قافلہ برائے تحفظ ناموس نواز شریف

قطر اور سعودی عرب کے درمیان گذشتہ 6 برس سے جاری جنگ کہاں لڑی جا رہی ہے؟

زرداری نواز مڈھ بھیڑ اور بیچاری جمہوریت

بارسلونا میں دہشت گردی، داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

نوجوان داعش سے منسلک تنظیموں سے بہت زیادہ محتاط رہیں، سربراہ پاک فوج

حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قراردینے پرپاکستان کی مایوسی

مسئلہ کشمیر اور مودی کی سیاست

چوہدری نثار کے پارٹی کے قائم مقام صدر کے انتخاب کے طریقہ کار پر شدید تحفظات

نواز شریف اور ان کے خاندان کو آئندہ سیاست میں نہیں دیکھ رہا: آصف زرداری

ترکی اور ایران کی عراقی کردستان میں ریفرنڈم کی مخالفت

آل شریف کا اقتدار اور پاکستان کی سلامتی کولاحق خطرا ت

 خفیہ ڈیل: کیا ن لیگ آصف زرداری کو صدر بنا رہی ہے؟

ظہران، سعودی عرب میں موجود مذہبی تضادات کا منہ بولتا ثبوت

جماعت الدعوہ کا سیاسی چہرہ

ٹرمپ نے امریکا میں نسل پرستی کی آگ پر تیل چھڑک دیا

چین اور بھارتی افواج میں جھڑپ، سرحد پر شدید کشیدگی

ماڈل ٹاؤن کیس میں شریف برادران کو ہر صورت پھانسی ہو گی: طاہرالقادری

کیا سعودیہ یمن جنگ سے فرار کا رستہ ڈھونڈ رہا ہے؟

نوازشریف کاسفر لاہور

پاکستان میں جاری دہشتگردی کا تعلق نظریے سے نہیں بلکہ پیسوں سے ہے۔ وزیراعلی بلوچستان

سعودی شہزادوں کا غیاب: محمد بن سلمان کامخالفین کو پیغام

یوم آزادی پہ تاریخ کے سیاہ اوراق کیوں پلٹے جارہے ہیں ؟

سعودی عرب کا جنگ یمن میں ناکامی کا اعتراف

سعودی عرب اور عراق کا 27 سال بعد سرحد کھولنے کا فیصلہ

ایران کی ایٹمی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی

وہ غذائیں جن کے کھانے سے کمزور بالوں اور گنج پن سے نجات ملتی ہے

گالی سے نہ گولی سے، مسئلہ کشمیر گلے لگانے سے حل ہو گا: نریندر مودی کا اعتراف

سری لنکن کرکٹ بورڈ نے دورہ پاکستان کی منظوری دیدی

امریکہ میں بحران

70 برس کا پاکستان: قومی شناخت کے بحران سے نکلا جائے

چین اور بھارت: روایتی جنگ سے تجارتی جنگ تک

 منفی سیاسی ہتھکنڈے:  کیا نواز شریف سزا سے بچنے کے لیے  اداروں‌کو دھمکانے کی کوشش کر رہے ہیں؟

بھارت اور پاکستان، جنگ کا میدان نصابی کتب

سعودیہ کے بحیرہ احمر پراجیکٹ میں اسرائیلی کمپنی کی مشارکت

برطانیہ میں پیٹرول، ڈیزل گاڑیوں پر 2040 تک پابندی

این اے 120: چہرہ جو بھی ہو جیت نون لیگ کی ہو گی، ضروری نہیں شریف ہو‘

عراق، سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرنے میں کردار ادا کرے: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

بے کس پاکستانی زائرین کی چونکا دینے والی تصاویر بے حس پاکستانی حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت

نااہلی کا متفقہ فیصلہ یوم آزادی پر ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے: طاہرالقادری

پاکستان میں یوم آزادی روایتی جوش و جذبے سے منایا گیا

امریکہ کی شمالی کوریا کے بعد وینیزویلا کو بھی دھمکی

آئین میں ترمیم کیلیے مسلم لیگ ن کا ساتھ نہیں دے سکتے: بلاول بھٹو زرداری

حیدر العبادی نے بحرینی وزير خارجہ کی درخواست کی رد کر دی

یمنی بحران کا بحرین میں دوبارہ دہرائے جانے کا انتباہ

خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف تحریک عدم اتحاد : پاکستان میں انتقامی سیاست کی واپسی

