پاکستان کا سیاسی بحران ۔۔۔اور اس کا حل

سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان مکار، دھوکہ باز، حیلہ گر اور فریبکار ہیں: قطری شیخ

امریکا نے دہشت گردی کے بجائے چین اور روس کو خطرہ قرار دے دیا

سلامتی کونسل میں پاکستان اور امریکی مندوبین کے درمیان لفظی جنگ

ایک اورماورائے عدالت قتل

کالعدم سپاہ صحابہ کا سیاسی ونگ پاکستان راہ حق پارٹی بھی اھل سیاسی جماعتوں میں شامل

امریکہ اور دہشتگردی کا دوبارہ احیاء

ایرانی جوان پوری طرح اپنے سیاسی نظام کے حامی ہیں؛ ایشیا ٹائمز

دنیائے اسلام، فلسطین اور یمن کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرے

شام کے لیے نئی سازش کا منصوبہ تیار

پاک فوج کیخلاف لڑنا حرام ہے اگر فوج نہ ہوتی تو ملک تقسیم ہوچکا ہوتا: صوفی محمد

امام زمانہ عج کی حکومت میں مذہبی اقلیتوں کی صورت حال

سعودی عرب نائن الیون کے واقعے کا تاوان ادا کرے، لواحقین کا مطالبہ

امریکہ کو دوسرے ممالک کے بارے میں بات کرنے سے باز رہنا چاہیے: چین

پاکستان میں حقانی نیٹ ورک موجود نہیں

سعودی عرب نے یمن میں انسانی، اسلامی اور اخلاقی قوانین کا سر قلم کردیا

پاکستان کو ہم سے دشمن کی طرح برتاؤ نہیں کرنا چاہیے: اسرائیلی وزیراعظم

آرمی چیف نے 10 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی

بھارت: ’حج سبسڈی کا خاتمہ، سات سو کروڑ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے

صہیونی وزیر اعظم کے دورہ ہندوستان کی وجوہات کچھ اور

پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملہ، عوام حکومتی ایکشن کے منتظر

روس، پاکستان کی دفاعی حمایت کے لئے تیار ہے؛ روسی وزیر خارجہ

عام انتخابات اپنے وقت پر ہونگے: وزیراعظم

ناصرشیرازی اور صاحبزادہ حامد رضا کی چوہدری پرویزالہیٰ سے ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

پارلیمنٹ نمائندہ ادارہ ہے اسے گالی نہیں دی جاسکتی: آصف زرداری

زائرین کے لیے خوشخبری: پاک ایران مسافر ٹرین سروس بحال کرنے کا فیصلہ

شریف خاندان نے اپنے ملازموں کے ذریعے منی لانڈرنگ کرائی، عمران خان

امریکہ کی افغانستان میں موجودگی ایران، روس اور چین کو کنٹرول کرنے کے لئے ہے

ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر کی تہران اسلام آباد سیکورٹی تعاون بڑھانے پر تاکید

دورہ بھارت سے نیتن یاہو کے مقاصد اور ماحصل

ایوان صدر میں منعقد پیغام امن کانفرنس میں داعش سے منسلک افراد کی شرکت

امریکہ، مضبوط افغانستان نہیں چاہتا

عربوں نے اسرائیل کے خلاف جنگ میں اپنی شکست خود رقم کی

سیاسی لیڈر کا قتل

مقاصد الگ لیکن نفرت مشترکہ ہے

انتہا پسندی فتوؤں اور بیانات سے ختم نہیں ہوگی!

تہران میں او آئی سی کانفرنس، فلسطین ایجنڈہ سرفہرست

زینب کے قاتل کی گرفتاری کے حوالے سے شہباز شریف کی بے بسی

یورپ کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی حمایت کا اعادہ

بن گورین ڈاکٹرین میں ہندوستان کی اہمیت

دہشت گردی کے خلاف متفقہ فتویٰ

شام میں امریکی منصوبہ؛ کُرد، موجودہ حکومت کی جگہ لینگے

شفقنا خصوصی: کیا زینب کے قاتل کی گرفتاری کو سیاسی مقاصد کے لیے چھپایا جا رہا ہے؟

مسئلہ فلسطین، عالم اسلام کا اہم ترین مسئلہ ہے

پاپ کی طرف سے میانمار کے مسلمانوں کی عالمی سطح پر حمایت

امریکا مشترکہ مفادات کی بنیاد پر پاکستان سے نئے تعلقات بنانا چاہتا ہے، ایلیس ویلز

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا بینظیر بھٹو کو قتل کرنے کا دعویٰ

امریکہ، بیت المقدس کے بارے میں اپنے ناپاک منصوبوں ميں کامیاب نہیں ہوگا

پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کرنےکےلیے پرعزم ہیں: امریکی جنرل جوزف ڈنفورڈ

