پنڈی وال گھروں سے کیوں نہیں نکلے ؟

بھارتی اور داعشی کے خطرات میں پاک فوج کی سعودیہ عرب میں تعیناتی خلاف عقل ہے

عوام سے ووٹ لے کر آنا قانون سے بالاتر نہیں بنادیتا، عمران خان

حضرت فاطمہ زہرا (س) کی شہادت

آصف زرداری کا راؤ انوار سے متعلق اپنے بیان پر اظہارِ افسوس

توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگانے پر سخت سزا کی تجویز

عمران کو سزا پاکستان کے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے

ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل باجوہ کو مشرف تصور کر کے غلطی کی: برطانوی تھنک ٹینک

فخر سے کہہ سکتے ہیں پاکستانی سرزمین پر دہشتگردوں کا کوئی منظم کیمپ موجود نہیں، پاک آرمی چیف

نائیجیریا میں یکے بعد دیگرے 3 خودکش حملوں میں 22 افراد ہلاک

سعودیہ میں فوجی دستوں کی تعیناتی

ایران اور ہندوستان نے باہمی تعاون کے 15 معاہدوں اور دستاویزات پر دستخط کردیئے

پاکستانی فوجیوں کو سعودی عرب کے زمینی دفاع کو مضبوط کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے، خرم دستگیر

17 امریکی سیکیورٹی سروسز کا پاکستانی ایٹمی پروگرام سے اظہارِ خوف

شام سے برطانیہ کے 100 دہشت گردوں کی واپسی کا خدشہ

آرام سے کھانا کھائیے، موٹاپے سے محفوظ رہیے

علامہ سید ساجد علی نقوی کا شہدائے سیہون شریف کی پہلی برسی سے خطاب

زینب کے گھر والوں کا مجرم کو سرِعام پھانسی دینے کا مطالبہ

زینب کے قاتل عمران علی کو 4 بار سزائے موت کا حکم

کرپشن الزامات کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

پاکستان کی 98 فیصد خواتین کو طبی و تعلیمی سہولیات میسر نہیں

شیعہ حریت لیڈر یوسف ندیم کی ہلاکت قتل ناحق ہے، بار ایسوسی ایشن

پاکستانی سینیٹ کا فوجی دستہ سعودی عرب بھیجنے پر تشویش کا اظہار

اسرائیل میں وزیراعظم نتین یاہو کے خلاف ہزاروں افراد کا مظاہرہ

سعودی علماء کونسل : عرب خواتین کے لئے چادر اوڑھنا ضروری نہیں ہے

صدر روحانی کا حیدر آباد کی تاریخی مسجد میں خطاب

افغانستان میں داعش کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ایشیا کے امن کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے

آیت اللہ زکزی کی رہائی کا مطالبہ

فاروق ستار کا اپنے سینیٹ امیدواروں کے ناموں سے دستبرداری کا اعلان

بن سلمان کا سعودی عرب؛ حرام سے حلال تک

پاکستان کی دہشت گردی کے معاملات میں کوتاہیوں پر تشویش ہے، امریکہ

اسلام آباد دھرنوں اور احتجاج پر خزانے سے 95 کروڑ روپے خرچ ہوئے، انکشاف

نقیب قتل کیس؛ راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم واپس، بینک اکانٹس منجمد

مغربی موصل کو بارودی مواد سے صاف کرنے کے لئے دس سال درکار ہیں؛ اقوام متحدہ

جو شخص یقین کی منزل پر فائز ہوتا ہے وہ گناہ نہیں کرتا ہے

عالمی دباؤ کا مقابلہ داخلی ہم آہنگی سے کیا جائے

تعاون اور اعتماد سازی

عدالت جواب دے یا سزا ۔ فیصلہ چیف جسٹس کو کرنا ہے

میں نہیں مان سکتا کوئی ڈکیت پارٹی صدر بن کر حکومت کرے، چیف جسٹس

انسانی حقوق کے عالمی چیمپئن کے دعویدار مسئلہ کشمیر و فلسطین پر خاموش کیوں ہیں

ایران کی ترکی کو ایک نرم دھمکی

معاشرہ، امربالمعروف ونہی عن المنکرسے زندہ ہوتا ہے

یمن پر سعودی جنگی طیاروں کے حملے جاری

ریڑھ کی ہڈی کا پانی کیا ہےاور یہ کیوں نکالا جاتا ہے؟

زینب قتل کیس کا فیصلہ محفوظ، ہفتے کو سنایا جائے گا

جنوبی ایشیا میں امن کی تباہی کا ذمہ دار بھارت ہے: وزیر دفاع

لودھراں الیکشن ہارنے کی وجہ ہمارے لوگوں کی (ن) لیگ میں شمولیت ہے: عمران خان

شام میں اسرائیل اور ایران کے مابین ایک علاقائی جنگ کے واقع ہونے کی علامتیں

بیلجیئم کی حکومت کا سعودی عرب کی تعمیر کردہ جامع مسجد کو اپنی تحویل میں لینے کا مطالبہ

