امام صادق علیہ السلام کی مختصر سوانح حیات

یہ ٹرمپ نہیں بول رہا بلکہ ڈھول بول رہے ہیں !!!

لمحہ فکریہ! بیت المقدس تنازعہ پر ساری دنیا سراپائے احتجاج،سعودی عرب میں احتجاج پر پابندی!

امریکہ استکباری ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکر عالمی امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے، سبطین سبزواری

مخالف زیرو اور حکومت قاتل: فیصلہ کیسے ہو

ٹرمپ کے خلاف امریکہ میں بھی مظاہرے

امریکی مسلمان لڑکی، حجاب کی وجہ سے ملازمت سے محروم

بیت المقدس اسرائیل کی غاصب اور بچوں کی قاتل حکومت کو ہر گز نہیں دیں گے: ترکی

بیت المقدس کے بارے میں امریکی سازش برداشت نہیں کریں گے: ایران

پوپ تھیوڈورس نے امریکی نائب صدر سے ملاقات منسوخ کردی

امریکہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے: عرب لیگ

مضبوط حکومت، ناکام ریاست

(ن) لیگ کی سیاست پہلے دن سے ہی منافقت پر مبنی ہے: اعتزازاحسن

(ن) لیگ کو دھچکا، 5 ارکان اسمبلی نے استعفیٰ دے دیا

ٹرمپ بمقابلہ عالم اسلام

یمن میں علی صالح کی موت کے بعد سعودی عرب کی حکمت عملی کیا ہوگی؟

ٹرمپ نے اپنے ہاتھوں سے اسرائیل کے منصوبے خاک میں ملا دیئے

یروشلم کے معاملے پر سعودی عرب کا 'حقیقی مؤقف' کیا ہے؟

ٹرمپ نے بیت المقدس کے خلاف فیصلہ دے کر دنیائے اسلام کی غیرت ایمانی کو للکارا ہے، علامہ مقصود ڈومکی

تصاویر: سعودی عرب کے علاوہ پورے عالم اسلام میں امریکہ کے خلاف مظاہرے

ٹرمپ نے سعودیہ، مصر اور امارات کے مشورے کے بعد بیت المقدس کو اسرائيل کا دارالحکومت تسلیم کیا

سعودی عرب کی امریکی صدر کے فیصلے کو ماننے کے لئے محمود عباس کو 100 ملین ڈالر کی رشوت کا پردہ فاش

عراق کے وزیراعظم نے ملک سے داعش کے خاتمہ کا اعلان کردیا

بیت المقدس کے یہودی ہونے کی حسرت صہیونیوں کےدل میں ہی رہ جائے گی

فلسطین کا مسئلہ نعرے بازی سے حل نہیں ہو گا

فلسطین کے لئے ٹرمپ، نیتن یاہو اور محمد بن سلمان کا خطرناک منصوبہ

اسرائیل کے خطرے کے پیش نظر اسلامی مزاحمت کو غیر مسلح کرنا ممکن نہیں

دھرنوں کا باب بند کرنا فوج سمیت تمام اداروں کی ذمہ داری ہے: چوہدری نثار

«عبداللہ صالح» کیوں «انصاراللہ» کے خلاف ہونے لگے تھے؟

سعودیہ کی اسرائیل کے ساتھ قربت سے ٹرمپ کے بیت المقدس کے خلاف اقدام تک

کیا پاکستان اپنی خارجہ پالیسی روس اور چین کی جانب موڑپائے گا؟

مسجد الاقصی ٰسمیت دیگر اسلامی آثار پراسرائیلی مظالم کی لرزہ خیز داستان

بیت المقدس تنازعہ : ترکی کی منافقت آشکار، اسرائیل سے 6.18 ملین یورو کا اقتصاد ی معاہدہ کرلیا

ٹرمپ سیاست نہ سمجھے کی وجہ سے دنیا میں زہر پھیلا رہے ہیں

سلامتی کونسل کی ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کی شدید مذمت

اسرائیل بمقابلہ سعودی فوجی اتحاد

بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلخلافہ قرار دینے کیخلاف جمعہ کو ’’یوم مردہ باد امریکہ واسرائیل ‘‘منایا جائے گا ، علامہ راجہ ناصرعباس

