یاہوکا بیت المقدس کو یہودی بنانے کا منصوبہ

 جو قطر کے ساتھ ہوا وہ باقی ملکوں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے؛ سعودی ولی عہد کی دھمکی

(ن) لیگ کی چوہدری نثار کو منانے کی کوششیں تیز

وزیراعظم کےخلاف عدالتی کارروائی سے جمہوریت کو کیا خطرہ ہے!

مشرق وسطیٰ میں مصالحت کے امکانات

شام اور حزب اللہ کی لبنانی سرحد کے قریب دہشتگرد گروہ النصرہ کے ٹھکانوں پر کارروائی

پاناما کیس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

سعودی عرب ام الفساد اور دہشت گردی کی جڑ ہے

پاکستان بھر میں جاری شیعہ نسل کشی کے خلاف مظاہرے

قطر نے گھٹنے ٹیک دیے؟ سعودی عرب سے مذاکرات کا اعلان

نواز شریف رات تک مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیں: خورشید شاہ

نوازشریف اس بار قدم نہیں بڑھائیں گے

امریکی طوطا چشمی: کیا خارجہ پالیسی پر تجدید نظر کا وقت نہیں آ گیا؟

کیا پاکستان کے لئے ایک امام خمینی کی ضرورت ہے؟

مستعفی ہونے سے انکار: کیا وزیر اعظم کو اپنے ہی گھر پر اعتماد نہیں؟

پنجاب حکومت دہشتگردوں کیخلاف بننے والی سی ٹی ڈی کو اپنے شیطانی عزائم کیلئے استعمال کر رہی ہے: سید ناصرعباس شیرازی

علاقہ بنگش کے شیعہ علمائے کرام کیخلاف ایف آئی آرز کا اندراج قانون کیساتھ مذاق ہے: علامہ عبدالحسین

ٹرمپ سے اختلافات کے باعث وائٹ ہاؤس کے ترجمان عہدے سے مستعفی

وزیر داخلہ چوہدری نثار کے استعفیٰ دینے کی خبر بے بنیاد ہے: وزارت داخلہ

پاکستان میں اب بھی وہابی دہشت گرد فنڈز جمع کررہے ہیں

سعودی عرب میں سیاسی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کا اعتراف

دنیا میں 94 فیصد دہشت گردانہ واقعات میں سعودی عرب ملوث

سعودی عرب کی ایرانی سفارتکاروں کے خلاف کویت کے اقدام کی حمایت

گردے کی پتھری سے بچنے کے آسان طریقے

پاناما معاملہ؛ (ن) لیگ کا سپریم کورٹ کا ہر فیصلہ تسلیم کرنے کا فیصلہ

ایران واحد وہ ملک ہے جو امریکہ کے مد مقابل ہے: جنرل اسلم بیگ

داعش میں شمولیت کا اانجام: کارکنوں کو اپنے ہی خاندانوں کو قتل کرنے کا حکم

امریکی و روسی صدور کے درمیان دو خفیہ ملاقاتیں، کب، کہاں ،کیسے اور کیوں ہوئیں؟

ایرانی سفیر ملک بدر: کیا کویت سعودی دباؤ کے سامنے جھک گیاہے؟

کیا پاکستان میں شیعہ ہزارہ کے لیے کہیں‌جائے اماں ہے؟

مسجدالاقصی پر اسرائیل کا کوئی حق نہیں، حماس

امریکہ کا پاکستان پر طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام

تحریک انصاف نے پی پی کی ایک اوروکٹ گرا دی

اسلامی دنیا کو اسرائیلی غاصب کے اقدامات پر ردعمل ظاہر کرنا چاہئے

عالم اسلام میں حضرت امام جعفر صادق (ع) کی شہادت کی مناسبت سے عزاداری کا سلسلہ جاری

بی جے پی رہنما رام ناتھ کووند بھارت کے نئے صدر منتخب

ہمارا احتساب نہیں استحصال ہورہا ہے میرے صبر کا امتحان نہ لیا جائے: وزیراعظم نواز شریف

بارڈر تناذع: کیا بھارت چین کے ساتھ جنگ مول لینے کی غلطی کر سکتا ہے؟

نواز شریف کے حلیف سے حریف تک:  پیپلز پارٹی نے نواز شریف کو ہری جھنڈی کیوں دکھائی؟

آپریشن خیبر فور کی مخالفت: کیا افغانستان دہشت گردوں کی حمایت کر رہا ہے؟

پاکستانی سیاست میں اخلاقیات کا ہتھیار

آیۃ اللہ سیستانی کے فتوے نے عراق کے عیسائیوں کو نجات دلائی: جورج صلیبا

داعش نے عالم اسلام کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اسلامی تاریخ میں اس کا سراغ نہیں ملتا

مشرق وسطی میں بحران کی آگ بھڑکانے کے پیچھے سعودی عرب کا مقصد ہے کیا ؟

امام صادق علیہ السلام کی مختصر سوانح حیات

صادق آل محمد، جعفر صادق(ع) کی شب شہادت

قطری شہزادے کا ایک اور خط سامنے آگیا

لندن فلیٹوں کا مالک کون ہے؟ نئی دستاویز منظر عام پر آگئی

بحرین میں نئے فیملی قوانین فقہ جعفریہ کے تشخص اور فقہی احکامات کے منافی ہیں: علمائے کرام

