امام صادق علیہ السلام کی مختصر سوانح حیات

میانمار کی فوج روہنگیا مسلمانوں کی بستیوں کو مسمار کررہی ہے

پنجاب بیوروکریسی کی بغاوت کے پیچھے حکومت ہے، اعتزاز احسن

افغان فورسز میں دہشت گردوں کوشکست دینے کی صلاحیت نہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر

امریکہ داعش کو عراق اور شام سے دوسری جگہ منتقل کررہا ہے

کرپشن فری پاکستان کی جدوجہد میں عدلیہ کےجرائت مندانہ اقدامات کی حمایت کرتے ہیں، علامہ راجہ ناصر عباس

سعودی عرب فوج بھیجنے کا فیصلہ، آئین اور ایوان کیا کہتے ہیں

ایمنسٹی انٹرنیشنل: بن سلمان کی جانب سے اصلاحات کا پرچم بلند کرنا مخالفین کو کچلنے کیلئے ہے

شام میں فائربندی کا مغربی منصوبہ جنگ کو طول دینا ہے: امریکی صحافی

میونخ سکیورٹی کانفرنس اور اسرائیلی سرکس

دہشت گردی سے لڑنے والا ملک دہشت گردوں کا ہی ہمدرد کیوں؟

سعودی حکام کا ملک میں مغربی ثقافت کو فروغ دینے پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ

ہوسکتا ہے اب مجھے الیکشن بھی نہ لڑنے دیا جائے، نوازشریف

پاکستان میں پہلی بار اوپن ہارٹ سرجری کے بغیر دل کے والو کی تبدیلی کا کامیاب آپریشن

امریکا ایٹمی معاہدے کو سبو تاژ کرنا چاہتاہے، ایران

پاکستان دہشت گردوں کے مالی معاون ممالک کی فہرست میں شامل نہیں

عدالت کی سیاست کیا رنگ لا سکتی ہے

سینیٹ الیکشن کے بعد قومی اسمبلی توڑے جانے کا امکان

ایران جوہری معاہدے کی پاسداری کررہا ہے: آئی اے ای اے

ملک میں تعلیم کی بہتری کے لئے سب کچھ کریں گے، آرمی چیف

چوہدری نثار صاحب! حقائق سامنے لائیے

سعودی عرب میں مخالفین پر دباؤ ڈالنے کا نیا طریقہ

سعودی مسلح افواج کا ساز و سامان اور تربیت

کے پی کے حکومت کا مدرسہ حقانیہ کیلیے مزید 27 کروڑ 70 لاکھ جاری کرنے کا فیصلہ

سعودی عرب، چین اور ترکی نے پاکستان کے خلاف امریکی قرارداد ناکام بنادی

کرگل میں جگر گوشہ رسول کا ماتم، عظیم الشان جلوس کی تصاویر

سعودیوں کا ایران کے خلاف ایک نیا دعویٰ

پاکستان اور چین نے ہمارے خلاف پراکسی وار چھیڑی ہوئی ہے: بھارتی آرمی چیف

نواز شریف نے فوج سے بچنے کے لئے مودی سے خفیہ ملاقات کی، عمران خان

(ن) لیگ سینیٹ الیکشن سے آؤٹ، الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد قرار دیدیا

پاکستان کے لبرل انگریزی پریس میں کمرشل ازم کا بڑھتا رجحان – عامر حسینی

ایران ہر اس تنظیم کی حمایت کرے گا جو دہشت گردوں کے خلاف جنگ کرے گی

نواز شریف پر سپریم کورٹ کا ایک اور وار

چیف جسٹس کا تبصرہ پسپائی کا اشارہ ہے یا مقابلے کا اعلان؟

سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، ترجمان مسلم لیگ (ن)