جی ٹی روڈ ریلی: کیا نواز شریف عالمی طاقتوں کو مداخلت کی دعوت دے رہے ہیں؟

پاکستان کا یومِ آزادی 14 یا15 اگست

اب کوئی این آر او (NRO) نہیں بنے گا: شیخ رشید

ایک اور اقامہ سامنے آگیا

جی ٹی روڈ ڈرامہ سپریم کورٹ اور نیب پر دباؤ ڈالنے کیلئے رچایا گیا: عمران خان

آزادی کے 70 سال، قوم خوشی سے سرشار، ہر طرف قومی پرچموں کی بہار

راولپنڈی: شیخ رشید اور پی ٹی آئی کا جلسہ، بارش کارکنوں کا جوش کم نہ کر سکی

عراق اور شام میں امریکہ دہشت گردوں کا اصلی حامی، صہیونیوں کو پہلے سے سخت شکست ہوگی

شمالی کوریا کی دھمکی کی زد میں امریکی جزیرہ گوام ؟

نوازشریف کواب پارلیمنٹ یاد آرہی ہے، حکومت تھی تواسمبلی نہیں آتے تھے: بلاول بھٹو

تصاویر: شہاب کی بارش

میاں صاحب آپ کو اس لیے نکالا گیا کہ۔۔۔۔

ہر فاطمہ کا کیا یہی نصیب ہوتا ہے ؟ – عامر حسینی

بھارتی سرکاری ہسپتال میں آکسیجن منقطع ،60بچے ہلاک

عراق میں نئی خانہ جنگی کیلئےایک اورہولناک منحوس منصوبہ

اسرائیلی ہسپتالوں میں سعودیوں کا علاج

بے بسوں کے درد کو سمجھنے والی ’مدر ٹریسا‘

جی ٹی روڈ کی سیاست: نواز شریف کے لیے بقا کی جنگ – محمد عامر حسینی

سعودی عرب العوامیہ میں حقوق بشر کی رعایت کرے

میں نے اور پورے پاکستان نے نااہلی کا فیصلہ قبول نہیں کیا: سابق نااہل وزیراعظم

ضیا کو پتہ ہوتا کہ انکا روحانی بیٹا 62 اور63 میں پھنسے گا تو وہ اسے ختم کردیتا: خورشید شاہ

عمران خان کے پی کے میں شیعہ ٹارگٹ کلنک کے اتنے ہی جوابدہ ہیں جتنےدیگر صوبوں میں مسلم لیگ ن کے حکمران: ناصر شیرازی

نواز شریف اداروں کےدرمیان تصادم کی سازش سے باز آجائیں: علامہ ناصر عباس جعفری

کوئٹہ میں پشین اسٹاپ کے قریب دھماکا، 17 افراد شہید

قافلہ برائے تحفظ ناموس نواز شریف

ریلی کا پہلا شہید : شرمناک سوچ

2017-08-12 11:40:38

قافلہ برائے تحفظ ناموس نواز شریف

jj

سابق وزیر اعظم نواز شریف کا قافلہ جوں جوں لاہور کے قریب پہنچ رہا ہے اور انہوں نے جہلم کے بعد گجرات اور گوجرانوالہ میں جلسے کرتے ہوئے جو باتیں کی ہیں ، ان سے واضح ہوتا جا رہا ہے کہ نواز شریف کا مقصد نہ تو نظام کو ہلانا ہے اور نہ انقلاب برپا کرنا بلکہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنے نام پر لگے داغ کو مٹانا چاہتے ہیں۔ یوں تو پاناما کیس کی جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے بعد سے نواز شریف اپنی حکومت کے خلاف سازش کا ذکر کرتے رہے ہیں اور اقتدار سے علیحدہ ہونے اور پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے روانہ ہوتے وقت انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ اس سازش کا پردہ چاک کریں گے اور ساری کہانی عوام کے سامنے رکھ دیں گے۔ لیکن گزشتہ دو روز کے دوران انہوں نے جو تقریریں کی ہیں ، ان میں عدالت کے فیصلہ کو مسترد کرنے کے علاوہ کوئی خاص بات نہیں کہی گئی۔ سابق وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں کا بالواسطہ کہنا تو یہی ہے کہ انہیں خودمختارانہ پالیسیاں اختیار کرنے پر ایک غیر اہم معاملہ کو بنیاد بنا کر نااہل قرار دیاگیا ہے۔ اس بارے میں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں نااہل قرار دینے کا فیصلہ پہلے ہو چکا تھا لیکن اس کے لئے چونکہ پاناما پیپرز میں کوئی شواہد برآمد نہیں ہو سکے تھے ، اس لئے اس فیصلہ کا جواز تلاش کرنے کے لئے وقت صرف کیا جارہا تھا۔ تاہم انہوں نے ابھی تک یہ بتانے کی زحمت نہیں کی ہے کہ انہیں کون لوگ اقتدار سے محروم کرنا چاہتے تھے اور سپریم کورٹ نے آخر کس کے کہنے پر نااہلی کا فیصلہ کیا تھا۔