اسلامی ممالک کو اختلافات دور کرنے اور باہمی اتحاد پر توجہ مبذول کرنی چاہیے

بھارت ایسے اقدامات سے باز رہے جن سے صورتحال خراب ہو، چین

عمران خان اور آصف زرداری کل ایک ہی اسٹیج سے خطاب کریں گے، طاہرالقادری

اسرائیلی وزیراعظم کا 6 روزہ دورہ بھارت؛ کیا پاکستان اور ایران کے روایتی دشمنوں کیخلاف علاقائی اتحاد ناگزیر نہیں؟

مودی، یاہو اور ٹرمپ کی مثلث

سید علی خامنہ ای، دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیڈر ہیں؛ آذربائیجانی عوام

لسانی حمایت کافی نہیں، ایرانی معترضین تک اسلحہ پہنچایا جائے؛ صہیونی ادارہ

خود کش حملے حرام ہیں، پاکستانی علما کا فتوی

پاکستان افغان جنگ میں قربانی کا بکرا نہیں بنے گا ، وزیردفاع

امریکہ کے شمالی کوریا پر حملے کا وقت آن پہنچا ہے؛ فارن پالیسی

یمن پر مسلط کردہ قبیلۂ آل سعود کی جنگ پر ایک طائرانہ نظر

پاکستان اور امریکہ کے روابط میں اندھیر

مقبوضہ کشمیر، برہان وانی کے بعد منان وانی !!!

آج دنیا کی تمام اقوام کی تباہی و بربادی کا ذمہ دار امریکہ ہے، جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جائے،

پاک و ہند میں امن کی ضرورت ہے ، جنگ کی نہیں

اتحاد اور ایمریٹس ایئر لائن کا پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار

آصف زرداری کا طاہر القادری کی حکومت مخالف تحریک میں شمولیت کا فیصلہ

ستر سال کا بوڑھا پروفیسر قومی سلامتی کے لئے خطرہ تھا؟ عامر حسینی

فلسطینی قسام بریگیڈ کی پہلی مسلحانہ کاروائی ،صہیونی مزہبی پیشوا فائرنگ میں ہلاک

سعودی عوام مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں؛ ہوفنگٹن پوسٹ

کویت نے لبنان کے شیعہ سفیر کو آخر کار قبول کرلیا

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ترکی میں مذاکرات

2017-09-11 06:26:43

پاکستان کا سیاسی بحران ۔۔۔اور اس کا حل

politica

 

ستّر سال بیت جانے کے باوجود ، پاکستان سیاسی بحران سے باہرنہیں آ سکا۔ ابتدائی دنوں میں یہ طے پا گیا تھا کہ پاکستان میں ’’جمہوری نظام‘‘ ہوگا اور جمہوری نظام پہ سب کا اجماع تھا اور ہے۔ جمہوری نظام سے مرادہے سب فیصلے جمہورکی رائے سے طے پائیں گے۔ پارلیمنٹ اسی جمہور کے

 

نمائندوں کا مرکز اورمقام ہے ۔ جہاں ہونے والے فیصلے عوامی امنگوں کے مطابق اور ان کے مفاد میں ہوتے ہیں یا ہونے چاہئیں۔

آیئے اس مسئلے پہ غور کرتے ہیں سیاسی بحران کو پیدا کرنے یا اس کو حل کرنے میں خود سیاسی جماعتوں یا سیاسی سربراہوں کا کیا کردار رہا ہے۔ تمہید طولانی کے بجائے اگر تمنا مختصر کے مطابق عرض کروں تو پاکستان کی سیاسی تاریخ کاخلاصہ اور نتیجہ یہی ہے ،سیاسی بحران کو پیدا کرنے میں سیاسی جماعتوں اور سربراہوں کاخوداپنا حصہ بقدر جثہ شامل رہا ہے۔ مختلف اداروں اورافراد نے سیاسی بحران کے لئے ہمیشہ سیاسی جماعتوں کا استعمال کیا اور یہ جماعتیں اقتدار کی ہوس میں ان کے ہاتھوں کا کھلونا بنی رہیں۔ کم ازکم 30 سالہ سیاست کا میں خودعینی گواہ ہوں۔ لوگ بدلتے رہے ، چہرے تبدیل ہوتے رہے، مہرے استعمال ہوتے رہے اور خواہش وہوس ایک رہی اور وہ اقتدار ہے۔

 

