سعودی عرب کے ایران کے قریب ہونے کی وجہ

اسرائیل کے کئی مسلم ممالک سے خفیہ رابطے ہیں: صہیونی وزیر کا دعویٰ

ربیع الاول کا مہینہ دیگر تمام مہینوں پر شرافت رکھتا ہے

سازشی چاہتے ہیں ملک میں لال مسجد اور ماڈل ٹاؤن جیسا واقعہ ہو: وزیر داخلہ

ناصر شیرازی کی بازیابی کے لئےآل پارٹیز کانفرنس

لبنان ہر طرح کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا

ایران کے خلاف اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعاون جاری

سعودی عرب کو خطے میں جنگی جنون اور تفرقہ کے بجائے امن و ثبات کے لئے تلاش کرنی چاہیے

امام حسن(ع) کی معاویہ کےساتھ صلح، آپ کی مظلومیت کی دلیل تھی

انتظار کی فضیلت اور منتظر کا ثواب

دھرنا ختم کرنے کے لیے آپریشن کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے: وزیر داخلہ

قطر کا ایران کے ساتھ رابطہ منفرد اور بے مثال

داعش نے پہلی بار کشمیر میں حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

دائیں بازو کی جماعتوں کی صف بندی کیا رنگ لائے گی؟

شیعوں کی بیداری، امریکہ اور سعودیہ کے لئے ایک بڑا خطرہ

ارب پتی شہزادہ ولید بن طلال کی خود کشی کرنے کی کوشش

اسرائیل:دشمن ملک سے اتحادی ملک تک کا سفر

امام حسن مجتبی (ع) کےنورانی اقوال

اچهی زندگی کے لیے امام حسن (ع) کی تعلیمات

امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں موجود نظریات کا جائزہ

القاعدہ برصغیر کا بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کیساتھ گٹھ جوڑ کا انکشاف

مقبوضہ کشمیر میں رحلت رسول و شہادت نواسہ رسول(ص) کی مناسبت سے جلوس و مجالس عزاء کا اہتمام

رسول اکرم (ص) کی رحلت اور امام حسن مجتبی (ع) کی شہادت کی مناسبت سے عالم اسلام سوگوار

’’نا اہل‘‘ قرار دیا گیا تو سیاست چھوڑ دوں گا،عمران خان

فیض آباد کا دھرنا اور مذہبی حرمت کا سوال

جب حکومت اغوا برائے تاوان میں ملوث ہو ۔۔۔۔!

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے استعفیٰ دے دیا

ترکی کا امریکہ کی طرف سے دہشت گردوں کی حمایت پر مبنی اسناد فاش کرنے کا اعلان

فرانس کو ایران کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرنے کا مشورہ

سعودی عرب اور امارات کو بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہیے

سعودی عرب نے جرمنی سے اپنا سفیر احتجاجا واپس بلالیا

اسلام آباد میں دھرنا مظاہرین کے خلاف آپریشن 24 گھنٹے کیلئے موخر

الحوثی: بحیرہ احمر سے تیل منتقل کرنے کا راستہ بند کردینگے

مشر ق وسطیٰ ایک نئے طوفان کی جانب گامزن

داعش کی پسپائی کے بعد کیا اب حزب اللہ نشانے پر ہے؟

سعودیہ کے داخلی اختلافات، کس کے حق میں ہیں؟ امریکہ یا روس

'یمن کی سرحدیں نہ کھولی گئیں تو لاکھوں افراد ہلاک ہوجائیں گے'

ناصرشیرازی کی غیر قانونی گرفتاری، دوسرے ہفتے بھی پنجاب حکومت مخالف ملک گیر احتجاج

سعودی عرب تاریخی حقائق سے چشم پوشی کر رہا ہے: ایران

عراق میں داعش کا کام تمام، آخری شہر راوہ بھی آزاد

ایران کے زلزلہ زدگان کے لیے پاکستان کی امداد

پیغمبر اسلام (ص) کی اپنے اہلبیت (ع) سے محبت نیز اخلاق، نیکی اور مہربانی پر تاکید

دھرنا ختم نہ ہوا تو حکومت کو مجبوراً عدالتی حکم پرعمل کرنا ہوگا: احسن اقبال

تصاویر: کربلائے معلی میں شیعوں کا عظيم اجتماع

درگاہ لعل شہباز قلندر دھماکے کا مرکزی ملزم گرفتار

فرانس کے بیان پر ایران کا رد عمل

سعودی شاہ سلمان کا بیٹے کے حق میں تخت سے دستبرداری کا امکان

لبنانی عوام نے باہمی اتحاد سے سعودی عرب کی سازش کو ناکام بنادیا

سعودی مفتی کو تل ابیب آنے کی دعوت دی گئی

کیا امت مسلمہ اور عرب دنیا کے لئے اصل خطرہ ایران ہے ؟؟؟

تربت کے قریب 15 افراد کا قتل: دہشت گردی یا انسانی اسمگلنگ؟

سعودی شاہی خاندان کے اندرونی جھگڑوں کی داستان

’اسرائیل،سعودی عرب سے ایران سے متعلق انٹیلیجنس شیئرنگ کیلئے تیار‘

دھرنا مافیا کے سامنے وزیر قانون اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی بے بسی