یمن میں ہیضے سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ

امریکہ عہد شکن اور عرب ڈکٹیٹروں کا حامی ملک ہے: حسن روحانی

پاناماکیس میں دفاع کے لئے شریف فیملی نے اہم دستاویزات منگوا لیں

وکلا کا ہیر پھیر کاغذ کی کشتی کو ڈوبنے سے نہیں بچا سکتا: سراج الحق

امریکا نے ایران کی 18 شخصیات اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

وائٹ ہاؤس کا ٹرمپ اور پیوٹن میں خفیہ ملاقاتوں کا اعتراف

مستونگ میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4 شیعہ مسلمان شہید

شریف خاندان کی منی ٹریل کا جواب آج تک نہیں آیا: سپریم کورٹ

بحرینی حکمرانوں کی اسرائیل دوستی ایک بار پھر بے نقاب

سی پیک کے خلاف عالمی سازشیں کہاں سے ہو رہی ہیں ؟

قطر کے وزیر خارجہ کا دورہ: کیا نواز شریف کو کچھ لو کچھ دو کا پیغام بہنچایا گیا ہے؟

کیا پاکستان راحیل شریف کی وطن واپسی کی راہ ہموار کر رہا ہے؟

امریکی صدر کے لئے ریڈ کارپیٹ نہیں پچھائیں گے: میئر لندن

یمن تنازع پر سعودی عرب سے براہ راست تصادم کا خطرہ نہیں، ایران

پنجاب کے وزیر محکمہ مال عطا مانیکا نے استعفیٰ کیوں دیا؟

قطر کے وزیر خارجہ کی وزیر اعظم سے ملاقات، پاکستان اور قطر کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں

2017-07-15 21:48:13

جرمنی کی ایک مفکرہ خاتون کی قبر پر حضرت علی (ع) کی حدیث

imamali_by_bisimchi_graphic-d7qvrv2

مستشرقین، مغرب کے ان مفکرین کو کہا جاتا ہے کہ جو اہل مشرق زمین کی تہذیب و ثقافت اور ان کے دین کے بارے میں مطالعہ کرتے ہیں ۔ مفکرین مستشرق زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو مغرضانہ، یا شبہات پر انگلی رکھ کر یا شبہ سازی کی نیت سے اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں ۔لیکن ان کے درمیان چند گنے چنے افراد ہیں کہ جو تحقیق اور باریک بینی کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں اور اس راہ میں اچھے محصولات ان کے ہاتھ لگتے ہیں یہاں تک کہ وہ دنیائے اسلام کے لیے بھی مفید واقع ہوتے ہیں ۔

محترمہ آنہ ماری شیمل وہ مستشرق خاتون ہے جس نے تحقیقی انداز میں اسلامی مطالعات کی دنیا میں قدم رکھا ، اور اس راہ  میں بے انتہا علمی گوہر پارے اس کے ہاتھ لگے ۔ شیمل کی زندگی میں دلچسپ نکتہ اس کی خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و آنحضور کے اہل بیت علیہم صلوات اللہ سے عقیدت ہے اور اس راہ میں اس نے بہت ساری کتابیں لکھی ہیں یا بہت سارے ترجمے کیے ہیں سلمان رشدی کے الزامات کے مقابلے میں جو اس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا دفاع کیا تھا وہ اس زمانے میں زباںزد ہر خاص و عام ہوا یہاں تک کہ مغربی ذرائع ابلاغ نے ان پر شدید حملے کیے،۔ اس بنا پر جو لوگ اس کو پہچانتے تھے وہ اس بات سے واقف تھے کہ وہ جانتے تھے کہ شیمل کو خاندان وحی سےعقیدت ہے، یہاں تک کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر کے پتھر پر حضرت علی علیہ السلام کی ایک حدیث لکھ کر لگائی گئی ۔

شیمل کی ولادت اپریل ۱۹۲۲ میں جرمنی کے شہر ارفورت میں ہوئی تھی اور اس نے ادبیات اور اشعار سے سرشار ماحول میں تربیت پائی ۔ ۱۵ سال کی عمر میں اس نے عربی زبان سیکھی ۔ اور ۱۹۴۶ میں ماربورگ یونیورسٹی میں استادی کے درجے پر فائز ہو گئی ۔ لیکن چونکہ وہ ایک جوان لڑکی تھی لہذا ماربورگ یونیورسٹی کو چھوڑ کر  آنکارا یونیورسٹی میں ترکی زبان میں تدریس شروع کی ۱۹۳۹ کے موسم خزاں میں جب وہ ۱۷ سال کی تھی زبان و ادبیات عرب اور علوم اسلامی کے شعبے میں برلین یونیورسٹی میں اس نے تحصیلات کا آغاز کیا ۔