طاہرالقادری جو بھی کریں گے ہم ان کے ساتھ ہیں: عمران خان

مسلمانوں پر سوگ طاری ہے، لیڈر بیان دے رہے ہیں

تہران میں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

اسرائیل کی آئندہ جنگ کے بارے میں سمیر قنطار کی پیشگوئی

بریلوی مکتبہِ فکر کی سیاسی فعالیت

کیا بن سلمان نے قطر کے خلاف اپنی ہار تسلیم کرلی؟

اسرائیلی دارلخلافہ کی بیت المقدس منتقلی، نام نہاد سعودی اتحاد خاموش، راحیل شریف لاپتہ

مدرسہ تعلیم کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے: پاکستان آرمی چیف

ایران، پاکستان اور ترکی اسلامی یونین کے قیام کی کوشش تیز کریں

عربی اور اسلامی ممالک کو امریکی سفراء کو طلب کرکے باقاعدہ اعتراض کرنا چاہیے

قرآن و اہل بیت (ع) مسلمانوں کے درمیان وحدت کے دو مرکز ہیں

داخلی حالات بہتر کئے بغیر امریکہ کو آنکھیں دکھانا بے سود ہے

مسلمانوں پر سوگ طاری ہے، لیڈر بیان دے رہے ہیں: کیا صرف بیانات سے مسائل حل ہوں گے؟

مقتدی صدر کا اسلامی ممالک سے امریکہ اور اسرائیل کے سفارتخانہ بند کرنے کا مطالبہ

بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر کے اعلان پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب

فلسطینی تنظیم حماس نے نئے انتفاضہ کا اعلان کردیا

پاکستان ائیر چیف کا امریکی ڈرون مار گرانے کا حکم

پاکستانی 2018ء الیکشن؛ شدت پسندوں نے بھی شرکت کا اعلان کردیا

علی عبداللہ صالح کی ہلاکت سے سعودی پالیسیز خاک میں مل گئیں

سانحہ ماڈل ٹاؤن :کون ذمہ دار ہے؟

پاکستان میں امریکہ کا نہیں بلکہ اللہ اور رسول اللہ کا حکم چلے گا، صاحبزادہ حامد رضا

کارکن تیار رہیں کسی بھی وقت احتجاج کی کال دے سکتے ہیں: طاہر القادری

پاکستان کی امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی کے منصوبے کی مذمت

ایران علاقہ کا طاقتور ملک ہے: فرانس

امریکی صدر نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا

امریکی صدر کے احمقانہ فیصلہ سے نیا انتفاضہ مزید شعلہ ور ہو جائے گا

انصاراللہ کی حمایت میں یمی عوام کا مظاہرہ

ایران اور دنیا بھر میں جشن امین و صادق

وزیراعظم بن گیا تو قوم کو 800 ارب روپے اکٹھے کرکے دکھاؤں گا: عمران خان

سعد حریری نے مستعفی ہونے کا فیصلہ واپس لے لیا

پیغبمر اسلام (ص) کی زندگانی اسلامی اتحاد اور یکجہتی کا مظہر

برطانوی وزیراعظم پر خود کش حملے کی کوشش کا منصوبہ بے نقاب

کیا پاکستان طالبان کی پناہ گاہیں ختم کر دے گا؟

کرم ایجنسی، سیکیوریٹی ادارے اور پولیٹیکل انتظامیہ

2017-07-20 00:08:52

امام صادق علیہ السلام کی مختصر سوانح حیات

imam-sadeq

25 شوال سن 148 ھ ق  امام جعفر صادق علیہ السلام کا یوم شہادت ہے۔

ابوعبداللہ ، جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب علیہ السلام معروف بہ صادق آل محمد شیعوں کے چھٹے امام ہیں ۔ جو کہ اپنے والد امام محمد باقرعلیہ السلام کی شہادت کے بعد 7 ذی الحجہ سن 114 ھ ق کو آنحضرت کی وصیت کے مطابق امامت کے منصب پرفائز ہوۓ ۔