کائنات میں سرورکائنات اور سبط اکبر کا ماتم

سپریم کورٹ اقدام کرے یا جواب دے

سعودی عرب کی عرب لیگ میں لبنان کی رکنیت منسوخ کرانے کی مذموم کوشش

طاقت و اختیار کی جنگ میں پاکستان نشانے پر ہے

نیب کی اسحاق ڈار کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش

آل سعود اپنی مخالفت برداشت نہیں کرسکتی

پاکستان:طالبان کی سرگرمیوں میں ایک بار پھر اضافہ

بین الاقوامی کانفرنس محبینِ اہلبیت علیہم السلام اور مسئلہ تکفیر

سعودی عرب کا یمن کے خلاف محاصرہ ختم کرنے کا اعلان

قطر سے فوجی تعاون جاری رکھیں گے، رجب طیب اردگان

پیغمبر اکرم (ص) کیوں مکارم اخلاق کے لیے مبعوث ہوئے تھے؟

علامہ راجہ ناصرعباس اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات، ناصرشیرازی کے اغواکی پرزور مذمت

مسئلہ کشمیر ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ

سعودی عرب نے لبنان کے وزير اعظم کو اغوا کررکھا ہے: لبنانی صدر

ایران و پاکستان

لبنان پر جنگ کے بادل

اسٹیبلشمنٹ کون

2017-09-04 22:31:41

سعودی عرب کے ایران کے قریب ہونے کی وجہ

images

عربی روزنامہ” القدس العربی” نے حج کے ایام کے بعدسعودی اور ایرانی سیاست مداروں کے دوروں کو لے کر ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ،ہوئے لکھا ہے کہ ظریف کے بیان سے پہلے عراق کے وزیر خارجہ قاسم الاعرجی کے سعودی عرب کی طرف سے تہران کے ساتھ اختلافات کو ختم کرنے کے لئے  ان کی درخواست تہران پہنچانے کی خبر دی تھی تہران نے بھی سعودی عرب کی اس درخواست کا مثبت جواب دیا ہے۔

اس روزنامہ نے لکھا ہے ریاض نے حال ہی میں عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی اور اس ملک کے وزیر داخلہ کا خیر مقدم کرنے کے بعد عراق کی صدر پارٹی کے سربراہ مقتدا صدر کا بھی استقبال کیا۔اس سے بھی ہٹ کر ظریف اور ان کے سعودی ہم منصب عادل الجبیر نے استامبول میں اسلامی تعاون کونسل کے اجلاس میں ایک دوسرے سے مصافحہ کیا جس کے بارے میں میڈیا نے بتایا کہ پہلے جبیر نے ظریف کو سلام کیا تھا اور ان کے نزدیک آیا تھا۔

اس وقت ایران اور سعودی عرب کے قریب ہونے پر روس ناظر کا کردار ادا کررہا ہے اور روسی ذرائع ابلاغ کے اعلان کی بنا پر روس نے تہران اور ریاض کو دعوت دی ہے کہ وہ ماسکو  کی نگرانی میں مشترکہ بیٹھک رکھیں۔

القدس العربی نے آگے چل کر سعودی عرب کے ایران کے نزدیک ہونے کی کچھ داخلی اور خارجی وجوہات کی طرف اشارہ کیا ہے جو درج ذیل ہیں:

۱۔سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی جانشینی کے مسئلے کو عملی جامہ پہنانا، اس کے لئے ضروری ہے کہ سعودی عرب کے اندر اور اس کی سرحدوں پر کشیدگی میں کمی واقع ہو اور اس سلسلے میں ایران کا کردار کافی پر اثر ہے۔

۲۔یمن کے ساتھ سعودی عرب کی سرحد پر کہ جہاں انصار اللہ نے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کے خلاف حملوں میں شدت پیدا کی ہے علی عبد اللہ صالح کی طرف سے انصار اللہ کے خلاف بغاوت اور کودتا کے سلسلے میں اس کو تشویش ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ سعودی عرب کی اطلاع یا اس کی ضمنی موافقت کے بغیر نہیں ہو گا۔

۳۔سعودی عرب اور ایران کے روابط میں جو تبدیلی آئی ہے اس کا اثر شام تک بھی پہنچا ہے چنانچہ ہم نے دیکھا  کہ مذاکرات کرنے والوں کی اعلی کمیٹی کے ساتھ کہ جو شام کے مخالف ہیں سعودی عرب کے رویے میں  تبدیلی ہوئی ہے۔

۴۔ان تبدیلیوں کو خطہ میں امریکہ کے موقف سے جدا نہیں مانا جا سکتا  ایک بہت بڑا جنجال کہ جو امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مئی کے مہینے میں سعودی عرب کے دورے کے دوران ایران کا مقابلہ کرنے کیلئے وجود میں آیا تھا وہ انتہائی تیزی کے ساتھ قطر کے ساتھ بڑے مقابلہ میں تبدیل ہو گیا۔

۔ یمن شام اور لیبیا میں جنگ کے نئے محاذوں کا کھلنا  اور پس پردہ امارات کے کردار کا بھانڈا پھوٹنا اس طرح کہ حالانکہ اس ملک کے ایران کے ساتھ بڑے پیمانے پر تجارتی روابط ہیں حکام کی طرف سے ایران کے خلاف شدید اللحن بیانات دینا اسی طرح یہ بھی واضح ہو گیا  کہ حوثیوں کے خلاف شدید جنگ کے باوجود عبد  ربہ منصور ھادی کے جو یمن کا مستعفی صدرکے محاذ کا دو گروہوں میں بٹ جانا اور اس کے علاوہ شام کی حکومت کے ساتھ جھڑپوں کے پس پردہ سازشوں کا پایا جانا کہ جو بشار اسد کی بقا کی متقاضی ہیں۔

زمرہ جات:   Horizontal 3 ،
ٹیگز:   ایران ، سعودی عرب ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

یادوں کے جھروکے

- سحر ٹی وی

’’میکنک‘‘ بادشاہ

- ایکسپریس نیوز

جام جم - 20 نومبر

- سحر ٹی وی