نواز شریف، ن لیگ کی صدارت سے فارغ، فیصلے نے کئی سوالات اٹھادیئے

پاکستانی فوج سعودی عرب بھیجنے کے فیصلے کی مخالفت

نواز شریف پارٹی صدارت سے بھی نااہل، سپریم کورٹ کا فیصلہ

تصاویر: مراجع عظام کا حضرت معصومہ (س) کے حرم کی طرف پیدل مارچ

ترکی میں بچوں سے زیادتی کے ملزمان کی جنسی صلاحیت ختم کرنے پر غور

شام میں بچوں کی ہلاکتوں پر الفاظ ختم، یونیسیف نے خالی اعلامیہ جاری کردیا

پاکستان کو دہشت گردی کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی امریکی کوشش ناکام

عدالت نے اقامہ پر نااہل کرکے نواز شریف کو سڑکوں پر نکلنے کا موقع دے دیا، عمران خان

امریکہ کی شام میں موجودگی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے؛ سرگئی لاوروف

ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے بدترین صدر قرار

پاکستانی فوج سعودی عرب بھیجے جانے کی مخالفت

شاہ سلمان اپنے بیٹے کی پالیسیوں پر غصہ ہیں؛ رای الیوم

پارلیمنٹ بمقابلہ عدلیہ: تصادم سے کیا برآمد ہوگا

پارلیمنٹ آئین سے متصادم قانون نہیں بنا سکتی، چیف جسٹس پاکستان

انتخابات اور قومی تعلیم و تربیت

تصاویر: امریکہ میں ہتھیار رکھنے کے خلاف مظاہرہ

جس سے فاطمہ (س) ناراض ہوں اس سے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے

پارلیمنٹ کو عدلیہ کے خلاف استعمال کیا گیا تو سڑکوں پر نکلیں گے، عمران خان

رسول خدا کی بیٹی کی شہادت کا سوگ

سی پیک کے تحفظ کیلئے چین اور بلوچ علیحدگی پسندوں میں خفیہ مذاکرات کا انکشاف

تمام عالم میں جگر گوشہ رسول کا ماتم

مسجد الحرام میں تاش کھیلنے والی خواتین کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

پاکستانی سکولوں میں چینی زبان لازمی، سینیٹ میں قرارداد منظور

خود کشی کی کوشش جرم نہیں بیماری، سینیٹ میں سزا ختم کرنے کا ترمیمی بل منظور

امریکہ شام میں آگ سے نہ کھیلے : روس

کیا فدک حضرت زہرا (س) کے موقوفات میں سے تھا یا نہیں؟

لعل شہباز قلندر کے مزار پہ بم دھماکے میں تکفیری دیوبندی خطیب لال مسجد کے رشتے دار ملوث ہیں – سندھ پولیس/ رپورٹ بی بی سی اردو

اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کا افسانہ ختم ہو چکا ہے

 فرانسیسی زبان میں حضرت زهرا (س) کے لیے مرثیه‌ خوانی 

سعودی عرب کو شرک اورکفر کے فتوے نہ دینے کا مشورہ

ایرانی طیارے کے حادثے پر پاکستان کی تعزیت

سعودی عرب میں غیر ملکی خاتون سے اجتماعی زیادتی

کوئی ملک پاکستان کو دہشت گردی کی بنا پر واچ لسٹ میں نہیں ڈال سکتا، احسن اقبال

بلوچ ـ مذہبی شدت پسندی – ذوالفقار علی ذوالفی

تصاویر: شام میں ترکی کے حمایت یافتہ افراد کی کردوں کے خلاف جنگ

دنیا پاکستان کا سچ تسلیم کیوں نہیں کرتی؟

2017-07-20 00:08:52

امام صادق علیہ السلام کی مختصر سوانح حیات

imam-sadeq

25 شوال سن 148 ھ ق  امام جعفر صادق علیہ السلام کا یوم شہادت ہے۔

ابوعبداللہ ، جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب علیہ السلام معروف بہ صادق آل محمد شیعوں کے چھٹے امام ہیں ۔ جو کہ اپنے والد امام محمد باقرعلیہ السلام کی شہادت کے بعد 7 ذی الحجہ سن 114 ھ ق کو آنحضرت کی وصیت کے مطابق امامت کے منصب پرفائز ہوۓ ۔