سپریم کورٹ کا ملک کی پالیسیوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی سپریم کورٹ کے ججوں کو نواز شریف سے کوئی پرخاش ہو سکتی ہے۔ پھر انہیں نواز شریف کو نااہل کرنے کے لئے کیوں تگ و دو کرنا پڑی۔ لاہور کی منزل قریب آنے کے ساتھ ہی لگتا ہے کہ نہ تو نواز شریف اس سوال کا جواب دیں گے اور نہ ہی وہ فوج کی طرف سے دباؤ کا براہ راست ذکر کرنے کا حوصلہ کریں گے۔ وہ اپنا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرکے ملک کے اداروں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اب بھی سیاست میں موجود ہیں اور اپنی نااہلی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی جب وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ اقتدار میں واپس آنے کے لئے کوشش نہیں کررہے تو یہ واضح اشارہ بھی دے رہے ہیں کہ اب ان کی جنگ چوتھی بار وزیر اعظم بننے کے لئے نہیں ہے بلکہ وہ دو مقاصد کے لئے تگ و دو کررہے ہیں۔ ایک یہ کہ اس عدالتی فیصلہ کی وجہ سے وزارت عظمیٰ کے علاوہ انہیں مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے محروم ہونا پڑا ہے ۔ وہ پارٹی پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کی جد و جہد کررہے ہیں۔ انہوں نے اپنی بیٹی مریم نواز کو اپنے وارث کے طور پر تیار کرنا شروع کیا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلہ کی وجہ سے مریم نواز کے خلاف بھی ریفرنس دائر ہو رہے ہیں ۔ اس لئے ان کا سیاسی مستقبل بھی داؤ پر لگا ہؤا ہے۔ نواز شریف کی تازہ ترین مہم جوئی کا مقصد یہ ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو بدستور مؤثر اور ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی کے طور پر قائم رکھیں اور اپنے بعد پارٹی کی قیادت اپنے ہی خاندان کے کسی فرد کو حوالے کریں۔ دوسرے لفظوں میں یہ لڑائی اپنے ہی بھائی شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کی سیاسی قوت محدود کرنے کے لئے کی جارہی ہے۔

نااہلی کے فوری بعد نواز شریف نے یہ اعلان کیا تھا کہ شاہد خاقان عباسی کو عبوری طور پر وزیر اعظم بنایا جائے گا لیکن شہباز شریف لاہور میں ان کی چھوڑی ہوئی نشست پرقومی اسمبلی کا انتخاب جیت کر ڈیڑھ ماہ بعد ملک کے وزیر اعظم بن جائیں گے۔ حیرت انگیز طور پر اس وقت اس بات کا جواب دینے اور کسی طرف سے یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ شہباز شریف کے پنجاب سے مرکز میں جانے کے بعد پنجاب کا وزیر اعلیٰ کون بنے گا۔ یہ خبریں سامنے آنے لگی تھیں کہ شہباز شریف اپنے بیٹے حمزہ شہباز کو اپنی جگہ وزیر اعلیٰ بنوانا چاہتے ہیں لیکن نواز شریف باپ بیٹے کو بیک وقت وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ نہیں بنانا چاہتے۔ اس طرح نواز شریف کو نہ صرف خود اقتدار کی سیاست سے علیحدگی اختیار کرنا پڑتی بلکہ ان کا خاندان بھی اقتدار تک پہنچنے میں ناکام رہتا۔ ایک بار سارے اختیارات شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے کے پاس آنے کے بعد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی غیر متعلق ہو جاتے۔ اس لئے چند ہی روز میں یہ بات واضح ہونے لگی تھی کہ شہباز شریف بدستور وزیر اعلیٰ رہیں گے کیوں کہ 2018 کے متوقع انتخابات سے قبل پنجاب میں کسی تبدیلی کے تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ گو کہ ابھی تک اس بارے میں کسی تبدیل شدہ پروگرام کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ شہباز شریف نہ تو فوری طور پر وزیر اعظم بن رہے ہیں اور نہ ہی ان کی مرضی کا کوئی فرد لاہور کے حلقہ این اے 120 سے انتخاب میں حصہ لے گا۔ کلثوم نواز کی طرف سے اس حلقہ میں کاغذات نامزدگی داخل کروانے سے تصویر اب مزید صاف ہو گئی ہے۔

