تینوں میں کوئی فرق نہیں از حامد میر

ربیع الاول کا مہینہ دیگر تمام مہینوں پر شرافت رکھتا ہے

سازشی چاہتے ہیں ملک میں لال مسجد اور ماڈل ٹاؤن جیسا واقعہ ہو: وزیر داخلہ

ناصر شیرازی کی بازیابی کے لئےآل پارٹیز کانفرنس

لبنان ہر طرح کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا

ایران کے خلاف اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعاون جاری

سعودی عرب کو خطے میں جنگی جنون اور تفرقہ کے بجائے امن و ثبات کے لئے تلاش کرنی چاہیے

امام حسن(ع) کی معاویہ کےساتھ صلح، آپ کی مظلومیت کی دلیل تھی

انتظار کی فضیلت اور منتظر کا ثواب

دھرنا ختم کرنے کے لیے آپریشن کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے: وزیر داخلہ

قطر کا ایران کے ساتھ رابطہ منفرد اور بے مثال

داعش نے پہلی بار کشمیر میں حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

دائیں بازو کی جماعتوں کی صف بندی کیا رنگ لائے گی؟

شیعوں کی بیداری، امریکہ اور سعودیہ کے لئے ایک بڑا خطرہ

ارب پتی شہزادہ ولید بن طلال کی خود کشی کرنے کی کوشش

اسرائیل:دشمن ملک سے اتحادی ملک تک کا سفر

امام حسن مجتبی (ع) کےنورانی اقوال

اچهی زندگی کے لیے امام حسن (ع) کی تعلیمات

امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں موجود نظریات کا جائزہ

القاعدہ برصغیر کا بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کیساتھ گٹھ جوڑ کا انکشاف

مقبوضہ کشمیر میں رحلت رسول و شہادت نواسہ رسول(ص) کی مناسبت سے جلوس و مجالس عزاء کا اہتمام

رسول اکرم (ص) کی رحلت اور امام حسن مجتبی (ع) کی شہادت کی مناسبت سے عالم اسلام سوگوار

’’نا اہل‘‘ قرار دیا گیا تو سیاست چھوڑ دوں گا،عمران خان

فیض آباد کا دھرنا اور مذہبی حرمت کا سوال

جب حکومت اغوا برائے تاوان میں ملوث ہو ۔۔۔۔!

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے استعفیٰ دے دیا

ترکی کا امریکہ کی طرف سے دہشت گردوں کی حمایت پر مبنی اسناد فاش کرنے کا اعلان

فرانس کو ایران کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرنے کا مشورہ

سعودی عرب اور امارات کو بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہیے

سعودی عرب نے جرمنی سے اپنا سفیر احتجاجا واپس بلالیا

اسلام آباد میں دھرنا مظاہرین کے خلاف آپریشن 24 گھنٹے کیلئے موخر

الحوثی: بحیرہ احمر سے تیل منتقل کرنے کا راستہ بند کردینگے

مشر ق وسطیٰ ایک نئے طوفان کی جانب گامزن

داعش کی پسپائی کے بعد کیا اب حزب اللہ نشانے پر ہے؟

سعودیہ کے داخلی اختلافات، کس کے حق میں ہیں؟ امریکہ یا روس

'یمن کی سرحدیں نہ کھولی گئیں تو لاکھوں افراد ہلاک ہوجائیں گے'

ناصرشیرازی کی غیر قانونی گرفتاری، دوسرے ہفتے بھی پنجاب حکومت مخالف ملک گیر احتجاج