حضرت زہرا(س) کی شہادت سےمربوط واقعات کا تجزیہ وتحلیل

امام زمانہ(عج) کی عالمی حکومت میں انبیاء کا کردار

بن سلمان کا سعودی عرب؛ حرام سے حلال تک

ٹرمپ: نئی جوہری دوڑ اور جنوبی ایشیا

نقیب قتل کیس؛ چیف جسٹس پاکستان کا راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

پاکستان نے اپنے علاقوں سے دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ختم کردی ہیں، آرمی چیف

پوری نیند اور مناسب پانی سے جھریوں کا بہترین علاج

امریکہ کو داعش کا ڈرامہ اور تماشا اب ختم کرنا چاہیے

ایران میں شیعہ اور سنی سخت ترین شرائط میں ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں

ایران سے جنگ نہیں چاہتے: اسرائیل کی روس سے مدد کی اپیل

مودی اسرائیل کا چپراسی

مشرق وسطیٰ ، متحدہ عرب امارات میں پہلے ہندو مندرکی تعمیر کا افتتاح

فوجی کیمپ پر حملہ: بھارت کی پاکستان کو خطرناک نتائج کی دھمکی

حزب اللہ بدستور طاقتور رہے گی: امریکی تجزیہ کار

دہشت گردوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہر سطح پر ختم کئے جائیں

کامیاب لوگ اور قومیں اپنی ناکامیوں سے سیکھتی ہیں، عمران خان

ایم کیو ایم میں پرویز مشرف کے مائنس ٹو فارمولے پر عمل ہورہا ہے، فاروق ستار

لودھراں ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف کو شکست دیدی

ملک میں فوری انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، علامہ راجہ ناصرعباس

تو کیا ایک کھلی جنگ کاالارم بج چکا ہے ؟

مجرموں کے حق میں مظاہرہ

ملیحہ لودھی دنیا کی 5 کامیاب خواتین سفارتکاروں کی فہرست میں شامل

2017-08-11 06:09:57

پنڈی وال گھروں سے کیوں نہیں نکلے ؟

convoy

 

میاں صاحب کو اس کا اندازہ تو ڈی چوک پر آتے ہی ہو گیا تھا جب چند درجن کارکن یہاں پر میاں صاحب کے استقبال کے لئے موجود تھے ۔میاں صاحب کو ایک روز پہلے تک یہ یقین دلایا جاتا رہا کہ کارکن آپ کی ایک جھلک دیکھنے کو بیتاب ہیں بس آپ ایک بار نکل کر تو دیکھیں لیکن کسی نے یہ تک نہیں سوچا کہ کارکنوں کو گھر سے لائے گا کون ؟

 

کون کدھر سے جلوس لائے گا ؟کارکنوں کی ٹرانسپورٹ اور ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا ہوگا؟ ان بنیادی چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ہوا میں تیر چلائے گئے اور نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔راولپنڈی اسلام آباد جن کی موجودہ آبادی 70لاکھ کے قریب ہے اس میں سے صرف تیس سے پینتیس ہزار لوگ اکھٹے کئے جا سکے ان میں سے بھی کئی کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن پنڈی کے کارکن تھے جنہیں اس وقت ریلی میں شرکت کا حکم ملا جب اس کی تعداد قلیل دیکھی گئی ۔

 

اگر ہم مزید وجوہات کا جائزہ لیں جن کی وجہ سے ریلی کے ابتدائی مرحلہ پر عوام کی شرکت محدود رہی تو اس میں ایک وجہ موسم کی بھی تھی ۔گزشتہ تین دن ،حبس کے حوالے سے جڑواں شہروں کے سب سے شدید دن تھے ۔ اس کڑی دھوپ اور حبس میں دس سے پندہ منٹ کھڑا ہونے والا نڈھال ہو جاتا تھا ۔اس لئے بہت سے لوگ گھروں سے ہی نہیں نکلے ۔ دوسری بڑی وجہ فیڈرل کیپٹل اور راولپنڈی کی لیگی قیادت میں شدید اختلافات ہیں ۔ضلعی میئر سردار نسیم ، سینیٹر چوہدری تنویر ،حنیف عباسی اورچوہدری نثار الگ الگ خانوں میں کھڑے ہیں ۔

 

شہباز شریف نے راولپنڈی کے معاملات حنیف عباسی کو تفویض کر رکھے ہیں تو نوازشریف کا وزن سردار نسیم اور چوہدری تنویر کے پلڑے میں ہے ۔چوہدری نثار کو گلہ ہے کہ پنڈی میرا شہر ہے مگر ا س کے معاملات مجھ سے بالا بالا کیوں  طے کئے جاتے ہیں ۔یہی حال اسلام آباد کا ہے ۔کابینہ کے رکن  ڈاکٹر طارق فضل کا حلقہ اثر شہر کے بجائے مضافات میں ہے ۔شہر سے تعلق رکھنے والے سابق ایم این اے انجم عقیل خان پر جب مشکل وقت پڑا تو قیادت نے انہیں تنہا چھوڑ دیا ۔انجم عقیل کو گلہ ہے کہ وہ مشکل وقت میں ہر ایک کے کام آئے مگر جب ان پر مشکل وقت پڑا تو وہ اکیلے کھڑے تھے ۔