نواز شریف کی اس بات پر پوری طرح تو یقین کرنا ممکن نہیں ہے کہ وہ اب چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بننے کے خواہاں نہیں ہیں لیکن انہیں اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ فوری طور پر سیاست میں ان کی واپسی کے لئے ابھی سخت سیاسی تگ و دو کرنا پڑے گی۔ پارلیمنٹ میں آئینی ترامیم کے ذریعے ہی نواز شریف کے لئے سیاست میں واپسی کا راستہ ہموار ہونے کا امکان ہے اور اسی طرح وہ نیب کے ریفرنسز اور بدعنوانی کے الزامات سے بچنا چاہتے ہیں۔ یہی ان کے حالیہ سیاسی شو آف پاور کا دوسرا مقصد بھی ہو سکتا ہے۔ آئینی ترامیم کے لئے پیپلز پارٹی سے روابط اور آصف علی زرداری کے ساتھ مواصلت کی خبریں سامنے آنے لگی ہیں۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ آئین میں مناسب ترمیم کی ضرورت ہے اور اب پیپلز پارٹی کو ساتھ ملانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ تاہم اس تعاون کے لئے پیپلز پارٹی بھی کوئی سیاسی قیمت وصول کرنے کی کوشش کرے گی۔ نواز شریف اس حوالے سے کسی معاہدہ کی کوششوں کے دوران پارٹی پر اپنا کنٹرول اور مرکز میں اپنے وفاداروں کی حکومت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے شہباز شریف کو ’ پنجاب کو آپ کی ضرورت ہے ‘ کہہ کر مرکز سے دور رکھنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ نواز شریف کا خیال ہے کہ وہ پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی لیڈروں سے اسی صورت میں معاملات طے کر سکتے ہیں اگر وہ خود تمام پارٹی سیاسی امور میں باختیار رہیں گے۔ ’گھر واپسی‘ تحریک کے ذریعے وہ یہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ پارٹی پر کنٹرول رکھنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران بار بار تردید کے باوجود یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے خاندان میں پارٹی اور مرکز میں اقتدار کے حوالے سے کشمکش موجود ہے۔ اور نااہلی کے فیصلہ کے بعد نواز شریف کے لئے ااس اندرونی خاندانی کشمکش میں کامیابی زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔

یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے اس سیاسی صورت میں کیا حکمت عملی اختیار کریں گے۔ کیوں کی بھائیوں میں واضح اور کھلی لڑائی کے نتیجہ میں مسلم لیگ (ن) اپنی سیاسی قوت سے محروم ہو جائے گی۔ ایسی حالت میں شہباز شریف کے لئے بھی شاید پنجاب کا اختیار بحال رکھنا ممکن نہ رہے ۔ اس لئے وہ بھی بھائی کو براہ راست چیلنج کرنے سے گریز کریں گے۔ اس کے علاوہ نواز شریف عوام میں شہباز شریف کے مقابلے میں زیادہ اپیل رکھتے ہیں اور ان کا ذاتی ووٹ بنک موجود ہے۔ پنجاب میں اقتدار سنبھال کر شہباز شریف بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی لئے موجودہ حالات میں وہ بھی نواز شریف سے براہ راست تصادم کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ لیکن کیا 2018 کے انتخاب تک یا اس کے بعد بھی یہ صورت حال برقرار رہے گی۔ اس کا انحصار نواز شریف کی مرضی کے مطابق آئینی ترامیم، نیب ریفرنسز کے نتائج اور اپوزیشن کے دباؤ پر ہوگا۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) اگر آئیندہ انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل نہ کرسکی تو اس سے بھی پارٹی پر نوازشریف کی گرفت کمزور ہو سکتی ہے۔ انتخابات جیتنے اور سیاست میں واپسی کا آئینی راستہ ملنے کی صورت میں نواز شریف پارٹی اور ملکی سیاست کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کریں گے۔ چوتھی بار وزیر عظم بننے کی کوشش بھی عود کر سکتی ہے۔

فی الوقت نواز شریف کا لاہور پہنچنے والا قافلہ دراصل ان کی سیاسی ہزیمت کو کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اس دوران وہ پارٹی اور مرکز پر اختیار کو اپنی دسترس میں رکھیں گے۔ تاہم سازش کے اعلان اور اسٹیبلشمنٹ سے تصادم کے تاثر کا مقصد مظلومیت کی تصویر میں رنگ بھرنے سے زیادہ نہیں ہے۔ درپردہ مواصلت ہورہی ہے اور لگتا ہے کہ نواز شریف ایسی کوئی لائن عبور نہ کرنے کا یقین دلا چکے ہیں جس سے واپسی کے سارے راستے مسدود ہو جائیں۔ ان حالات میں سیاسی مقاصدکے لئے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو تختہ مشق بنانا دراصل بجائے خود ایک ایسی سازش ہے جس کا احساس شاید نواز شریف کو بھی نہیں ہے۔ اسی قسم کے ہتھکنڈوں کی وجہ سے ہی مشکل پڑنے پر سیاست دان عدالت سے داد رسی حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

 تحریر: سید مجاہد علی 
 
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

دنیا 100 سیکنڈ میں

- سحر ٹی وی