پاناما کیس: جے آئی ٹی کے تفتیشی نتائج کے پابند نہیں، سپریم کورٹ

عسکری تنظیمیں ۔۔۔بدامنی کا محرک

سوچی کی حقائق پر پردہ پوشی: افسوسناک یا مجرمانہ فعل؟

قدس کو منظم کرنے کا بہانہ یا یہودی بنانے کا منصوبہ؟

غنڈوں کی زبان بولتا صدر

سعودی فوج مرکز پر یمنی سرکاری فوج کا میزائل حملہ، متعدد سعودی اہلکار ہلاک

امام کعبہ نے امریکی صدر ٹرمپ کو ’’امن کی فاختہ‘‘ قرار دے دیا!

افضل احسن رندھاوا اور غیر پنجابیوں کا آشوب – محمد عامر حسینی

کیا بلوچستان میں شورش دم توڑ رہی ہے؟

دھمکیاں جوہری معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹا سکتیں: حسن روحانی

عالمی میڈیا پاکستان کی درست صورتحال نہیں دکھا رہا: وزیراعظم

میکسکو سٹی میں ہولناک زلزلہ؛ 226 افراد ہلاک + تصاویر

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری معطل کردیے

تاریخی ماتمی جلوسوں پر پابندی ہماری مذہبی آزادی کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے: مولانا محمد عباس انصاری

ٹرمپ کے بیانات شرمناک اور جاہلانہ ہیں: محمد جواد ظریف

حسن روحانی اور شاہد خاقان عباسی کی ملاقات: ایران اور پاکستان کی تعلقات کے فروغ پر تاکید

امریکی بموں کی ماں کے مقابلے میں ایرانیوں نے بموں کا باپ تیار کرلیا

قطر کے سفیر: سعودیہ مشرق وسطیٰ میں دہشتگردی کا اصلی حامی ہے

برماکے مسلمان اور مسلم ریاستوں کی خاموشی……..اصل وجہ کیا ہے؟

امارات اور سعودیہ کے اسرائیل سے تعلقات اب ہونگے سرِعام

قطر کے سفیر: سعودیہ مشرق وسطیٰ میں دہشتگردی کا اصلی حامی ہے

ایران اور دنیا کے 41 ملکوں میں عالمی یوم علی اصغر (ع) منایاجائےگا

پاکستان روہنگیا مسلمانوں کی امداد کی ہرکوشش کی حمایت کرے گا: وزیراعظم

امام جعفر صادق (ع) کے کلام میں سُستی کاہلی، اور بے حوصلہ ہونے سے پرہیز کی تلقین

سعودی عرب اسرائیل سے قربت اوراسلامی ممالک سے دوری کی پالیسی پر گامزن

ہیومن رائٹس واچ کا میانمار پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ

قطر پہنچنے والے پاکستانیوں کو 30 دن کا مفت ویزہ دیا جائے گا: قطرسفارتخانے کا اعلامیہ

ماہ محرم کے لیے سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے: احسن اقبال

وزیراعظم اپنے گھر کی صفائی ضرور کریں مگر پاکستان کا تماشا نہ بنائیں: چوہدری نثار

عزاداری کو محدود کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

ایرانی قوم دھمکیوں سے ڈرنے والی نہیں

داعش کی دلہن کو سزائے موت کا سامنا

گیپکو اسکینڈل: سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف پر فرد جرم عائد

نیب ریفرنسز؛ شریف خاندان کی عدم پیشی پر دوبارہ نوٹس جاری

نوری المالکی: عراق کے شمال میں 'دوسرا اسرائیل' بننے نہیں دینگے

امارات کی جانب سے ترکی میں سفارت خانہ بند کرنے کی دھمکی

ٹرمپ نے جوہری معاہدہ ختم کیا تو امریکا کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی، ایرانی صدر