 

اسلام آباد  کی میئر شپ کسی کارکن کو دینے کی بجائے میاں صاحب نے اپنے ایک ذاتی مصاحب کو بخش دی جو عوامی رابطہ تو درکنار شہریوں کے روز مرہ ٹریفک  کے مسائل بھی حل نہ کر سکے ۔اسلام آباد  ہائی وے ہو ،بہارہ کہو ہو یا آئی جے پرنسپل روڈ ، اسلام آباد کی ان انتہائی اہم شاہراؤں پر ٹریفک  روزانہ گھنٹوں بلاک رہتی ہے۔راولپنڈی اسلام آباد کی نئی ایکسٹینشن جس کی آبادی پرانے شہروں سے بھی بڑھ چکی ہے  اور جو کھنہ پل سے روات تک اور پیرودھائی موڑ سے ٹیکسلا تک ،بنی گالا سے نیو مری تک اور ترنول سے فتح جنگ تک پھیل ہوئی ہیں مگر ان کے مسائل پر لیگی قیادت کی نظر ہی نہیں جس کی  وجہ سے ان آبادیوں میں تحریک انصاف کے حامیوں کی تعداد زیادہ ہے ۔جب میٹرو بس کی ایکسٹینشن کی باری آئی تو چند لوگوں کی زمینوں کی قیمت بڑھانے کے لئے نوازشریف نے پشاور موڑ سے نیو ائیرپورٹ تک اٹھارہ ارب جھونک دیئے حالانکہ میٹرو ایکسٹینشن کی اصل ضرورت فیض آباد سے روات تک تھی جہاں آبادی کا دباؤ کہیں زیادہ ہے ۔

 

 

 

ایک اور وجہ جو شاید ان سب سے بڑی ہو وہ میاں صاحب کی نرگسیت ہے اور ا س نرگسیت کا شکار پاکستان کا ہر پارٹی سربراہ ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ ووٹ بنک صرف اس کی ذات کا ہے یا پارٹی کا ہے اس کے ممبران پارلیمنٹ اور پارٹی عہدے داروں کی کوئی اوقات ہی نہیں ہے

 

 

۔میاں صاحب نے اس کا بھرپور مظاہرہ اپنے حالیہ  دور میں کیا جب ان سے کارکن تو درکنار ممبران اسمبلی بھی نہیں مل سکتے تھے بلکہ بعض خبریں تو یہاں تک بھی تھیں کہ کابینہ کے اجلاس میں بھی کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی وہاں بھی ایک کلاس روم جیسا ماحول ہوتا تھا ۔

 

صوبہ پنجاب جو کہ نواز لیگ کا بیس کیمپ ہے اس صوبے کے تمام وسائل کا58فیصد صرف  لاہور شہر کی ترقی پر صرف کئے گئے جس کا نتیجہ باقی علاقوں کی پسماندگی کی صورت میں سامنے آیا ۔ایک طرف لاہور میں میٹرو ٹرین بن رہی ہے تو دوسری جانب راولپنڈی جیسے شہر کا کوئ بائی پا س نہیں ہے تمام ہیوی ٹریفک 40کلومیٹر کا فاصلہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے بیچ سے گزر کر طے کرتی ہے جس کی وجہ سے ماحولیات کے ساتھ ٹریفک کے بھی شدید مسائل جنم لے رہے ہیں مگر میاں صاحبان کی توجہ صرف دکھاوے کے منصوبوں پر ہے وہ پائیدار ترقی کے شہری ویژن سے ہی عاری محسوس ہوتے ہیں ۔اس لئے سوائے لاہور کے میاں صاحبان سے کوئی خوش نہیں ہے ۔اگلے الیکشن میں اگر ان کی جماعت صرف لاہور تک  ہی محدود ہو کر رہ گئی تو انہیں ا س پر حیران نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس میں اپنی کوتاہیوں کو دیکھنا چاہئے کہ ان سے کہاں پر غلطیاں ہوئیں۔

 

سول ملٹر ی تعلقات کی گھمن گھیریاں پیچیدہ ہو سکتی ہیں اور ا س میں شاید ان کی  کوتاہیاں کم ہوں مگر عوام سے اور اپنے کارکنوں سے دوری کی گتھی اتنی پیچیدہ نہیں ہے اس میں وہ آسانی سے اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ لوگ گھروں سے کیوں نہیں نکلے ؟

 

سجادظہیر

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)