اکتوبر ۱۹۴۱، میں اس نے اپنا پی ایچ ڈی کا کام ، مصر در اواخر قرون وسطی ، کے موضوع کے تحت مکمل کیا ۔ باوجودیکہ اس کی عمر ۱۹ سال سے زیادہ نہیں تھی برلین یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لینے میں کامیاب ہو گئی ۔ آنہ ماری شیمل نے اپنی دوسری پی ایچ ڈی ، سال ۱۹۵۱ میں ،حوزہء تاریخ و ادیان سے ، عشق عرفانی در اسلام کے موضوع پر ایک رسالہ لکھ کر حاصل کی ، اور سال ۱۹۶۱ میں اس کا بن یونیورسٹی کے استاد کی حیثیت سے تقرر ہوا ۔ اس نے ہارورڈ اور کمبریج کے علاوہ ترکی ،ایران ، پاکستان اور افغانستان کی یونیورسٹیوں میں بھی تدریس کی ۔ پاکستان کی مقتول وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اس کی شاگرد تھی ۔

شیمل نے اپنی علمی زندگی میں بہت سارے انعامات حاصل کیے ۔ صلح کا سالانہ انعام کہ جو فرانکفورٹ کی کتابوں کی بین الاقوامی نمایشگاہ سے ہر سال جرمنی کے کسی مفکر یا دانشمند کو دیا جاتا ہے وہ سال۱۹۹۵ میں شیمل کو دیا گیا ۔

سلمان رشدی کے افکار کی رد ،

ٹی وی کا ایک انٹرویو لینے والا اس انعام کے ملنے کے بعد شیمل کے پاس آیا اور ان سے سلمان رشدی کے بارے میں سوالات کیے ۔ شیمل نے اس سوال کے جواب میں بہادری کے ساتھ دنیائے اسلام کا ساتھ دیا ، جب کہ یورپ کی فضا میں اس مسئلے کو کسی اور زاویے سے دیکھا جا رہا تھا ۔ اس نے سلمان رشدی کی تحریر کو ایک اوچھی تحریر سے تعبیر کیا کہ جو مغرب کو خوش کرنے کے لیے لکھی گئی تھی ۔ شیمل نے کہا کہ سلمان رشدی نے اپنی اس منحوس کتاب کے ذریعے مسلمانوں کے اور خود اس کے احساسات کو چوٹ پہنچائی ہے ۔ اسی انٹرویو کے بعد سلمان رشدی کا دفاع کرنے والوں نے اس انصاف پسند خاتون کے خلاف تابڑ توڑ حملے شروع کر دیے ۔

۱۱ مئی ۱۹۹۵ میں لودگر لوتکھاوس نے روزنامہ ، SUED – DEUTSCHE ZEITUNG     میں کچھ مقالوں میں اس مشرق شناس خاتون پر سخت حملے کیے ۔ اس کے بعد ھامبورگ یونیورسٹی کے استاد  گیرنوٹ روتہ نے ۱۲ مئی ۱۹۹۵کو روزنامہ ، DIE ZEITمیں مقالے لکھ کر شیمل سے صلح کے انعام کو واپس لیے جانے کا مطالبہ کیا ۔ اس نے مجلہ اشپیگل کو اٹرویو دیتے ہوئے کہ جو ۲۲ مئ ۱۹۹۵ کو منتشر ہوا تھا اظہار کیا : میں نے اسی کتابیں لکھ کر کوشش کی ہے کہ اسلام کی صحیح تصویر یورپ کے پڑھنے والوں کے سامنے رکھ سکوں ، اور میں اس کو ایک سیاسی سرگرمی قرار دیتا تھا ۔

شیمل کی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے  عقیدت ،

اس نے اسلام کے بارے میں بہت ساری کتابیں لکھی ہیں ، اور سال ۲۰۰۲ میں اس کی ایک آخری تحریر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخصوص تھی ۔شیمل نے اس کتاب کا نام ، کلمہ شہادت سے اقتباس کرتے ہوئے «و أنّ محمداً رسول‌الله» رکھا اور کتاب کے شروع میں ایک ھندو شاعر کی اردو زبان میں رباعی لکھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ میں کافر ہوں یا مومن اس کے بارے میں صرف خدا ہی جانتا ہے لیکن میں نیک بندوں کی طرح خود کو شہر کے عظیم آقا محمد رسول اللہ پر قربان کرنا چاہتا ہوں ، شیمل پر ان افکار کی وجہ سے بہت حملے کیے گئے مگر وہ جواب میں یہی کہتی تھی کہ میں ان کو دوست رکھتی ہوں ۔

آخر کار ۲۶ جنوری ۲۰۰۳ میں شیمل نے دنیا سے آنکھیں بند کر لیں ، چنانچہ اس کی قبر کے پتھر پر امیر المومنین علی علیہ السلام کی ایک حدیث لکھی گئی ہے :” النَّاسِ نِیَامٌ فَإِذَا مَاتُوا انْتَبَهُوا“لوگ سوئے ہوئے ہیں ، جب مریں گے تو بیدار ہو جائیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:   Horizontal 4 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)