آئین پاکستان سب کے کردار کو متعین بھی کرتا ہے۔ او رمقرر بھی۔۔۔ یہ بھی بتاتا ہے کہ فلاں ادارے کی حدود کیا ہیں اور اس کا سیاسی کردار کتنا ہے؟ مثلاً آئینِ پاکستان فوج کے کردار کی وضاحت کر دیتا ہے جس میں حکومت، اقتدار اورسیاسی قوت اپنے ہاتھ میں لینے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ سیاستدان یہ سب کچھ جانتے ہوئے ’’فوج‘‘ کو اپنے مخالف صاحب اقتدار سیاسی جماعت کے خلاف ایکشن لینے اور اقتدار سنبھالنے کی دعوت دیتے رہے، جس حوالے سے بینظیر بھٹو، قاضی حسین احمدودیگر سیاستدانوں کے بیانات اخبارات کی زینت بنتے رہے، میں نے نواز شریف کا ذکر نہیں کیا کیونکہ وہ ماشاء اللہ آرمی چیف سے دوستی اور یارانہ قائم کرنے کی سعی لاحاصل کرتے رہتے تھے تاکہ یہ ادارہ اپنے ہاتھو ں میں رہے۔

 

میرے مطابق ،سیاسی بحران کے ذمہ دار فقط سیاست دان ہیں اگر یہ اپنا آئینی کردار سمجھیں اورشعوری کوشش کے ساتھ اس بحران کو ختم کریں تو یہ ختم ہوسکتا ہے اس کے لئے چند اقدامات کرناہوں گے۔مثلاً

(1)تمام سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا ہو گا۔اس کی مضبوطی زیادہ سے زیادہ اجلاسوں میں حاضری اور حاضری میں قانون سازی اور ملکی مسائل پہ بحث و تمحیص ۔۔۔تاکہ چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔

(2)اپوزیشن اسی پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی محرومیوں اورشکایتوں کا ازالہ کرے۔

(3)اگر اپوزیشن یا حکومتی ارکان وزیراعظم پہ عدمِ اعتماد کا اظہارکرتے ہیں تو وزیراعظم کو تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کی آپشن بھی آئین میں موجود ہے۔ اگر خدانخواستہ وزیراعظم مجرمانہ سرگرمیوں یعنی ’’فساد فی الارض ‘‘ کا مرتکب ہے تو پھراس کے لئے عدالت کا راستہ ہے بشرطیکہ ایسے جرائم کے الزامات گمان خیال اورشک پہ مبنی نہ ہوں۔

(4)سیاسی جماعتوں کو متفقہ طور پر میثاقِ جمہوریت ‘‘ کی طرح ایک لائحہ عمل تشکیل دیناچاہئے جس میں کم ازکم ، ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کی شرکت لازمی ہو۔

(5)انتخابات کے بعد سیاسی جماعتیں سیاسی پختگی کا ثبوت دیتے ہوئے سیاسی مسائل کے حل کیلئے سڑکیں نہیں پارلیمنٹ کو اپنا مرکز بنائیں۔

(6)سیاسی جماعتیں جمہوری جماعتوں اور افراد کو اپنی آواز میں شامل کریں، ایسی جماعتوں اورافراد سے اعراض برتیں جن کی پارلیمنٹ میں کوئی

 

نمائندگی نہیں جن کا کوئی جمہوری کردار نہیں جو فقط مادی وسائل اور اپنے تعلیمی اداروں کی بنیاد پر مجمع اکٹھا کر لیتے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں زیادہ عرصہ آمریت برسراقتدار رہی ہے اورعوامی حکومت کا عرصہ اس کے مقابل کم بنتا ہے لیکن جب بھی جمہوری حکومت آئی ہے ۔ سیاسی راہنماؤں نے اسے جمہوریت کے لئے خطرہ قرار دیا ہے اورآمریت کے دور میں یااقتدار کے مزے لوٹے یا پھر خاموشی سے زندگی کے دن پورے کیئے۔

 

چودھری شجاعت حسین ، چودھری پرویز الٰہی ،جہانگیر ترین اورشیخ رشید جیسے سیاسی راہنماؤں نے دورِآمریت میں اقتدار کے مزے لیئے، انہیں پرویزمشرف میں کوئی خرابی اوربرائی دکھائی نہ دی لیکن اُن کے جانے کے بعد جمہوری حکومت میں ایسی ایسی خرابیاں دکھائی دینے لگیں کہ یہ لوگ اس کیخلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ ہر جمہوری حکومت ،جمہوری نظام کے لئے خطرہ اورملک کے لئے سکیورٹی رسک قرار پائی۔ ہر آمر کاحکومتی قبضہ’’ نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت جائز قرار پایا۔۔۔

 

ماضی قریب میں پیدا ہونے والا سیاسی بحران اسی سوچ کا شاخسانہ ہے کہ نواز شریف پینتیس سال سے اس ملک پہ مسلط ہے اگر غورکیا جائے تو نواز شریف کو کتنی بار’’مدت‘‘ پوری کرنے دی گئی اوروہ کتنا عرصہ اس ملک کے وزیراعظم رہے۔ بے نظیر بھٹو کا جمہوری دور ہو یا نواز شریف کا ۔۔۔ کوئی دور بھی اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکا۔فوج، عدالت اور سٹیبلشمنٹ کے ذریعے نکال باہر کر دیا گیا۔ کبھی ایسا کیو ں نہ ہوا کہ جمہوری حکمرانوں کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے آمروں کے خلاف احتجاجی تحریک چلائی ہو اور انہیں اقتدار سے نکال باہرکیا ہو۔