سعودی عرب تاریخی حقائق سے چشم پوشی کر رہا ہے: ایران

عراق میں داعش کا کام تمام، آخری شہر راوہ بھی آزاد

ایران کے زلزلہ زدگان کے لیے پاکستان کی امداد

پیغمبر اسلام (ص) کی اپنے اہلبیت (ع) سے محبت نیز اخلاق، نیکی اور مہربانی پر تاکید

دھرنا ختم نہ ہوا تو حکومت کو مجبوراً عدالتی حکم پرعمل کرنا ہوگا: احسن اقبال

تصاویر: کربلائے معلی میں شیعوں کا عظيم اجتماع

درگاہ لعل شہباز قلندر دھماکے کا مرکزی ملزم گرفتار

فرانس کے بیان پر ایران کا رد عمل

سعودی شاہ سلمان کا بیٹے کے حق میں تخت سے دستبرداری کا امکان

لبنانی عوام نے باہمی اتحاد سے سعودی عرب کی سازش کو ناکام بنادیا

سعودی مفتی کو تل ابیب آنے کی دعوت دی گئی

کیا امت مسلمہ اور عرب دنیا کے لئے اصل خطرہ ایران ہے ؟؟؟

تربت کے قریب 15 افراد کا قتل: دہشت گردی یا انسانی اسمگلنگ؟

سعودی شاہی خاندان کے اندرونی جھگڑوں کی داستان

’اسرائیل،سعودی عرب سے ایران سے متعلق انٹیلیجنس شیئرنگ کیلئے تیار‘

دھرنا مافیا کے سامنے وزیر قانون اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی بے بسی

کائنات میں سرورکائنات اور سبط اکبر کا ماتم

سپریم کورٹ اقدام کرے یا جواب دے

سعودی عرب کی عرب لیگ میں لبنان کی رکنیت منسوخ کرانے کی مذموم کوشش

طاقت و اختیار کی جنگ میں پاکستان نشانے پر ہے

نیب کی اسحاق ڈار کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش

آل سعود اپنی مخالفت برداشت نہیں کرسکتی

پاکستان:طالبان کی سرگرمیوں میں ایک بار پھر اضافہ

بین الاقوامی کانفرنس محبینِ اہلبیت علیہم السلام اور مسئلہ تکفیر

سعودی عرب کا یمن کے خلاف محاصرہ ختم کرنے کا اعلان

قطر سے فوجی تعاون جاری رکھیں گے، رجب طیب اردگان

پیغمبر اکرم (ص) کیوں مکارم اخلاق کے لیے مبعوث ہوئے تھے؟

علامہ راجہ ناصرعباس اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات، ناصرشیرازی کے اغواکی پرزور مذمت

مسئلہ کشمیر ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ

سعودی عرب نے لبنان کے وزير اعظم کو اغوا کررکھا ہے: لبنانی صدر

ایران و پاکستان

لبنان پر جنگ کے بادل

اسٹیبلشمنٹ کون

پہلی بار سعودی عرب میں عید میلاد النبی ؐکے موقع پر چھٹی ہوگی

2017-09-11 22:40:46

تینوں میں کوئی فرق نہیں از حامد میر

The-End-of-Imran-Khan-Nawaz-Sharif-Asif-Zardari

کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ جن احتساب عدالتوں میں آصف علی زرداری دھکے کھایا کرتے تھے انہی احتساب عدالتوں میں نواز شریف اور ان کے بچوں کے بھی چکر لگیں گے۔

مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے، جنرل پرویز مشرف اس ملک کے حکمران تھے، نواز شریف ایک ڈیل کے ذریعہ سعودی عرب جاچکے تھے لیکن ان کے ساتھی سیف الرحمان اڈیالہ جیل میں رہ گئے تھے۔ایک دن راولپنڈی کی احتساب عدالت میں آصف علی زرداری اور سیف الرحمان کی آگے پیچھے پیشی تھی۔ زرداری صاحب اپنی پیشی کے بعد مجھ سمیت کچھ دیگر اخبار نویسوں کے ساتھ گفتگو کررہے تھے کہ اچانک سیف الرحمان نمودار ہوئے اور آصف علی زرداری کے قدموں میں گر کر معافیاں مانگنے لگے۔ سیف الرحمان نے صاف الفاظ میں کہا کہ میں نے آپ پر جھوٹے مقدمات بنا کر ظلم کیا مجھے جو حکم دیا گیا میں نے وہی کیا تھا مجھے معاف کردیں۔

