عراق میں نئی خانہ جنگی کیلئےایک اورہولناک منحوس منصوبہ

یمن کے انسانی حالات کے بارے میں کچھ حقائق

سعودیہ نے امریکہ کی حکمت عملی کی حمایت کرکے روس کی ثالثی ٹھوکرا دی

داعش کے ٹوٹنے سے القاعدہ کی طاقت میں اضافہ

کیا روس نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جگہ لے لی ہے ؟

فلسطینی گروہوں کی مفاہمت پر ایک نظر

پاک افغان سرحدی بحران، پاراچنار پر مرتب ہونے والے خطرناک نتائج

ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی بیماری اور دنیا کو درپیش خطرات

سادہ سا مطالبہ ہے کہ لاپتہ افراد کو رہا کرو: ایم ڈبلیو ایم

ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ دنیا اور ایران کی فتح ہے: موگرینی

قندھار میں طالبان کے کار بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 58 تک پنہچ گئی

خطبات امام حسین اور مقصد قیام

افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ مراکز ہیں: نفیس ذکریا

پاکستان میں انصاف کا خون ہورہا ہے پھر بھی تمام مقدمات کا سامنا کروں گا: نوازشریف

سید الشہداء (ع) کی مصیبت کی عظمت کا فلسفہ

سعودی عرب داعش کا سب سے بڑا حامی ہے: تلسی گیبارڈ

امریکہ کے ملے جلے اشارے، پاکستان کو ہوشیار رہنے کی ضرورت

پاکستان میں سال کا خونریز ترین ڈرون حملہ

حماس اور الفتح کے مابین صلح میں مصر کا کردار

عراق کی تقسیم کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟

آن لائن چیزیں بیچنے کے 6 طریقے

داعش، عصر حاضر کے خوارج ہیں

یورپی یونین واضح کرے کہ ترکی کو اتحاد میں شامل کرنا ہے یا نہیں: اردوغان

داعش کے ٹوٹنے سے القاعدہ کی طاقت میں اضافہ

خواتین پر جنسی حملے، دنیا کے بدترین شہروں میں نئی دہلی سر فہرست

امریکہ قابل اعتماد نہیں ہے

جوان، عاشورا کے عرفانی پہلو کے پیاسے ہیں

مسلم لیگ (ن) کا سیاسی امتحان – محمد عامر حسینی

عراق میں ریفرنڈم کا مسئلہ ماضی کا حصہ بن چکا ہے: العبادی

علامہ عباس کمیلی کی علامہ احمد اقبال سے پولیس اسٹیشن میں ملاقات، جیل بھرو تحریک کی حمایت کا اعلان

برطانیہ میں بدترین دہشتگردی کا خطرہ ہے: سربراہ خفیہ ایجنسی

سعودیہ، اور یمن جنگ میں شکست کا اعتراف

کیا سعودیہ اپنی خطے کی پالیسیوں میں تبدیلی لانا چاہتا ہے؟

حلقہ این اے فور میں ضمنی الیکشن

سول ملٹری تصادم: قومی مفاد کا رکھوالا کون

انسان دوستی، انسان دشمنی

شام کا شہر رقہ داعش کے قبضے سے آزاد

ٹرمپ کی باتیں اس کی شکست اور بے بسی کی علامت ہیں: جنرل سلامی

یمن میں متحدہ عرب امارات کے 2 پائلٹ ہلاک

افغانستان: پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ،32 ہلاک 200 زخمی