 

مسلم لیگ (ن) کا یہ شاید پہلا دور حکومت ہوجواپنی مدت پوری کرے اور وہ بھی نواز شریف کے بغیر۔۔۔ اس سیاسی بحران میں ایک سوال شخصیات اور خاندانوں کی سال ہا سال سے سیاسی اقتدار پہ قبضے کے حوالے سے کیا جاتا ہے اس حوالے سے گزارش کرتا رہتا ہوں کہ اس ملک میں سیاسی جماعت کواپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جائے تو یہ خاندانی وارثت بھی ختم ہو جائے گی ۔ انسانی فطرت کبھی ایک ہی صورت کو قبول نہیں کرتی، تبدیلی خودبخود رونما ہوتی رہتی ہے۔ یہ تبدیلی جمہوری نظام سے مشروط ہے جو تیزی سے تبدیلی کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب اس نظام میں رخنے ڈالے جاتے ہیں تو یہی سیاسی لوگ نئے دم خم سے سیاست میں واپس آتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ’’مظلومیت ‘‘ کا ووٹ ہوتا ہے ۔ جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو فقط اقتدار سے ہی نہیں بلکہ عدالتی فیصلے کے ذریعے دنیا سے بھی نکال دیا لیکن ان کی شہادت نے پیپلزپارٹی کے لئے اقتدار کے راستے کو آسان کر دیا۔ نواز شریف جلاوطنی کے بعد جب وطن واپس آئے،تو اسی طر ح اقتدار انہیں حاصل ہواجیسے انہیں اقتدار سے نکالا گیا تھا ۔ غیر جانبدار تجزیہ نگاروں کا تجزیہ ہے،آئندہ 2018ء الیکشن بھی نواز شریف کا الیکشن ہے۔۔۔ اگر کوئی رکاوٹ نہ ڈالی گئی ۔

 

اس میں سب سے بڑی وجہ یہی عدالتی فیصلہ ہے جس نے نوازشریف کی غلطیوں پرپردہ ڈال کر اس کی خوبیوں کو اجاگر کر دیا ہے۔ ایک بار پھر اس ملک میں نواز شریف کارڈ استعمال ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔۔۔ نواز شریف کے خلاف فیصلے کے بعد ابھی تلک دیگر سیاسی جماعت کے کسی اور راہنما کے خلاف فیصلہ نہ آنا اس سوچ کو تقویت دے رہا ہے کہ یہ فقط ایک شخص کے خلاف انتقامی کارروائی تھی ورنہ اب تلک کئی اور بھی سیاست واقتدار سے نکالے جا چکے ہوتے۔

 

نتیجتاً عرض کروں گا،ہر چند سال بعد، جمہوری حکومت کے خلاف اقدام و سازش ہی سیاسی بحران کی اصل وجہ ہے، اگر سیاسی جماعتیں طے کر لیں کہ وہ کسی کا آلہ کار بننے کے بجائے، سیاسی اور جمہوری کلچر کو رواج دیں گے، کسی ایک کے خلاف غیر جمہوری اقدام صرف ایک جماعت کے خلاف نہیں بلکہ سب کے خلاف تصور کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کو سپریم بنایا جائے ،اس کے فیصلوں کو من وعن نافذ کیا جائے گا۔ حکومت ہو یا اپوزیشن اپنی آئینی ذمہ داریوں سے ’’تجاوز‘‘ نہیں کرے گی۔ الیکشن کو سب سے بڑی عدالت خیال کیا جائیگا جس میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جاتا ہے جس میں عوام کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ سناتی ہے۔ الیکشن میں غیر جمہوری ہتھکنڈے اور دھاندلی کی روک تھام کے لئے، تمام سیاسی جماعتیں تعاون کریں، قانون سازی کریں اور انتخابی اصلاحات کے ساتھ جدید سائنسی طریقہ انتخابات اختیار کریں۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو سیاسی وابستگی اور دباؤ سے آزاد اور خودمختار ادارہ بنایا جائے۔ملک میں خفیہ ہاتھوں اورغیر جمہوری قوتوں کا آلہ کار بننے کے بجائے ہرجمہوری حکومت کو اس کی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع دیا جائے تو اس ملک سے سیاسی بحران ختم ہو سکتا ہے۔

صاحبزادہ امانت رسول

زمرہ جات:  
ٹیگز:   پاکستان ، پارلیمنٹ ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)