امام جعفرصادق (ع) بروز جمعہ طلوع فجر کے وقت اور دوسرے قول کے مطابق بروز منگل 17 ربیع الاول سن 80 ھ ق کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوۓ ۔روایات کے مطابق فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوارحضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت کے بعد اکتیس سال کی عمرمیں ایک سوچودہ ہجری قمری کوعوام کی ہدایت و رہنمائی کا فریضہ سنبھالا اور منصب امامت پر فائز ہوئے۔ آپ کا دور امامت چونتیس برسوں پر محیط ہے ۔سن ایک سو چودہ سے ایک سوبتیس ہجری قمری تک اموی دورحکومت تھا جبکہ ایک سو بتیس سے لے کر ایک سو اڑتالیس ہجری قمری یعنی آپ کی شہادت تک عباسی حکمراں برسراقتدار تھے ۔جب آپ منصب امامت پر فائز ہوئے تو بنی امیہ اور بنی عباس کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری تھی جس کی بنا پر اموی حکمرانوں کی توجہ خاندان رسالت سے کسی حد تک ہٹ گئی اورخاندان رسالت کے افراد نے امویوں کے ظلم و ستم سے محفوظ رہ کر کسی حد تک سکون کا سانس لیا ۔اسی دوران امام جعفرصادق علیہ السلام نے اسلامی تعلیمات کی ترویج کے لئے بے پناہ کوششیں کی اور مدینے میں مسجد نبوی اور کوفہ شہر میں مسجد کوفہ کو ایک یونیورسٹی میں تبدیل کردیا جہاں انہوں نے ہزاروں شاگردوں کی تربیت کی اورایک عظیم علمی و فکری تحریک کی بنیاد ڈالی۔ اس تحریک کو خوب پھلنے پھولنے کے مواقع ملے ۔امام جعفرصادق علیہ السلام کا ‌زمانہ علوم و فنون کی توسیع اور دوسری اقوام کےعقائد و نظریات اور تہذیب وثقافت کے ساتھ اسلامی افکار و نظریات اور تہذیب و ثقافت کے تقابل اور علمی بحث و مناظرے کے اعتبار سے خاص اہمیت کا حامل ہے ۔اسی زمانے میں ترجمے کے فن کو بڑی تیزی سے ترقی حاصل ہوئی اورعقائد و فلسفے دوسری ‌زبانوں سے عربی میں ترجمہ ہوئے ۔امام جعفرصادق علیہ السلام کے دور کو تاریخ اسلام کا حساس ترین دور کہا جا سکتا ہے۔ اس زمانے میں ایک طرف تو بنی امیہ اور بنی عباس کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری تھی اور دوسری طرف علویوں کی بھی مسلح تحریکیں جاری تھیں ۔ آپ نے ہمیشہ عوام کو حکمرانوں کی بدعنوانیوں اور غلط حرکتوں نیز غیراخلاقی و اسلامی سرگرمیوں سے آگاہ کیا ۔آپ نے عوام کے عقائد و افکار کی اصلاح اور فکری شکوک و شبہات دور کر کے اسلام اور مسلمانوں کی فکری بنیادوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کی اور اہل بیت علیہم السلام کی فقہ و دانش، اسلامی احکام اور شیعہ مذہب کی تعلیمات کو اس قدر فروغ دیا کہ مذہب شیعہ نے جعفری مذہب کے نام سے شہرت اختیار کرلی ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے جتنی احادیث راویوں نے نقل کی ہیں اتنی کسی اور امام سے نقل نہیں کیں ۔حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے کسب فیض کرنے والے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جن میں ہرمکتب فکرسے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں ۔آپ کے ممتاز شاگردوں میں ہشام بن حکم، محمد بن مسلم ، ابان بن تغلب، ہشام بن سالم ، مفضل بن عمر اور جابر بن حیان کا نام خاص طور سے قابل ذکر ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے بڑا نام پیدا کیا مثال کے طور پر ہشام بن حکم نے اکتیس کتابیں اور جابر بن حیان نے دو سو ‌سے زائد کتابیں مختلف علوم و فنون میں تحریر کی ہیں ۔ جابربن حیان کو علم کیمیا میں بڑی شہرت حاصل ہوئی اور وہ بابائے علم کیمیا کے نام سے مشہور ہیں ۔اہل سنت کے درمیان مشہورچاروں مکاتب فکرکے امام بلاواسطہ یا بالواسطہ امام جعفر صادق علیہ السلام کےشاگردوں میں شمار ہوتے ہیں خاص طور پر امام ابوحنیفہ نے تقریبا” دوسال تک براہ راست آپ سے کسب فیض کیا ۔ آپ کے علمی مقام کا اعتراف کرتے ہوئے امام ابوحنیفہ کہتے ہیں : ” میں نے جعفر ابن محمد سے زیادہ پڑھا لکھا کوئی اورشخص نہیں دیکھا۔”  ایک اورمقام پر امام ابوحنیفہ نے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی خدمت میں گزارے ہوئے دو برسوں کے بارے میں کہا :     