کلثوم نواز کی جیت: کیا عوام نے نواز شریف کے حق میں فیصلہ دیا ہے؟

عراق کی نئی تقسیم اور مشرق وسطی پر اس کے اثرات

بھارت نے روہنگیا پناہ گزینوں کو پاکستانی ایجنسی اور داعش کا ایجنٹ قرار دے دیا

پیپلزپارٹی کی پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کی استدعا

تصاویر: لندن میں اسلامی مراکز کے علماء کا اجتماع

سوئٹزرلینڈ اپنی سرزمین پر پاکستان مخالف سرگرمیاں روکے: پاکستان

پشاور، فلور ملز میں داعش کا ہیڈکوارٹر، خطرناک انکشاف

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے سعودیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا

انتہا پسند سیاسی دھارے میں: پاکستان کی نئی پالیسی کس حد تک کامیاب رہے گی؟

یمن میں فضائی حملے میں خواتین و بچوں سمیت 12 افراد شہید

این اے 120 کا انتخابی دنگل مسلم لیگ (ن) نے جیت لیا

لوگوں میں سب سے زیادہ خوشبخت شخص کون ہے؟

جوہری معاہدے پر کسی غلط اقدام پر ایران کا دوٹوک جواب ہوگا: سپریم لیڈر

میاں صاحب کو نہ پہلے اور نہ اب حکومت کرنی آئی: آصف زرداری

این اے 120 میں پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی شروع

فلسطینی اسکولوں میں اسرائیلی نصاب پڑھانا حرام ہے

امت مسلمہ پیغمبر اکرم (ص) کے اقتدا کےذریعے بہترین امت بن سکتی ہے

عوامی رضا کار فورسز نہ ہوتی تو آج عراقی کردستان پر تکفیریوں کا قبضہ ہوتا

امریکی رہنماؤٕں کو سعودی عرب ملنے سے والےانتہائی مہنگے تحائف

اسرائیل میں جاری اقتدار کی جنگ

نائجیریا کا مبلغ اسلام بابا مسابا

گرفتاریوں کی تازہ لہر: کیا سعودی عرب بادشاہت خطرے میں‌ہے؟

سعودی جارحیت کے نتیجہ میں13ہزار یمنی شہری جاں بحق اور21ہزار زخمی ہو چکے

ایران، عراق میں علیحدگی کے کسی بھی اقدام کا مخالف ہے: ولایتی

محرم الحرام کے دوران ماتمی جلوسوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے: سی ٹی او راولپنڈی

ابو ظہبی اور ریاض یمنی میزائلوں کے نشانے پر ہیں: الحوثی

نوازشریف خود نااہل ہو گئے مگر پیچھے نااہلوں کی فوج چھوڑ گئے، بلاول بھٹو زرداری

دنیا کی کوئی طاقت پاک ترکی تعلقات میں رخنہ نہیں ڈال سکتی، ترک وزیراعظم

یورپی یونین امریکا کو ٹھوس اور واضح پیغام دے: صدر حسن روحانی

امریکا کا پاکستان پر سخت پابندیاں عائد کرنے پر غور: برطانوی اخبار

ترکی، روس اور ایران کا شام میں ’’سیف زون‘‘ پر اتفاق

وزراء کا کام بیان دینا نہیں، بیماری کا علاج کرنا ہے: چودھری نثار

شریف خاندان کو جیلوں میں ڈال کرآئی ایم ایف کا قرضہ چکایا جائے: شیخ رشید

قرآنی آیت (لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ) سے کیا مراد ہے؟

2017-07-17 11:42:13

پاناما کیس: جے آئی ٹی کے تفتیشی نتائج کے پابند نہیں، سپریم کورٹ

877299-SupremeCourtphotofile-1500178817-716-640x480

 اسلام آباد: پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے ہیں کہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگز سارا پاکستان جان چکا ہے لیکن ہم اس کے پابند نہیں۔ 