یہ ایک ناقابل یقین منظر تھا۔ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں احتساب بیوروکے سربراہ نے زرداری صاحب سے معافی مانگ کر سر اوپر اٹھایا تو ان کی نظر مجھ پر پڑی۔ انہوں نے فوراً اپنے آنسو پونچھے اور زرداری صاحب کو دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہوگئے، جو مقدمات سیف الرحمان نے بنائے تھے وہ کئی سال تک چلتے رہے اور کئی سال کے بعد زرداری صاحب کو بے گناہ قرار دیا گیا تو نیب نے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی، اگر آپ میری جگہ ہوتے اور آپ نے سیف الرحمان کو زرداری صاحب کے قدموں میں گر کر معافی مانگتے دیکھا ہوتا تو آپ کس کو سچا سمجھتے؟ نیب کو یا زرداری صاحب کو؟ ستم ظریفی دیکھئے کہ جب نواز شریف سعودی عرب میں جلا وطن تھے اور ان سے پوچھا جاتا تھا کہ آپ نے بینظیر بھٹو اور آصف زرداری پرمقدمات کیوں بنائے تو وہ ساری ذمہ داری سیف الرحمان پر ڈال دیتے تھے۔

2013میں نواز شریف تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے تو یہی سیف الرحمان دوبارہ ان کے اردگرد نظر آنے لگے اور انہی کی کوششوں سے وہ قطری خط بھی تیار ہوا جو پاناما کیس میں نواز شریف کے دفاع کے لئے سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا۔ ماضی کی غلطیوں سے کسی نے بھی سبق نہ سیکھا۔ نواز شریف پہلے بھی سیف الرحمان کی وجہ سے رسوا ہوئے اور بعد میں بھی رسوا ہوئے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے بہتر گورننس کے ذریعہ کرپشن کے خاتمے پر توجہ دینے کی بجائے احتساب کے قانون کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی اور صوبائی اسمبلی میں اپنی اکثریت کا بے دریغ استعمال کیا۔ تحریک انصاف بھی کسی سے کم نہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لاہور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حلقہ این اے 120کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کو ووٹ دے کر سپریم کورٹ کو مضبوط کریں۔ کیا عجیب منطق ہے، سپریم کورٹ کی اصل طاقت پاکستان کا آئین ہے یا تحریک انصاف کا ووٹر؟ اگر این اے120کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کا امیدوار نہیں جیتتا تو کیا یہ سپریم کورٹ کی شکست ہوگی؟

کتنی بدقسمتی ہے، پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کے قول و فعل میں تضاد جمہوری نظام کو کمزو ر کررہا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے سینئر وزراء ایک طرف چھ ستمبر کو یوم دفاع کی تقریب میں آرمی چیف کے ساتھ بیٹھے نظر آتے ہیں، دوسری طرف اسی جماعت کی سوشل میڈیا ٹیم جعلی ٹوئٹر اکائونٹس کے ذریعہ فوج اور عدلیہ کے خلاف پروپیگنڈے میں بھی مصروف رہتی ہے اور سب جانتے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کے سائبر کمانڈوز کی قیادت کس کے پاس ہے؟مسلم لیگ(ن) کی قیادت خود جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ڈیل کرکے سعودی عرب چلی جائے تو وہ ٹھیک ہے، ایک خاموش این آر او کے ذریعہ مشرف کو پاکستان سے فرار کرادے تو بڑی اچھی بات ہے لیکن کوئی صحافی مسلم لیگ(ن) کی پالیسی میں موجود ان تضادات کی نشاندہی کردے تووہ جمہوریت کا دشمن قرار پاتا ہے۔ایسے ہی گستاخ اور بدتمیز صحافیوں پر قابو پانے کے لئے مسلم لیگ (ن) کی جمہوریت پسند حکومت نے پاکستان پرنٹ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

یہ مجوزہ اتھارٹی ایک آرڈیننس کے ذریعہ قائم کی جائےگی اور اس مجوزہ اتھارٹی کے قیام کا مسودہ پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ جنرل ایوب خان کے بدنام زمانہ پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس کو دوبارہ زندہ کیا جارہا ہے اور اس نئے قانون کا مقصد میڈیا کا احتساب نہیں بلکہ طاقت کے ذریعہ اپنے اشاروں پر نچوانا ہے۔ میں نے وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب صاحبہ سے پوچھا کہ یہ قانون کیوں بنایا جارہا ہے؟ انہوں نے اس قانون کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی جس کے بعد میری تشویش میں مزید اضافہ ہوگیا۔ مسلم لیگ (ن) کی اس حکومت میں فیصلے کون کرتا ہے؟ کابینہ یا کابینہ سے باہر بیٹھے کچھ طاقتور لوگ؟

آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی ہر بڑی سیاسی جماعت میڈیا کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنا چاہتی ہے اگر آپ کسی ایک سیاسی جماعت پر تنقید کردیں تو وہ آپ کو دوسری جماعت کا زرخرید قرار دے دیتی ہے۔ ہمارے اکثر سیاستدان یہ چاہتے ہیں کہ ہم انہیں ان کا ماضی یاد نہ دلایا کریں۔ آج نواز شریف اپنے آپ کو جمہوریت کا سب سے بڑا سپاہی کہتے ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ1988ء میں جنرل ضیاء الحق نے آپ کی جماعت کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو وزارت عظمیٰ سے برطرف کیا تو آپ نے جنرل ضیاء کا ساتھ کیوں دیا تھا؟ آپ کو اس سوال کا جواب نہیں ملے گا، البتہ ناگواری کا تاثر ضرور ملے گا۔ جونیجو کے خلاف جنرل ضیاء کا ساتھ دینے والوں میں چوہدری نثار علی خان بھی سرفہرست تھے۔

1988ءمیں بینظیر بھٹو وزیر اعظم بنیں تو چوہدری نثار چپکے چپکے صدر غلام اسحاق خان اور جنرل اسلم بیگ کو ملا کرتے تھے۔ جب بینظیر حکومت کو برطرف کرنے کا فیصلہ ہوا تو صدر اسحاق نے نواز شریف سے پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کے لئے نام مانگا۔ نواز شریف نے دوستی نبھاتے ہوئے چوہدری نثار کا نام دیا لیکن صدر اسحاق نے چوہدری صاحب کا نام مسترد کردیا۔ بعدازاں چوہدری صاحب نے صدر کو غلام حیدر وائیں کا نام دیا تھا۔ بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت برطرف کرانے میں بھی چوہدری نثار کا اہم کردار تھا۔ چوہدری صاحب نے صدر فاروق لغاری اور نواز شریف میں رابطے کرائے اور بینظیر حکومت برطرف کرائی۔ دونوں میں اختلافات کا آغاز اس وقت ہوا جب نواز شریف نے 1999ءمیں شہباز شریف اور چوہدری نثار کوبتائے بغیر جنرل پرویز مشرف کو برطرف کردیا۔ 2016ءمیں اسی مشرف کو پاکستان سے باہر بھجوانے میں چوہدری نثار کا اہم کردار تھا۔ نواز شریف اور چوہدری نثار کے اختلافات میں مشرف ایک اہم کردار ہے۔ مشرف کو پاکستان سے فرار کرانے میں پیپلز پارٹی کی خاموش تائید بھی شامل تھی۔

آج کل پیپلز پارٹی مشرف کیخلاف شور مچا کر عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کررہی ہے۔ پیپلز پارٹی ا ور مسلم لیگ(ن) مشرف کا احتساب کرنے میں ناکام رہیں۔ دونوں جماعتوں نے اپنے اقتدار کی خاطر مشرف کو رعایتیں دیں۔ ان کی جگہ تحریک انصاف ہوتی تو عمران خان بھی یہی کچھ کرتے۔ ان تینوں بڑی جماعتوں کا المیہ یہ ہے کہ اصولوں کی خاطر ڈٹ جانے کی ہمت نہیں، اقتدار کیلئے سمجھوتے کرنے میں دیر نہیں لگتی۔ زرداری صاحب اور نواز شریف کے ساتھ جو ہوا وہ سب نے دیکھ لیا۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ تیسری بڑی جماعت کا انجام کچھ مختلف ہوگا؟

سینئر صحافی حامد میر کا یہ کالم روزنامہ جنگ میں 11 ستمبر 2017 کو شائع ہوا۔

 

زمرہ جات:   Horizontal 2 ،
ٹیگز:   حامد میر ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)