عراق: مخمور سے بھی پیشمرگہ کی پسپائی

ایٹمی جنگ کسی بھی وقت چھڑ سکتی ہے

آئندہ انتخابات جیتنے کے بعد ملک کے تمام ادارے ٹھیک کریں گے: عمران خان

نیوز ون چینل کے مالک کے داعش سے مراسم، خطرناک انکشاف

انڈیا میں سبھی مذاہب کے لیے یکساں قانون کے نفاذ کا راستہ ہموار

مشرق وسطیٰ کو «سی آئی اے» کے حوالے کرنا، ٹرمپ کی اسٹرٹیجک غلطی

حضرت زینب (س) کس ملک میں دفن ہیں؟

ایران جوہری معاہدہ، امریکہ اپنے وعدوں پر عمل کرے: یورپی یونین کا مطالبہ

امام سجاد(ع) کا طرز زندگی انسان سازی کیلئے بہترین نمونہ ہے

پاک-ایران گوادر اجلاس؛ دہشتگردوں کی نقل و حرکت کے خلاف موثر کارروائی کا فیصلہ

فوج کے نئے مستعد وکیل

امام زین العابدین علیہ السلام کے یوم شہادت پر عالم اسلام سوگوار

علامہ ناصر عباس جعفری کا کرم ایجنسی دھماکےاور پاک فوج کے جوانوں کی شہادت پر اظہار افسوس

’’باوردی سیاستدانوں‘‘ کے ہوتے جمہوریت محفوظ نہیں

نواز شریف کا کیپٹن صفدر کی احمدی مخالف تقریر سے لاتعلقی کا اظہار

عمران خان کا 26 اکتوبر کو الیکشن کمیشن میں رضاکارانہ پیش ہونے کا فیصلہ

ایران کی دفاعی حکمت عملی میں ایٹمی ہتھیاروں کی کوئی جگہ نہیں

سعودی کارندوں کی آپس میں جنوبی یمن میں جنگ

پانچ مغویان کی بازیابی پاک امریکہ تعلقات کشیدگی کے خاتمے میں مثبت پیشرفت

دس سال جدائی کے بعد فلسطینی گروہ متحد

کے پی کے۔۔۔پی ٹی آئی ناکام ہوئی یا جمہوریت

یمن میں ہیضہ کی بیماری میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2156 ہو گئی

امریکہ کسی بھی معاہدے کی پابندی نہیں کرتا: ڈاکٹر لاریجانی

امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کے غم میں فضا سوگوار

ترکی نے عراقی کردستان کے ساتھ اقتصادی تعاون ختم کردیا

ٹرمپ کے اقدامات پوری دنیا کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں: ہلیری کلنٹن

مقتدیٰ صدر کا کردستان کے ریفرنڈم کے نتائج کو باطل کرنے کا مطالبہ

خواتین کےخلاف وہابیت کے مظالم کا ماجرا

آئی ایم ایف نے ایران مخالف امریکی مطالبہ مسترد کردیا

سینٹرل افریقہ میں مسلمانوں کا قتل عام

میں نہیں سمجھتا نواز شریف پھر وزیراعظم بن سکیں گے: خورشید شاہ

2017-08-13 08:52:42

عراق میں نئی خانہ جنگی کیلئےایک اورہولناک منحوس منصوبہ

iraq

آغا سید عباس حسینی۔۔

عراق میں امن و سکون کے غارتگر اب اس جنگ کو ایک نئی حکمت عملی کے تحت شیعہ علاقوں میں لے جانے کے منصوبے پر بری مستعدی سے کاربند ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق بعثی لیڈرز اور متشدد وہابی گروہوں(القاعدہ، داعش)کے درمیان مختلف نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔

عراقی حکومت کے حصول کے علاوہ شیعوں کی مخالفت پر یہ سب گروہ آپس میں متفق ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اس معرکے کے لیے دو سال سے تیاری جاری ہے۔ اور اس معرکے کے تحت جنگ کو عراق کے وسطی اور جنوبی علاقے تک لے جانا مقصودہے۔ اسے “معرکہ کبری” کا نام دیا جائے گا اور اس کے دو مرحلے ہوں گے۔

پہلے مرحلے کو “صرخة الحق” اور دوسرے کو “صرخة الامام ” کا نام دیا گیا ہے۔ بڑی بڑی عراقی قیادت اس وقت سعودی عرب، قطر اور ترکی کے دورے کر رہی ہیں اور یہ رہنما ان ممالک سے غیر محدود امداد وصول کر رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں شیعہ اکثریتی علاقوں میں جو مظاہرے اور احتجاجات دکھائی دئیے وہ کسی خاص مطالبے کی خاطر نہیں تھے، بلکہ طے شدہ منصوبے کا تحرک تھا۔ یہ انہی حالات کے مشابہ ہے جب داعش کے قبضے سے پہلے بڑی سطح پر مظاہرے ہوئے تھے جو عراق کے ایک تہائی علاقوں تک پھیل گئے تھے۔ لیکن طریقہ کار مختلف تھا۔ اب یہ متوقع مظاہرے وسطی اور جنوبی علاقوں تک محدود رہیں گے۔ مقصد لوگوں کو موجودہ حکومت سے متنفر کرنا ہے تاکہ دھرنوں تک کی نوبت آئے اور پھر حالات خرابی کی طرف نکلیں۔ اس مرحلے کو معرکہ کبری کا نام دیا گیا ہے۔