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کا خصوصی بینچ پاناما کیس کی سماعت کررہا ہے۔ سماعت سے قبل شریف خاندان اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اپنے اعتراضات جمع کرادیئے۔ شریف خاندان نے اپنے اعتراضات میں موقف اختیار کیا ہے کہ جےآئی ٹی کوعدالت نے 13 سوالات کی تحقیقات کاحکم دیا تھا لیکن جے آئی ٹی نے مینڈیٹ سے تجاوز کیا، جے آئی ٹی جانبدار تھی اور اس نے قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔ اس لیے عدالت عظمیٰ سے استدعا ہے کہ ہماری درخواست منظور کرتے ہوئے رپورٹ کو مسترد کیا جائے۔

عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے جے آئی ٹی رپورٹ کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاناما کیس کے فیصلے میں عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا جب کہ جسٹس گلزار نے جسٹس آصف سعید کھوسہ سے اتفاق کیا اور 3 ججز نے مزید تحقیقات کی ہدایت دی۔ جس کے بعد عمل درآمد بینچ اور جے آئی ٹی بنی، جے آئی ٹی ہر 15 روز بعد اپنی پیش رفت رپورٹ عمل درآمد بینچ کے سامنے جمع کراتی رہی۔ 10 جولائی کو جے آئی ٹی نے اپنے حتمی رپورٹ جمع کرائی۔ تحقیقات کا معاملہ عدالت اور جے آئی ٹی کے درمیان ہے، اب جے آئی ٹی رپورٹ پر فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔

نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے متحدہ عرب امارات سے قانونی معاونت بھی حاصل کی، گلف اسٹیل مل سے متعلق شریف خاندان اپنا موقف ثابت نہ کرسکا، گلف اسٹیل مل 33 ملین درہم میں فروخت نہیں ہوئی، جے آئی ٹی نے طارق شفیع کے بیان حلفی کوغلط اور 14 اپریل 1980 کے معاہدے کو خود ساختہ قرار دیا، اپنی تحقیقات کے دوران جے آئی ٹی نے حسین نواز اور طارق شفیع کے بیانات میں تضاد بھی نوٹ کیا۔ جے آئی ٹی نے فہد بن جاسم کو 12 ملین درہم ادا کرنے کو افسانہ قرار دیا۔ قطری خط وزیراعظم کی تقاریر میں شامل نہیں تھا، جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کو طلبی کے لیے چار خط لکھے، جے آئی ٹی نےکہا کہ قطری شہزادہ پاکستانی قانونی حدود ماننے کو تیار نہیں، اس کے علاوہ قطری شہزادے نے عدالتی دائرہ اختیار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

عمران خان کے وکیل نے آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے حوالے سے کہا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایجنسی نے موزیک فونسیکا کے ساتھ خط وکتابت کی ۔ جے آئی ٹی نے اس خط و کتابت تصدیق کی۔ لندن فلیٹ شروع سے شریف خاندان کے پاس ہیں، تحقیقات کے دوران مریم نواز نے اصل سرٹیفکیٹ پیش نہیں کیے، ٹرسٹی ہونے کے لیے ضروری تھا کہ مریم نواز کے پاس بیریئر سرٹیفکیٹ ہوتے۔ بیریئر سرٹیفکیٹ کی منسوخی کے بعد کسی قسم کی ٹرسٹ ڈیڈ موجود نہیں، فرانزک ماہرین نے ٹرسٹ ڈیڈ کے فونٹ پر بھی اعتراض کیا۔

حدیبیہ پیپر کیس سے متعلق نعیم بخاری نے کہا کہ حدیبیہ کیس کے فیصلے میں قطری خاندان کا کہیں تذکرہ نہیں، جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ اس میں قطری خاندان کا ذکر ہونا ضروری نہیں تھا، حدیبیہ پیپر ملز کی سیٹلمنٹ کی اصل دستاویزات سربمہر ہیں، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ شہباز شریف بطور گواہ جے آئی ٹی میں پیش ہوئے، انہوں نے جے آئی ٹی میں ایسے بیان دیا جیسے پولیس افسر کے سامنے دیتے ہیں۔ ان کا بیان تضاد کے لیے استعمال ہوسکتا ہے، جے آئی ٹی کے سامنے دیئے گئے بیانات کو ضابطہ فوجداری کے تحت دیکھا جائے گا، قانونی پیرامیٹرز کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔

نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں کہا کہ جےآئی ٹی کے مطابق نوازشریف نےسعودی عرب میں واقع عزیزیہ اسٹیل ملز لگانے کے لیے کوئی سرمایہ موجود نہیں تھا، عزیزیہ اسٹیل مل کے حسین نواز اکیلے نہیں بلکہ میاں شریف اور رابعہ شہباز بھی حصہ دار تھے۔ اس کی فروخت کی دستاویزات پیش نہیں کیں لیکن جےآئی ٹی نے قرار دیا کہ عزیزیہ مل 63 نہیں 42 ملین ریال میں فروخت ہوئی۔

نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے بتایا ہے کہ ایف زیڈ ای  نامی کمپنی نوازشریف کی ہے۔  حسین نواز کے مطابق ایف زیڈ ای کمپنی 2014 میں ختم کردی گئی، نواز شریف ایف زیڈ ای کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین تھے۔ عدالت نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا ایف زیڈ ای کی دستاویزات جےآئی ٹی کو قانونی معاونت کے تحت ملیں یا ذرائع  سے، جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ کمپنی کی دستاویزات قانونی معاونت کے تحت آئیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ تمام دستاویزات تصدیق شدہ نہیں ہیں جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ دستاویزات درست ہیں صرف دستخط شدہ نہیں۔ کمپنی نے نوازشریف کا متحدہ عرب امارات کا اقامہ بھی فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے دبئی اور برطانوی حکام کو 7 ،7 خطوط لکھے،اس کے علاوہ سعودی عرب کو بھی ایک خط لکھا لیکن اس کا جواب نہیں آیا۔ یو اے ای حکومت کو لکھے گئے خطوط رپورٹ کی جلد نمبر 10 میں ہوں گے جو ظاہر نہیں کی گئی، جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ضرورت محسوس ہوئی تو والیم 10 کو بھی کھول کر دیکھیں گے۔

عمران خان کے وکیل نے کہا کہ شریف خاندان کے پاس آمدن سے زائد اثاثے ہیں،نواز شریف کے اثاثے بھی ان کی آمدن سے زائد ثابت ہوئے، اس کا ذکر جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل ہے، جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ آمدن سے زائد اثاثے ہونے کے کیا نتائج ہوں گے۔ جس پر نعیم بخاری نے کہا ہے کہ ہم نے عدالت سے نواز شریف کی نااہلی کا ڈیکلریشن مانگا ہے، نواز شریف کے خلا ف نیب کا مقدمہ بھی بنتا ہے۔

نعیم بخاری کے دلائل مکمل ہونے کے بعد جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے اپنے دلائل میں کہا کہ توفیق آصف نے کہا کہ میری درخواست نواز شریف کی اسمبلی تقریر کے گرد گھومتی ہے،نواز شریف نے اسمبلی تقریر اور قوم سے خطاب میں سچ نہیں بولا، جے آئی ٹی کے مطابق نواز شریف نے تعاون نہیں کیا، انہوں نے نے قطری خطوط پڑھے بغیر درست قرار دیئے، نواز شریف نے کہا کہ قطری سرمایہ کاری کاعلم ہے مگر کچھ یاد نہیں، نواز شریف نے اپنے خالو کو پہچاننے سے انکار کیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگز سارا پاکستان جان چکا ہے لیکن ہم جے آئی ٹی کی فائنڈنگز کے پابند نہیں، آپ کو یہ بتانا ہے کہ ہم جے آئی ٹی فائنڈنگز پر عمل کیوں کریں۔ جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ ہم جے آئی ٹی کی سفارشات پر کس حد تک عمل کر سکتے ہیں، بتائیں ہم اپنے کون سے اختیارات کا کس حد تک استعمال کرسکتے ہیں۔ جس پر توفیق آصف نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں وزیر اعظم کی نااہلی کے لیے کافی مواد ہے، نعیم بخاری جے آئی ٹی رپورٹ کی سمری سےعدالت کوآگاہ کرچکے۔ ہم جے آئی ٹی رپورٹ کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اسےدرست تسلیم کرتے ہیں۔ بادی النظر میں وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اگر بادی النظر کہہ دیا تو پھر کیس ہی ختم ہوگیا۔