                      “لولا السنتان ۔ لھلک نعمان”                 

       “اگر یہ دوسال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہوجاتا”

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی سیرت طیبہ اور اخلاقی کمالات کے بارے میں مورخین نے بہت کچھ لکھا ہے ۔آپ کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ آپ لوگوں کے ساتھ انتہائی محبت اور مہربانی کے ساتھ پیش آتے تھے اور حاجت مندوں کی ضرورتوں کو پورا کیا کرتے تھے اور لوگوں کو بھی ان باتوں کی نصیحت فرماتے تھے ۔ آپ فرماتے ہیں : اپنے رشتے داروں  اور اپنے دینی بھائیوں کے ساتھ نیکی اور احسان کرو چاہے وہ سلام کرنے یا خندہ پیشانی کے ساتھ جوابِ سلام دینے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی ‌زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتاہے ۔

پہلا دور وہ ہے جو آپ نے اپنے جد بزرگوار امام زین العابدین علیہ السلام اور والد ماجد امام محمد باقرعلیہ السلام کے زیرسایہ گزارا۔ یہ دور سن تراسی ہجری سے لے کر ایک سو چودہ ہجری قمری تک جاری رہا۔ دوسرا دور ایک سو چودہ ہجری سے ایک سو چالیس ہجری قمری کے درمیانی عرصے پر محیط ہے اس دور میں امام جعفر صادق علیہ السلام کو اسلامی علوم و معارف کو عام کرنے کا بھرپور موقع ملا جس سے آپ نے پورا فا‏ئدہ اٹھایا ۔اس دور میں آپ نے چارہزار سے زائد شاگردوں کی تربیت کی اور مکتب شیعہ کو عروج پر پہنچایا۔ تیسرا دورامام کی آخری آٹھ سال کی زندگی پرمشتمل ہے ۔ اس دورمیں آپ پرعباسی خلیفہ منصور دوانیقی کی حکومت  کا سخت دباؤ تھا اور آپ کی ہر قسم کی نقل و حرکت پر مستقل نظر رکھی جاتی تھی ۔بنی عباس نے چونکہ خاندان پیغمبر کی حمایت و طرفداری کے نعرے کی آڑ میں اقتدار حاصل کیا تھا تو شروع شروع میں عباسیوں نے امام  پر دباؤ نہیں ڈالا اور انہیں ایذائیں نہیں پہونچائیں۔ لیکن آہستہ آہستہعباسیوں نے اپنے قدم جمانے اور اقتدار مضبوط کرنے کے بعد بنی امیہ کا طریقہ کار اپنا لیا اور ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے چاہنے والوں کو تنگ کرنے اور ان پر ظلم و ستم کرنے کا سلسلہ شروع کردیا اور اس میں وہ بنی امیہ سے بھی آگے نکل گئے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ منصور دوانیقی ملعون نے آپ کو ۲۵ شوال سنہ ۱۴۸ ہجری کو زہر کے ذریعہ شہید کر دیا گیا۔

زمرہ جات:   Horizontal 4 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

عشق رسولﷺ کا تقاضا

- ڈیلی پاکستان