امام جعفرصادق (ع) بروز جمعہ طلوع فجر کے وقت اور دوسرے قول کے مطابق بروز منگل 17 ربیع الاول سن 80 ھ ق کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوۓ ۔روایات کے مطابق فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوارحضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت کے بعد اکتیس سال کی عمرمیں ایک سوچودہ ہجری قمری کوعوام کی ہدایت و رہنمائی کا فریضہ سنبھالا اور منصب امامت پر فائز ہوئے۔ آپ کا دور امامت چونتیس برسوں پر محیط ہے ۔سن ایک سو چودہ سے ایک سوبتیس ہجری قمری تک اموی دورحکومت تھا جبکہ ایک سو بتیس سے لے کر ایک سو اڑتالیس ہجری قمری یعنی آپ کی شہادت تک عباسی حکمراں برسراقتدار تھے ۔جب آپ منصب امامت پر فائز ہوئے تو بنی امیہ اور بنی عباس کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری تھی جس کی بنا پر اموی حکمرانوں کی توجہ خاندان رسالت سے کسی حد تک ہٹ گئی اورخاندان رسالت کے افراد نے امویوں کے ظلم و ستم سے محفوظ رہ کر کسی حد تک سکون کا سانس لیا ۔اسی دوران امام جعفرصادق علیہ السلام نے اسلامی تعلیمات کی ترویج کے لئے بے پناہ کوششیں کی اور مدینے میں مسجد نبوی اور کوفہ شہر میں مسجد کوفہ کو ایک یونیورسٹی میں تبدیل کردیا جہاں انہوں نے ہزاروں شاگردوں کی تربیت کی اورایک عظیم علمی و فکری تحریک کی بنیاد ڈالی۔ اس تحریک کو خوب پھلنے پھولنے کے مواقع ملے ۔امام جعفرصادق علیہ السلام کا ‌زمانہ علوم و فنون کی توسیع اور دوسری اقوام کےعقائد و نظریات اور تہذیب وثقافت کے ساتھ اسلامی افکار و نظریات اور تہذیب و ثقافت کے تقابل اور علمی بحث و مناظرے کے اعتبار سے خاص اہمیت کا حامل ہے ۔اسی زمانے میں ترجمے کے فن کو بڑی تیزی سے ترقی حاصل ہوئی اورعقائد و فلسفے دوسری ‌زبانوں سے عربی میں ترجمہ ہوئے ۔امام جعفرصادق علیہ السلام کے دور کو تاریخ اسلام کا حساس ترین دور کہا جا سکتا ہے۔ اس زمانے میں ایک طرف تو بنی امیہ اور بنی عباس کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری تھی اور دوسری طرف علویوں کی بھی مسلح تحریکیں جاری تھیں ۔ آپ نے ہمیشہ عوام کو حکمرانوں کی بدعنوانیوں اور غلط حرکتوں نیز غیراخلاقی و اسلامی سرگرمیوں سے آگاہ کیا ۔آپ نے عوام کے عقائد و افکار کی اصلاح اور فکری شکوک و شبہات دور کر کے اسلام اور مسلمانوں کی فکری بنیادوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کی اور اہل بیت علیہم السلام کی فقہ و دانش، اسلامی احکام اور شیعہ مذہب کی تعلیمات کو اس قدر فروغ دیا کہ مذہب شیعہ نے جعفری مذہب کے نام سے شہرت اختیار کرلی ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے جتنی احادیث راویوں نے نقل کی ہیں اتنی کسی اور امام سے نقل نہیں کیں ۔حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے کسب فیض کرنے والے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جن میں ہرمکتب فکرسے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں ۔آپ کے ممتاز شاگردوں میں ہشام بن حکم، محمد بن مسلم ، ابان بن تغلب، ہشام بن سالم ، مفضل بن عمر اور جابر بن حیان کا نام خاص طور سے قابل ذکر ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے بڑا نام پیدا کیا مثال کے طور پر ہشام بن حکم نے اکتیس کتابیں اور جابر بن حیان نے دو سو ‌سے زائد کتابیں مختلف علوم و فنون میں تحریر کی ہیں ۔ جابربن حیان کو علم کیمیا میں بڑی شہرت حاصل ہوئی اور وہ بابائے علم کیمیا کے نام سے مشہور ہیں ۔اہل سنت کے درمیان مشہورچاروں مکاتب فکرکے امام بلاواسطہ یا بالواسطہ امام جعفر صادق علیہ السلام کےشاگردوں میں شمار ہوتے ہیں خاص طور پر امام ابوحنیفہ نے تقریبا” دوسال تک براہ راست آپ سے کسب فیض کیا ۔ آپ کے علمی مقام کا اعتراف کرتے ہوئے امام ابوحنیفہ کہتے ہیں : ” میں نے جعفر ابن محمد سے زیادہ پڑھا لکھا کوئی اورشخص نہیں دیکھا۔”  ایک اورمقام پر امام ابوحنیفہ نے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی خدمت میں گزارے ہوئے دو برسوں کے بارے میں کہا :     