جماعت اسلامی کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس کے تیسرے مدعی شیخ رشید نے اپنے دلائل دیئے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے ثابت کیا کہ ملک میں ایماندار لوگوں کی کمی نہیں، جے آئی ٹی کی سپر6اور ججز کو قوم کی خدمت کا اجر ملے گا، انشاء اللہ انصاف جیتے گا اور پاکستان کامیاب ہو گا، ہر کیس کے پیچھے ایک چہرہ ہوتا ہے اور اس معاملے کے پیچھے نواز شریف کا چہرہ ہے، نواز شریف نے لندن فلیٹس کے باہر کھڑے ہو کر پریس کانفرنس کی، مریم نواز لندن فلیٹس کی بینیفشل مالک ثابت ہوئیں، جے آئی ٹی رپورٹ میں تو مزید آف شور کمپنیاں بھی نکل آئیں۔ جس عمر میں ہمارا شناختی کارڈ نہیں بنتا ان کے بچے کروڑوں کما لیتے ہیں، قوم کی ناک کٹ گئی کہ وزیر اعظم دوسرے ملک میں نوکری کرتا ہے، نواز شریف کا تنخواہ لینا یا نہ لینا معنی نہیں رکھتا،اب معاملہ ملکی عزت کا ہے،  جو ڈھائی گھنٹے بعد اپنے خالو کو پہچانے اس پر کیا بھروسہ کیا جا سکتاہے، پی ٹی وی کا خاکروب 18 ہزار اور وزیر اعظم 5 ہزار روپے ٹیکس دیتا تھا اور تو اور 1500  ریال لینے والے کیپٹن صفدر کے بھی 12 مربے نکل آئے ہیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ شیخ سعید اور سیف الرحمان نواز شریف کے فرنٹ مین ہیں، شیخ سعید نواز شریف کے ساتھ ہر عرب ملک کی میٹنگ میں ہوتے تھے، ان ملاقاتوں میں پاکستانی سفیروں کو بھی شرکت کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ صدر نیشنل بینک نے تسلیم کیا کہ وہ جعلسازی کرتے پکڑے گئے تھے۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ نیشنل بینک کے موجودہ صدر کی بات کر رہے ہیں۔

شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ ہم نے دو متفرق درخواستیں دائر کی ہیں، ایک درخواست جلد 10 فراہم کرنے سے متعلق جب کہ دوسری درخواست جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات سے متعلق ہے، دستاویزات اکٹھی کرنے میں جے آئی ٹی نے قانون کی خلاف ورزی کی، جے آئی ٹی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اس میں شامل دستاویزات کو ثبوت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ جے آئی ٹی عدالتی احکامات سے کافی آگے چلی گئی تھی اور جے آئی ٹی نے عدالت کے کرنے والا کام کیا، رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکتا۔

خواجہ حارث کے دلائل پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ اپنے دلائل کوایشوز تک محدود رکھیں تو آسانی ہو گی، چاہتے ہیں عوام اور عدالت کا وقت ضائع نہ ہو۔ جے آئی ٹی ٹرائل نہیں کر رہی تھی، الزامات اس نوعیت کے تھے کہ تحقیقات کروانا پڑیں اور گواہان کے بیانات آرٹیکل 161 کے تحت ریکارڈ کیے گئے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ اپنے الفاظ کا چناؤ احتیاط سے کریں۔ خواجہ حارث کے دلائل جاری تھے کہ کیس کی سماعت کل کے لیے ملتوی کردی گئی۔

واضح رہے کہ جے آئی ٹی نے گزشتہ ہفتے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی تھی۔ 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں نواز شریف سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات اور اس سے متعلق شواہد سامنے لائے گئے ہیں۔

 source: express.pk
 
زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)