ساتھ ہی وزارت دفاع سے منسلک مختلف عناصر کی علیحدگی شروع ہوگی۔جو منصوبہ بنایا گیا ہے اس میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ داعش کو اس کے تمام عناصر(عربی، عراقی، اجنبی)وادی حوران میں منتقل کیا جائے گا ، اور پھر جنگ کو عراق کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں منتقل کیا جائے گا۔ مظاہروں اور دھرنوں کے بعد اگلے مرحلے میں حالات کو اچانک خراب کیا جائے گا۔ ایک ساتھ چار مختلف صوبوں میں جنگ چھڑ جائے گی۔

منصوبے کے تحت داعش نخیب اور بابل کے شمالی علاقے سے حلہ اور کربلا میں داخل ہوگی ۔ جبکہ عراقی وزارت دفاع فورا بغداد کی سیکیورٹی کی ذمہ داری خود لے گی اور پھر بڑی آسانی کے ساتھ بغیر جنگ کے بغداد کو ان کے حوالے کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ خفیہ پلان بھی موجود ہے جس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔
علاوہ ازیں اس بات کا قوی امکان ہے آنے والے دنوں میں داعش کا نام تبدیل کر دیا جائے ۔ ترکی سے مختلف خفیہ راستوں سے متعدد علاقوں میں اسلحے کی منتقلی جاری ہے جن میں اسمگلنک کے سمندری راستے بھی شامل ہیں۔ جبکہ اطلاعات یہ آ رہی ہیں کہ ترکی میں مختلف ٹریننگ سنٹرز ہیں جہاں سے منحرف جماعتوں کو جن میں “صرخیہ” “یمانیہ” اور “جند السما” جیسی تنظیمیں شامل ہیں ، کو ٹریننگ دینے کے بعد جنوبی علاقوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ ان کا ہدف دینی اور سیاسی قیادت کو ٹارگٹ کرنا، مظاہرات اور احتجاجات کے ذریعے سڑکوں کو مشغول ر کھ کر اپنے اہداف کا حصول ہے۔

اطلاعات کے مطابق جو عراقی رہنما اس مںصوبے کو کودیکھ رہے ہیں۔ جنرل زیاد عجلی، جن کو زیاد موسوی بھی کہا جاتا ہے۔ 1980 کی دھائی میں پہلے بصرہ میں اور پھر عمارہ میں سیکیورٹی آفیسر تھے۔ان علاقوں میں اس کے وسیع تعلقات ہیں۔محمد رجب حدوشی۔ حسین کامل کا معاون ہے اور اس کے بعد دوسرے درجے کا اہم شخص ہے۔ احمد رشید,جنرل فاضل حیالی, ابو محمد عربی جس کا تعلق قطر ی ایجنسی سے ہے۔۔ جنرل عیال۔ صدام کے دور کا سابق آفیسراور اس کا گارڈ، سعودی عرب اور ترکی کے چند دیگر بڑے عہدیدار شامل ہیں۔

اس منصوبہ میں ہے کہ جنوہ، تل ابیض، درنہ، یلوہ، اسبارکہ کے علاقوں میں دہشت گردی کے کیمپ بنانا۔حملے والے دن

کو “صرخ الحقة یعنی حق کی چیخ کا نام دیا گیا ہے۔ منصوبے میں بصرہ اور ناصریہ کے علاقے کو ٹارگٹ کیا جائے گا۔ مبصرین کے مطابق عراق کے مستقبل کے حوالے سے ایک بار پھر انتہائی خطرناک کھیل کھیلا جا رہا جو ایک بار عراق میں طویل خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے۔

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)