                      “لولا السنتان ۔ لھلک نعمان”                 

       “اگر یہ دوسال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہوجاتا”

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی سیرت طیبہ اور اخلاقی کمالات کے بارے میں مورخین نے بہت کچھ لکھا ہے ۔آپ کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ آپ لوگوں کے ساتھ انتہائی محبت اور مہربانی کے ساتھ پیش آتے تھے اور حاجت مندوں کی ضرورتوں کو پورا کیا کرتے تھے اور لوگوں کو بھی ان باتوں کی نصیحت فرماتے تھے ۔ آپ فرماتے ہیں : اپنے رشتے داروں  اور اپنے دینی بھائیوں کے ساتھ نیکی اور احسان کرو چاہے وہ سلام کرنے یا خندہ پیشانی کے ساتھ جوابِ سلام دینے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی ‌زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتاہے ۔

پہلا دور وہ ہے جو آپ نے اپنے جد بزرگوار امام زین العابدین علیہ السلام اور والد ماجد امام محمد باقرعلیہ السلام کے زیرسایہ گزارا۔ یہ دور سن تراسی ہجری سے لے کر ایک سو چودہ ہجری قمری تک جاری رہا۔ دوسرا دور ایک سو چودہ ہجری سے ایک سو چالیس ہجری قمری کے درمیانی عرصے پر محیط ہے اس دور میں امام جعفر صادق علیہ السلام کو اسلامی علوم و معارف کو عام کرنے کا بھرپور موقع ملا جس سے آپ نے پورا فا‏ئدہ اٹھایا ۔اس دور میں آپ نے چارہزار سے زائد شاگردوں کی تربیت کی اور مکتب شیعہ کو عروج پر پہنچایا۔ تیسرا دورامام کی آخری آٹھ سال کی زندگی پرمشتمل ہے ۔ اس دورمیں آپ پرعباسی خلیفہ منصور دوانیقی کی حکومت  کا سخت دباؤ تھا اور آپ کی ہر قسم کی نقل و حرکت پر مستقل نظر رکھی جاتی تھی ۔بنی عباس نے چونکہ خاندان پیغمبر کی حمایت و طرفداری کے نعرے کی آڑ میں اقتدار حاصل کیا تھا تو شروع شروع میں عباسیوں نے امام  پر دباؤ نہیں ڈالا اور انہیں ایذائیں نہیں پہونچائیں۔ لیکن آہستہ آہستہعباسیوں نے اپنے قدم جمانے اور اقتدار مضبوط کرنے کے بعد بنی امیہ کا طریقہ کار اپنا لیا اور ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے چاہنے والوں کو تنگ کرنے اور ان پر ظلم و ستم کرنے کا سلسلہ شروع کردیا اور اس میں وہ بنی امیہ سے بھی آگے نکل گئے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ منصور دوانیقی ملعون نے آپ کو ۲۵ شوال سنہ ۱۴۸ ہجری کو زہر کے ذریعہ شہید کر دیا گیا۔

زمرہ جات:   Horizontal 4 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)